جعفرآباد کے سکول میں بچوں کا مبینہ ریپ، پرنسپل اور ہاسٹل وارڈن گرفتار: ’میرے بیٹے کی وجہ سے دوسرے بچے بچ گئے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
’جب میں پہلے اپنے کمسن بیٹے سے ملنے اُس کے سکول کے ہاسٹل جاتا تھا تو وہ بہت خوش ہوتا تھا کہ ابو آگئے ہیں لیکن جب میں 17 ستمبر کو اس سے ملاقات کے لیے گیا تو صورتحال پہلے جیسی نہیں تھی کیونکہ میرا بچہ مجھے دیکھتے ہی زارو قطار رونے لگا۔‘
یہ الفاظ بلوچستان کے ضلع جعفرآباد سے تعلق رکھنے والے فرحان اصغر(فرضی نام) کے ہیں جن کا 11 سالہ بچہ ایک نجی سکول میں پانچویں جماعت کا طالبِ علم ہے۔
سندھ سے متصل بلوچستان کے اس جنوب مشرقی ضلع کے ہیڈکوارٹر ڈیرہ اللہ یار میں پولیس نے ایک نجی سکول کے پرنسپل سمیت سٹاف کے دو افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر سکول کے بچوں کے مبینہ ریپ کا الزام ہے۔
انتباہ: اس تحریر میں موجود چند تفصیلات قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔
جعفر آباد پولیس کے ایس ایس پی عطاالرحمان ترین کا کہنا ہے کہ بچوں کے ساتھ ریپ کے الزام میں پرنسپل سمیت سکول کے عملے کے تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
جعفرآباد پولیس نے بدھ کے روز گرفتار ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرکے ان کا سات روزہ ریمانڈ حاصل کیا تھا۔
جعفرآباد پولیس کے ایس ایس پی عطاالرحمان ترین نے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’سکول کا پرنسپل مبینہ طور پر بچوں کو نہ صرف اپنے دفتر بلاتا تھا بلکہ ان کے پاس ہاسٹل میں بھی جاتا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ سکول کے پرنسپل اور ہاسٹل کے وارڈن کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور وہ اس وقت پولیس کی تحویل میں ہیں۔ تاہم تیسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ جن بچوں کا ریپ کیا گیا ان کی عمریں 10 سے 12 سال کے درمیان ہیں۔ اس واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے سکول کو سیل کردیا ہے۔
’بچے کو روتا دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا‘
فرحان اصغر نے بتایا کہ ’جب ڈیرہ اللہ یار میں ہاسٹل کی سہولت کے ساتھ یہ سکول بنا تو یہ میرے لیے ایک اچھا موقع تھا کہ اپنی استطاعت کے مطابق اپنے 11 سالہ بچے کو اسی سکول میں پڑھاؤں کیونکہ میرا گھر سکول سے بہت دور تھا اور روزانہ کی بنیاد پر ان کے لیے اس سکول تک آنا جانا مشکل تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’دو سال کے دوران بچے کو ہر ماہ کی 27 تاریخ کو تین چار روز کی چھٹی ملتی تھی جس میں وہ اپنے گھر آ جاتا تھا۔‘ تاہم جب ان کا شہر جانا ہوتا تھا تو وہ اپنے بیٹے سے ملنے ضرور جاتے تھے۔
وہ کہتے ہیں ہر بچے کی طرح ان کا بیٹا بھی ان کو سکول اور ہاسٹل میں دیکھ کر خوش ہوتا تھا لیکن 17 ستمبر کو ایسا نہیں ہوا۔
’نہ تو وہ مُجھے دیکھ کر خوش ہوا اور نہ ہی اُس نے مُجھ سے کُچھ کہا بس مُجھے دیکھتے ہی زور زور سے رونا شروع کر دیا۔ میرے پوچھنے پر میرے بیٹے نے بتایا کہ سکول کے پرنسپل نے دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر ان کا ریپ کیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے کبھی ان کے بیٹے نے کبھی ایسی کوئی شکایت نہیں کی تھی۔
فرحان اصغر نے کہا کہ انھیں بہت غصہ آیا لیکن وہاں دوسرے لوگوں نے انھیں روکا اور کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے کی بجائے پولیس کو اطلاع دیتے ہیں۔
’میرے بچے کے بعد چار دیگر بچے سامنے آئے اور انھوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ بھی ریپ ہوا۔ ان بچوں کے ساتھ میرے بیٹے سے پہلے یہ سب ہوا، لیکن انھوں نے خوف کی وجہ سے اپنے والدین کو کچھ نہیں بتایا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میرے بیٹے کی ہمت کی وجہ سے دوسرے بچے بچ گئے ورنہ اگر وہ بھی انھیں کی طرح خاموش رہتا تو شاید یہ دوسرے بچوں کو اسی طرح نشانہ بناتے۔ ہمیں توقع ہے کہ پولیس ملزمان کو سخت سے سخت سزا دے گی اور کیفر کردار تک پہنچا کر ہمیں انصاف دلائے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایف آئی آر میں کیا درج ہے؟
پانچ بچوں کے مبینہ ریپ کا مقدمہ ڈیرہ اللہ یار پولیس سٹیشن میں فرحان اصغرکی مدعیت میں ہی درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق مدعی نے فون پر ایس ایچ او جاوید کھوسہ کو بتایا کہ آپ لوگ نجی سکول کے ہاسٹل آجائیں کیونکہ میرے بیٹے کے ساتھ ایک مسئلہ پیش آیا ہے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ’جب ایس ایچ او اور دوسرے اہلکار سکول پہنچے تو فرحان اصغر نے انھیں بتایا کہ وہ اپنے بیٹے سے ملنے تین بجے ہاسٹل پہنچے تو ان کا بیٹا زاروقطار رونے لگا اور یہ بتایا کہ سکول کے پرنسپل نے سکول کے عملے کے دو دیگر افراد کے ساتھ مل کر ان کا ریپ کیا ہے۔‘
ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ بچے کے والد نے جن دو دیگر افراد پر ریپ کا الزام لگایا ان میں ہوسٹل کا وارڈن اور ایک اور ملازم شامل ہے۔
فرحان اصغر کے بیٹے نے اپنے والد کو یہ بھی بتایا کہ ان سے پہلے چار دیگر بچوں کو بھی ان ہی تین ملزمان نے ریپ کا نشانہ بنایا لیکن انھوں نے خوف کی وجہ سے اپنے والدین کو اس بارے میں کچھ نہیں نہیں بتایا تھا۔
بچوں نے پولیس کو کیا بتایا؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ایس ایچ او نے بتایا کہ جب ہم سکول پہنچے تو اس وقت صرف فرحان اصغر کے بیٹے نے ریپ کی شکایت کی تھی۔
’ہم نے فرحان کو بتایا کہ وہ پولیس کا ساتھ دے تاکہ بچے کا میڈیکل کروایا جا سکے اور ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچایا جاسکے۔ اس پر وہ راضی ہوگئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پولیس نے یہ سوچا کہ ہوسکتا ہے کہ ملزمان نے دوسرے بچوں کو بھی نشانہ بنایا ہو اور انھوں نے خوف کی وجہ سے اپنے والدین کو اس بارے میں کچھ نہیں بتایا ہو گا۔‘
ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ ’ہمارا یہ خدشہ اس وقت درست ثابت ہوا کہ جب ہم نے دوسرے بچوں سے بات کی اور ان کو پیار سے سمجھایا کہ وہ ڈریں نہیں اور اگر کسی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو وہ اپنے والدین یا پولیس کو بتادیں جس پر مزید چار بچے ان کے پاس آئے اور یہ بتایا کہ ان کے ساتھ بھی یہی سب کُچھ ہوا ہے۔‘
پولیس اہلکار کے مطابق ’بچوں نے بتایا کہ وہ رات کو سوتے ہوئے بھی یہ محسوس کرتے تھے کہ ان کے ساتھ کچھ ہو رہا ہے۔‘
ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ ’ہو سکتا ہے کہ ملزمان نے نشہ آور چیزیں دیکر رات کو سوتے میں بھی بچوں کا ریپ کیا ہو۔‘
’بچوں نے بتایا کہ ملزمان ان کو ڈراتے اور دھمکاتے تھے کہ اپنے والدین کو نہیں بتانا ورنہ تمھیں سکول سے نکال دیا جائے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ جن بچوں نے شکایت کی ان کا طبیّ معائنہ کرایا گیا جس کے دوران یہ ثابت ہوا کہ ان پانچ بچوں کا ریپ کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’بچوں کا متعدد بار ریپ کیا گیا‘
اس واقعے کے تفتیشی آفیسر دلمراد ڈومکی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ گرفتار ملزمان کو بدھ کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کر کے ان کا 7 روزہ ریمانڈ حاصل کیا گیا تھا۔ تیسرا ملزم پرنسپل کا بھائی ہے جسے تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔
تفتیشی آفیسر کے مطابق گرفتار ہونے والے دونوں ملزمان نہ صرف شادی شدہ ہیں بلکہ ان کے اپنے بچے بھی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزمان نے ’ان میں سے بعض بچوں کا ایک مرتبہ نہیں بلکہ متعدد بار ریپ کیا۔‘
تفتیشی آفیسر نے کہا کہ گرفتار ملزمان کے نمونے حاصل کیے گئے ہیں جن کو طبی معائنے کے لیے لیباریٹری بھجوایا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہاسٹل میں مقیم دیگر بچوں اور ان کے والدین سے ملیں گے اور یہ درخواست کریں گے کہ اگر کسی اور بچے کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے تو وہ بھی آگے آئیں اور اس ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نجی سکول کے ہاسٹل میں کل کتنے بچے مقیم تھے؟
جاوید کھوسہ کے مطابق سکول کے گرفتار ہونے والے پرنسپل پہلے مختلف سکولوں میں شراکت دار تھے لیکن دو سال قبل انھوں نے ڈیرہ اللہ یار میں اپنا نجی سکول کھولا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سکول میں ہاسٹل کی سہولت بھی فراہم کی گئی تاکہ دوردراز کے لوگ بھی اپنے بچوں کو اُن کے سکول میں داخل کروائیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’اگرچہ سکول میں بچوں کی تعداد زیادہ تو نہیں ہے لیکن زیادہ تر بچوں کا تعلق ڈیرہ اللہ یار شہر اور اس سے متصل علاقوں سے ہے جوکہ سکول کی چھٹی ہونے کے بعد اپنے گھروں کو جاتے تھے۔ تاہم دور دراز کے بچے ہوسٹل میں مقیم تھے۔‘
ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ سکول کے ہاسٹل میں مجموعی طور پر 25 سے 27 طلبا رہائش پزیر تھے۔
انھوں نے بتایا ’چونکہ لوگ چاہتے ہیں کہ پرائمری کے بعد ان کے بچوں کا داخلہ کیڈٹ کالجز یا دیگر اچھے تعلیمی اداروں میں ہو اس لیے دور کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے والدین نے اپنے کم عُمر بچوں کو بھی سکول کے ہاسٹل میں داخل کرایا تھا۔‘
’والدین اپنے بچوں کو آگاہی نہیں دے پا رہے‘
پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی انسانی غیرسرکاری تنظیم ساحل کے مطابق رواں برس کے ابتدائی چھ مہینوں میں ملک بھر میں بچوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے 862 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
ساحل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس برس ایسے 48 کیسز بھی منظرِ عام پر آئے ہیں جن میں نہ صرف بچوں کو جنسی طور پر ہراساں کیا گیا ہے بلکہ اسے ویڈیو پر بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ساحل کے پروگرام آفیسر وحید عالم بچوں کے ساتھ ریپ یا ہراسانی کے واقعات نہ رُکنے کی وجہ والدین کی عدم توجہی اور قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کو قرار دیتے ہیں۔
وحید عالم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بچوں کے تحفظ کے حوالے سے ہمارے ملک میں قوانین بہت مضبوط اور بہت اچھے ہیں ہے لیکن پھر بھی کیسز رُکنے کا نام نہیں لے رہے۔ اس کے پیچھے بہت ساری وجوہات ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’والدین کا اپنے بچوں پر دھیان نہ دینا، والدین اپنی ملازمت یا باقی کاموں میں مصروف ہیں اور اپنے بچوں کو آگاہی نہیں دے پا رہے۔‘
وحید عالم کے مطابق ملک میں بچوں کے تحفظ کے قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر ’عملدرآمد ویسے نہیں ہو رہا جیسے ہونا چاہیے۔‘
’جب قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے احسن طریقے سے اپنا کام کریں گے تو ایسے کیسز میں واضح حد تک کمی آ سکتی ہے۔‘













