انڈیا ٹرین حادثہ: ’میں مرنے والوں میں بیٹے کو ڈھونڈ رہا ہوں، وہ ملتا نہیں ہے‘

،تصویر کا ذریعہANI
ایک بڑے سے ہال میں دسیوں درجن لاشیں مختلف رنگوں کے کپڑوں میں لپٹی پڑی ہیں۔ ایک شخص لاشوں سے کپڑے اٹھا اٹھا کر دیکھ رہا ہے۔ پیچھے سے (شاید) ویڈیو بنانے والا پوچھتا ہے، دادا (بڑے بھائی) آپ کسے تلاش کر رہے ہیں۔ وہ جواب دیتا ہے لڑکے (بیٹے) کو، وہ پوچھتا ہے ملا؟ جواب آتا ہے، ’نہیں ملتا ہے۔‘
لاشوں میں اپنے جگر کے ٹکڑے کو تلاش کرنا کتنا دلدوز ہو سکتا ہے یہ اس ویڈیو سے ظاہر ہے۔ انڈیا کی مشرقی ریاست اوڈیشہ میں پیش آئے ٹرین حادثے سے متعلق اس طرح کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں جن میں ٹرین کی بوگیوں سے لاشوں کو نکالا جا رہا ہے اور انھیں ٹرک پر لاد کر لے جایا جا رہا ہے۔
پھر ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا کے سب سے بڑے ریلوے نظام کا دم بھرنے والے ملک کے پاس مرنے والوں کے ساتھ باوقار اور احترام کے پیش آنے کا انفراسٹرکچر تک نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرتی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا کہ کس طرح ٹرین کے اوپر سے نوجوان، لاشوں کو نکال کر دوسرے ساتھیوں کے سپرد کر رہے ہیں جبکہ ایک میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس حادثے میں مرنے والوں کی لاشوں کو اس طرح سے ٹرک میں ڈالا جا رہا ہے جیسے وہ کوئی سامان ہو۔
آر شہزاد ڈی کے نامی ایک پاکستانی صارف نے سومیا دیپ آچاریہ کے ایک ویڈیو کو ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’انڈیا میں بہت خوفناک ٹرین حادثہ ہوا ہے۔۔۔ اس غریب باپ کو دیکھیں کیسے لاشوں میں بیٹے کو ڈھونڈ رہا ہے۔ انڈین ریلوے کافی ایڈوانس ہے انھوں نے وہ سسٹم بھی لگایا کہ اگر دوسری ٹرین ہو تو ایک خودبخود رک جاتی ہے، مگر پھر بھی تین ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں!‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
اس کے جواب میں اریب احمد نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’بصد احترام جناب، کاوچ ٹیکنالوجی کو دو ٹرینوں کے درمیان ممکنہ ٹکراؤ سے بچنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔ انڈین ریلویز میں 19 زون ہیں جن میں سے صرف دو میں یہ متعارف کرایا گیا ہے اور وہ بھی سینٹرل اور ایسٹ سینٹرل زون میں اور یہ حادثہ جنوب مشرقی زون میں ہوا ہے۔ اس کے علاوہ 16 زون اور بھی ایسے ہیں جہاں یہ ٹیکنالوجی نہیں ہے۔‘
حکیم پادادکا نامی ایک صارف نے ایک ویڈیو شیئرکی ہے جس میں ایک ٹرک پرلاشیں لادی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ انھوں نے سوال کیا ہے کہ ’اگر آپ اس حکومت سے انتظامات اور سہولیات کے بارے میں سوال کریں گے تو وہ آپ کو غدار قرار دیں گے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
اسی طرح کی ایک دوسری ویڈیو کو بہت سے لوگوں نے شیئر کیا ہے اور پوچھا کہ ’دنیا کا کون سا مہذب معاشرہ اپنے مردہ لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتا ہے۔ کیا یہ وہی دس ہزار سال پرانا معاشرہ اور تہذیب ہے؟‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بہت سے لوگوں نے لکھا ہے کہ بولنا آسان ہے کرنا مشکل ہے۔ اتنی ساری لاشوں میں سے زندہ افراد کو تلاش کرنا اور ان کو بچانے کا کام اتنا آسان نہیں ہے۔
سوبی ٹویٹس نامی صارف نے لکھا کہ اس سے کووڈ کے زمانے کی بے حسی یاد آتی ہے۔ یہ (مرنے والے) انڈینز ہیں۔ کچھ تو وقار دکھائیں۔ ان کو باوقارانداز میں ایمبولینسوں میں لے جایا جا سکتا تھا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
بہت سے لوگوں نے اسے دلدوز اور تکلیف دہ مناظر کہا ہے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ روی ساروہا نامی ایک صارف نے لکھا کہ اگر ٹرک میں تین میتوں کے رکھنے کی گنجائش ہے تو مہربانی 100 مرتبہ چکر لگائیں لیکن ان کا احترام کریں کیونکہ یہ ان کے اہل خانہ کے لیے بہت قیمتی ہیں۔ ایک درخواست ہے کہ اس ملک کے ہر ایک شہری کی عزت کریں نہیں تو زندگی کی قیمت اس طرح سستی ہوتی جائے گی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
جہاں لاشوں کی بے حرمتی کی باتیں ہو رہی ہیں وہیں مقامی افراد اور ٹرین حادثے میں زندہ بچ جانے والے افراد کی جانب سے امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی کہانیاں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ کیسے وہ اپنی چوٹیں بھول کر لوگوں کی مدد کرنے میں مصروف تھے۔
انڈیا میں ہرسال چھوٹے بڑے کئی ٹرین حادثے ہوتے ہیں اور ہر بار حفاظت اور انفراسٹرکچر کی بات کی جاتی ہے لیکن یہ حادثے رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ جمعے کو اوڈیشہ (اڑیسہ) کے بالاسور ضلع میں جو حادثہ پیش آیا اس میں تین ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں جس کے نتیجہ میں 280 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 800 سے زیادہ افراد زخمی بتائے جا رہے ہیں جو مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
لوگ شدت کے ساتھ سوال اٹھا رہے ہیں۔ کوئی مودی حکومت کی نااہلی پر سوال اٹھا رہا ہے تو کوئی وزیر ریلوے کے استعفے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
’وزرا اخلاقی دباؤ محسوس نہیں کرتے‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
حادثے پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق وزیر ریلوے اور بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو نے کہا ہے کہ ریلوے نظام کو تباہ کرنے والوں کو بخشا نہیں جانا چاہیے۔
لالو یادو نے کہا کہ ’کورومنڈل ایک بہت تیز رفتار ٹرین ہے جو چینئی تک جاتی ہے۔ ہم نے بھی اس ٹرین میں سفر کیا ہے۔ غفلت کیسے ہوئی کہ اتنا بڑا حادثہ ہوا، اس کی تحقیقات ہونی چاہیے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ ٹرین کے حالات کو تباہ کرکے رکھ دیا گیا ہے۔‘
بی بی سی کے نمائندے دلنواز پاشا سے بات کرتے ہوئے سینیئر صحافی جے شنکر گپتا نے کہا کہ ’یہ حکومت اور اس کے وزرا کسی قسم کا اخلاقی دباؤ محسوس نہیں کرتے۔ یہ بدقسمتی ہے۔ پہلے لال بہادر شاستری نے استعفیٰ دیا تھا، نتیش کمار نے بھی استعفیٰ دیا تھا، بعد میں انھوں نے اسے واپس لے لیا تھا۔ پہلے لوگ ذمہ داری محسوس کرتے تھے لیکن اس حکومت میں یہ اخلاقی ذمہ داری نظر نہیں آتی۔‘
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اتنے بڑے حادثے کے بعد وزیر ریلویز کو استعفیٰ دے دینا چاہیے اور انکوائری کا اعلان کرنا چاہیے۔
گپتا کہتے ہیں کہ ’تین ٹرینوں کا خوفناک تصادم ہوا ہے، لیکن کوئی بھی اخلاقی ذمہ داری لیتا نظر نہیں آتا۔ حالیہ برسوں میں ریلوے کرایوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن مسافروں کی حفاظت میں کمی آئی ہے کیونکہ احتساب نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔‘












