گوگل پر پوری دنیا کی آمدن سے بھی زیادہ جرمانہ: ’اتنی رقم کے لیے کوئی لفظ موجود نہیں‘

گوگل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, گراہم فریزر
    • عہدہ, ٹیکنالوجی رپورٹر

روس کی ایک عدالت نے یو ٹیوب پر ملک کے سرکاری میڈیا چینلز پر پابندی لگانے کی وجہ سے گوگل پر جرمانہ عائد کیا ہے۔ اس فیصلے کی حیران کن بات جرمانے کی رقم ہے جو گوگل کی اپنی مالیت سے زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کی مجموعی آمدن سے بھی زیادہ ہے۔

اس جرمانے کا حجم اتنا زیادہ ہے کہ تاس خبر رساں ایجنسی کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوو نے اعتراف کیا ہے کہ اتنی رقم کے لیے ان کے پاس کوئی لفظ موجود نہیں ہے۔ تاہم انھوں نے گوگل کی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ اس معاملے پر توجہ دیں۔

روسی عدالت کے فیصلے مطابق دو انڈیسلیون روبل کا جرمانہ بنتا ہے یعنی دو کے بعد 36 صفر۔ ڈالر کے حساب سے دیکھا جائے تو یہ رقم بنتی ہے: 20,000,000,000,000,000,000,000,000,000,000,000

واضح رہے کہ گوگل دنیا کی امیر ترین کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ تاہم یہ جرمانہ گوگل کی اپنی مالیت، جو دو کھرب ڈالر سے زیادہ بتائی جاتی ہے، سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔

یہی نہیں، یہ جرمانہ پوری دنیا کی مجموعی آمدن سے بھی زیادہ ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، آئی ایم ایف، کے تخمینے کے مطابق دنیا کا جی ڈی پی 110 ٹریلیئن ڈالر ہے۔

تاس خبررساں ایجنسی کے مطابق اس جرمانے کے حجم کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں مسلسل اضافہ بھی ہوتا جا رہا ہے۔

گوگل کی جانب سے اب تک اس عدالتی فیصلے پر کوئی بیان نہیں دیا گیا۔ دوسری جانب بی بی سی کی جانب سے بیان دینے کی درخواست پر بھی جواب نہیں دیا گیا۔

روس کے سرکاری میڈیا چینل آر بی سی کے مطابق گوگل پر یہ جرمانہ اس لیے عائد لیا گیا کیوں کہ یو ٹیوب نے روس کے 17 سرکاری چینلز پر پابندی لگائی ہے جو گوگل کی ہی ملکیت ہے۔

یہ معاملہ چار سال قبل 2020 میں ہی شروع ہو گیا تھا تاہم یوکرین پر روس کے فوجی حملے کے بعد یہ تنازع شدت اختیار کر گیا تھا۔

روس

،تصویر کا ذریعہEPA

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یاد رہے کہ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد زیادہ تر مغربی کمپنیوں نے ملک میں کاروبار ترک کر دیا تھا جبکہ چند کمپنیوں نے اپنی سرگرمیاں محدود کر دی تھیں۔

ایسے میں روس کے سرکاری میڈیا چینلز کو یورپ میں بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جواب میں روس نے بھی ایسے ہی اقدامات اٹھائے تھے۔

2022 میں گوگل کی روسی شاخ کو دیوالیہ قرار دیا گیا اور کمپنی نے روس میں خدمات فراہم کرنا بند کر دی تھیں جیسا کہ اشتہارات۔ تاہم گوگل کی مصنوعات پر روس میں مکمل پابندی نہیں لگائی گئی۔

مئی 2021 میں روسی سرکاری میڈیا ریگولیٹر نے گوگل پر الزام عائد کیا تھا کہ سرکاری چینلز کو یو ٹیوب پر رسائی محدود کی جا رہی ہے جن میں آر ٹی اور سپوٹنک شامل تھے۔ روس کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ گوگل غیر قانونی احتجاجی سرگرمیوں کی حمایت بھی کر رہا ہے۔

جولائی 2022 میں روس نے گوگل پر 301 ملیئن پاؤنڈ یا 21 ارب روبل کا جرمانہ عائد کیا۔ اس کی وجہ گوگل کی جانب سے یوکرین جنگ کے ساتھ ساتھ دیگر ایسے مواد تک رسائی محدود نہ کرنے کا الزام تھا جسے روس ممنوع قرار دیتا ہے۔

یاد رہے کہ روس میں میڈیا کی آزادی کا تصور نہیں ہے اور آزادی اظہار رائے پر بھی پابندیاں عائد ہیں۔