’اس نے کہا وہ چیک کرے گا لیکن اس نے میرا ریپ کیا‘: فرانس میں 299 بچوں کے ریپ کا ملزم ڈاکٹر جو ڈائری میں ان واقعات کا ریکارڈ رکھتا

،تصویر کا ذریعہAFP
فرانس کی تاریخ میں بچوں کے ریپ کے سب سے بڑے مقدمے میں ایک سابق سرجن پر سینکڑوں نوجوان مریضوں کے ساتھ ریپ کرنے کا الزام ہے۔
73 سالہ جوئل لی سکورنیک پر 1989 سے 2014 کے درمیان 299 بچوں پر حملہ کرنے یا ان کا ریپ کرنے کا الزام ہے۔
انھوں نے کچھ الزامات کا اعتراف کیا لیکن تمام کا نہیں۔
فرانس کے شمال مغربی علاقے وینس میں مقدمے کی سماعت کئی سال تک جاری رہنے والی پولیس کی سخت تحقیقات کے بعد کی گئی۔
یہ سوال اٹھنے کا امکان ہے کہ کیا لی سکورنیک کو ان کے ساتھیوں اور ہسپتالوں کی انتظامیہ نے تحفظ فراہم کیا تھا جن میں انھیں ملازمت دی گئی تھی۔
حالانکہ ایف بی آئی کی جانب سے فرانسیسی حکام کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی ویب سائٹس سے رجوع کرتے رہے ہیں تاہم انھیں اس پر صرف معطل کیا گیا۔
سابق سرجن کو بچوں کے ساتھ رابطے سے روکنے کے کئی مواقع کو حیرت انگیز تعداد میں ضائع یا مسترد کیا گیا۔
دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان کے اپنے خاندان کے افراد بھی لی سکورنیک کے بارے میں جانتے تھے لیکن وہ انھیں روکنے میں ناکام رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس کیس میں شامل ایک وکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ خاندان کی غلطی تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ ان کی بدسلوکیوں کو کئی دہائیوں تک جاری رہنے دیا گیا۔‘
لی سکورنیک جو کبھی ایک چھوٹے شہر کے ایک معزز سرجن تھے، 2017 سے جیل میں ہیں جب انھیں اپنی بھتیجیوں جو اب 30 سال کی ہیں، ایک چھ سالہ لڑکی اور ایک نوجوان مریض کے ساتھ ریپ کرنے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ سنہ 2020 میں انھیں 15 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
ان کی گرفتاری کے بعد پولیس نے ان کے گھر کی تلاشی لی اور بچوں کے سائز کی جنسی گڑیا، بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی تین لاکھ تصاویر اور ہزاروں صفحات پر مشتمل باریک بینی سے مرتب کردہ ڈائریاں برآمد کیں جن میں لی سکورنیک پر الزام ہے کہ انھوں نے 25 سال سے زائد عرصے میں اپنے نوجوان مریضوں پر کیے گئے حملوں کا ریکارڈ بنایا تھا۔
انھوں نے بچوں پر حملہ کرنے یا ریپ کرنے سے انکار کرتے ہوئے دلیل دی کہ ان کی ڈائریوں میں صرف ان کے ’تصورات‘ کی وضاحت کی گئی ہے تاہم کئی مواقع پر انھوں نے یہ بھی لکھا تھا ’میں ایک پیڈوفائل ہوں۔‘
لی سکورنیک کو 100 سے زیادہ ریپ کے الزامات اور جنسی استحصال کے 150 سے زیادہ الزامات کا سامنا ہے۔
ان کے کچھ سابق مریضوں، جو اب بالغ ہو چکے ہیں، نے کہا ہے کہ انھیں یاد ہے کہ سرجن نے طبی معائنے کی آڑ میں انھیں چھوا تھا، کبھی کبھی اس وقت بھی جب ان کے والدین یا دیگر ڈاکٹر کمرے میں ہی ہوتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن چونکہ ان کے مبینہ متاثرین کی ایک بڑی تعداد اس وقت بے ہوشی کی دوا کے زیر اثر تھی جب یہ حملے ہوئے تھے لہذا انھیں ان واقعات کی کوئی یاد نہیں تھی اور وہ پولیس کے رابطہ کرنے پر حیران تھے جس نے انھیں بتایا کہ ان کے نام، بدسلوکی کی گرافک تفصیلات کے ساتھ مبینہ طور پر لی سکورنیک کی ڈائریوں میں لکھے تھے۔
فرانسیسی روزنامہ لی مونڈے نے سابق سرجن کے خلاف عدالتی حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لی سکورنیک خود کو ’طاقتور‘ محسوس کرتے تھے اور ’سوچے سمجھے جرائم کے ذریعے خطرے سے کھیلنے‘ کا احساس پسند کرتے تھے۔
کچھ مبینہ متاثرین نے کہا کہ پریشان کن انکشافات نے انھیں صدمے کی ناقابل بیان علامات کو سمجھنے میں مدد کی جس نے ان کی پوری زندگی کو بوجھ بنا دیا تھا۔
متعدد مبینہ متاثرین کی نمائندگی کرنے والی وکیل فرانسسکا سٹا نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے مؤکلوں میں ’دو ایسے افراد کے اہلخانہ بھی شامل ہیں جنھیں یاد تھا اور جنھوں نے اپنی جان لے لی تھی۔‘
فرانس ویکٹمز ایسوسی ایشن کی اولیویا مونز نے بہت سے مبینہ متاثرین سے بات کی اور کہا کہ ان میں سے کئی کو صرف ان واقعات کی دھندلی یادیں ہیں جن کی وضاحت کرنے کے لیے وہ کبھی الفاظ تلاش نہیں کر سکے۔
اولیویا مونز نے کہا کہ جب سرجن کا معاملہ سامنے آیا تو ’اس نے انھیں وضاحت کا آغاز فراہم کیا۔‘
لیکن انھوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر مبینہ متاثرین ایسے لوگ تھے جن کے پاس ریپ یا حملے کی کوئی یاد نہیں تھی اور جو پولیس سے رابطہ کرنے سے پہلے عام زندگی گزار رہے تھے۔
مونز کہتی ہیں ’آج ان میں سے بہت سے لوگ ہل کر رہ گئے ہیں۔‘
ایک خاتون نے فرانسیسی میڈیا کو بتایا کہ جب پولیس نے انھیں لی سکورنیک کی ڈائری میں ان کے نام سے اندراج دکھایا تو فوری طور پر یادیں تازہ ہو گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے یاد آیا کہ کوئی شخص میرے ہسپتال کے کمرے میں آ رہا ہے اور بیڈ شیٹ اٹھا رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ وہ چیک کرے گا کہ سب کچھ ٹھیک ہے یا نہیں۔اس نے میرا ریپ کیا۔‘
مبینہ متاثرین میں سے ایک کی وکیل مارگوکس کاسٹکس نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے موکل کو اس بات کا صدمہ پہنچا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’وہ سوچنے ہیں کہ کاش انھیں کبھی یہ نہ بتایا جاتا کہ کیا ہوا۔‘
میری نامی ایک اور خاتون، جو اب تیس سال کی عمر میں ایک شادی شدہ ماں ہیں انھوں نے بتایا کہ پولیس ان کے گھر آئی اور انکشاف کیا کہ ان کا نام ایک سرجن کی ڈائری میں آیا تھا جس پر بچوں کے ساتھ بدسلوکی کا الزام تھا۔
انھوں نے فرانسیسی خبر رساں ادارے فرانس بلیو کو بتایا کہ ’انھوں نے میرے بارے میں جو کچھ لکھا تھا وہ پڑھ کر سنایا اور میں اسے خود پڑھنا چاہتی تھی لیکن یہ ناممکن تھا۔‘
’کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ آپ ہارڈ کور پورنوگرافی پڑھ رہے ہوں اور یہ بچپن میں آپ کے ساتھ ہونے والے واقعے کے بارے میں ہو؟‘
میری نے کہا کہ وہ مردوں کے حوالے سے ’مسائل‘ کی وجہ سے کئی سال سے ذہنی صحت کے ماہرین کے پاس جا رہی تھیں اور ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ شاید انھیں بچپن کے صدمے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
انھوں نے کہا ’میری یادداشت نے مجھے اس سے دور رکھا لیکن (پولیس) کی جانچ کے بعد یہ سب کچھ دوبارہ منظر عام پر لایا، تصاویر، احساسات، یادیں دن بہ دن مجھے پھر سے یاد آ گئیں۔‘
'آج مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ابھی ہوا ہو۔'
میری نے مزید کہا کہ جب انھیں لی سکورنیک کی تصویر دکھائی گئیں تو ’مجھے سب کچھ یاد آ گیا۔۔۔ مجھے اس کی برفیلی نظریں یاد آ گئیں۔‘
وہ حیران تھیں کہ سرجن اتنے لمبے عرصے تک اپنے مبینہ جرائم کا ارتکاب کیسے کرنے میں کامیاب رہے۔ یہ ایک پریشان کن سوال ہے جس کا جواب مقدمے کی سماعت کے دوران ڈھونڈا جانا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ادارہ جاتی اور عدالتی غلطیاں‘
پہلی عدالتی کارروائی میں ان دعووں کی سماعت ہوئی کہ لی سکورنیک کے خاندان کے کئی افراد 1980 کی دہائی کے وسط سے بچوں کے ساتھ ان کے پریشان کن رویے سے آگاہ تھے لیکن انھوں نے مداخلت نہیں کی۔
ان کی سابقہ بیوی نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ آگاہ تھیں کہ ان کے شوہر اور ان کے تین بچوں کے والد نے گرفتاری تک مبینہ طور پر کیا کیا۔
لی سکورنک ایک طبی پیشہ ور کے ساتھ ساتھ اوپرا اور ادب سے محبت کرنے والے طویل عرصے سے اپنے متوسط طبقے کے خاندان کا فخر تھے۔ وہ کئی سال تک ایک چھوٹے شہر کے قابل احترام ڈاکٹر تھے اور اسی چیز نے انھیں کام کی جگہ پر کافی حد تک تحفظ فراہم کیا ہوگا۔
وکیل فریڈرک بینوئسٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایک بڑی کمزوری کی وجہ سے لی سکورنیک کو یہ کام کرنے کا موقع ملا۔‘
بینوئسٹ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے گروپ ’لا ووکس ڈی ایل اینفانٹ‘ (بچوں کی آواز) کی نمائندگی کرتے ہیں، جو ’اہم ادارہ جاتی اور عدالتی غلطیوں‘ کو اجاگر کرنے پر زور دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے لی سکورنک کو مبینہ طور پر کئی دہائیوں تک بچوں کے ساتھ بدسلوکی جاری رکھنے کا موقع ملا۔
سنہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں ایف بی آئی کی جانب سے فرانسیسی حکام کو ایک الرٹ جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ لی سکورنیک بچوں کے ساتھ بدسلوکی کرنے والی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں انھیں صرف چار ماہ معطل ی کی سزا سنائی گئی جس میں طبی یا نفسیاتی علاج کی کوئی ذمہ داری نہیں تھی۔
بینوئسٹ نے کہا کہ استغاثہ نے یہ معلومات کبھی بھی طبی حکام کے ساتھ شیئر نہیں کیں اور لی سکورنیک کو اس کے لیے کوئی نتجہ نہیں بھگتنا پڑا اور انھوں نے بطور سرجن اپنا کام جاری رکھا اور اس دوران وہ اکثر بچوں کا آپریشن کرتے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کا انتظام کرتے ہیں۔
سنہ 2006 میں جب ان کے ساتھ کام کرنے والے ایک شخص، جنھیں پہلے سے ان پر شک تھا، نے مقامی پریس میں ان کے خلاف الزامات کے بارے میں پڑھا، تو انھوں نے علاقائی میڈیکل ایسوسی ایشن پر کارروائی کرنے پر زور دیا۔
صرف ایک غیر حاضر ڈاکٹر کے علاوہ تمام ڈاکٹروں نے ووٹ دیا کہ لی سکورنیک نے میڈیکل کوڈ آف ایتھکس کی خلاف ورزی نہیں کی۔
بینوئسٹ نے کہا کہ ’ہمارے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ یہ تمام ساتھی جانتے تھے اور ان میں سے کسی نے بھی کچھ نہیں کیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایسی بہت سی چیزیں تھیں جن کی وجہ سے انھیں روکا جا سکتا تھا لیکن نہیں روکا گیا اور اس کے نتائج افسوسناک ہیں۔‘
بی بی سی نے علاقائی میڈیکل ایسوسی ایشن اور استغاثہ دونوں سے رابطہ کیا۔
لی سکورنیک کو آخر کار اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب چھ سالہ متاثرہ نے اپنے والدین کو بتایا کہ انھوں نے اس پر حملہ کیا تھا۔
اس وقت وہ وہ ایک بڑے خستہ حال گھر میں الگ تھلگ رہ رہے تھے جہاں ان کے ارد گرد بچوں کے سائز کی گڑیا تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حساب کتاب کا لمحہ
ان کی بھتیجیوں کی وکیل ڈریگیز 2020 میں جنوب مغربی شہر سینٹس میں مقدمے کی سماعت کے دوران لی سکورنیک کے سامنے بیٹھی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ ان کے جوابات سرد اور سوچے سمجھے تھے۔ ’وہ بہت ہوشیار ہیں لیکن انھوں نے کسی قسم کی ہمدردی کا مظاہرہ نہیں کیا۔‘
ڈریگیز نے کہا کہ ٹرائل میں لی سکورنیک کے خاندان میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے مزید الزامات سامنے آئے لیکن سابق سرجن نے کبھی کوئی خاص رد عمل ظاہر نہیں کیا اور زیادہ تر فرش کی طرف دیکھتے رہے۔
ایک موقعے پر عدالت کو لی سکورنیک اور ان کی گڑیا کی ویڈیوز دکھائی گئیں۔ ڈریگیز کا کہنا تھا کہ ہر کوئی سکرین دیکھ رہا تھا لیکن میں انھیں دیکھ رہی تھی۔ ’اس وقت تک وہ ہمیشہ اپنی نظریں نیچی رکھتے تھے لیکن اس لمحے انھوں نے اوپر دیکھا، وہ ویڈیو کو غور سے گھور رہے تھے۔ ان کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔‘
ایک ایسے وقت میں جب وینس شہر میں مقدمہ چلنے والا ہے قریبی یونیورسٹی کی ایک سابقہ عمارت میں تین لیکچر ہال دستیاب کرائے گئے ہیں تاکہ سینکڑوں مبینہ متاثرین، ان کے قانونی نمائندوں اور اہل خانہ کو رکھا جا سکے۔
مقدمے کی سماعت 24 فروری کو شروع ہو گی اور جون تک جاری رہے گی۔
پریس اور عوام کو اندر جانے کی اجازت ہے یا نہیں اس کا انحصار تمام مبینہ متاثرین پر ہے جو بند مقدمے کی سماعت کا حق چھوڑ دیتے ہیں۔
بہت سے وکلا کا خیال ہے کہ یہ مقدمہ حکام کے لیے ایک لمحہ فکریہ ثابت ہو سکتا ہے جو لی سکورنیک کے خلاف دفعات اٹھانے میں ناکام رہے ہیں اور ساتھ ہی متاثرین کے لیے اپنے صدمے کا اظہار کرنے کا ایک اہم لمحہ بھی ہو سکتا ہے۔
وکیل فرانسسکا سٹا کہتی ہیں کہ اگرچہ اس معاملے میں شامل بہت سے لوگوں کو یاد نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا تھا لیکن وہ اب بھی متاثرین ہیں ۔
انھوں نے مزید کہا کہ سابق سرجن نے بہت طویل عرصے تک ’خاموشی کی آزادی‘ کا لطف اٹھایا تھا۔
بینوئسٹ نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ’یہ مقدمہ متاثرین کے لیے بولنے کا ایک لمحہ ہو گا۔ میری نظر میں، اگر اسے بند دروازوں کے پیچھے رکھا جائے تو یہ خوفناک ہوگا۔‘











