ہندسے بدل گئے، کب بدلیں گے حالات؟ عاصمہ شیرازی کا کالم

    • مصنف, عاصمہ شیرازی
    • عہدہ, صحافی و تجزیہ کار

سال کے کیلینڈر پر فقط تاریخ بدلتی ہے حالات نہیں، بارہ مہینوں پر مشتمل سالنامہ تاریخوں میں لپٹی خواہشات کب بتا سکتا ہے؟ موجود لمحے آنے والے دنوں کی خبر دیتے ہیں اور گزر جانے والے دن آئندہ کا حال سُناتے ہیں۔ ہمارے گذشتہ میں ایسا کیا ہے کہ پیوستہ کی خوش کُن خبر ملے، دل خوش گُمان ہے مگر بے خبر نہیں۔۔۔ 

سال 2023 معاشی، سیاسی اور سماجی رویوں میں کیا تبدیلی لائے گا؟ معاشی اعشاریے کس پیمانے پر ہوں گے اور سیاسی پارہ کتنا بُلند؟ کس کے ستارے عروج پر تو کون زوال کا شکار، کس کے ستارے گردش میں اور کون نصیب کی باگ ہاتھ لے گا۔۔۔ موجودہ حالات میں یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں۔

حالات واقعات کی جو نشاندہی کر رہے ہیں اُن میں معیشت سر فہرست ہے، یہ معیشت ہی تھی جس کی وجہ سے عمران خان کی حکومت گول ہوئی اور یہ معیشت ہی ہے جس کی وجہ سے ٹیکنو کریٹ سیٹ اپ کی افواہیں گردش میں ہیں۔

ناکام پراجیکٹ عمران کے تجربے سے دل اگر نہیں بھرا تو ٹیکنو کریٹس کا تجربہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو کسر رہ گئی اُسے پورا کیا جائے بہر حال تاحال یہ دیوانے کا خواب ہی ہے۔

وطن عزیز کسی اور تجربے کا قطعاً متحمل نہیں اور نہ ہی اس تجربہ گاہ میں اب ایسے سائنسدان موجود ہیں جو معیشت کے مالیکیول کو مرکری میں ملا کر بہترین نتائج حاصل کر سکیں۔ 

گذشتہ 75 برس میں ہونے والے تجربوں کا نچوڑ گذشتہ چار برس میں موجود ہے۔ آمریت کی طویل چار دہائیوں اور 30 برس کی نیم جمہوریتوں کے مغلوبے کو گذشتہ چار سال کے ہائبرڈ رجیم میں ڈھال کر جس نئی بوتل میں ڈالا گیا اُس نے تجربہ گاہ کو ہی اُڑا کر رکھ دیا اور منصوبے کو انجام تک لے جانے والے ’سائنسدان‘ اب کالم نگاروں اور صحافیوں کے سامنے لمبی لمبی نشستوں میں دل کے پھپھولے پھوڑ رہے ہیں۔

پچھتاوا اس بات کا نہیں کہ ذاتی خواہشات نے ملک کو کہاں پہنچا دیا پچھتاوا اس غم کا ہے کہ اب اُن کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ وطن عزیز کو لگنے والے زخموں کا مداوا نہ ہی الفاظ میں ہے اور نہ ہی اُس انداز میں جسے اختیار کیا جا رہا ہے۔ 

نئے سال میں ایسا کیا ہو کہ سب بدل جائے؟ ملک نازک موڑ سے نکل جائے، مفاہمت کی سیاست کا آغاز ہو جائے، مقتدرہ غیر سیاسی رہے اور عدم مداخلت پر عمل پیرا ہو، 2022 کی آخری شام آرمی چیف نے جس خواہش کا اظہار کیا ہے وہی آئندہ سال کی قرارداد بھی ہے۔

خاموش زُبان میں ایسا ہی کہا جا سکتا ہے کہ سیاستدان کچھ احساس کریں کہ ملک کس نازک موڑ سے گُزر رہا ہے، جہاں مفاہمت کی ضرورت ہے۔

درست کہا آرمی چیف نے مگر یقیناً یہ کھوج بھی لگایا گیا ہو گا کہ ملک کیوں نازک موڑ سے گُزر رہا ہے، کس کی وجہ سے گُزر رہا ہے اور کب تک گُزرے گا؟ معیشت کو نقب کس نے لگائی؟ سیاست میں منافرت در کیسے آئی؟ تقسیم اور تفریق نے پنجے کیسے گاڑھے؟ اور دہشت گردی کا عفریت واپس کیسے آیا؟ ہمارے شہروں میں پناہ گاہیں دوبارہ کیسے بنیں؟ امن و امان کس پالیسی کی بھینٹ چڑھا؟ بہر حال احساس اچھی بات ہے اور اس احساس سے اچھی توقع رکھنی چاہیے۔ 

دہشت گردوں کی واپسی ایک اہم چیلنج ہے اور نئی عسکری قیادت کو اس پر بھی غور کرنا ہو گا، کیا ہی اچھا ہو کہ گذشتہ برسوں کی پالیسیوں کا ادراک کیا جائے اور نئے سال میں پُرانے ذمہ داروں کا تعین بھی ہو۔ 

پی ڈی ایم سرکار کو اپنی ترجیحات بھی بدلنا ہوں گی، سیاستدانوں کو اپنے ’فروعی اور عائلی‘ مسائل سے نکل کر آگے کی طرف دیکھنا ہو گا جبھی اپنی کھوئی جگہ حاصل کر پائیں گے، قدرے غیر سیاسی مقتدرہ کو مکمل غیر سیاسی کرنے تک سیاست دانوں اور پارلیمان کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

عاصمہ شیرازی کے دیگر کالم بھی پڑھیے

اس ایک سال کو عبوری سال ہی سمجھا جائے اور قلیل مدت میں طویل مدتی مقاصد حاصل کرنے کی کم از کم بُنیاد فراہم کی جائے۔

بہر حال عوامی ریلیف، مہنگائی میں کمی، معیشت پر چھائے گہرے بادل اور سیاسی بے یقینی کی دُھند چھٹے گی تو ریاست کا صاف چہرہ نظر آئے گا کہ کون کتنا غیر سیاسی ہے اور کس نے آئین کی عملداری کرنا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ سال علی وزیر کی رہائی کا سال بھی ہو۔

2023 میں 2022 کی اسٹیبلشمنٹ کے غیر سیاسی ہونے کے سفر کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ایک اہم چیلنج ہو گا جبکہ سیاسی پہلوانوں کا بغیر بیساکھیوں آگے بڑھنا بھی امتحان۔۔۔

دیکھیے اس امتحان میں کون کتنا کامیاب ہوتا ہے؟ مشتری ہوشیار باش! 2023 بننے اور بگڑنے کا سال ہے۔