آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ڈریسنگ ٹیبل پر سجا میک اپ بچوں کے لیے کتنا خطرناک ہو سکتا ہے؟
- مصنف, آسیہ انصر
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اگر آپ چھوٹے بچوں کے والدین ہیں تو اُن کی شرارتوں کی وجہ سے آپ کو ہر وقت محتاط رہنا پڑتا ہے کہ بچہ کہیں کچھ اٹھا کر منہ میں نہ ڈال لے، سیڑھیوں یا بیڈ سے نہ گر جائے یا الیکٹرک ساکٹ سے چھیڑ چھاڑ نہ کر بیٹھے، وغیرہ وغیرہ ۔
آپ کے گھر اور کمرے میں موجود بہت عام سی چیزیں بھی بچوں کو بڑے نقصان سے دوچار کر سکتی ہیں اور ایسی ہی ایک چیز ہمارے گھر کی ڈریسنگ ٹیبل بھی ہے۔
ڈریسنگ ٹیبل ایک بہت ہی عام استعمال کا فرنیچر ہے جو ہر گھر میں موجود ہوتا ہے جس میں گھر کے اندر افراد کی ضرورت کی چیزیں رکھی جاتی ہیں۔
گھر میں موجود اکثر چھوٹے بچے ڈریسنگ ٹیبل پر سجے میک اپ سے کھیل کر خوش ہوتے ہیں اور منع کرنے کے باوجود وہ ان رنگ برنگی مصنوعات سے کھیلنے سے رُک نہیں پاتے۔
ہونٹوں کو پُرکشش بنانے والی رنگا رنگ لپ سٹکس، ناخنوں کو سجانے والی نیل پالش، چہرے کو تازگی دینے والی کریمیں اور فاؤنڈیشن، مہکتے پرفیوم اور باڈی سپرے کی بوتلیں، ہیئر اور سکن کیئر (جلد اور بالوں کی نگہداشت) کی نت نئی اشیا کی لمبی فہرست ہے جو کم و بیش گھر میں موجود ہر سنگھار میز (ڈریسنگ ٹیبل) پر سجی رکھی ہوتی ہیں۔
مختلف چمکتے رنگوں کا یہ سامان چھوٹے بچوں کی دلچسپی کا باعث ہوتا ہے، اسی لیے بعض بچے اس سامان کو اپنے والدین کی نقل یا اپنے اندر موجود فطری تجسس کی بدولت استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
’ نیل پالش ریموور میں موجود ایسیٹون بچوں کے دماغ کو متاثر کر سکتا ہے‘
میک اپ کی اشیا کے ساتھ کھیلنے کا بچوں کا یہ شوق بعض اوقات ان کے لیے کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے، ہم نے اسی پر بات کی شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ماہر اطفال ڈاکٹر یاسرمسعود سے، جنھوں نے ہمیں بتایا کہ ان چیزوں سے بچے کس طرح متاثر ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر یاسر مقصود کے مطابق ’ ڈریسنگ ٹیبل پر موجود میک اپ میں نیل پالش اور نیل پالش ریموور سب سے زیادہ خطرناک ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیل پالش اور نیل پالش ریموور لیکویڈ (مائع) ہوتے ہیں اور چھوٹے بچے اگر ان کو پی لیں یا منھ میں ڈال لیں تو ان کے اندر موجود کیمیکل ایسیٹون بچوں کے دماغ کو بہت نقصان پہنچا سکتا ہے۔
’زیادہ مقدار میں اس مادے کو پینے سے سانس متاثر ہو سکتا ہے، دل کی دھڑکن بڑھ سکتی ہے، غشی کی کیفیت طاری ہو سکتی ہے اور بعض اوقات یہ ایمرجنسی بن سکتی ہے۔‘
’لپ سٹک بھی بچوں کی دلچسپی کا سامان ہوتی ہیں تاہم یاد رہے کہ اس کے اندر مرکری اور لیڈ بھی پایا جاتا ہے جو صحت کے لیے انتہائی خطرناک مادے ہیں۔‘
ناک میں پرفیوم کرنے سے بچوں کا رنگ نیلا ہو تو ہسپتال لے جائیں
ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے ہیئر سپرے، پرفیوم اور باڈی سپرے کی بوتلیں کافی رنگین اور پرکشش ہوتی ہیں اور ان کی یہی خوبصورتی بچوں کو اپنی جانب راغب کرتی ہے ۔
ڈاکٹر یاسر کے مطابق ’بچے ان بوتلوں سے اپنی ناک یا منہ میں سپرے بھی کر سکتے ہیں اور اسے ناک یا منہ سے اپنے اندر اتار لینے سے مختلف مسائل پیش آ سکتے ہیں، جن میں جلد کو نقصان پہنچنا، آنکھوں کا متاثر ہونا اور سانس کا متاثر ہونا شامل ہے۔‘
ان کے مطابق ان سپرے کی زیادہ مقدار بچے اپنے اندر اتار لیں تو اس سے ان کا دماغ متاثر ہو سکتا ہے، جس کی نشانی ہے کہ ان کا رنگ نیلا یا زرد پڑ سکتا ہے اور سانس رکنے لگتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ڈریسنگ ٹیبل پر ہیئر سٹریٹنر خطرے کی گھنٹی
ڈریسنگ ٹیبل کے اوپر جو ایک اور عام چیز عموما پائی جاتی ہے وہ ہیئر سٹریٹنر ہے جس کو اگر غلطی سے پلگ میں لگا کر کھلا چھوڑ دیا جائے اور اس دوران بچے اس کو پکڑنے کی کوشش کریں تو ان کے بری طرح جلنے کا امکان موجود رہتا ہے۔
ڈاکٹر یاسر کے مطابق ’کبھی بھی ہیئرسٹریٹنر کھلا نہ رکھیں بلکہ ہمیشہ استعمال کے بعد ان پلگ کر کے اس کو اس کے بیگ میں پیک کر کے رکھیں تاکہ بچوں کی پہنچ میں نہ رہے۔‘
اس کے علاوہ بھی ڈریسنگ ٹیبل پر مختلف چھوٹی چھوٹی بے شمار اشیا ہوتی ہیں۔ انھی میں مختلف بوتلوں کے ڈھکن یا چھوٹی بڑی ہیئر پن بھی رکھی ہوتی ہیں اور بعض اوقات بچے کھیل ہی کھیل میں انھیں ناک میں پھنسا سکتے ہیں جس کا نتیجہ میڈیکل ایمرجنسی کی صورت میں نکلتا ہے جسے ’چوکنگ‘ کہا جاتا ہے جس کے باعث بچوں کو سانس لینے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔
اور یہی ہیئر پن یا بوتلوں کے ڈھکن بچے منہ میں لے کر نگل بھی لیتے ہیں اور سانس کی نالی میں پھنسا لیتے ہیں جس کو بعض اوقات آپریشن کر کے نکالا جاتا ہے۔
بچوں کے لیے فرسٹ ایڈ
اب جان لیتے ہیں کہ اگر بچوں نے نیل پالش، لپ سٹک، ریموررز ،پرفیوم ، باڈی سپریز وغیرہ نگل لیے یا ناک اور آنکھوں میں سپرے کر لیا تو ایسی صورت میں کیا پہلی فرسٹ ایڈ دی جائے۔
ڈاکٹر یاسر کے مطابق:
- سب سے پہلے اس چیز کو وہاں سے ہٹائیں جس سے بچہ متاثر ہوا
- صاف پانی کے ساتھ بچوں کا منہ، آنکھیں اور ناک اچھی طرح دھلا دیں یا بہتر ہے ان کو نہلا دیا جائے تاکہ وہ چیزیں ان کی جلد سے صاف ہو سکیں
- گھر پر بچوں کا مشاہدہ کریں اگر آپ کو لگے کہ ان کو سانس لینے میں دشواری نہیں، ان کی رنگت ٹھیک ہے، وہ ہوش میں ہیں اور کھیل رہے ہیں تو ان کی گھر پر ہی دیکھ بھال کریں
- اگر بچے کو سانس لینے میں تھوڑی سی دقت محسوس ہو ان کا رنگت پیلی یا نیلی ہو رہی ہو یا انھیں قے ہونے لگے یاکسی بھی طرح کی تبدیلی محسوس ہو تو فوراً ان کو ڈاکٹر کو دکھائیں
- ہیئر سٹریٹنر سے جلنے کی صورت میں ان کو فوری ہسپتال لے جانا ضروری ہے۔ یہ کافی گہرا زخم ہوتا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ گھر پر ٹوٹکے نہ کریں
ڈاکٹر یاسر کا یہ بھی کہنا ہے کہ میک اپ کی رنگین چیزیں بچوں کو پرکشش لگتی ہیں اس لیے بہتر ہے کہ یہ تمام اشیا دراز میں یا لاک میں رکھیں۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بچوں کے اپنے استعمال کے لیے بنائے گئے شیمپو، لوشن، غسل سے متعلق دیگر مصنوعات بھی اگر وہ زیادہ مقدار میں نگل لیں تو بھی وہ رسک بن سکتی ہیں اس لیے ان کے لیے بھی وہی تمام احتیاط ہیں۔