ٹی 20 ورلڈ کپ: پاکستان کرکٹ کا جوابی وار، سمیع چوہدری کا کالم

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

سیانے کہتے ہیں کہ عجلت میں نہ تو کوئی فیصلہ لینا چاہیے، نہ ہی کوئی رائے باندھنی چاہیے ورنہ منہ سے نکلے قول پلٹ کر وار کر سکتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ نے بھی یہاں پلٹ کر بھرپور وار کیا ہے۔

دو ماہ سے زیادہ وقت ہو چکا کہ یہ ٹیم ہر سمت سے طنز و تنقید کے نشتر جھیل رہی ہے۔ بجا کہ مڈل آرڈر میں کمزوریاں موجود تھیں مگر تنقید ان کجیوں سے ماورا کچھ عزائم کے بطن سے پھوٹ رہی تھی۔ 

بلاشبہ رضوان اپنے سٹرائیک ریٹ سے جھوجھ رہے تھے مگر ناقدین صرف ان کی اوپننگ پوزیشن کے ہی درپے نہیں تھے۔

اگرچہ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں شکست مایوس کُن تھی مگر ٹرائی سیریز میں معجزاتی فتح بھی اس تنقید کے سیلاب کو تھام نہ پائی جو انگلینڈ سیریز سے بہنا شروع ہوا تھا۔ ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں جہاں تنقید غلط سلیکشن پر ہونی چاہیے تھی، وہاں بھی توپوں کا رخ اوپنرز کی ’خود غرضی‘ کی طرف رہا۔ پرتھ میں جہاں مشکل پچ پر زمبابوین پیس کی درستی قابلِ دید تھی، وہاں دراصل ناکامی پاکستانی بولنگ کی تھی جس نے پاور پلے میں مومینٹم زمبابوے کو دے دیا مگر قصوروار یہاں بھی بابر اور رضوان ہی ٹھہرائے گئے۔

انگلینڈ کے خلاف حالیہ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں ناصر حسین نے بجا کہا تھا کہ اگر کوئی بابر اعظم اور محمد رضوان کو پاکستان کا مسئلہ سمجھتا ہے تو اس نے غالباً کرکٹ دیکھی ہی نہیں اور کہی سنی کا پرچارک ہے۔

گروپ سٹیج کے آخری تینوں میچز میں پاکستان نے بہتر کرکٹ کھیلی اور بلاشبہ ٹیم کی اس پیش رفت میں قسمت نے بھی پاکستان کی یاوری کی مگر جس عین درست لمحے پر اس ٹیم نے یہ مومینٹم حاصل کیا ہے، اب یہ تقریباً ناقابلِ تسخیر ہو چکی ہے۔

بابر اعظم کی کپتانی بھی عموماً زیرِ بحث رہتی ہے اور بلاشبہ اُن کے پاس بہت سے پہلوؤں میں بہتری لانے کی گنجائش ہے مگر یہاں اُنھوں نے ثابت کیا کہ اگر وہ مکمل طور پر لمحے میں مرتکز ہوں تو کوئی بھی ان کی جارحیت کا جواب نہیں دے سکتا۔

کیوی بیٹنگ لائن جس طرح کے خطرات سے بھرپور تھی اور ٹورنامنٹ کے آغاز میں جیسی تباہ کن کرکٹ اُنھوں نے آسٹریلوی پیس اٹیک کے خلاف اسی سڈنی کی وکٹ پر کھیل رکھی تھی، وہ پاکستانی بولنگ کو بھی مخمصے میں ڈال سکتی تھی۔ یہاں بابر اعظم کا امتحان تھا کہ وہ اپنے زبردست بولنگ اٹیک کو کس دانش سے استعمال کریں گے۔

شاہین آفریدی نے پہلی ہی گیند پر آف سٹمپ سے باہر لینتھ پر سوئنگ کھوجنے کی کوشش کی اور باؤنڈری جھیلنی پڑی مگر دوسری ہی گیند پر وہ اس پچ کی پرفیکٹ لینتھ بھانپ گئے تھے اور جو ابتدائی نقصان وہاں کیویز کو پہنچایا، اس نے کسی بھی خطیر ہدف کو ممکنات سے منہا کر دیا۔

جو مہارت اور لگن بولنگ کے شعبے میں اجاگر ہوئی، ویسی ہی حاضر دماغی پاکستانی فیلڈنگ میں بھی نظر آئی اور شاداب خان کی ڈائریکٹ تھرو نے ولیمسن کی بیٹنگ لائن کے سارے حساب کتاب گڈمڈ کر دیے۔ یہ وہ لمحہ تھا کہ جہاں سے کیوی اننگز مدافعتی خول میں جانے پر مجبور ہوئی اور بقا پہلی ترجیح ٹھہری۔

بابر اعظم قدرے خوش قسمت بھی رہے کہ عین اوائل میں جب بولٹ ان کے دفاع کا امتحان لے رہے تھے تو اندازے کی چُوک ہوئی مگر جہاں بابر سے غلطی ہوئی، عین وہیں کانوئے سے بھی وہی غلطی ہوئی اور وہ بھی ان سوئنگ کے دھوکے میں کیچ سے دور رہ گئے۔

بابر اعظم جس درجے کے بلے باز ہیں، اُنھیں فارم میں واپس آنے کے لیے ایسی ایک آدھ چھوٹ ہی بہت ہوتی ہے اور بابر نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ سڈنی کا باؤنس بھی ان کے لیے کوئی امتحان نہیں تھا اور ان کے قدم پوری طرح متحرک نظر آئے۔ بلا مبالغہ یہاں وہ اپنے سابقہ بہترین کھیل سے بھی بہتر کھلاڑی دکھائی دیے۔

یہ بھی پڑھیے

بابر اور رضوان کی یہ طویل پارٹنرشپ ورلڈ کپ کے لیے بھی ایک اور ریکارڈ بن گئی۔ ولیمسن کی بولنگ نے پاور پلے میں وہی غلطیاں کی جو سپر 12 کے پہلے میچ میں آسٹریلوی بولنگ نے ان کے خلاف کی تھیں۔ بولٹ بابر اعظم کے لیے خطرناک ہو سکتے تھے مگر بہت جلد اُنھوں نے لینتھ کھینچنی شروع کر دی اور رضوان کا امتحان لینے کے بجائے خود ہی امتحان میں پڑ گئے۔

یہ کسی خواب سے کم نہیں کہ اپنے پہلے دو میچز کے بعد جو ٹیم اپنے گروپ سے ہی ناک آؤٹ کے قریب تھی، وہ اپنی بہترین کرکٹ کی بدولت اب فائنل میں پہنچنے والی پہلی ٹیم بن چکی ہے اور اب وہ منتظر ہے کہ اتوار کو میلبرن میں اس کا ٹاکرا کس سے ہو گا۔

انگلینڈ کی ٹیم کوئی کمزور حریف ہرگز نہیں ہے مگر اس میں دو رائے نہیں کہ حالیہ کچھ پرفارمنسز بٹلر کی الیون کا بہترین نمونہ نہیں تھیں۔ بٹلر کے لیے فکر کا سامان ہے کہ ایڈیلیڈ کی وکٹ عموماً سپنرز کے لیے سازگار رہا کرتی ہے اور انگلش سپنرز کی حالیہ مہم متاثر کن نہیں رہی۔ 

دوسری جانب وراٹ کوہلی اور سوریا کمار یادیو کی بہترین فارم کے اردگرد بُنی ہوئی انڈین بیٹنگ لائن ہمیشہ سپنرز کے خلاف جارحیت پر مائل رہتی ہے۔ 

انڈیا کا پیس اٹیک ہی نہیں، سپنرز بھی ان وکٹوں پر مؤثر رہے ہیں اور دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا عادل رشید اور معین علی انڈین بیٹنگ کو فائنل تک رسائی سے روک پاتے ہیں یا ایک اور سنسنی خیز پاک انڈیا ٹی ٹونٹی ورلڈ فائنل ہمیں دیکھنا نصیب ہو گا۔