کراچی میں احمدی عبادت گاہ پر حملہ: ’حملے کے وقت ہم اندر موجود تھے اور خوفزدہ تھے‘

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو، کراچی

’ہم 40 منٹ تک کمرے میں محصور رہے۔ اس دوران حملہ آور توڑ پھوڑ کرتے رہے، کچھ عرصہ قبل جب حملہ ہوا تھا اس وقت یہاں کوئی نہیں تھا لیکن اس بار 10 لوگ عبادت کے لیے یہاں موجود تھے۔‘

واصف شیخ ( فرضی نام) پیر کی دوپہر احمدی برادری کی اس عبادت گاہ میں موجود تھے جہاں حملہ آوروں نے توڑ پھوڑ کی۔ یہ واقعہ صوبائی دارالحکومت کراچی کے علاقے موبائل مارکیٹ کے قریب پیش آیا جس پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے تین افراد کو حراست میں لیا ہے۔

واصف شیخ نے بی بی سی کو واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ لگ بھگ دوپہر ڈیڑھ بجے کا وقت تھا جب وہ عبادت کی ادائیگی میں مصروف تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جیسے ہی انھوں نے عبادت ختم کی تو دیکھا کہ چار پانچ لوگ جن کے چہروں پر نقاب تھا دیوار پھلانگ کر عبادت گاہ کے اندر داخل ہو گئے۔

’اندر داخل ہونے والوں نے مرکزی دروازہ کھولا جس کے بعد باہر موجود دیگر لوگ بھی آ گئے جنھوں نے بڑے بڑے ہتھوڑے اٹھائے رکھے تھے۔‘

واصف نے بتایا کہ ’حملہ آوروں نے دروازے، کولر، گملے توڑے اور چھت پر جا کر مزید توڑ پھوڑ شروع کر دی۔

’چوکیدار نے ابتدا میں انھیں روکنے کی کوشش کی کیونکہ اوپر اس کی فیملی رہتی تھی۔ اس نے ہوائی فائرنگ بھی کی لیکن حملہ آور اس کو گھسیٹ کر باہر لے گئے اور تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

’حملے کے وقت پولیس اہلکار موجود تھے‘

یاد رہے کہ گذشتہ سات ماہ میں احمدی برادری کی اس عبادت گاہ پر یہ دوسرا حملہ ہے۔ رواں سال فروری کے پہلے ہفتے میں حملہ آوروں نے عبادت گاہ کے میناروں کو نقصان پہنچایا تھا۔

واصف شیخ نے بتایا کہ اس سے قبل جب حملہ ہوا تھا تو اندر کوئی عبادت گزار موجود نہیں تھے۔ ’(مگر) اس حملے کے وقت وہ ہال میں موجود تھے اور اندر سے دروازہ بند کر دیا گیا تھا۔ ہمیں سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں، ہم خوفزدہ تھے۔‘

فروری میں پیش آنے والے واقعے کے بعد اس عبادت گاہ کے باہر پولیس اہلکار بھی تعینات کیے گئے تھے۔ گذشتہ روز پیش آنے والے واقعے کی سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ پولیس اہلکار سکیورٹی پر تعینات چوکیدار کو حملہ آوروں سے بچانے کی بھی کوشش کر رہے ہیں اور ہجوم سے لوگ نکل کر ان پر تشدد کر رہے ہیں۔

اس عبادت گاہ سے متعلقہ پریڈی تھانہ چند فرلانگ پر واقع ہے۔

تاہم اس واقعے پر سرکار کی مدعیت میں پولیس اہلکاروں پر حملے اور لوٹ مار کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اس مقدمے میں پولیس اے ایس آئی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ تین پولیس کانسٹیبلز کے ساتھ احمدی ہال پر تعینات تھے، تقریبا پونے دو بجے 15 سے 20 حملہ آوروں نے حملہ کر دیا اور انھیں گھیر لیا۔

مدعی کے مطابق ملزمان نے فرار ہونے کے وقت ایک کانسٹیبل سے موبائل فون بھی چھینے اور اس دوران تین ملزمان کو پولیس نے حراست میں لیا۔

ڈی آئی جی عرفان بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھی ’ورنہ بڑا نقصان ہونے کا خدشہ تھا۔‘

ان کے مطابق تین مشتبہ ملزمان کو گرفتار کر کے ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ’ویڈیوز پرانی ہیں، اس حملے میں مینار نہیں گرائے گئے۔‘

دوسری جانب احمدیہ جماعت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس بار بھی حملہ آوروں نے میناروں کو ضرب لگائی ہے۔ واصف شیخ کے مطابق حملہ آور چالیس منٹ تک عبادت گاہ پر توڑ پھوڑ کرتے رہے اور اطمینان کرنے کے بعد وہ یہاں سے چلے گئے تھے۔

واصف شیخ کا کہنا تھا کہ پولیس باہر موجود ہوتی ہے لیکن جب تک نفری زیادہ نہ ہو کارروائی نہیں کرتی۔ وہ کہتے ہیں کہ حملے کے وقت پولیس اہلکار موجود تھے لیکن حملہ آوروں کو روک نہیں پائے۔

کراچی میں آٹھ ماہ کے دوران احمدیوں پر چار حملے

پاکستان میں انسانی حقوق کے کمیشن کی 2022 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک سال میں احمدی کمیونٹی کی 90 قبروں اور 10 عبادت گاہوں کی بے حرمتی کی گئی جبکہ 105 احمدیوں پر 25 مقدمات دائر کیے گئے۔

دوسری جانب احمدیہ جماعت کے انسانی حقوق شعبے کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق 2022 میں تین احمدیوں کو عقیدے کی بنیاد پر قتل کیا گیا، 108 احمدوں پر مقدمات دائر کیے گئے، 14 مساجد اور 197 قبروں کی بے حرمتی کی گئی۔

اسی طرح رواں سال یعنی 2023 میں 10 احمدی عبادت گاہوں کے مینار گرائے گئے۔

کراچی میں آٹھ ماہ کے دوران یہ چوتھا حملہ تھا۔ اس سے قبل مارٹن روڈ اور ڈرگ روڈ پر واقع عبادت گاہوں پر بھی اسی نوعیت کے حملے ہو چکے ہیں۔ احمدیہ جماعت کے ترجمان کے مطابق انھوں نے پہلے بھی مقدمہ درج کرایا تھا۔ اس کے علاوہ ڈرگ روڈ اور مارٹن روڈ عبادت گاہوں پر حملے کے بھی مقدمات درج ہوئے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ نہ ہو سکا۔

ان کے مطابق حملے کی ویڈیوز موجود ہیں، حملے آور نظر آ رہے ہیں جن کی گرفتاری مشکل نہیں۔ ’ایسے عناصر پاکستان میں انتہا پسندی کو فروغ دے رہے ہیں۔‘

یاد رہے کہ فروری میں حملے کے بعد ایس ایچ او پریڈی انسپیکٹر سجاد آفریدی نے بتایا تھا کہ انھیں ایک درخواست موصول ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا اس عبادت گاہ پر مینار موجود ہیں جو اسلام کے خلاف ہے کیونکہ امتناع احمدی آرڈیننس کے تحت احمدی برادری اسلامی شعائر استعمال نہیں کر سکتے۔

انھوں نے بتایا کہ ’ہم نے ختم نبوت موومنٹ کے رہنماؤں اور احمدی عمائدین کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کیں، ڈی سی جنوبی نے بھی انھیں طلب کیا تاکہ معاملے کا پُرامن طریقے سے حل تلاش کیا جائے لیکن بات نہیں بنی تو ختم نبوت موومنٹ والے کورٹ چلے گئے اور انھوں نے حکم لیا کہ اگر یہ قابل گرفت جرم ہے تو ایف آئی آر درج کی جائے۔‘

’ان کے بیانیے کے مطابق یہ قابل گرفت جرم تھا لہذا ان کی ایف آئی آر درج کر دی گئی۔‘