آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سوات میں طالبان کی واپسی کی خبریں، کیا واقعی حکومت کچھ علاقے ٹی ٹی پی کے حوالے کر رہی ہے؟
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے سوات میں مبینہ طور ہر طالبان کی واپسی کی خبروں سے وہاں کی عوام میں ایک خوف پھیل گیا ہے جبکہ دوسری جانب سوات کے علاقے مٹہ میں اپنے آپ کو طالبان کہلوانے والے مسلح افراد کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد ہمیں کہا گیا ہے کہ اب آپ اپنے اپنے علاقوں کو جا سکتے ہیں۔
طالبان کے ساتھ مذاکرات میں شامل صوبائی حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی ہے، اب تک کے مذاکرات میں صرف جنگ بندی سے متعلق بات کی گئی ہے اور اس پر کوشش کی جا رہی ہے کہ دونوں جانب سے عملدرآمد ہو۔
تو پھر یہ سوات اور دیر کے سرحدی علاقے میں مسلح افراد کون ہیں؟ ان کی تعداد کتنی ہے؟ کیا یہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے مسلح لوگ ہیں یا ان کے بھیس میں کوئی دیگر جرائم پیشہ لوگ یا کسی اور مسلح تنظیم کے کارندے ہیں؟
اگر یہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے افراد ہیں تو کیا انھیں اجازت دی گئی ہے اور یہ کس حیثیت میں یہاں رہیں گے، کیا یہ ہتھیار ڈال کر، عام شہریوں کی طرح پر امن رہیں گے یا یہ لوگ یہاں پھر سے منظم ہو کر پہلے کی طرح کی کارروائیاں شروع کر دیں گے؟
صورتحال جو بھی ہو علاقے میں خوف و ہراس کی فضا ہے، عام آدمی پریشان ہے، فوجی آپریشنز کے نتیجے میں جو امن قائم ہوا تھا اور علاقے میں سیاحت اور دیگر صنعتوں نے جو ترقی کی تھی اب ان کے مستقبل کے حوالے سے سوالات ہیں۔
ان سب سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کریں گے کہ سوات اور دیگر علاقوں میں کیا ہو رہا ہے لیکن پہلے جانتے ہیں کہ چند روز قبل مٹہ میں کیا ہوا۔
سکیورٹی اہلکار مسلح افراد کے ہاتھوں یرغمال
ضلع سوات کے علاقے مٹہ کے قریب پہاڑی علاقوں میں کشیدگی کی اطلاع تھی۔ کچھ اطلاعات کے مطابق اتوار اور سوموار کی درمیانی شب نامعلوم افراد نے اس علاقے میں چپڑیال تھانے پر حملہ کیا لیکن پولیس کے مطابق اس علاقے میں تھانے پر حملہ نہیں ہوا بلکہ مقامی سطح پر فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا تھا۔
اس واقعے کے بعد پولیس اور ان کے ساتھ سکیورٹی اہلکاروں نے اس علاقے میں کارروائی کی جہاں مسلح افراد موجود تھے۔ مقامی افراد کے مطابق اس کارروائی میں مسلح افراد کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں پولیس کے ایک ڈی ایس پی زخمی ہوئے اور انھیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مسلح افراد نے یرغمال بنا لیا جس کے بعد جرگے کے ذریعے مذاکرات کے نتیحے میں ان کی بازیابی ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بارے میں مقامی پولیس نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈی ایس پی سرکل مٹہ پیر سید خان پولیس نفری کے ہمراہ کنالہ تحصیل مٹہ کے علاقے میں سرچ آپریشن میں مصروف تھے کہ اسی اثنا میں دہشت گردوں نے پولیس پر فائرنگ شروع کی، اور فائرنگ کے نتیجے میں ڈی ایس پی مٹہ پیر سید خان زخمی ہوئے، پولیس کے جوابی فائرنگ سے دہشت گرد بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔
فائرنگ کا واقعہ رونما ہونے کے فوراً بعد ڈی پی او سوات زاہد نواز مروت کی نگرانی میں سی ٹی ڈی، ضلعی پولیس، ایلیٹ فورس نے موقعے پر پہنچ کر علاقے میں سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا اور زخمی ہونے والے ڈی ایس پی مٹہ پیر سید خان کو دشوار گزار پہاڑیوں سے اُتار کر فوری طور پر ریسکیو 1122 کے ذریعے سیدو شریف ہسپتال پہنچایا گیا۔
یرغمالی اہلکاروں کی ویڈیو نے بھانڈا پھوڑ دیا
پولیس بیان کے بعد مبینہ طالبان کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں طالب تو نظر نہیں آئے لیکن اس میں فوج کے دو افسران اور ایک زخمی ڈی ایس پی کو دکھایا گیا ہے جو ان مسلح افراد کی تحویل میں تھے۔
اس ویڈیو میں میبنہ طالب زخمی ڈی ایس پی سے پوچھ رہے ہیں کہ ’تمھیں کسی نے بتایا نہیں ہے جس پر ڈی ایس پی کہتے ہیں کہ میرے ساتھ کسی نے بات نہیں کی ہے۔‘
سوات کے ایک مقامی صحافی شہزاد عالم نے جب ڈی ایس پی کو فون کیا تو فون ایک طالب نے اٹھایا اور اس میں طالب نے کہا کہ ڈی ایس پی زخمی ہے اور بعد میں بات ہو سکے گی۔ طالب نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ہماری جنگ بندی ہے اور ہمارے قائدین نے مذاکرات شروع کیے ہیں اور ہمیں اپنے اپنے علاقوں میں جانے کی اجازت دی گئی ہے۔
طالب نے مزید کہا کہ ’یہ ہمارے بھائی ہیں۔ ہمارے قائدین کی بات چیت جاری ہے اور انھوں نے غلطی کی ہے کہ یہ یہاں اوپر پہاڑ پر ہمارے علاقے میں آئے ہیں، ہم ان کے تھانے میں نہیں گئے تھے۔ یہ سکیورٹی والے ان علاقوں میں آئے ہیں پیو چار اور دیگر علاقوں میں حالانکہ ان کے ساتھ ہماری بات چیت جاری ہے، یہ ہماری فوج ہے ہم ان کی قدر کرتے ہیں یہ ہمارے بھائی ہیں باقی ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘
سوات کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس ارشد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں پولیس متحرک ہے اور کسی کو غیر قانونی طور پر مسلح ہو کر رہنے کی اجازت نہیں دی سکتی۔
انھوں نے کہا کہ حکومت کی رٹ بحال ہے اور علاقے میں کوئی طالبان نہیں آئے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کیا کہنا ہے؟
مٹہ میں طالبان کے ساتھ اس جھڑپ کے بعد خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ علاقے میں ایک کشیدگی کی فضا ہے۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے گذشتہ روز ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ سوات میں جو کچھ ہوا ہے وہ تشویش ناک ہے اور یہ صرف خیبر پختونخوا نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
اس بارے میں ایک مقامی صحافی فیاض ظفر نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ ایک ماہ سے ان پہاڑوں پر طالبان کی موجودگی کی اطلاع تھی اور سوشل میڈیا پر ان کی موجودگی کی تصویریں بھی سامنے آئی تھیں لیکن اس بارے میں سرکاری سطح پر کوئی بات نہیں کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب جب مٹہ میں یہ واقعہ پیش آیا ہے تو اس کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ مسلح افراد اس علاقے میں موجود ہیں۔
لوئر دیر سے ایک مقامی تاجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ علاقے میں کچھ اہم مقامات پر ان مسلح افراد کو دیکھا گیا ہے لیکن اب تک بظاہر ان کی کوئی ایسی کارروائی کی اطلاع نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ یہ لوگ ماضی کی طرح پھر سے اپنی سرگرمیاں شروع کر رہے ہیں۔
طالبان پرامن شہری کے طور پر رہیں گے یا دوبارہ منظم ہوں گے؟
افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات میں جہاں جنگ بندی اور فاٹا انضمام پر بات چیت جاری تھی وہاں ایک موضوع ان طالبان کے اپنے علاقوں میں واپسی کا بھی تھا۔
لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ واپسی غیر مسلح ہو گی اور ان تمام افراد کو آئین اور قانون کے مطابق زندگی گزارنا ہوگی۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کا مشتاق یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ مذاکرات اور جنگ بندی کے بعد طالبان کا کہنا تھا کہ انھیں ہدایات ملی ہیں کہ اپنے علاقوں کو جا سکتے ہیں اور افغانستان سے اپنے ان علاقوں میں آنے کے دوران بعض مقامات پر ان کی جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان کی اپنے علاقوں میں واپسی اور آبادکاری ایک بڑا مسئلہ ہے اور ان طالبان کے آنے سے اب مقامی لوگوں کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ہے کہ اگر امن مذاکرات کو مقامی لوگ تسلیم نہیں کرتے تو کیا طالبان پھر سے ان علاقوں میں آ سکتے ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ان علاقوں میں کیسے رہیں گے۔
’ایک طالب کی مقامی صحافی سے گفتگو جس میں وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ’اوپر آسمان ہے اور نیچے پہاڑ ‘ میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ طالبان دیر اور سوات کے اس سرحدی علاقے میں پہاڑ کی چوٹی پر رہیں گے۔‘
’ایسے دھڑے ہیں جو مذاکرات کی کامیابی نہیں چاہتے‘
صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں عوامی شکایات موصول ہوئی ہیں کہ ان علاقوں میں طالبان کے نام سے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اب یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ ٹی ٹی پی کے لوگ ہیں یا ان کا تعلق داعش، دیگر عسکریت پسند گروہوں یا جرائم پیشہ افراد سے ہے جو طالبان کا نام استعمال کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے دھڑے ہیں جو نہیں چاہتے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوں۔‘
بیرسٹر سیف ٹی ٹی پی کے قائدین کے ساتھ مذاکرات کے لیے جانے والے وفود میں بھی شامل رہے ہیں اور ان مذاکرات کا اہم حصہ ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ جن مذاکرات میں وہ شامل رہے ہیں ان میں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی کہ یہ لوگ مسلح واپس اپنے علاقوں میں آئیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں یہ بات اٹھائی گئی تھی کہ طالبان یا ان کا نام استعمال کر کے مسلح افراد اس خطے میں اپنی کارروائیاں کر رہے ہیں اور لوگوں سے بھتے وصول کر رہے ہیں۔
اس پر ٹی ٹی پی کے ترجمان نے باقاعدہ ایک بیان جاری کیا اور اس میں فون نمبر دیا گیا ہے کہ اگر ان کے نام سے کوئی بھتہ مانگے تو اس کی اطلاع اس نمبر پر دی جائے۔
بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ اگر وہ شخص ٹی ٹی پی کا بندہ ہوا تو اس کے خلاف وہ خود کارروائی کریں گے اور اگر کوئی اور شخص ہوا تو اس کے ساتھ حکومت قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔
’حکومتی رٹ تمام علاقوں میں قائم ہے اور رہے گی‘
بیرسٹر سیف نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ کوئی علاقہ طالبان کے حوالے کر دیا گیا ہے اور وہ وہاں اپنا کنٹرول رکھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘حکومت کی رٹ تمام علاقوں میں ہے اور یہ رٹ رہے گی کوئی غیر قانونی سرگرمی کے بارے میں سوچے بھی نہیں۔ قانون اور آئین کی بالادستی قائم رہے گی۔‘
تجزیہ کاروں کے مطابق مٹہ میں کارروائی اور ویڈیو سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جس علاقے میں وہ پہنچے ہیں وہاں وہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی مداخلت تسلیم نہیں کرتے۔
مقامی صحافی عدنان باچا نے بتایا کہ مٹہ میں پیش آنے والے واقعے کے بعد سرکاری سطح پر کوئی کارروائی نظر نہیں آ رہی اور نہ ہی مقامی انتظامیہ نے کوئی پیش قدمی کی ہے۔
اس بارے میں یہ بھی نہیں بتایا جا رہا کہ یہ کیا یہ واقعی ٹی ٹی پی کے لوگ ہیں یا یہ لوگ کسی اور گروہ یا تنظیم سے وابستہ ہیں تاہم ویڈیو میں وہ یہ ہی دعویٰ کر رہے ہیں کہ انھیں مذاکرات اور جنگ بندی کے بعد قائدین نے اپنے علاقوں میں جانے کا کہا ہے۔
کیا علاقے میں بھتے کی دھمکیاں مل رہی ہیں؟
سوشل میڈیا پر ایسی خبریں دیکھنے کو ملی ہیں کہ ان علاقوں میں اور صوبے کے دیگر شہروں میں اہم شخصیات کو بھتے کی پرچیاں ملی ہیں اور بعض حکام نے اس بارے میں کچھ لوگوں کی مدد بھی لی ہے۔
اسی طرح ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی ملک لیاقت پر حملہ کیا گیا جس میں ان کے خاندان کے افراد سمیت چار لوگ ہلاک ہو گئے تھے جبکہ وہ خود اس میں زخمی ہوئے۔ ان کے بارے میں بھی ایسی اطلاع تھی کہ انھیں بھتے کی پرچی ملی ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
دیر سے مقامی صحافی حلیم اسد نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت ان کے علاقے میں جو صورتحال ہے یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے سال 2008 اور 2009 میں جیسے طالبان ابھر رہے تھے جس وجہ سے علاقے میں خوف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لوئر دیر میدان میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ہے اور علاقے میں امن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔
بیرسٹر سیف نے اس بارے میں کہا ہے کہ جب تک بھتے کی دھمکی یا پرچی کا ریکارڈ پولیس کے پاس نہ ہو تو وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے، ملک لیاقت زخمی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ صحت یاب ہونے کے بعد وہ خود اس بارے میں کوئی بیان دیں اور جہاں تک دیگر اعلیٰ حکام کو بھتے کی پرچیاں ملنے اور بھتہ ادا کرنے کی بات ہے تو ایسا کچھ نہیں ہے۔
اس بارے میں ٹی ٹی پی کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک لیاقت پر حملہ انھوں نے نہیں کیا اور وہ اس کی مذمت کرتے ہیں۔
مسلح افراد کس علاقے میں ہیں اور ان کی تعداد کتنی ہے؟
سوات کا یہ علاقہ ماضی میں بھی طالبان کا اہم مرکز رہا ہے۔ یہ تحصیل مٹہ کا علاقہ کھنالہ ہے اور یہ مٹہ شہر سے چھ سے سات کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جہاں طالبان نے مبینہ طور پر ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ اس علاقے کے قریب ضلع دیر کی سرحد ہے اور پھر دیر سے افغانستان کی سرحد کی طرف راستہ جاتا ہے۔
تحصیل مٹہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان کا علاقہ ہے لیکن وہ بھی اس بارے میں مکمل خاموش ہیں۔ مقامی صحافی فیاض ظفر نے بتایا کہ ابتدائی طور پر تو یہی اطلاع موصول ہوئی ہے کہ ان کی تعداد 40 سے 50 تک ہے لیکن ان کے ساتھ باقی ساتھی بھی مل رہے ہیں۔
ایسی اطلاعات ہیں کہ ان کی تعداد 300 سے 400 تک ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ایک اطلاع ہے کہ یہاں کوئی 150 خاندان ہیں جو واپس آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
سوات اور دیر طالبان کے اہم مرکز
پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جب سے شروع ہوئی ہے تو ملاکنڈ ڈویژن طالبان کا ایک اہم مرکز رہا ہے اور یہاں سے ٹی ٹی پی کے اہم سربراہ ملا فضل اللہ سامنے آئے تھے جبکہ صوفی محمد کا تعلق بھی انہی علاقوں سے تھا۔
اس علاقے میں شریعت کے نفاذ کے لیے صوفی محمد نے کافی عرصے سے کوششیں شروع کر رکھی تھیں لیکن سوات میں فوجی آپریشن کے بعد ان شدت پسندوں کا مکمل صفایا کر دیا گیا تھا۔
سال 2007 سے سال 2009 تک شدت پسند اس علاقے میں ابھر کر سامنے آئے جن میں ملا فضل اللہ بھی شامل تھے جو ایف ایم ریڈیو کے ذریعے اپنی تقاریر کرتے تھے۔ جغرافیائی لحاظ سے بھی یہ علاقہ گوریلا جنگ کے لیے موزوں رہا ہے اور اس علاقے کے شدت پسند اس میں ماہر سمجھے جاتے ہیں۔
سال 2008 میں پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو اس وقت ان شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیاں کی جا رہی تھیں لیکن مئی 2008 میں عوامی نیشنل پارٹی نے شدت پسندوں کے ساتھ 21 نکاتی امن معاہدہ کیا جو زیادہ عرصہ نہ چل سکا۔
تجزیہ کاروں اور ماہرین کے مطابق دسمبر 2008 تک شدت پسندوں نے سوات کے 75 فیصد علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ پھر فوجی آپریشن ’راہ حق دوم‘ کا آغاز ہوا لیکن صوبائی حکومت کی شکایت کے مطابق وہ کوئی زیادہ مؤثر ثابت نہ ہو سکا۔
اس پر صوبائی حکومت نے فروری 2009 میں نفاذ نظام عدل پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے مولانا صوفی محمد کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کر دیے۔
اس معاہدے کی آڑ میں شدت پسندوں نے قریبی اضلاع کا رخ کر لیا اور ان کے خلاف کارروائی آج کل جاری ہے۔ موجودہ حالات میں بھی اکثر مقامی لوگ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کو اس تناظر میں دیکھ رہے ہیں کہ کہیں یہ پہلے کی طرح شدت پسند دیگر علاقوں میں بھی پھیل جائیں گے اور جن علاقوں میں انھیں اجازت دی جائے گی ان علاقوں میں لوگوں کے ساتھ ان کا کیا سلوک ہوگا۔
ان علاقوں میں سیاحت اور دیگر صنعتوں نے ترقی کی ہے، سڑکیں، موٹر ویز اور ہوٹل تعمیر ہوئے ہیں اس سال گرمی کے سیزن میں سیاحتی مقامات پر لوگوں کا بڑا رش رہا ہے اور ہوٹلوں میں جگہ کم پڑ گئی تھی۔ اگر ان علاقوں میں طالبان واپس آتے ہیں سیاحت کی صنعت پر اس کے کیا اثرات پڑ سکتے ہیں، اس حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔