ٹی 20 ورلڈ کپ: ’کنگ بابر، پچھلی تمام ٹویٹس کے لیے معذرت‘

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹی 20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پاکستان کی جیت کی تو خوشی منائی جا رہی ہے مگر سوشل میڈیا پر آج سب سے زیادہ چرچا اگر کسی کا ہے تو وہ بابر اعظم اور محمد رضوان کی اوپننگ جوڑی کی شاندار پرفارمنس کا ہے۔ 

اس ٹورنامنٹ میں اب تک بابر اعظم اور محمد رضوان کی اوپننگ بلے بازی کچھ خاص نہیں رہی ہے تاہم یہ وہ جوڑی ہے جو ماضی میں پاکستان کو کئی میچ جتوا بھی چکی ہے۔ 

چنانچہ آج پاکستانی کرکٹ کے شائقین یہی دعا کر رہے تھے کہ کاش یہ پارٹنرشپ گذشتہ سال ٹی 20 ورلڈ کپ کی یاد تازہ کر دے جب بابر اعظم اور محمد رضوان نے 152 رنز بنا کر انڈیا کو ہرا دیا تھا۔ 

یہ تو نہ ہو سکا کیونکہ بابر اعظم 53 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے تاہم اس کے بعد میچ پاکستانی ٹیم کو جیت کے لیے 44 گیندوں پر 48 رنز ہی درکار تھے۔ 

یہ میچ آخری اوور تک گیا جہاں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو سات وکٹوں سے شکست دے دی اور محمد رضوان اپنی 57 رنز کی اننگز کے لیے پلیئر آف دی میچ قرار پائے۔

سوشل میڈیا پر سابق کرکٹرز، کمنٹیٹرز اور پاکستانی شائقین نے آج پاکستان کی بیٹنگ اور بولنگ کارکردگی کی کھل کر تعریف کی جس نے نیوزی لینڈ کو ان کی اننگز میں صرف 152 رنز پر محدود کر دیا تھا۔ 

معروف کمنٹیٹر ہرشا بھوگلے نے لکھا کہ اگر آپ پاکستان سے کہتے کہ وہ ایسی واپسی کا سکرپٹ لکھیں، تو وہ شاید خود بھی یہ نہ لکھ پاتے۔ 

اس موقع پر پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ایک ٹویٹ بھی موضوع گفتگو بنی ہوئی ہے۔

ہوا کچھ یوں کے پاکستان کی فتح کی چند ہی منٹوں بعد عمران خان کی جانب سے پاکستان کو فتح کی مبارکباد دینے کی غرض سے ایک ٹویٹ کی گئی تاہم اس ٹویٹ کا متن کچھ یوں تھا: ’بابر اعوان اور ان کی ٹیم کو عظیم فتح پر مبارکباد۔‘

تاہم کچھ ہی دیر بعد اس ٹویٹ کو ڈیلیٹ کر دیا گیا اور بعدازاں بابر اعوان کے بجائے بابر اعظم لکھ کر اس ٹویٹ کو دوبارہ پوسٹ کیا گیا۔

انڈیا کے سابق کرکٹر سنجے منجریکر نے لکھا کہ پاکستان کی شاندار بولنگ کی ان کی فیلڈنگ کے ساتھ کم ہی ہم آہنگی نظر آتی ہے مگر آج یہ ہوا ہے۔ 

میر کاشی نامی صارف نے لکھا کہ منفی باتیں، تنقید، گالیاں، نفرت، حوصلہ شکنی اور فارم کی کمی۔ یہ وہ باتیں ہیں جو بابر اعظم کے لیے اجنبی ہیں، آج بادشاہ نے اپنے آپ کو ثابت کر دیا ہے۔ 

سوشل میڈیا صارف کرن نے لکھا کہ بابر اعظم باؤنڈریز کر رہے ہیں اور لوگ بابر بابر کے نعرے لگا رہے ہیں، مجھے رونا آ رہا ہے۔ اُنھیں کس قدر تنقید سہنی پڑی ہے۔ 

ہانیہ نے لکھا کہ الحمداللہ ہمارے لڑکوں کی واپسی، نمبر 1 اوپننگ جوڑی فارم میں واپس آ چکی ہے۔

انڈیا کے سپورٹس صحافی وکرانت گپتا نے لکھا کہ بابر اعظم اور محمد رضوان نے اس دن کارکردگی دکھا دی ہے جس دن اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ 

شارجہ کی کنڈیشنز جہاں پاکستان کے لیے ہمیشہ موافق رہی ہیں اس کے بارے میں ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ سڈنی کی پچ ہے یا دبئی شارجہ کی، اتنا ایک طرفہ تعاقب، یا تو نیوزی لینڈ بہت برا کھیل رہا ہے یا پاکستان بہت اچھا کھیل رہا ہے۔ 

صحافی شہریار جعفری نے لکھا کہ اُنھوں نے بابر اعظم اور محمد رضوان سے معافی کا فارم بھر دیا ہے، آپ سب لوگ بھی بھریں۔

اُنھوں نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ جیو بابر، مائی لارڈ کنگ، تمام پچھلی ٹویٹس کے لیے معذرت۔