خلائی مخلوق سے رابطہ ہو بھی گیا تو ہم ان سے کہیں گے کیا؟

    • مصنف, ٹاملن مگی
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر

ہماری ثقافت میں ایک بات تو طے ہے کہ اگر خلائی مخلوق کائنات کا سفر کرتے ہوئے ہمارے سیارے تک پہنچتی ہے تو اس کا استقبال گولہ بارود سے کیا جائے گا۔ سائنس فکشن ڈرامے 'سٹار ٹریک' سے لے کر افسانوی ناولز تک، ایسے تمام مصنفین کے ذہنوں میں ایک ہی سوال رہا ہے کہ ہم ان سے کیسا برتاؤ کریں گے؟

پاپ کلچر میں خلائی مخلوق کو دوسرے درجے کا شہری یا انسان سے کم تر دکھایا جاتا ہے۔ مشہور فلم 'ای ٹی' میں ایلیئن کے انسان دوست نے مدد نہ کی ہوتی تو کسی آپریٹنگ روم کے ٹیبل پر اس کا جائزہ لیا جا رہا ہوتا۔

سال 2009 کی فلم 'ڈسٹرکٹ نائن' میں دکھایا جاتا ہے کہ جنوبی افریقہ کی کچی آبادیوں میں لاکھوں ایلیئنز (خلائی نژاد) جھینگے پیک کیے جا رہے ہیں جو کہ اصل زندگی میں انسانی ظلم اور نفرت کی عکاسی کرتا ہے۔

کرۂ ارض سے ماورا زندگی (یعنی ایکسٹرا ٹیرسٹریل لائف) کے اب تک کوئی شواہد نہیں ملے ہیں مگر پھر بھی ہم اس کی تلاش میں ہیں۔

مستقبل قریب میں بھی یہی امکان ہے کہ ہمیں مریخ پر مائیکروبیل لائف (جرثومہ زندگی) کے آثار مل سکتے ہیں اور یہ ایسا نہیں ہوگا جیسے ٹی وی اور فلموں میں ایلیئن کے نام پر انسانوں کی بگڑی ہوئی شکلیں نظر آتی ہیں۔

تاہم ڈریک اِکویژن کے مطابق اعداد و شمار کے لحاظ سے خلائی مخلوق ملنے کا اچھا خاصا امکان ہے۔ اس میں کہا جاتا ہے کہ ہماری دنیا کے خلاف انٹیلیجنٹ (ذہین) زندگی کہیں نہ کہیں موجود ہے، چاہے اس کے لیے ہمارے ایک دوسرے سے رابطے کی خاطر ستاروں کو کسی مخصوص پوزیشن میں آنا پڑے گا کیونکہ ہماری کائنات میں سیاروں کے بیچ میں بے پناہ فاصلہ ہے۔

برطانیہ کی اوپن یونیورسٹی میں سپیس سائنسز کے پروفیسر جان زرنیکی کے مطابق ’زندگی کی تلاش یا رابطے میں امکان ہمیشہ کم رہیں گے جب تک ہم ایسا کر نہیں لیتے۔‘

’اس سے مجھے ایگسو پلینٹس (وہ سیارے جو ہمارے شمسی نظام میں نہیں) کا تصور یاد آتا ہے۔ بطور نوجوان محقق ہم اس عنوان پر گفتگو کیا کرتے تھے اور سب کو لگتا تھا کہ ایگسو پلینٹس ہوتے ہیں۔ مگر ہم انھیں تلاش نہیں کر سکتے کیونکہ تکنیکی اعتبار سے یہ بہت مشکل ہے۔‘

مگر اب ہمیں معلوم ہے کہ ایگسو پلینٹس ہوتے ہیں اور ایسے سیارے موجود ہیں جہاں پانی کی موجودگی سے زندگی کا امکان ہے۔

خلائی مخلوق کی جاری تلاش اور ان سے رابطے کی کوششوں کے دوران ہمیں اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ہم ان سے کیسے بات کر سکیں گے، خاص کر اس لیے کہ ذہین خلائی مخلوق انسانوں سے بہت مختلف ہوسکتی ہے۔

غیر انسانی حقوق

بعض مصنفین کی رائے میں انسان خلائی مخلوق سے اچھا سلوک نہیں کریں گے۔ اور اس کی وجہ زمین کے اپنے شہریوں اور دیگر جانداروں کو حقوق دینے کے سلسلے میں ہمارا ٹریک ریکارڈ ہے۔ بین الاقوامی اصولوں کے باوجود حقوق کے تحفظ میں ہماری تاریخ کافی بُری رہی ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد عالمی برادری نے 1948 میں انسانی حقوق کے یونیورسل ڈکلیریشن میں تمام افراد کو حقوق دینے کا قانون بنایا تھا۔

تاہم بعض پابندیوں کے علاوہ صرف محدود طریقے ہیں جن سے انسانی حقوق پر عملدرآمد کروایا جاسکتا ہے۔ اگرچہ ان حقوق میں درج ہے کہ ہر شہری کو پیدائش سے موت تک قید سے آزادی ہوگی مگر بعض فلسفی سمجھتے ہیں کہ یہ صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے۔

ہم خلائی مخلوق کے ساتھ کیسے پیش آئیں گے، اس کا اندازہ یوں بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ہم زمین پر غیر انسانی جانداروں کو کیا حقوق دیتے ہیں۔

کئی ملکوں میں اب یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ گوریلا سے لے کر کوؤں تک تمام جانوروں میں جذبات ہوتے ہیں۔ مگر جانوروں کے حقوق کے گروہوں نے اب جا کر ان جذبات کو حقوق میں تبدیل کروایا ہے۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ جانوروں میں سکون یا درد محسوس کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔

بعض ماہرین اس حوالے سے غور کر رہے ہیں کہ ہمارے موجودہ قوانین اور اخلاقی فریم ورک میں خلائی مخلوق جیسے اجنبیوں کی گنجائش کیسے پیدا کی جا سکے گی۔ تاہم اس بارے میں کھلے عام بین الاقوامی غور و فکر بہت کم ہوا ہے۔

گریناڈا کے وزیر اعظم ایرک ایم گیری، جن کا خیال تھا کہ یو ایف او نظر آنے کا مطلب زمین پر خلائی مخلوق کی موجودگی کے اشارے ہیں، نے 1977 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں تجویز کیا تھا کہ اقوام متحدہ کے ذریعے اس کی باقاعدہ تحقیقات کے لیے ایک ادارہ بنایا جائے۔

مگر اس حوالے سے کوئی پالیسی نہ بنائی گئی اور برطانوی سفارتکاروں نے دباؤ ڈالا کہ وہ اس معاملے کو مزید نہ اٹھائیں۔ اگلے ہی سال ایک فوجی مداخلت میں ان کی حکومت چلی گئی تھی۔

کچھ حکومتیں اس میں دلچسپی لے رہی ہیں۔ سال 1999 میں صحافی لیزلی کین کو یو ایف اوز پر فرانسیسی دستاویزات تک رسائی ملی جس کے مطابق بعض جرنیل اور ایڈمرلز کا خیال تھا کہ وضاحت طلب رجحان کی ممکنہ وجہ خلائی مخلوق ہوسکتی ہے۔

رواں سال کے اوائل میں امریکی کانگریس میں پہلی بار پُراسرار اڑن طشتریوں پر بحث ہوئی تاہم ایسے کوئی شواہد نہ آئے جو خلائی مخلوق کے وجود کو ثابت کریں۔

لندن سکول آف اکنامکس میں خلا کے قوانین کی ماہر جل سٹوریٹ کا خیال ہے کہ ہماری زندگیوں کے دوران انسان خلائی مخلوق سے رابطہ قائم نہیں کر پائیں گے۔ مگر ان کے مطابق ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے کہ ایسی صورتحال میں ہمیں کیا کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم کائنات میں تلاش اپنی دریافت کے لیے کرتے ہیں کیونکہ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا اس سے کیا تعلق ہے، ہمارا اپنے ماحول سے کیا تعلق ہے اور دوسرے لوگوں یا جانداروں سے ہمارا کیا تعلق ہے۔ ‘

’مستقبل کی پیشگوئی والے حالات شاید کبھی ہوں ہی نہ لیکن اس عمل کی اہمیت ہوگی۔‘

وہ پلان جو کبھی بن نہ سکا

اقوام متحدہ میں خلا کے امور کے دفتر (انوسا) کے نکلس ہیڈمین نے کہا ہے کہ انسانوں کے خلائی مخلوق سے آمنے سامنے کی صورت میں کوئی بین الاقوامی معاہدہ یا نظام موجود نہیں۔

مگر یہ ضروری نہیں کہ ایسا فریم ورک کبھی نہیں بنایا جائے گا۔ اقوام متحدہ عالمی حکومتوں کے درمیان روابط کے لیے سب سے بڑا ادارہ ہے۔ ان کے مطابق بہتر یہی ہوگا کہ اقوام متحدہ ہی اس کا فریم ورک بنائے مگر اقدام اور بحث آخر میں رکن ریاستوں کی مرضی سے ہوں گے۔

ہیڈمین کے مطابق فی الحال تمام بین الاقوامی خلائی قوانین انسانی سرگرمیوں کے حوالے سے ہیں۔ اقوام متحدہ میں پہلے باہری خلائی معاہدے پر 1967 میں برطانیہ، سوویت یونین اور امریکہ نے دستخط کیے تھے۔ اس کی وجہ بین الابراعظم میزائل بننا تھی جو خلا میں بھی ہدف تک پہنچ سکتے تھے۔

خلا کے موجودہ قانون کی بھی یہی بنیاد ہے جسے وقت کے ساتھ نئے امکانات اور تشویش کے مطابق بنایا گیا ہے۔

اس وقت پانچ ایسے بڑے خلائی معاہدے موجود ہیں اور ان میں صرف ایسے انسانی اقدام کا ذکر ہے جن سے دوسرے انسان متاثر ہوسکتے ہیں۔ ان میں اسحلے کے استعمال پر پابندی، نقصان کی ذمہ داری اور خلائی آلودگی جیسی چیزوں پر بات کی گئی ہے۔

انٹرنیشنل اکیڈمی آف ایسٹروناٹکس میں سرچ فار ایکسٹرا ٹیرسٹریل انٹیلیجنس گروپ نے 2010 میں خلائی مخلوق کی نشان دہی کا ایک فریم ورک بنایا تھا جو دہائیوں کی بحث کے بعد وجود میں آیا۔

اس میں تجویز دی گئی ہے کہ اگر خلائی مخلوق یا کسی خلائی زندگی کی طرف سے کوئی سگنل پکڑا جاتا ہے تو اقوام متحدہ اور اس کی باہری خلا کے پُرامن استعمال سے متعلق کمیٹی کے ذریعے عالمی روابط کا فورم قائم کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

سٹوریٹ سمجھتے ہیں کہ امکان ہے کہ اس وقت تک کوئی عالمی فریم ورک تسلیم نہیں کیا جائے گا جب تک اس کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ نئے خیالات کو قانون بنانے کے لیے لوگ مواد یا اصل زندگی جیسے حالات تصور کرتے ہیں۔

اگر خلائی مخلوق سے انسانوں کا رابطہ ہوتا ہے تو ممکن ہے کہ موجودہ انسانی حقوق کے قوانین کی توسیع کی جائے اور اسے خلائی مخلوق پر بھی لاگو کر لیا جائے۔

ایسے میں سب سے بڑی تشویش یہ ہوگی کہ آخر یہ ایلیئنز ہم انسانوں سے کیا چاہتے ہیں: یعنی کیا وہ دوستی چاہتے ہیں یا پھر دشمنی۔ یہ اس بحث کا بھی حصہ ہے کہ آیا ہمیں فعال ہو کر خلائی مخلوق کو ڈھونڈتے رہنا چاہیے یا چھپ کر سگنل تلاش کرنے چاہییں۔ سٹوریٹ کے مطابق یہ خلائی ماہرین کے لیے ایک متنازع سوال ہے۔

اگر کوئی اُڑن طشتری اچانک زمین پر کہیں لینڈ کر گئی تو کیا ہوگا؟ ایسے میں کوئی پروٹوکول نہیں بنائے گئے اور نہ ہی ان کی تجویز دی گئی ہے۔ سٹوریٹ کا کہنا ہے کہ مفروضے کے طور پر یہ ممکن ہے کہ جس ملک میں یہ لینڈ کرے گی وہی اس کے ردعمل کے لیے ابتدائی بحث کی سربراہی کرے گا۔

سٹوریٹ نے کہا کہ ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے کوئی مثال یا قانون موجود نہیں ہوگا۔ اگر ایک یو ایف او کو کسی ملک میں مار گرایا گیا ہو تو شاید اسی ملک کو اس معاملے کی ذمہ داری لینا ہوگی۔

سال 2011 میں دی رائل سوسائٹی کے مقالے ’ماورائے زمین امور‘ میں انوسا کے سابق ڈائریکٹر میزلن اوتھمن نے تجویز دی تھی کہ جیسے زمین کے قریب سیارچوں سے خطرات کے باعث ملکوں کے مفاد کو خطرہ ہوتا ہے اور عالمی تعاون کیا جاتا ہے تو اسی ماڈل پر چلتے ہوئے خلائی مخلوق یا کسی سگنل کی موجودگی پر تعاون کیا جانا چاہیے۔

خلا میں کسی جاندار کی موجودگی پر تعاون کے لیے کسی متفقہ اصول کے نہ ہونے کے پیش نظر ایک حکمت عملی یہ ہوسکتی ہے کہ ہم یہاں بھی انسانوں کو دیے جانے والے حقوق لاگو کریں۔ سٹوریٹ کے مطابق موجودہ قوانین میں اسے شامل کرنا ٹھیک رہے گا۔

یہ معقول مفروضہ ہے کہ کوئی جاندار جو سفر کرتا ہوا زمین تک پہنچ جائے اس میں ذہانت اور جذبات ہوں گے لہذا اس کے ساتھ انسان جیسا برتاؤ ہی کیا جانا چاہیے۔ یعنی انسانی حقوق ’جذبانی حقوق‘ میں تبدیل ہوسکیں گے۔

ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ذہانت اور جذبات کی کیا ممکنہ اقسام ہوسکتی ہیں۔ ہماری اپنی دنیا میں کئی طرح کی ذہانتیں موجود ہیں جنھیں ہم اب جا کر تسلیم کرنا شروع ہوئے ہیں۔

یہ بحث جاری ہے کہ آیا ذہین مانے جانے والے آکٹوپس سوچ رکھتے ہیں اور درد محسوس کر سکتے ہیں۔ مائکولوجی کی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ کچھ فنگس ذہانت رکھتے ہیں، جیسے سیکھنے کا عمل اور فیصلہ سازی۔

برطانوی پروفیسر سوزین بلیکمور نے کہا کہ ’جب بات خلائی مخلوق کی ہو تو ہم پوچھتے ہیں ان میں کیسی ذہانت ہوگی؟‘

’ان میں ذہانت کیوں ہوگی؟ ہمیں یہی فرض کرنا ہوگا کہ یہ ڈارون کے ارتقائی عمل سے گزرے ہیں کیونکہ ہمیں اس نظام کا علم ہے جس سے ذہین جاندار پیدا ہوتے ہیں۔‘

خلائی مخلوق کے جذبات

برازیل کے علاقے ورگینہا میں خلائی مخلوق کی مبینہ موجودگی کی اطلاع سامنے آئی جس کے بارے میں 2022 کی دستاویزی فلم ’مومنٹ آف کونٹیکٹ‘ میں بتایا گیا ہے۔ اس کہانی میں بتایا گیا کہ اُڑن طشتری کے گرنے کے مقام پر ایک پُراسرار مخلوق دیکھی گئی جو واضح طور پر درد محسوس کر رہی تھی۔

آپ اس واقعے کے بارے میں کچھ بھی کہیں، اسی درد کے احساس سے ہم کسی دوسری دنیا سے آنے والے مہمان کو حقوق دینے کی حکمت عملی بنا سکتے ہیں۔

بلیمور نے سوال کیا کہ ’کیا خلائی مخلوق بھی درد سہہ پائے گی؟ اگر ہاں تو ہمارا اخلاقی فرض ہے اور شاید ہمیں اسی بنیاد پر قوانین بنانے ہوں گے۔‘

ماہر اخلاقیات پیٹر سنگر نے جانوروں سمیت دیگر خلائی مخلوق کے لیے حقوق لکھے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں جذبات کی قدر پر غور کرنا ہوگا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر یہ مان لیا جائے کہ خلائی مخلوق میں جذبات ہوتے ہیں، وہ اچھا اور بُرا محسوس کر سکتے ہیں اور ان کی خواہشات اور مفادات کے بارے میں جاننے میں ہمیں کچھ وقت لگے گا، تو ہمیں بنیادی اخلاقی اصول لاگو کرتے ہوئے ملتے جلتے مفادات پر غور کرنا ہوگا۔‘

سنگر نے اس نظریے کی بنیاد 1979 میں رکھی تھی جس کے مطابق تمام ان جانداروں کے، جو خوشی اور غم محسوس کر سکتے ہیں، مفادات کو اخلاقیات سے متعلق فیصلوں میں زیر غور لانا چاہیے۔ ’دوسرے لفظوں میں کسی خلائی مخلوق کا درد اتنا ہی اہم ہے جتنا زمین باسی کا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ یہاں مشکل مسئلہ یہ طے کرنا ہو گا کہ ماورائے دنیا کے مفادات کیا ہیں۔ ’بہت کچھ ماورائے زمین کی علمی صلاحیتوں پر منحصر ہوگا، جو اس معاملے میں ڈولفن یا انسانوں سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہو سکتے ہیں - اور اگر وہ ہم سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہیں، تو ہم یہ سمجھنے کے قابل نہیں ہو سکتے کہ وہ کیا ہیں۔‘

نان ہیومن رائٹس پروجیکٹ، ایک امریکی تنظیم جس کا مقصد غیر انسانی جانوروں کے حقوق کو محفوظ بنانا ہے، کا خیال ہے کہ ان حقوق کے لیے ابتدائی جگہ خود مختاری ہے، یہ تصور امریکی عدالتوں میں اہمیت کا حامل ہے جس کا مطلب ہے کہ ایک فرد کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ انتخاب کرے کہ کیا کرنا ہے، کہاں جانا ہے۔ کام کرنے کا طریقہ، اور پہلے پیش آنے والے واقعات کی یاد، شعور، اس دوران، حقوق کے لیے قانونی معیار کے طور پر کام کرنے کے لیے ایک زمرہ بہت وسیع ہے، کیونکہ کوئی بھی اس بات پر متفق نہیں ہے کہ یہ اصل میں کیا ہے۔

غیر انسانی حقوق کے پروجیکٹ کے اٹارنی جیک ڈیوس کہتے ہیں ’آج، کم از کم امریکہ میں ہر انسان آزادی کے ناقابل تنسیخ حق کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ہمیشہ ایسا نہیں تھا کہ تمام انسانوں کو یہ حق حاصل تھا۔ اس میں کئی سال لگے، اس میں خانہ جنگی ہوئی، اور ہر انسان کو جہاں تک جسمانی آزادی اور سالمیت کا حق ہے اس میں بے پناہ جدوجہد کرنا پڑی۔‘

غیر انسانی حقوق پراجیکٹ کے سابق ڈائریکٹر لوری مارینو کے مطابق، یہاں تک کہ ذہانت اور جذبات بھی ماہرین کے لیے مشکل تصورات ہیں جن پر متفق ہونا ممکن نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’یہ دونوں مبہم تصورات ہیں۔ لیکن میں اعتماد سے کہہ سکتی ہوں کہ ذہانت یہ ہے کہ کس طرح کوئی معلومات پر کارروائی کرتا ہے اور جذبات محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘