’لاٹری کِنگ‘: انڈین سیاسی جماعتوں کو 13 ارب کا چندہ دینے والے ’سنٹیاگو مارٹن‘ جنھوں نے کیریئر کی ابتدا چائے کی دکان پر کام سے کی

سنٹیاگو مارٹن، انڈیا، بی جے پی

،تصویر کا ذریعہMARTINFOUNDATION.COM

    • مصنف, مرلی دھرن
    • عہدہ, بی بی سی تمل

انڈیا میں سنہ 2017 میں سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کے لیے الیکٹورل بانڈز متعارف کروائے گئے تھے جس کا مقصد سیاست میں غیرقانونی پیسے کے استعمال کی روک تھام تھا۔

ان بانڈز کے ذریعے جو رقم سیاسی جماعتوں کو دی جاتی ہے اس پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس نہیں لگتا اور نہ کوئی کٹوتی ہوتی ہے۔

یہ بلاسود بانڈز ایک خاص مدت کے لیے جاری کیے جاتے ہیں جن کے تحت سیاسی جماعتوں کو کسی بھی انڈین شہری یا کمپنی کی جانب سے ایک ہزار سے لے کر ایک کروڑ روپے تک کی رقم عطیہ یا چندہ کی جا سکتی ہے۔

تاہم 15 فروری 2024 کو انڈیا کی سپریم کورٹ نے الیکٹورل بانڈز کی سکیم کو غیرآئینی قرار دے دیا اور الیکشن کمیشن کو یہ حکم دیا کہ وہ اس سکیم سے متعلق اعداد و شمار 13 مارچ تک اپنی ویب سائٹ پر جاری کریں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے کیے گئے ریکارڈ کے مطابق گذشتہ پانچ برسوں میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نےانتخابی بانڈز کے عوض سرکاری بینکوں سے 60 ارب روپے کی رقم نکلوائی جبکہ کانگریس نے 16 ارب مالیت کے انتخابی بانڈز کیش کروائے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے مہیا کردہ ریکارڈ میں سیاسی جماعتوں کو سب سے زیادہ امداد دینے والی کمپنیوں میں ’فیوچر گیمنگ اینڈ ہوٹل سروسز‘ کا نام بھی شامل ہے جس نے مجموعی طور پر 1368 بانڈز خریدے جن کی مالیت 13.6 ارب روپے سے زائد ہے۔

’فیوچر گیمنگ اینڈ ہوٹل سروسز‘ کمپنی کس کی ملکیت ہے؟

’فیوچر گیمنگ اینڈ ہوٹل سروسز‘ نامی کمپنی کے مالک سنٹیاگو مارٹن ہیں جو انڈیا میں ’لاٹری کنگ‘ کے نام سے بھی مشہور ہیں اور انھوں نے گذشتہ پانچ برسوں میں الیکٹورل بانڈز کے ذریعے متعدد سیاسی جماعتوں کو بھاری امداد دی ہے۔

مارٹن کی ابتدائی زندگی سے متعلق معلومات منظرِعام پر کم ہی آئی ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ ان کے والدین میانمار میں رہتے تھے۔

ان کا خاندان میانمار سے نقل مکانی کر کے انڈین ریاست تمل ناڈو کے شہر کوئمبتور آیا تھا۔

مارٹن نے 13 برس کی عمر میں ایک چائے کی دُکان پر کام شروع کیا اور پھر وہاں لاٹری کے ٹکٹ فروخت کرنا شروع کیے تھے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے انھوں نے لاٹری کے کاروبار میں اپنا ایک وسیع نیٹ ورک بنا لیا۔

مارٹن نے 1980 کی دہائی میں کوئمبتور میں ’مارٹن لاٹری ایجنسیز پرائیوٹ لمیٹڈ ‘کی بنیاد رکھی اور جلد ہی ان کا کاروبار انڈیا کی دیگر ریاستوں بشمول کرناٹک، میگھالیہ، اروناچل پردیش، مغربی بنگال، پنجاب اور مہاراشٹر تک پھیل گیا۔

یہ وہ وقت تھا جب مارٹن کو ’لاٹری کنگ‘ کا لقب دیا گیا۔ ان کا کاروبار اس وقت تک اتنی وسعت اختیار کر چکا تھا کہ اُن کے پاس 260 لاٹری ایجنٹ اور ہزار سے زائد افراد ملازمت کرتے تھے۔

سنٹیاگو مارٹن، انڈیا، بی جے پی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تمل ناڈو میں 1990 کی دہائی میں انعامی لاٹری کا جنون لوگوں کے سر پر سوار ہو گیا تھا اور اسی وجہ سے ریاستی حکومت نے ایک آرڈیننس کے ذریعے ان لاٹریوں کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دی۔

تاہم انڈیا کی دیگر ریاستوں میں مارٹن کی لاٹری کمپنیاں بغیر کسی مشکلات کے کام کرتی رہیں۔ ایک وقت ایسا آیا کہ ان کی کمپنی نہ صرف لاٹری کے کاروبار کی دنیا میں بڑا نام تھی بلکہ انھوں نے رئیل سٹیٹ، تعمیرات، قابلِ تجدید توانائی، انٹرٹینمنٹ، ٹیکسٹائل، زراعت، سافٹ ویئر اور دوائیوں کے کاروبار میں بھی ایک نمایاں مقام حاصل کر لیا۔

مارٹن کے سیاسی تعلقات

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

مارٹن پچھلی کئی دہائیوں میں متعدد سیاسی جماعتوں کے قریب رہے ہیں۔ سنہ 2007 اور 2008 میں مارٹن نے کیرالہ کی مارکسسٹ کمیونسٹ پارٹی کے اخبار ’دیشابھیمانی‘ کو دو کروڑ روپے کا عطیہ دیا جس سے پوری ریاست میں ایک تنازع کھڑا ہو گیا۔

یہ تنازع اتنا بڑھ گیا کہ پارٹی کو یہ رقم مارٹن کو واپس کرنی پڑی اور ’دیشابھیمانی‘ کے جنرل مینیجر ای پی جایارنجن کو استعفیٰ دینا پڑا۔

سنہ 2011 میں مارٹن نے تمل ناڈو کے اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ ایم کروننیدھی کی لکھی گئی فلم ’الئگنن‘ میں پیسہ لگایا جس کی سبب تمل ناڈو کی حکومت شدید تنقید کی زد میں آئی۔

سنہ 2011 میں مارٹن کوئمبتور میں زمین پر قبضہ کرنے کے ایک مقدمے میں گرفتار ہوئے اور تقریباً 15 دن بعد انھیں ’گینگسٹر ایکٹ‘ کے تحت ایک اور مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اس زمانے میں ان پر مجموعی طور پر 14 مقدمات قائم کیے گئے جن میں ممنوعہ لاٹری کے ٹکٹ فروخت کرنے کا کیس بھی شامل تھا۔

بعد میں مدراس ہائی کورٹ نے مارٹن کے خلاف ’گینگسٹر ایکٹ‘ کے تحت درج مقدمہ ختم کر دیا اور انھیں سات مہینے جیل میں گزارنے کے بعد دیگر تمام مقدمات میں ضمانت بھی دے دی۔

اسی دوران مارٹن کی اہلیہ لیما روز نے پولیس کے پاس ایک شکایت درج کروائی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کے شوہر کے مخالفین کوئمبتور اور چنئی سے ٹکٹ سمگل کرنے اور تمل ناڈو میں فروخت کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں تاکہ انھیں پھنسایا جا سکے۔

سنٹیاگو مارٹن کی اہلیہ کی بی جے پی سے قربت

سنٹیاگو مارٹن، انڈیا، بی جے پی

،تصویر کا ذریعہMARTINFOUNDATION.COM

سنہ 2013 میں مارٹن کی اہلیہ کے خلاف جعلی دستاویزات بنا کر کالے دھن کو سفید کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا اور انھیں گرفتار کر لیا گیا۔

اسی برس لیما روز نے تمل ناڈو میں ایک سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر لی جو آگے جا کر بی جے پی کی اتحادی پارٹی بن گئی۔

جب 2014 میں نریندر مودی بی جے پی کے وزارتِ اعظمیٰ کے امیدوار کی حیثیت سے کوئمبتور میں ایک جلسے سے خطاب کر رہے تھے تو اس وقت لیما روز بھی سٹیج پر موجود تھیں۔

اس وجہ سے بی جے پی اور نریندر مودی پر تنقید بھی کی گئی کہ وہ مالی بدعنوانی کے خلاف مہم چلا رہے اور ان کے ساتھ بیٹھی لیما روز پر کرپشن کے مقدمات درج ہیں۔

مارٹن اور لیما کی بیٹی اور دو بیٹے بھی ہیں۔ ان کی بیٹی کا نام ڈیزی اور بیٹوں کا نام جوز اور ٹائسن ہے۔

کچھ برسوں پہلے یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ مارٹن کے دونوں بیٹوں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی ہے تاہم کسی بھی جانب سے اس خبر کی تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔

پچھلی کئی دہائیوں میں انڈین پولیس اور دیگر ادارے مارٹن کے خلاف متعدد کارروائیاں کر چکے ہیں۔

انڈیا میں 2015 میں مارٹن کے تمل ناڈو، کیرالپ اور کرناٹک میں واقع گھروں پر انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے چھاپہ مارا تھا۔ سنہ 2016 میں بھی ان کی ملکیت میں موجود ایک پراپرٹی پر حکام نے چھاپہ مارا تھا۔

30 اپریل 2019 میں انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے مارٹن کے کاروبار سے منسلک ایک شخص کے گھر چھاپہ مارا تھا جو کہ مارٹن کے قائم کردہ ہومیوپیتھی کالج میں بطور کیشیئر کام کر رہے تھے۔

اس کے علاوہ ان کی کمپنیوں پر منی لانڈرنگ کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔