پولیو سے متاثرہ لڑکا جو پہلے دھوکے میں بھکاری اور پھر ایک ’معجزاتی ڈاکٹر‘ بنا

،تصویر کا ذریعہDr Li Chuangye
سنہ 1988 میں چین کے صوبہ ہینان میں غریب کسان کے گھر پیدا ہونے والے لی چوانگیے کو سات ماہ کی عمر میں پولیو کا مرض لاحق ہوا تھا۔ وہ چلنے سے قاصر ہو چکے تھے۔
بچپن میں لی نے دوسرے بچوں کی طرح سکول جانے کا خواب دیکھا لیکن ان کا بہت مذاق اڑایا گیا۔ کچھ بچوں نے کہا کہ وہ ’بے کار‘ ہیں اور یہ کہ وہ ’صرف کھا سکتے ہے اور ان کا کوئی دوسرا استعمال نہیں ہے۔‘
لی کہتے ہیں کہ ’اس سے مجھے بہت تکلیف ہوئی۔‘ جب لی نو سال کے تھے تو ان کے والدین نے سنا تھا کہ ان کی ٹانگوں کی سرجری ہونے سے وہ چلنے کے قابل ہو سکیں گے لہٰذا انھوں نے مزید رقم ادھار لی۔
لی کو اس آپریشن سے بہت زیادہ امیدیں تھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جب میں وارڈ میں صحت یاب ہو رہا تھا، تو دوسرے بچے رو رہے تھے، لیکن میں مسکرا رہا تھا، کیوں کہ مجھے لگا کہ میں جلد ہی ایک عام آدمی کی طرح چلوں گا۔‘
لیکن سرجری ناکام ہو گئی جس نے لی کی امیدوں کو کچل دیا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ ان کی زندگی بے معنی ہے اور انھوں نے اپنی ماں کو بتایا کہ وہ مرنا چاہتے ہیں۔ ان کی ماں نے انھیں ہمت نہ ہارنے کو کہا۔
ان کی والدہ نے کہا کہ ’ہم آپ کی پرورش کر رہے ہیں تاکہ جب ہم بوڑھے ہوجائیں تو ہمارے پاس بات کرنے کے لیے کوئی ہوگا۔‘
لی کہتے ہیں یہ الفاظ متاثر کن تھے۔ ’میں نے سوچا میرے والدین اور فیملی نے میرے لیے کتنی قربانیاں دی ہیں، اور میں رونے لگا۔ میں نے محسوس کیا کہ مجھے جینا ہے، نہ صرف اپنے لیے بلکہ ان کے لیے بھی۔‘
کچھ عرصے بعد دوسرے شہر سے ایک اجنبی شخص ان کے گاؤں آیا، ایسے معذور بچوں کی تلاش میں جو سامان بیچتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لی کہتے ہیں کہ ’میرے والدین اس کے سخت خلاف تھے لیکن میں نے اسے پیسہ کمانے اور اپنی فیملی کا بوجھ کم کرنے کا ایک موقع سمجھا۔ وہ اس شخص کے ساتھ چلنے پر راضی ہوگئے۔‘
سڑکوں پر بھیک
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
لیکن کام کا وعدہ صرف ایک دھوکہ تھا۔ ڈاکٹر لی کا دعویٰ ہے کہ اجنبی بھیک کا کاروبار کرتا تھا اور اگلے سات سال تک انھیں دوسرے معذور بچوں اور بڑوں کے ساتھ سڑکوں پر بھیک مانگنے پر مجبور کیا گیا۔
اپنے نئے ’باس‘ کے ساتھ پہلی رات کو دوسرے بچوں میں سے ایک نے لی کو خبردار کیا کہ انھیں سخت محنت کرنا ہوگی ورنہ انھیں مارا پیٹا جائے گا۔
اور یہ سچ ثابت ہوا۔ اگلی صبح لی کو فٹ پاتھ پر چھوڑ دیا گیا، بغیر شرٹ کے، سکّوں کے لیے ایک کٹورا اور ان کی ٹانگیں ان کی پیٹھ کے گرد مروڑ دی گئیں جس سے زیادہ ہمدردی پیدا ہوتی۔
لی کو سمجھ نہیں آئی کہ لوگ ان کے پیالے میں پیسے کیوں ڈال رہے ہیں، یہاں تک کہ راہگیروں نے ان سے پوچھا کہ وہ کیوں بھیک مانگ رہے ہیں جبکہ انھیں تو سکول میں ہونا چاہیے۔
لی کہتے ہیں ’میرے آبائی شہر میں، بھیک مانگنا شرمناک تھا۔ مجھے احساس نہیں ہوا تھا کہ میں یہی کر رہا ہوں۔ اس احساس نے مجھے توڑ دیا۔‘
لی ایک دن میں چند سو یوآن کما لیتے تھے۔ یہ 1990 کی دہائی میں بہت پیسے تھے لیکن یہ سب ان کے باس کے پاس چلا گیا۔
وہ کہتے ہیں ’اگر میں دوسرے بچوں کے مقابلے میں کم کماتا تھا، تو وہ مجھ پر سستی کا الزام لگاتے اور کبھی کبھی مجھے مارتے تھے۔ یہ واقعی تکلیف دہ تھا۔‘
اگلے چند برسوں کے دوران دوسرے بچے بھاگ گئے یا پولیس نے انھیں گھر بھیج دیا، لیکن لی اپنے خاندان کی مدد کرنے کے لیے پرعزم رہے۔
جب پولیس نے مدد کی پیش کش کی تو انھوں نے انکار کردیا اور اصرار کرتے رہے کہ وہ رشتہ داروں کے ساتھ ہیں۔
سات سال تک سردی ہو یا گرمی لی بھیک مانگتے ہوئے ملک بھر کا سفر کرتے رہے۔
’یہ جہنم میں رہنے کی طرح محسوس ہوا۔ میں شرمندہ تھا، نظریں ملانے سے گریز کرتا، میری ٹانگ درد ناک انداز سے پیچھے موڑ گئی تھے تاکہ لوگ ترس کھائیں۔‘
انھوں نے بی بی سی ورلڈ سروس آؤٹ لک پروگرام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں بھیک مانگنے سے بچنے کے لیے بارش یا اندھیرے کی دعا کرتا۔‘
ہر نئے سال کی شام کو وہ گھر فون کرتے اپنے والدین کو یقین دلاتے کہ سب کچھ ٹھیک ہے اور انھیں پریشان نہیں ہونا چاہیے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’لیکن کال کے بعد میں اپنے کمرے میں روتا رہتا۔ میں انھیں یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ میں سڑک پر بھیک مانگ رہا ہوں۔‘
اب 20 سال گزرنے کے بعد بھی یہ صدمہ برقرار ہے۔ 'وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے اب بھی اس کے خواب آتے ہیں۔ جاگنے کے بعد سکون ملتا ہے کہ یہ صرف ایک خواب تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہDr Li Chuangye
ایک نیا راستہ
سب کچھ اس وقت بدل گیا جب لی نے سڑک پر ایک اخبار اٹھایا اور محسوس کیا کہ وہ صرف اپنے نام کے حروف ہی پڑھ سکتے ہیں۔ پھر 16 سال کی عمر میں انھوں نے گھر واپس جانے اور آخر کار سکول جانے کا فیصلہ کیا۔
انھوں نے سوچا ’میں پڑھ اور لکھ نہیں سکتا اور تعلیم کے ذریعے ہی میں اپنی زندگی بدل سکتا ہوں۔‘
اس وقت حکومت نے ایک نئی پالیسی متعارف کرائی تھی، جس کے تحت معذور بچوں کو بھیک مانگنے کے لیے استعمال کرنا جرم قرار دیا گیا تھا۔ لی نے یہ بھی سنا کہ اس کے خاندان کی مالی حالت میں بہتری آئی ہے۔
انھوں نے اپنے باس کو بتایا کہ وہ اپنے اہل خانہ سے ملنا چاہتے ہیں اور انھیں جانے کی اجازت دی گئی۔ اپنے والدین کے ساتھ دوبارہ مل کر انھیں پتہ چلا کہ وہ واقعی کس طرح رہ رہے تھے اور لی کو یہ جان کر غصہ آیا کہ ان کا استحصال کرنے والے نے انھیں وعدے سے کہیں کم رقم بھیجی تھی۔
اپنے والدین کی مدد سے لی نے ابتدائی سکول کے دوسرے سال میں داخلہ لیا، جس میں ان سے 10 سال چھوٹے طالب علم تھے۔ سکول میں ان کے پہلے دن بچے ان کی میز کے ارد گرد جمع ہوگئے لیکن انھیں کوئی پرواہ نہیں تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میں پریشان نہیں تھا۔ مجھے اس سے پہلے بہت زیادہ تضحیک اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب، ایک طالب علم کے طور پر، میں صرف سیکھنے پر توجہ مرکوز کرنا چاہتا تھا۔‘
لی سب سے زیادہ محنتی طالب علم بن گئے حالانکہ ان کی جسمانی حالت نے بیت الخلا تک پہنچنے جیسے کاموں کو مشکل بنا دیا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’بیت الخلا جانے میں بہت محنت کرنی پڑتی تھی، اس لیے میں اکثر سکول میں پانی نہ پینے پر مجبور ہوتا تھا۔‘
غیر متزلزل عزم کے ذریعے لی نے نو سال میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم مکمل کی۔ وہ گاؤں کے بچوں کو کھیلنے کے لیے مدعو کرتے اور پھر ان سے اپنے ہوم ورک میں مدد مانگتے تھے۔
جب کالج میں درخواست دینے کا وقت آیا تو ان کی جسمانی حالت نے ان کے لیے آپشنز کو محدود کردیا لیکن وہ میڈیکل پروگراموں کے لیے درخواست دے سکتے تھے۔
انھوں نے سوچا کہ ’اگر میں ڈاکٹر بن جاؤں تو شاید میں اپنی حالت پر تحقیق کر سکتا ہوں اور میں اپنے خاندان کی مدد کر سکوں، زندگیاں بچا سکوں اور معاشرے میں اپنا حصہ ڈال سکوں۔‘
لی نے 25 سال کی عمر میں میڈیکل سکول میں داخلہ لیا۔ وہاں سہولیات زیادہ قابل رسائی تھیں لیکن انھیں پریکٹیکل کلاسیں سب سے مشکل لگیں۔
لی نے محسوس کیا کہ انھیں جسمانی طور پر بھی مضبوط ہونا ہے اور انھوں نے پہاڑ سر کرنے کا فیصلہ کیا۔ اپنے پہلے پیدل سفر پر انھیں ماؤنٹ تائی کی چوٹی تک پہنچنے میں پانچ دن اور پانچ راتیں لگی۔
جب ان کے ہاتھ اور پاؤں پھٹ گئے اور خون بہہ رہا تھا تو انھوں نے ہمت نہیں ہاری۔ کوہ پیمائی ان کا ایک ایسا جذبہ ہے جو ایک وائرل سنسنی میں بدل گیا جب ڈاکٹر لی نے اپنی ویڈیوز شیئر کیں۔
اب ڈاکٹر لی سنکیانگ میں ایک چھوٹا سا دیہی کلینک چلاتے ہیں جہاں وہ دن رات موجود رہتے ہیں۔ ان کے مریض انھیں اپنا ’معجزاتی ڈاکٹر‘ کہتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اپنے ہاتھوں سے مریضوں کی دیکھ بھال کرنا، اپنے پڑوسیوں کی صحت کو بہتر بنانا، یہ مجھے کسی بھی چیز سے زیادہ مطمئن کرتا ہے۔‘
دنیا میں اپنی کہانی پہنچنے پر حیران ہو کر انھیں امید ہے کہ اس سے رویوں کو تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’کچھ لوگ معذور افراد کو بیکار سمجھتے ہیں۔ ریستوران میں، مجھے ایک بھکاری سمجھ کر بتایا گیا ہے کہ کوئی کھانا نہیں ہے۔ میں مسکراتا ہوں اور وہاں سے چلا جاتا ہوں۔ زیادہ تر لوگ مہربان ہوتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اعتماد اور مقصد کی زندگی
بہت سے لوگوں نے لی سے پوچھا ہے کہ انھوں نے اس شخص کی اطلاع پولیس کو کیوں نہیں دی جس نے ان کا استحصال کیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے ماضی کو ماضی بننے دینے کا فیصلہ کیا۔ وہ سات سال ایک تکلیف دہ تجربہ تھا ، لیکن وہ میری زندگی کا حصہ تھے۔‘
لی کے سفر نے ان کے نقطہ نظر کو نئی شکل دی۔ ’سکول جانے کے قابل ہونے کے بعد میں نے دوسروں کی رائے یا فیصلے کی پرواہ کرنا چھوڑ دی۔ مجھے احساس ہوا کہ وہ چیزیں بے معنی ہیں۔ میں اپنا وقت اور توانائی مطالعہ کرنے اور اپنی زندگی کے مقصد کو حاصل کرنے پر مرکوز کرنا چاہتا تھا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ بہت سے معذور افراد ’آگے بڑھنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں کیونکہ وہ فیصلہ کرنے یا مذاق اڑائے جانے سے ڈرتے ہیں۔‘
’لیکن میرے لیے ایسا کچھ نہیں ہے۔ میں کیمپس اور شہروں میں گھومتا ہوں یا رینگتا ہوں، چاہے کلاسوں، ورکشاپس کے لیے ہو، یا اپنے کام کے ذریعے سینکڑوں معذور دوستوں کی مدد کے لیے۔ مجھے لگتا ہے کہ میں ایسا کرنے میں پراعتماد نظر آتا ہوں۔ مجھے اب دوسروں کی نظروں کی پرواہ نہیں ہے۔‘
عوام کو وہ یہ نصیحت کرتے ہیں کہ ’ہماری زندگی پہاڑوں کی طرح ہے، ہم ایک پر چڑھتے ہیں اور آگے دوسرا ہے۔ ہم مسلسل کوشش کر تے ہیں اور ترقی کرتے ہیں۔‘
’مجھے لگتا ہے کہ ایک شخص کو ہمیشہ مثبت اور پُرامید رہنا چاہیے اور اپنے خوابوں کو کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔‘
ڈاکٹر لی چوانگی نے بی بی سی ورلڈ سروس پر آؤٹ لک سے بات کی












