آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
گوتم گھمبیر کے نازیبا اشارے کی وائرل ویڈیو: ’وہ پاکستانی شائقین کی جانب سے انڈیا مخالف نعروں کا جواب تھا‘
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
انڈیا کے سابق کرکٹر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دہلی سے رکن پارلیمان گوتم گمبھیر اپنے متنازع بیانات کے باعث اکثر خبروں کی زینت بنتے رہتے ہیں۔
گذشتہ روز یعنی سوموار کو وہ ایک بار پھر پاکستان اور انڈیا میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر مختلف ہیش ٹیگز کے تحت ٹرینڈ کرنے لگے جس میں اُن کے حالیہ رویے پر بات ہو رہی ہے جو ایک وائرل ویڈیو میں نظر آئی ہے۔
اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ فون پر بات کرتے ہوئے سٹیڈیم کے اندر جا رہے ہیں جبکہ ایک شخص نے ان کے لیے چھتری پکڑ رکھی ہے۔ اسی دوران گیلری میں بیٹھے شائقین کی جانب سے ’کوہلی کوہلی‘ اور ’دھونی دھونی‘ کے نعروں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔
ان نعروں کے دوران وہ ایک لمحے کو پیچھے مڑتے ہیں اور اپنی درمیانی انگلی ہوا میں لہرا کر اشارہ کرتے ہیں۔
دنیا بھر میں اس طرح کے اشارے کو ہتک آمیز اور نازیبا سمجھا جاتا ہے اور اسی وجہ سے بہت سے صارفین انھیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
یہ ویڈیو کب کی ہے اس بارے میں یقین سے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ انھوں نے ویڈیو میں جو لباس پہن رکھا ہے وہ لباس انھوں نے گذشتہ سنیچر کو انڈیا پاکستان کے درمیان ہونے والے میچ کے دوران اس وقت بھی پہنا ہوا تھا جب وہ پاکستانی سابق کپتان وسیم اکرم کے ساتھ کمنٹری باکس میں نظر آئے تھے۔
بہرحال گوتم گمبھیر سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد اپنے اس رویے پر وضاحت دی ہے۔ انھوں نے انڈین خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ انھوں نے انگلی اس وقت دکھائی جب ’کوہلی کوہلی‘ یا ’دھونی دھونی‘ کے نعرے لگائے گئے۔
انھوں نے کہا کہ دراصل انھوں نے انڈیا مخالف نعرے کے جواب میں انگلی دکھائی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیوز ایجنسی اے این آئی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے گوتم گمبھیر کے ویڈیو کو جاری کیا ہے۔
گوتم گمبھیر کا دعویٰ
گمبھیر نے دعویٰ کیا ہے کہ جب وہ سٹیڈیم میں گزر رہے تھے تو کچھ پاکستانی ناظرین نے انڈیا مخالف اور کشمیر کے بارے میں قابل اعتراض نعرے لگائے، جس کے جواب میں انھوں نے انگلی دکھائی۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا پر جو کچھ دکھایا جاتا ہے وہ مکمل سچائی نہیں ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’سوشل میڈیا پر جو کچھ دکھایا جاتا ہے اس میں مکمل صداقت نہیں ہوتی ہے۔ لوگ جو کچھ دکھانا چاہتے ہیں دکھاتے ہیں۔ وائرل ویڈیو کی حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی انڈیا مخالف نعرے لگاتا ہے اور کشمیر کے بارے میں بات کرتا ہے تو سامنے والا شخص ردعمل تو ظاہر کرے گا یا پھر وہ ہنس کر چلا جائے گا؟‘
انھوں نے مزید کہا کہ 'دو یا تین لوگ تھے جو انڈیا مخالف چیزیں بول رہے تھے۔ اور ہندوستان مردہ باد اور کشمیر کے بارے میں بول رہے تھے تو وہ ظاہر ہے کہ فطری ردعمل تھا۔ میں اپنے دیش کی مخالفت میں کچھ سُن نہیں سکتا ہوں۔‘
جب صحافیوں نے ان سے مزید استفسار کیا تو انھوں نے کہا کہ وہ ایسے آدمی نہیں جو انڈیا مخالف بات ہو تو چپ چاپ مسکرا کر چلے جائیں۔
پھر انھوں نے کہا کہ ’آپ سپورٹس دیکھنے آئیں تو وہاں پر پولیٹیکل ری ایکشن دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ کشمیر کا مامعلہ اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور ہندوستان کے بارے میں غلط بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنے دیش کو سپورٹ کیجیے۔ وہاں ہندوستانی کراؤڈ بھی تھا جو اپنے دیش کو سپورٹ کر رہا تھا۔‘
انھوں نے انڈیا اور پاکستان کے کرکٹ مداحوں کو کہا کہ جب آپ میچ دیکھنے آئیں تو آپ اپنے ملک اور اپنے کھلاڑیوں کو سپورٹ کیجیے مگر کسی کے بارے میں غلط مت بولیے۔
’بچگانہ بہانہ‘
بہرحال گوتم گمبھیر کی اس وضاحت کے بعد بھی لوگ انھیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ بہت سے لوگ ان کی حمایت بھی کر رہے ہیں۔
چند انڈین صارفین کا یہ خیال ہے کہ گوتم نے انگلی دراصل ان انڈینز فینز کو دکھائی جو انھیں دیکھ کر ’کوہلی کوہلی‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ یاد رہے کہ گوتم اور کوہلی کے مابین تعلقات کچھ اتنے اچھے نہیں ہیں۔
نازیبا اشارہ کرنے کے معاملے میں کچھ لوگ رکن اسمبلی کے عہدے سے استعفےٰ کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
ٹوئٹر پر 12 لاکھ فالوور رکھنے والی صحافی ساکشی جوشی نے گوتم گمبھیر کے اشارے پر اپنا ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ایک بی جے پی ایم پی، ایک سابق کرکٹر، ایک کمنٹیٹر گوتم گمبھیر جب وراٹ کوہلی کے مداحوں کو درمیانی انگلی دکھاتے ہوئے کیمرے پر پکڑے گئے اور ان سے سوال کیا گیا تو انھوں نے بہانے کے طور پر وطن پرستی کو پیش کیا۔ یہ ان کا روز کا حال ہے۔ اپنے ہی ملک کو بس اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا جانتے ہیں۔‘
جبکہ ریا اگراہری نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’اس جگہ تو کوہلی اور دھونی بھی گوتم گمبھیر سے اتفاق کریں گے۔ ایک قوم کے طور پر ہمیں ان کی تعریف کرنی چاہیے۔ کوئی بھی محب وطن انڈیا کے بارے میں بری چیز برداشت نہیں کرے گا۔ ہم گمبھیر کے ساتھ ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
لیکن پھر اویشیک گوئل نامی صارف نے لکھا: ’اُن کے ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر، انھوں نے کہا کہ کچھ پاکستانی شائقین انڈیا مخالف نعرے لگا رہے تھے جس سے وہ مشتعل ہوئے۔ اس بچگانہ بہانے کے ساتھ آنے پر آپ کو شرم آنی چاہیے۔ کرکٹ شائقین نے صاف سنا کہ ان کے سامنے صرف دھونی دھونی، کوہلی کوہلی کے نعرے لگائے جا رہے تھے۔ دھونی اور کوہلی نے آپ سے زیادہ ملک کے لیے کیا ہے، مسٹر ایم پی۔ گمبھیر کو اپنی ذاتی دشمنی/انا کو اپنے گھر میں رکھنا چاہیے اور ہمارے درمیان نفرت کے بیج نہیں بونا چاہیے۔‘
بہت سے لوگ سپورٹس مین شپ کی دہائی دے رہے ہیں تو کچھ لوگ راہل گاندھی کے پارلیمان میں فلائنگ کس دینے پر رکن پارلیمان سمرتی ایرانی کے اعتراض کو یاد کر رہے ہیں اور لکھ رہے ہیں کہ انھیں گوتم گمبھیر کے اشارے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
بہت سے صارفین نے لکھا ہے کہ انھیں گوتم گمبھیر کے الفاظ پر یقین ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی نے اس ویڈیو کو ایڈٹ کر کے پیش کیا ہے جس میں آواز کچھ اور ڈال دی گئی ہے۔ کچھ لوگوں نے مزاحیہ انداز میں پوچھا ہے کہ کوہلی کا یا دھونی کا نعرہ لگانا کب سے انڈیا مخالف ہو گيا۔
گمبھیر اور کوہلی میں تلخ کلامی
بہر حال یہ پہلا موقع نہیں ہے جب گوتم گمبھیر اپنے بیان کے لیے مباحثے کے مرکز میں ہیں۔ وہ پہلے بھی اپنے پاکستان مخالف رویے کے لیے جانے جاتے ہیں جبکہ شاہد آفریدی کے ساتھ ان کی نوک جھونک سے بھی کرکٹ شائقین بہت حد تک واقف ہیں۔
اس معاملے میں بھی بہت سے شائقین شاہد آفریدی کی پرانی ویڈیوز پوسٹ کر رہے ہیں جس میں وہ گوتم گمبھیر کے کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’وہ ایک ایسے کھلاڑی ہیں جسے ان کی ٹیم میں کوئی بھی پسند نہیں کرتا‘ اور اس پر انڈین کرکٹر ہربجن سنگھ مسکرتے ہیں۔
لیکن یہاں وراٹ کوہلی اور سابق کپتان مہیندر سنگھ دھونی سے ان کے تلخ رشتے کی بازگزشت زیادہ سنائی دے رہی ہے کیونکہ ویڈیو میں ان کے نام کے نعرے واضح طور پر سنے جا سکتے ہیں۔
روشن رائے نامی صارف نے لکھا کہ 'ہر کسی نے سنا کہ مجمع کوہلی کوہلی کا نعرہ لگا رہا تھا لیکن وہ (گوتم گمبھیر) اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لیے اس میں وطن پرستی لے آئے۔۔۔‘
رواں سال مئی میں بنگلورو اور لکھنؤ کے درمیان آئی پی ایل میچ میں گمبھیر اور کوہلی کے درمیان ہونے والی گرما گرم بحث بھی کرکٹ شائقین کے حافظے میں ہو گی۔
اس دن، میچ کے بعد، بنگلورو کے کھلاڑی وراٹ کوہلی اور لکھنؤ کے مینٹر گوتم گمبھیر کے درمیان تکرار نظر آئی تھی۔
ان دونوں کو ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں نے ایک دوسرے سے الگ کیا اور آئی پی ایل نے ان پر جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔