آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’حارث بھائی ہتھ ہولا رکھو‘: دو شکستوں کے بعد بلآخر پاکستان کے لیے اچھی خبروں کا آغاز
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، پرتھ
دو ہارٹ بریکس کے بعد آج پاکستانی مداحوں کے لیے بالآخر اس ورلڈ کپ میں اچھی خبروں کا دن ہے۔
پہلے بنگلہ دیش نے زمبابوے کو برسبین میں شکست دی اور اب پاکستان نے نیدرلینڈز کو سات وکٹوں کے بھاری مارجن سے ہرا کر سیمی فائنل تک پہنچنے کی امید برقرار رکھی ہوئی ہے۔
آج پاکستانی بولرز نے ہالینڈ کے بیٹرز کو زیادہ دیر کریز پر ٹکنے نہیں دیا اور جہاں حارث رؤف نے اپنی پیس کے ذریعے متاثر کیا وہیں شاداب خان نے بھی تین وکٹیں حاصل کیں اور نیدرلینڈز کو صرف 91 رنز تک محدود رکھا۔
اور اب پاکستان کے لیے انڈیا کی جیت ٹورنامنٹ میں اگلے مرحلے تک رسائی کے لیے اہم ہو گی، اسی لیے انڈیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان جاری میچ میں پاکستانی صارفین انڈین ٹیم کی جیت کی دعائیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
’حارث بھائی ہتھ ہولا رکھو‘
پے در پے دو شکستوں کے بعد ہالینڈ کے خلاف ملنے والی فتح سے بظاہر تمام سوشل میڈیا صارفین کچھ زیادہ خوش نہیں دکھائی دیے اور وہ آج کے میچ کے دوران پاکستان کی پرفارمنس کا تنقیدی جائزہ بھی لیتے نظر آئے۔
صرف 91 رنز کا ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی ٹیم اتنے بہتر انداز میں نہیں کھیلی جتنا اسے کھیلنا چاہیے تھا یا جس کی اس سے امید کی جا رہی تھی۔ پاکستانی ٹیم کو اپنا نیٹ رن ریٹ بہتر کرنے کے لیے 91 رنز کے ہدف کو 12 اوورز میں حاصل کرنا تھا لیکن پاکستان کے بلے باز ایسا کرنے میں ناکام نظر آئے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’آج نیٹ رن ریٹ بہتر کرنے کا بہت اچھا موقع تھا مگر پاکستان نے 6.87 رنز فی اوور کی اوسط سے 13.5 اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 95 رنز بنائے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بہت سے صارفین حارث رؤف کی پیس کے بارے میں بات کرتے نظر آئے۔ اتوار کو ہونے والے میچ کے دوران حارث رؤف کی ایک تیز گیند ہالینڈ کے بیٹر باس ڈی لیڈے کی ناک پر لگی اور انھیں میدان چھوڑنا پڑا، اس وقت وہ چھ رنز پر بیٹنگ کر رہے تھے اور وہ دوبارہ بیٹنگ کے لیے نہ آ سکے کیونکہ ان کی چہرہ زخمی ہو گیا تھا۔
اس کے علاوہ شاداب خان جنھوں نے ہالینڈ کے مڈل آرڈر کو بڑی کامیابی حاصل کرنے سے روکے رکھا کی بھی تعریف کی جا رہی ہے۔
صارف علی اسد نے لکھا کہ ’میرے نزدیک شاداب خان دنیا بھر میں سب سے قیمتی ٹی ٹوئنٹی کرکٹر ہیں۔ کم رنز دے کر وکٹیں لینے والا سپنر جو اوپر کے پانچ نمبروں پر بیٹنگ بھی کرتا ہے۔ ان کا بین الاقوامی ریکارڈ ناقابل یقین ہے۔ ہر طرح کی کنڈیشن میں بہترین بولنگ۔‘
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہالینڈ کے خلاف میچ سے قبل نہ جانے کیوں یہ بات بار بار یاد دلائی جا رہی تھی کہ ہالینڈ وہ ٹیم ہے جو ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں دو مرتبہ انگلینڈ جیسی بڑی ٹیم کو بھی ہرا چکی ہے۔
یہ یاد دہانی شاید اس لیے بھی تھی کہ پاکستانی ٹیم تین روز قبل زمبابوے سے ہار چکی تھی تو کیا ہالینڈ کی ٹیم بھی ایسا ہی کچھ کر سکتی تھی؟ لیکن اتوار کے روز پرتھ سٹیڈیم میں ایسا کوئی تماشہ دوبارہ نہیں ہوا۔
پاکستانی ٹیم نے چھ وکٹوں سے کامیابی کے ذریعے اس ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ میں پہلے دو پوائنٹس حاصل کر لیے ہیں۔
یہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان کی ہالینڈ کے خلاف دو میچوں میں دوسری جیت ہے۔ اس سے قبل اس نے 2009 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں لارڈز میں کھیلے جانے والے میچ میں 82 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔
اگر انڈیا اور زمبابوے کے خلاف آخری اوور میں اوسان خطا نہ کیے ہوتے تو پاکستانی ٹیم اس وقت چھ پوائنٹس کے ساتھ سیمی فائنل کے قریب پہنچ چکی ہوتی۔
پاکستان اور ہالینڈ کے میچ سے قبل زمبابوے اور بنگلہ دیش کے میچ کی اہمیت بھی پاکستان کے لیے کم نہ تھی کہ کہیں زمبابوے کی ٹیم ایک اور اپ سیٹ نہ کر دے لیکن زمبابوے نے میچ کی آخری گیند پر چوکا مار کر جیتنے کا سنہری موقع گنوا دیا اور اس کی یہ شکست پاکستانی ٹیم کو خوشی دے گئی۔
پاکستانی ٹیم کو اب دوسری خوشی کا انتظار انڈیا کی جنوبی افریقہ کے خلاف جیت کا ہے۔
شاداب اور وسیم کی عمدہ بولنگ
ہالینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن اس کے بیٹسمین مکمل طور پر پاکستانی بولرز کے رحم و کرم پر رہے اور ڈچ ٹیم نو وکٹوں پر صرف 91 رنز بنانے میں کامیاب ہو سکی۔
پاکستانی ٹیم ایک تبدیلی کے ساتھ میدان میں اُتری تھی، فخرزمان جو پہلے ٹریولنگ ریزرو کا حصہ تھے گھٹنے کے علاج کے بعد حتمی ٹیم میں شامل کیے گئے تھے اور پہلی بار اس ٹورنامنٹ میں نظر آئے جس کے لیے آؤٹ آف فارم حیدر علی کو جگہ چھوڑنی پڑی لیکن ٹیم منیجمنٹ نے بابر اور رضوان کی اوپننگ جوڑی کو توڑنے کی کوشش نہیں کی اور فخرزمان کو نمبر تین پر کھلایا گیا۔
پاکستانی ٹیم کو پہلی کامیابی کےلیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور اننگز کے تیسرے ہی اوور میں شاہین آفریدی نے سٹیفن مائی برگ کو محمد وسیم کے ہاتھوں کیچ کروا دیا۔ یہ اس ٹورنامنٹ میں شاہین آفریدی پہلی وکٹ تھی۔
ہالینڈ نے پاور پلے میں ایک وکٹ کے نقصان پر صرف 19 رنز بنائے تھے۔
شاہین آفریدی، نسیم شاہ، محمد وسیم اور حارث رؤف کے پیس اٹیک کے سامنے ڈچ بیٹسمینوں کے لیے کھل کر کھیلنا آسان نہ تھا۔ حارث رؤف کی ایک تیز گیند باس ڈی لیڈے کی ناک پر لگی اور انھیں میدان چھوڑنا پڑا، اس وقت وہ چھ رنز پر بیٹنگ کر رہے تھے اور وہ دوبارہ بیٹنگ کے لیے نہ آ سکے۔
پاور پلے کے ختم ہونے کے اگلے ہی اوور میں شاداب خان نے ٹام کوپر کی ایک رن کی برائے نام اننگز کو محمد وسیم کے ایک اور کیچ کی بدولت اپنے انجام کو پہنچا دیا۔
ہالینڈ کے لیے سب سے بڑا دھچکہ اس کے سب سے قابل ذکر بیٹسمین میکس او ڈاؤڈ کا آؤٹ ہونا تھا جو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 1500 سے زائد رنز بناچکے ہیں۔ وہ صرف آٹھ رنز بنا کر شاداب خان کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے تو ہالینڈ کا سکور تین وکٹوں پر صرف 26 رنز تھا۔
اننگز کے نصف سفر میں ہالینڈ کی ٹیم تین وکٹوں پر صرف 34 رنز بنانے میں کامیاب ہو پائی تھی اور پاکستانی ٹیم کی گرفت مکمل طور پر مضبوط تھی۔
کپتان سکاٹ ایڈورڈز اور کالن ایکرمین کی 35 رنز کی شراکت بھی شاداب خان نے ہی ختم کی جب انھوں نے 27 رنز بنانے والے کالن ایکرمین کو ایل بی ڈبلیو کر دیا۔
شاداب خان نے اپنے چار اوورز کا اختتام 22 رنز کے عوض 3 وکٹوں کی متاثرکن کارکردگی پر کیا۔
یہ بھی پڑھیے
کپتان سکاٹ ایڈورڈز 15 رنز بنا کر نسیم شاہ کی گیند پر فائن لیگ پر افتخار احمد کے عمدہ کیچ پر آؤٹ ہوگئے جس کے بعد ہالینڈ کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں بچا تھا۔
ہالینڈ کی اننگز کے 19ویں اوور میں سب کے لیے دلچسپی کی بات یہ تھی کہ کیا محمد وسیم ہیٹ ٹرک کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے جنھوں نے لگاتار گیندوں پر ٹم پرنگل اور فریڈ کلاسن کو بولڈ کر دیا تھا تاہم میکرین اپنی وکٹ بچا گئے۔
92 کا ہدف مگر بابر پھر جلد آؤٹ
بابراعظم اور محمد رضوان نے اننگز کا آغاز کیا تو ان کے ارادے بتا رہے تھے کہ وہ رن ریٹ کو بہتر بنانے کے لیے بہت زیادہ سنجیدہ ہیں، دونوں نے ایک ایک چوکے سے اس کا اظہار بھی کیا لیکن بدقسمتی بابراعظم کے تعاقب میں رہی، اس مرتبہ وہ چار رنز بناکر رن آؤٹ ہوگئے۔ اس وقت پاکستان کا سکور دو اوورز میں 16 رنز تھا۔
اس سے قبل بابر انڈیا کے خلاف صفر اور زمبابوے کے خلاف چار رنز ہی بنا پائے تھے۔
فخر زمان اور رضوان کی شراکت 37 رنز سے آگے نہ بڑھ سکی جس کا خاتمہ فخر زمان کے 20 رنز پر آؤٹ ہونے پر ہوا۔
ایشیا کپ میں ہانگ کانگ کے خلاف نصف سنچری کے بعد سے فخرزمان کی جانب سے ایک قابل ذکر اننگز کا انتظار ہے۔
رضوان اور شان مسعود سکور کو 83 تک لے آئے۔ اس موقع پر محمد رضوان اپنی23 ویں نصف سنچری سے صرف ایک رن کی کمی سے رہ گئے اور میکرین کی گیند پر وکٹ کیپر اسکاٹ ایڈورڈز کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔
میکرین اسی اوور میں افتخار احمد کو بھی صفر پر آؤٹ کرنے میں کامیاب ہو جاتے لیکن وان بیک نے بیک ورڈ پوائنٹ پر کیچ گرا دیا۔
پاکستان کو جیت کے لیے صرف ایک رن درکار تھا جب شان مسعود کی وکٹ بھی گرگئی۔
پاکستانی ٹیم نے 14 ویں اوور میں مطلوبہ سکور شاداب اور افتخار کی موجودگی میں پورا کر لیا۔اُس وقت 37گیندوں کا کھیل باقی تھا۔
پاکستانی ٹیم کا اگلا میچ تین نومبر کو جنوبی افریقہ کےخلاف سڈنی میں ہوگا۔