آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آپ کی گردن کی موٹائی آپ کی صحت کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟
- مصنف, چندن کمار ججواڑے
- عہدہ, بی بی سی ہندی
کسی بھی انسان کے ظاہری حُسن کی تعریف میں اکثر لمبی اور پتلی گردن کا ذکر آتا ہے، یہاں تک کہ محبوب کی خوبصورتی کے لیے ایک فقرہ بہت مستعمل ہے: یعنی محبوب کی گردن کا صراحی دار ہونا۔
عمومی طور پر لوگ موٹاپے کو زیادہ وزن یا پیٹ میں موجود اضافی چربی سے جوڑتے ہیں۔ اور اِس قسم کا موٹاپا بعض اوقات اضطراب اور وزن کم کرنے کی بے انتہا کوششوں کا باعث بن سکتا ہے۔
تاہم، گردن ہمارے جسم کا ایک ایسا حصہ ہے جو ہماری صحت کے بہت سے مسائل کی نشاندہی کر سکتا ہے لیکن اکثر اس پر توجہ نہیں دی جاتی ہے۔
اگر گردن پر کوئی داغ ہو یا اس کا رنگ بدلنے لگے تو لوگ فوراً اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اسے ٹھیک کرنے کے طریقے تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ چونکہ گردن چہرے کے بالکل نیچے ہوتی ہے اور دوسروں کو نظر آتی ہے۔ عموماً خواتین اس حوالے سے زیادہ حساس پائی جاتی ہیں۔
لیکن اگر گردن معمول سے زیادہ موٹی یا پتلی نظر آتی ہے تو یہ کس چیز کی نشاندہی ہے؟ اور کیا ایسی صورتحال میں آپ کو محتاط رہنا چاہیے؟
پتلی گردن کو اکثر جسمانی خوبصورتی سے منسلک کر کے دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان اور انڈیا سمیت کئی ممالک میں گردن کے اگلے حصے کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے خواتین اس پر زیورات بھی پہنتی ہیں۔
مرد اور عورت دونوں ہی اپنی گردن کی خوبصورتی میں اضافے کے خواہاں نظر آتے ہیں۔
کچھ افریقی ممالک میں اس جانب بہت توجہ نظر آتی ہے اور خواتین کو گلے میں چوڑی نما زیورات پہنے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہاں ایسا اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ گردن پتلی اور لمبی دکھائی دے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لوگ اپنی گردن کو پرکشش بنانے کے لیے ورزش کا سہارا بھی لیتے اور خصوصی مشقیں بھی کرتے ہیں۔
اگرچہ ورزش کی وجہ سے جسم اور گردن میں تبدیلیاں معمول کی بات ہیں، لیکن جسم کے باقی حصوں کے مقابلے گردن میں تبدیلی، خاص طور پر اگر گردن پتلی یا موٹی نظر آئے تو وہ کئی بیماریوں کی علامت ہو سکتی ہے۔
موٹی گردن کس چیز کی نشاندہی کرتی ہے؟
انڈین دارالحکومت دہلی میں آئی ایل بی ایس کے ڈائریکٹر اور نیشنل اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کے صدر ڈاکٹر شیو کمار سرین نے اپنی کتاب ’آن یور باڈی‘ میں گردن پر تفصیل سے بحث کی ہے۔
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’خواتین کی گردن کا عام فریم 33 سے 35 سینٹی میٹر اور مردوں کے لیے 37 سے 40 سینٹی میٹر ہونا چاہیے۔ اس سے بڑی کوئی بھی چیز کئی بیماریوں کی نشاندہی کرتی ہے۔‘
انھوں نے وضاحت کی کہ اس وقت بہت سے ایسے نئے طبی مطالعات دستیاب ہیں جو گردن کی موٹائی کی بنیاد پر بیماریوں کی پیش گوئی کرتے ہیں۔
دہلی کے آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں گیسٹرو اینٹرولوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر شالیمار کہتے ہیں کہ ’اگر گردن میں تھوڑی زیادہ چکنائی ہو یا گردن چھوٹی دکھائی دے تو ہم اکثر ایسے لوگوں میں فیٹی لیور اور موٹاپے جیسے مسائل دیکھتے ہیں۔ ایسی گردن کے حامل افراد عموماً سوتے ہوئے ضرورت سے زیادہ خراٹے بھی لیتے ہیں۔‘
اگر کسی شخص کی گردن معمول سے زیادہ موٹی نظر آتی ہے تو یہ میٹابولک سنڈروم کی نشاندہی ہو سکتی ہے۔
دہلی میں سر گنگا رام ہسپتال کے سینیئر کنسلٹنٹ ڈاکٹر محسن ولی کہتے ہیں کہ ’ایک موٹی گردن والے شخص کو ہائی کولیسٹرول، فیٹی لیور، ذیابیطس، اور ہائی بلڈ پریشر ہو سکتا ہے۔ مگر اس کے لیے خصوصی جانچ کی ضرورت ہے۔‘
موٹی گردن موٹاپے کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔
محسن ولی کہتے ہیں کہ ’بعض اوقات، خواتین میں موٹی گردن پولی سسٹک اووری نامی حالت کی نشاندہی کر سکتی ہے۔ اس میں بیضہ دانی میں ایک سے زیادہ سسٹ بننا شامل ہے، جو مختلف پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے، جن میں بے قاعدہ ماہواری اور حمل کی پیچیدگیاں شامل ہیں۔‘
جن لوگوں کی گردن کسی بیماری کی وجہ سے موٹی ہو رہی ہو، اکثر اُن کی گردن کے پچھلے حصے کی جلد سیاہ پڑ جاتی ہے۔ گردن کی جلد کا سیاہ ہونا نہ صرف جلد کے مسئلے کی طرف اشارہ کر سکتا ہے بلکہ کسی اور طبی حالت کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔
ڈی وائی میڈیکل کالج کے پروفیسر امیتاو بنرجی کہتے ہیں کہ ’اگر کسی کی گردن معمول سے زیادہ موٹی ہے، تو یہ صحت کے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے، اور موٹاپے کی نشاندہی ہے۔ موٹاپا پھر جسم میں مختلف بیماریوں کی نشوونما کا باعث بنتا ہے۔‘
ڈاکٹر امیتاو کے مطابق اگر دو افراد ایک جیسی جسمانی خصوصیات کے حامل دکھائی دیتے ہیں، یعنی اُن کا وزن ایک جیسا نظر آتا ہے، لیکن اُن میں سے ایک شخص کی گردن موٹی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ ان کے جسم میں چربی زیادہ ہے اور وہ موٹاپے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔