’بٹلر کو پنچ لڑائی کے بعد یاد آیا‘: انگلینڈ کے کپتان کی وہ غلطیاں جنھوں نے انڈیا کو فائنل میں پہنچا دیا

جوز بٹلر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

اب بھلے جوز بٹلر ٹاس جیت کر بولنگ کے فیصلے کا لاکھ دفاع کرتے پھریں، یہ طے ہے کہ وہ بڑی کوتاہی برت گئے اور جو کنڈیشنز پہلے ہی انڈین سپنرز کے لیے سازگار تھیں، وہاں خود دوسری اننگز میں بیٹنگ کا فیصلہ کر بیٹھے۔

سات ماہ پہلے جب انڈیا میں بٹلر کی یہ ٹیم ون ڈے ورلڈ کپ میں زوال کی داستاں سنا کر بے دخل ہوئی تو مورگن کا اصرار تھا کہ ہیڈ کوچ میتھیو موٹ اور جوز بٹلر کو کریبئین میں اپنے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ٹائٹل کے دفاع کا موقع ملنا چاہیے۔

گو، دلیل تب بھی یہی تھی کہ انگلش کرکٹ پھر اسی غلطی کی راہ پر تھی جہاں سے اسے مورگن نے ہٹایا تھا۔ بین سٹوکس، معین علی اور عادل رشید کے بارے میں بحث یہی تھی کہ مورگن کے دور میں انگلش کرکٹ کی خوب سیوا کرنے والے یہ سینئر اب اپنا بہترین گزار چکے تھے۔

اگرچہ انگلینڈ کو ٹورنامنٹ سے بے دخلی کا پروانہ ملنے کو گیانا کے اس سیمی فائنل تک انتظار کرنا پڑا مگر جس طرح سے بٹلر کی اس ٹیم نے اپنی کمپین کے آغاز میں آسٹریلوی جارحیت کے سامنے حواس کھوئے، اس کا ناک آؤٹ ہو جانا وہیں طے ہو گیا تھا۔

گو، ٹرافی کے دفاع میں بٹلر سیمی فائنل تک رسائی کو بھی اپنی بڑی کامیابی تصور کرتے ہیں مگر اس انگلش کمپین کی اصل حقیقت یہ ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں فُل ممبرز سے نہ جیت پانے کی پرانی انگلش روایت پھر سے دیکھنے کو ملی۔

جوز بٹلر نے سیمی فائنل میں ٹاس جیت کر انڈیا کو بیٹنگ کو دعوت دی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ انگلش کرکٹ کے لیے فکر کی بات ہے کہ جس اپروچ سے انھوں نے کرکٹ کے ہر فارمیٹ میں اپنی جارحانہ برانڈنگ کی تھی، اب وہ ماند پڑنے لگی ہے اور جو بے خوف کرکٹ اس انگلش کیمپ کا کلچر تھی، اب وہ بھی انگلینڈ سے زیادہ انڈیا کا خاصہ بنتا جا رہا ہے۔

نہ صرف یہاں بٹلر نے ٹاس جیت کر انڈین سپنرز کو دوسری اننگز میں بولنگ کی سنہری دعوت دے ڈالی بلکہ خود بھی ٹیم چنتے وقت یہ سجھانے سے قاصر رہ گئے کہ سپن دوستی کی شہرت رکھنے والی گیانا کی اس پچ پہ چار پیسرز بھلا کیا کریں گے۔

انگلش بولنگ بھی اپنی ٹیم سلیکشن ہی کی طرح جرات سے خالی دکھائی دی۔ جس دھیمے باؤنس کی پچ پر سٹمپس کے اندر لائن رکھنا ہی بنیادی ضرورت تھی، وہاں انگلش بولنگ جا بجا سر پٹخاتی نظر آئی۔

روہت شرما کے قدم حرکت میں آنے لگے تو انگلش اٹیک بالکل ہی لاجواب سا ہو گیا۔ تب تک بٹلر پر بھی کھل چکا تھا کہ یہاں پیسرز کے لیے عافیت نہیں ہے، مگر تب تک انڈین بیٹنگ پہلا مکا رسید کر چکی تھی اور عادل رشید بھی بے سود ثابت ہوئے۔

جہاں بٹلر کو ماہر سپنرز کی ضرورت تھی، وہاں وہ دستیاب محدود وسائل کے بھی درست استعمال میں ناکام رہے۔ یہ واضح ہو چکا تھا کہ یہاں سپن زیادہ موثر ہے مگر بٹلر نے اپنی الیون میں موجود دوسرے سپیشلسٹ آف سپنر معین علی کو استعمال تک نہ کیا۔

معاملہ فہمی کی اس کمی اور بے ہنگم بولنگ کے طفیل انڈین بیٹنگ کی جارحیت بالکل ہموار رہی اور وہ اس پچ کے متوقع مسابقتی مجموعے سے 20 رنز زیادہ بٹورنے میں کامیاب ہو گئی۔ انگلینڈ کے لیے آدھا میچ تو گویا وہیں ختم ہو گیا۔

اکشر پٹیل اور کلدیپ یادیو جیسے سپنرز کا سامنا کرنے کو یہ پچ آسان نہ تھی۔ یہاں انگلش بیٹنگ کے لیے بچاؤ کی محض ایک ہی سبیل تھی کہ بٹلر اپنا کنارہ سنبھالتے اور لمبی اننگز کھیل کر اپنے سٹریٹیجک فیصلوں کی قیمت چکاتے۔

اکشر پٹیل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناکشر پٹیل اور کلدیپ یادیو جیسے سپنرز کا سامنا کرنے کو یہ پچ آسان نہ تھی

لیکن انڈین سپنرز کے سامنے یہ سب آسان نہ تھا۔ روہت شرما کے فیصلے بھی بٹلر کے برعکس بہت سوچے سمجھے تھے۔ سوئنگ کی کمی دیکھتے ہوئے، وہ فورا سپنرز کو اٹیک میں لائے۔ سست پچ پر انڈین سپنرز انگلش بلے بازوں کا انہدام ثابت ہوئے۔

آئی سی سی ایونٹس میں انڈیا اور انگلینڈ کی رقابت خوب چلتی ہے۔ میچ سے پہلے انگلش کوچ میتھیو موٹ نے کہا تھا کہ یہ ایک دلچسپ مقابلہ ہو گا جہاں 40 اوورز تک دونوں ٹیمیں ایک دوسرے پر وار کریں گی۔

مگر انڈین ٹاپ آرڈر نے پاور پلے میں جو پہلا پنچ رسید کیا، اس کا کاؤنٹر پنچ لانا بٹلر کے بس کی بات نہ تھی جو ٹاس پر کیے غلط فیصلے اور خلجان آلود ٹیم سلیکشن کے اس قدر دباؤ میں آ چکے تھے کہ شرما کے قدم روکنا ان کے بس سے باہر ٹھہرا۔

بٹلر کو بھی اگرچہ اس لڑائی میں اپنا منطقی پنچ یاد آیا مگر تب تک میچ ختم ہو چکا تھا، انگلش ٹیم ٹائٹل کے دفاع کی دوڑ سے خارج ہو چکی تھی۔

تب پریس کانفرنس میں مائیک کے سامنے بیٹھے بٹلر کو خیال آیا کہ انڈین مڈل آرڈر کی جارحیت روکنے کے لیے معین علی سے بھی تو بولنگ کروائی جا سکتی تھی۔