ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: ’ہیلز اور بٹلر تو آج بابر اور رضوان جیسا کھیلے‘

ایڈیلیڈ میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں انڈیا کی جانب سے 169 رنز کے ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کے اوپنرز نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے میچ کو یکطرفہ بنا دیا اور 10 وکٹوں سے فتح اپنی ٹیم کے نام کر دی۔

فائنل میں انگلینڈ کی ٹیم اتوار کو پاکستان سے ٹکرائے گی۔

ایلکس ہیلز اور جوز بٹلر نے 16 اوورز میں 169 رنز کا ہدف باآسانی حاصل کیا۔ ہیلز 47 گیندوں پر 86 اور بٹلر 49 گیندوں پر 80 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

انگلینڈ کی فتح کے بعد سوشل میڈیا پر جہاں لوگ انگلینڈ کی تعریف کرتے نظر آئے تو وہیں کچھ لوگوں نے کہا کہ انگلینڈ اور پاکستان کا میچ کس قدر کانٹے کا مقابلہ ہو گا۔

یوسف زمان نے لکھا کہ انگلینڈ نے تباہی پھیر دی ہے۔ گرین شرٹس کے لیے ایک بہت خوفناک چیلنج ہو گا۔ انگلینڈ اور پاکستان کا فائنل میچ کیا ہی مقابلہ ہو گا۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے لکھا کہ اتوار کو 152/0 کا مقابلہ 170/0 سے ہو گا۔

پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے کہا کہ ہیلز اور بٹلر تو آج رضوان اور بابر جیسا کھیلے۔ ’پرفیکٹ‘ فائنل مقابلہ منتظر ہے، کیا 1992 کی تاریخ دہرائی جائے گی؟

اُنھوں نے کہا کہ خزاں کی سیریز کے بعد انگلینڈ اور پاکستان کی ٹیمیں بلاشبہ ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتی ہیں۔

صحافی احتشام الحق نے وراٹ کوہلی کی ایک تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہیلو بابر، یہ فائنل میں کیسے آتے ہیں؟‘

واضح رہے کہ ابتدائی میچز میں ناکامی کے بعد جہاں پاکستان کا ٹورنامنٹ سے باہر ہو جانا یقینی تھا اور انڈیا کو فیوریٹ قرار دیا جا رہا تھا وہیں سیمی فائنل میں اب یہ بازی مکمل طور پر پلٹ چکی ہے اور پاکستان فائنل میں پہنچ چکا ہے جبکہ انڈیا کی ٹیم ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی ہے۔

اسی موقع پر کئی لوگ انڈین ٹیم کے کپتان روہت شرما کی کپتانی پر سوالات اٹھاتے ہوئے اور وراٹ کوہلی اور مہندر سنگھ دھونی کی کپتانی کو یاد کرتے ہوئے دکھائی دیے۔

کیلاش نامی صارف نے لکھا کہ روہت کی کپتانی کس قدر مایوس کن تھی۔ اور آپ صرف دو تین اچھے کھلاڑیوں کی بنا پر میچ جیتنے کی توقع نہیں کر سکتے۔ ہر مرتبہ اچھے کھلاڑی بہترین نہیں کھیلتے۔

شردھا نے لکھا کہ یہ ٹیم فائنل کھیلنے کی مستحق ہے بھی نہیں۔ ایک وکٹ نہیں لی جاتی ان سے۔ اُنھوں نے لکھا کہ فائنل میں جا کر ہارنے سے اچھا ہے کہ آج ہی ہار جاؤ، تھوڑی کم بے عزتی ہو گی۔

ایشون نامی صارف نے لکھا کہ اب لوگوں کو روہت شرما اور دھونی کا موازنہ بند کر دینا چاہیے کیونکہ روہت پانچ آئی پی ایل ٹرافیاں جیت چکے ہیں۔ مہندر سنگھ دھونی ہمیشہ عظیم ترین کپتان رہیں گے۔

انڈین کرکٹر عرفان پٹھان آج سارا دن ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرتے رہے کیونکہ اُنھوں نے پاکستانیوں کو جیتنے کے بعد ’گریس‘ یعنی وقار کا مظاہرہ کرنے کے لیے کہا تھا۔

عرفان پٹھان پر تنقید تو پہلے ہی شروع ہو چکی تھی مگر انڈیا کی شکست کے بعد یہ تنقید مذاق میں بدل گئی اور لوگ انھیں ٹرول کرنے لگے۔

فیاض شاہ نامی صارف نے عرفان پٹھان کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ مبارک ہو، آپ نے دلی ایئرپورٹ کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔

پشپ راج چوہان نے لکھا کہ آئی پی ایل کے 14 برس بعد بھی ہمیں ایسا کوئی ٹیلنٹ نہیں مل سکا جو بڑے سٹیج پر کارکردگی دکھائے۔ زیادہ تر ٹیلنٹ ان کے ڈومیسٹک سٹرکچر سے آتا ہے۔

اُنھوں نے لکھا کہ انڈیا میں کرکٹ صرف پیسے کمانے کا ذریعہ ہے اور وہ انڈین کرکٹ اور آئی پی ایل کے بائیکاٹ کی اپیل کرتے ہیں۔