آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد دہشتگرد حملوں میں اضافہ، حکومت کی پالیسی کیا ہے؟
- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان حکومت اور کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے درمیان مذاکرات، جنگ بندی، پھر غیر اعلانیہ حملے اور اب اعلانیہ حملے اور کارروائیاں جاری ہیں۔ مگر کیا یہ واقعی میں مذاکرات کا عمل ناکامی سے دوچار ہو چکا ہے یا ابھی بھی کوئی پیشرفت ممکن ہے۔
کوئٹہ میں آج انسداد پولیو مہم کے لیے جانے والے پولیس اہلکاروں کی بس کے قریب خود کش حملہ ٹی ٹی پی کی جانب سے حملوں کے اعلان کے بعد ایک بڑا حملہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس حملے میں تین افراد ہلاک اور 20 پولیس اہلکاروں سمیت 25 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ خود کش حملہ ایک وقفے کے بعد کیا گیا ہے۔
کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے ترجمان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ تازہ احکامات کے مطابق حملہ کیا گیا ہے۔
کیا ٹی ٹی پی نے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے؟
خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات مسلسل پیش آ رہے ہیں جس میں دونوں جانب سے ہلاکتوں کے دعوے کیے گئے ہیں۔ کالعدم تنظیم تحریک طالبان کی جانب سے دو روز قبل ایک اعلان جاری ہوا جس میں کہا گیا ہے کہ تحریک طالبان کے شعبہ دفاع تحریک کے تمام لیڈرز کو حکم جاری کرتی ہے کہ حال ہی میں ضلع لکی مروت سمیت مختلف علاقوں میں عسکری اداروں کی جانب سے آپریشنز ہو رہے ہیں اس لیے آپ بھی ملک بھر میں حملے کر سکتے ہیں۔
اس بیان میں یہ نہیں کہا گیا کہ اس سال جون کے مہینے میں جو غیر معینہ مدت تک کے لیے جنگ بندی کی گئی تھی کیا وہ اب ختم کردی گئی ہے۔
سینیئر صحافی اور ڈان نیوز کے بیوروچیف علی اکبر نے اس بارے میں بتایا کہ کالعدم تنظیم کی جانب سے ایسا بیان جاری کیا گیا ہے جس میں درمیان کا راستہ اختیار کیا گیا ہے اور اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ کالعدم تنظیم کے ساتھ جو مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی تھی اور تنظیم کے بارے میں اب حکومت کی کیا پالیسی ہے تاکہ اس کی وضاحت کی جا سکے اور اس کے علاوہ ریاست پاکستان اور حکومت پاکستان پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
اس بارے میں سینیئر صحافی مشتاق یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ تو کافی پہلے رک گیا تھا کیونکہ پاکستان میں پی ڈی ایم کی حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حق میں نہیں تھی۔ اگرچہ اس بارے میں کوششیں جاری تھیں کہ طالبان سے بات چیت دوبارہ شروع کی جائے لیکن حکومت کی جانب سے کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ طالبان کو بھی اس کا احساس تھا کہ حکومت بات چیت میں دلچسپی نہیں لے رہی اسی لیے سکیورٹی فورسز نے بھی اس عرصے میں کارروائیاں کی ہیں اور دوسری جانب شدت پسندوں کی جانب سے بھی حملے کیے گئے ہیں۔
دونوں جانب سے کارروائیاں شروع کر دی گئی تھیں لیکن اس کا کوئی باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ ان حملوں میں سکیورٹی فورسز اور پولیس پر حملے کیے گئے جبکہ فوج نے بھی مختلف مقامات پر کارروائیاں کی ہیں۔
علی اکبر نے کہا کہ پاکستان میں عسکری قیادت میں تبدیلی آئی ہے اور اس کے علاوہ پشاور کے کور کمانڈرز بھی تبدیل ہوئے ہیں اور اس بیان سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کالعدم تنظیم موجودہ حالات میں سرکار اور ریاست کی پالیسی کی وضاحت چاہتے ہیں۔
ٹی ٹی پی کے حملے اور اب اعلان؟
اگرچہ طالبان اور حکومت کے درمیان اس سال مئی کے مہینے میں ایک ماہ کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا اور پھر جون کے مہینے میں مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی کا اعلان غیر معینہ مدت تک کے لیے کیا گیا تھا۔ اس اعلان کے بعد چند ماہ تو پُرامن رہے لیکن پھر ستمبر میں ایک مرتبہ پھر غیر اعلانیہ حملے شروع ہوئے۔
ان حملوں میں جہاں سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا وہاں کچھ ایسے واقعات بھی پیش آئے جن میں عام شہریوں کا جانی نقصان ہوا۔ ان میں شمالی وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نمایاں ہیں۔ اس بارے میں کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی تھی کہ یہ حملے کس نے کیے ہیں کیونکہ ان حملوں کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی تھی۔ یہاں یہ تاثُر دیا جاتا رہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ حملے کسی دوسرے گروہ نے کیے ہیں، جن میں حافظ گل بہادر گروپ کا ذکر کیا جاتا رہا لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔
اس سال ستمبر کے بعد سے مقامی صحافیوں کے مطابق کوئی ایک 130 سے زیادہ حملے ہوئے ہیں جن میں بیشتر کی ذمہ داری ٹی ٹی پی کے ترجمان نے قبول کی ہے۔ ان حملوں میں زیادہ تر پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
کالعدم تنظیم نے ان حملوں کی وجہ یہ بتائی کہ یہ حملے انھوں نے اپنے دفاع یا انتقام میں کیے ہیں حالانکہ ان میں ایسے حملے ہوئے ہیں، جن میں ایک اہلکار کو ٹارگٹ کلنگ کی گئی ہے۔
سکیورٹی فورسز کی جانب سے بھی اس دوران مختلف علاقوں میں فوجی کارروائیاں کی گئی ہیں، جن میں شدت پسندوں کا جانی نقصان ہوا ہے۔ اب لگ بھگ چھ ماہ کے بعد کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی نے ایک مرتبہ پھر حملوں کا اعلان کیا ہے۔
اب اعلان کیوں؟
گذشتہ چند ہفتوں کے دوران خیبر پختونخوا کے جنوبی علاقوں جیسے درازندہ اور اس کے قریبی علاقے جو بلوچستان اور پنجاب کی سرحد سے ملتے ہیں وہاں سکیورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائیاں کی ہیں، جن میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس کے بعد جنوبی ضلع لکی مروت میں شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک اور ایک کیپٹن زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد شدت پسندوں نے لکی مروت کے تھانہ صدر پر حملہ کیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں آپریشن کیا، جس میں ہیلی کاپٹر کا ستعمال کیا گیا لیکن اس میں شدت پسندوں کے نقصان کی تفصیل معلوم نہیں ہو سکی۔
اس سے پہلے جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے متعدد حملے ہوئے ہیں۔ مقامی پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ چند ماہ کے دوران لوئر وزیرستان میں پولیس تھانوں پر چھ حملے ہوئے ہیں، جس میں آٹھ اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس کے مطابق اس علاقے میں اتنا خوف ہے کہ بعض اوقات پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی سر انجام نہیں دے سکتے۔ جنوبی وزیرستان میں تاحال شدت پسندوں کے خلاف کوئی بڑی کارروائی نہیں کی گئی۔
کالعدم تنظیم نے بنیادی طور پر لکی مروت میں آپریشن کے بعد اپنے حملوں کا اعلان کیا اور اس اعلان کو مختلف حوالوں سے اہمیت حاصل ہے۔ لکی مروت میں طالبان کی جانب سے بھی متعدد حملے کیے ہیں جس وجہ سے اس علاقے میں انسداد پولیو مہم بھی روک دی گئی ہے۔
سینیئر صحافی مشتاق یوسفزئی نے بتایا کہ وفاقی وزیر مملکت پاکستان حنا ربانی کھر کا دورہ کابل تو پہلے سے شیڈول تھا اور جہاں سرحد پر افغانستان سے حملے ہیں اور اس کے علاوہ بلوچستان میں بھی سرحد پر تنازع ہوا ہے۔
اسی طرح افغان طالبان کو بھی مسائل در پیش ہیں جن میں پناہ گزینوں کو حالات اور ان پر بات چیت جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دیگر معاملات کے علاوہ بارڈر کے ساتھ ساتھ ٹی ٹی پی کی کارروائیاں بھی زیر بحث آئی ہیں اور افغان طالبان کے لیے بھی مشکل ہے کیونکہ اس وقت ان کی اطلاع کے مطابق افغانستان میں سات سے آٹھ ہزار طالبان ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کرنا مشکل ہے۔
سینیئر تجزیہ کاروں کے مطابق گذشتہ ایک دو ہفتوں کے دوران ٹی ٹی پی نے 16 حملے کیے ہیں اور اس کے علاوہ مزید حملوں کا اعلان بھی کیا ہے یا جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اور یہ ایسے وقت میں جب پاکستان میں دس کی قیادت تبدیل ہو رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے طالبان پاکستان حکومت اور ریاست کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ان کا ماضی میں عسکری قیات کی جو پالیسیاں ہیں کیا وہی جاری رہیں گی یا ان میں کوئی تبدیلی آئے گی اور لگتا ایسے ہے کہ طالبان بھی اسی مناسبت سے اپنی پالیسیاں وضع کریں گے۔
کیا حکومت کی تبدیلی سے پالیسی میں تبدیلی آئی ہے؟
کالعدم تنظیم تحریک پاکستان کے قائدین کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ پاکستان تحریک انصاف کے دور میں شروع ہوا تھا، جس کے لیے ثالثی افغان طالبان کر رہے تھے، جن میں افغان وزیر دفاع سراج الدین حقانی نمایاں تھے۔
ان مذاکرات کے دوران سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کا ذکر بھی ہوتا رہا اور طالبان کی جانب سے یہ کہا گیا کہ ان مذاکرات کے لیے وہ بھی افغانستان آئے تھے۔
اس کے علاوہ مختلف وفود بھیجے گئے جن میں قبائلی رہنماؤں کا جرگہ، علما کا وفد اور ایک 45 رکنی وفد شامل تھا، جس میں سیاسی اور قبائلی رہنماؤں کے علاوہ اہم شخصیات شامل تھیں۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں طالبان نے جنگ بندی کا اعلان کر دیا تھا، جس سے ان مذاکرات کی کامیابی کا تاثر پیدا ہوگیا تھا۔
ابھی یہ مذاکرات جاری تھے کہ اس دوران افغان طالبان کے اہم رہنما اور ان مذاکرات کے اہم رکن عمرخالد خراسانی کو ان کے ساتھیوں سمیت افغانستان میں قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ ان مذاکرات کے حق میں نہیں تھے۔
پاکستان میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی یہ سلسلہ کچھ عرصے تک جاری رہا جب تک پشاور میں جنرل فیض حمید کور کمانڈر رہے ہیں لیکن ان کے تبادلے کے بعد ان مذاکرات میں تعطل پیدا ہو گیا تھا۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کی اتحادی حکومت نے اس بارے میں کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا ہے کہ آیا ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے جائیں یا ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے
پختون امن پاسون کیا ہے؟
طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دوران سوات کے علاقے مٹہ میں شدت پسندوں کی آمد ان کے پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ویڈیو جس میں ایک ڈی ایس پی زخمی ہو گئے تھے اور پھر مذاکرات کے بعد ان اہلکاروں کو چھوڑ دیا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد علاقے میں امن کمیٹی کے عہدیداروں پر حملے ہوئے جس پر مقامی لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا تھا اور امن کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔
مقامی لوگوں کے اس احتجاج میں تمام سیاسی جماعتیں بشمول پشتون تحفظ موومنٹ کے عہدیدار شامل تھے اور سب لوگ اس پر متفق تھے کہ وہ اپنی سر زمین پر مزید تشدد برداشت نہیں کریں گے۔
ان مظاہروں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی تھی جس کے بعد حکومت کو ان کے خلاف کارروائی کرنا پڑی اور ان شدت پسندوں کی واپسی کی ویڈیو جاری کی گئیں اور یہ تاثر سامنے آیا کہ طالبان اس علاقے سے چلے گئے ہیں۔ اس کے بعد سوات میں جشن امن بھی منایا گیا۔
پشتون امن پاسون صرف سوات میں نھیں بلکہ وزیرستان اور دیگر شہروں میں بھی لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے جس میں صرف امن کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔ ان احتجاجی مظاہروں کا اثر یہ ہوا کے حکومت نے ان علاقوں کی طرف توجہ دینا شروع کر دی۔
کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے حالیہ اعلان کے بعد اب یہ سوال اٹھایا جا رہا کہ کیا حالات ایک مرتبہ پھر سنہ 2008 سے سنہ 2014 تک کی طرح ہو جائیں گے اور کیا تنظیم اتنی منظم ہے کہ ماضی کی طرح پھر سے حملے کر سکے، جس میں بڑی تعداد میں جانی نقصانات ہوئے تھے۔
سینیئر صحافی علی اکبر کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں لگتا کہ طالبان ماضی کی طرح حملے کر سکتے ہیں اگرچہ ان کا نیٹ ورک خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں موجود ہے لیکن دیگر علاقوں میں اتنے فعال نہیں ہیں۔
اس مرتبہ بھی انھوں نے سوات میں کوشش کی ہے لیکن انھیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی اسی طرح دیگر علاقوں میں ان کی قوت اتنی زیادہ نہیں ہے۔
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سال اب تک ٹی ٹی پی نے تین سے چار خود کش حملے کیے ہیں جن میں دو حملے شمالی وزیرستان میں تھے اور ایک اب کوئٹہ میں کیا گیا ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ افغان طالبان نے بھی ٹی ٹی پی کو حملوں سے روکے رکھا تھا اس لیے اس عرصے میں زیادہ تر کارروائیاں ٹارگٹ کلنگ کی ہوئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں ٹی ٹی پی زیادہ منظم نہیں تھی اور گروہ بندی کا شکار رہی ہے لیکن اب بیشتر چھوٹے گروہوں کے انضمام کے بعد تنظیم کافی حد تک منظم ہوئی ہے۔