پرندوں کا انتقام: اینٹی برڈ سپائکس کو اپنے تحفظ کے لیے استعمال کرتے پرندے

پرندے

،تصویر کا ذریعہALEXANDER SCHIPPERS

،تصویر کا کیپشنپرندے بظاہر شکاریوں کو دور رکھنے کے لیےکوئلز کو استعمال کر رہے ہیں
    • مصنف, ٹفنی ورتھیمر
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

دنیا بھر کے شہروں میں، اینٹی برڈ سپائکس یعنی پرندوں کو دور رکھنے کے لیے لگائے جانے والے تار، (جن کو اینٹی پیجن سپائکس بھی کہا جاتا ہے) مجسموں، بالکونیوں کو پرندوں سے بچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

تاہم، اب، پرندے اس حکمت عملی کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔

ہالینڈ کے محققین نے دریافت کیا کہ کچھ پرندے ان تاروں کو اپنے گھونسلوں کے گرد ہتھیاروں کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور دوسرے جانوروں کو اپنے گھونسلوں سے اسی طرح دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے انسان انھیں دور رکھنے کے لیے کرتے ہیں۔

ماہر حیاتیات اوک فلورین ہیمسٹرا کا کہنا ہے کہ یہ حیرت انگیز موافقت کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ پرندوں کے لیے وہ ناقابل یقین قلعے یا بنکر کی مانند ہیں۔‘

پرندے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپرندوں کے لیے وہ ناقابل یقین قلعے یا بنکر کی مانند ہیں۔

پرفیکٹ پوزیشن

حقیقت یہ ہے کہ پرندے اپنے گھونسلوں میں انسانوں کی بنائی ہوئی چیزیں استعمال کرتے ہیں۔ دنیا میں ایسی بے شمار انواع کے شواہد موجود ہیں جو خاردار تار سے لے کر سوئیاں بنانے تک ہر چیز کا استعمال کرتی ہیں۔

تاہم، نیچرل سنٹر فار بائیو ڈائیورسٹی اور روٹرڈم نیچرل ہسٹری میوزیم کی یہ تحقیق پہلا جامع دستاویزی مطالعہ ہے جس میں یہ بتایا کیا گیا ہے کہ پرندے زیادہ سے زیادہ تحفظ کے لیے اپنے پروں کے قلم کو باہر کی جانب رکھتے ہیں۔

ہیمسٹرا کی تحقیق بیلجیم کے ایک ہسپتال میں شروع ہوئی، جہاں میگپی ایک بہت بڑا گھونسلہ ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے چند منٹوں میں مجھے لگا یہ ایک عجیب، خوبصورت اور نایاب گھونسلہ ہے‘۔

محقق کا کہنا ہے پروں کا ںوکیلا حصہ باہر کی جانب تھا ،جس سے گھونسلے کے گرد ایک مکمل بکتر بنا ہوا تھا۔

ہسپتال کی چھت کے دورے سے اس کی تصدیق ہو گئی عمارت سے تقریباً 50 میٹر اینٹی برڈ سپائیک کی سٹرپس اکھاڑ لی گئی تھیں اور وہاں صرف گلو کے نشانات باقی تھے۔

روٹرڈیم میوزیم میں ایک نامکمل گھونسلہ اور نیچرل بائیو ڈائیورسٹی میوزیم میں ایک بڑا، تیار شدہ گھوںسلا اس بات کا ثبوت تھا کہ پرندے ان سپائکس کو کیسے اپنے تحفظ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

پرندے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپرندوں کو روکنے کے لیے سپائکس کا استعمال عام ہے

گھونسلے بنانے کا طریقہ

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ہیمسٹرا کا کہنا ہے کہ ان کی تھیوری کی تصدیق کے لیے مزید گھونسلے تلاش کرنے کی ضرورت ہے، لیکن گھوںسلا بنانے کے کئی پہلو ہیں جو بتاتے ہیں کہ پرندے ان سپائیکس کو اپنے تحفظ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

ایک اہم تفصیل یہ ہے کہ یہ کیسے رکھے جاتے ہیں۔ گھونسلے کی چھت ہی نہیں، بلکہ تحفظ کے لیے اسے کاٹنے دار چیزوں کے ساتھ بنایا گیا ہے‘۔

ہیمسٹرا کا کہنا ہے کہ پرندے اکثر اپنے گھونسلوں کی حفاظت کے لیے کانٹے دار شاخوں کا استعمال کرتے ہیں، لیکن انسانوں کو اس قسم کے جھاڑیوں اور درختوں کا زیادہ شوق نہیں ہے، اس لیے پرندے جو آباد علاقوں میں رہتے ہیں وہ بہترین ممکنہ متبادل تلاش کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ماحول کے ساتھ قابل ذکر موافقت کی نشاندہی کرتا ہے ، اور اپنے گھونسلوں کی حفاظت کے لیے ان کا عزم بھی، کیونکہ عمارتوں کے ساتھ اسپائکس کو جوڑنے کے لیے استعمال ہونے والا گوند مضبوط ہوتا ہے اور اسپائکس کو اُکھاڑنا آسان نہیں ہوتا۔

ایسے بہت سے واقعات ہوئے ہیں جہاں پرندے اپنی دیکھ بھال خود کرتے ہیں، جیسے کاکٹو جس نے سڈنی، آسٹریلیا کے قریب ایک عمارت سے اپنے اوئلز ہٹائے تھے یا میلبورن میں پارکڈیل کبوتر، جس کی تصویر سپائکس کے اوپر گھونسلہ بنانے کے لیے وائرل ہوئی تھی۔

ہیمسٹرا کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ان لوگوں کے لیے پریشان کن ہو سکتا ہے جنہوں نے اسپائکس خریدے، تاہم ہیمسٹرا نے اسے ’خوبصورت انتقام کہا ہے۔’وہ اس سامان کا استعمال اپنی حفاظت اور مزید پرندوں بچانے اور ان کی پرورش کے لیے کر رہے ہیں جو انہیں دور رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے