پھل اور سبزیاں چھلکوں سمیت کیوں کھانی چاہییں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, کرسٹی ہنٹر
- عہدہ, دی کنورزیشن
کئی لوگ پھل اور سبزیاں استعمال کرتے وقت اُنھیں چھیل دیتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا ضروری نہیں۔ چھلکوں میں اہم غذائی اجزا ہوتے ہیں اور اہم بات یہ ہے کہ پھلوں اور سبزیوں کے پھینک دیے گئے چھلکے ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ بھی بنتے ہیں۔
پھل اور سبزیوں میں وٹامنز، منرلز، فائبر اور کئی اہم نباتاتی کیمیکلز بشمول اینٹی آکسیڈینٹس ہوتے ہیں جو جسم کے خلیوں کا تحفظ کرتے ہیں۔
غذائیت سے بھرپور ایسے کھانے نہ کھانے کی وجہ سے کئی بیماریاں مثلاً دل کے امراض یا ٹائپ 2 ذیابیطس ہو سکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی تجویز ہے کہ روزانہ کم از کم 400 گرام پھل اور سبزیاں کھانی چاہییں مگر یہ کئی لوگوں کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ تو کیا چھلکوں سمیت پھل اور سبزیاں کھانا غذا میں اہم اجزا شامل کر کے اس مسئلے کو حل کر سکتا ہے؟
اس سے فائدہ تو لامحالہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر سات سبزیوں چقندر، جنگلی سرسوں، جنگلی گاجر، شکر قندی، مولی، ادرک اور سفید آلو کے اندر کئی اہم وٹامنز بشمول وٹامن سی اور رائبو فلیون (بی 2) اور آئرن اور زنک جیسی معدنیات شامل ہوتی ہیں۔
امریکی محکمہ زراعت کے مطابق چھلکوں سمیت سیب کھائے جائیں تو ان سے 15 فیصد زیادہ وٹامن سی، 267 فیصد زیادہ وٹامن کے، 20 فیصد زیادہ کیلشیئم، 19 فیصد زیادہ پوٹاشیئم، اور 85 فیصد زیادہ فائبر ملتا ہے۔
اس کے علاوہ کئی چھلکوں میں فلیونائڈز اور پولیفینولز جیسے اہم کیمیکلز ہوتے ہیں جو جراثیم کش خصوصیات کے ساتھ ساتھ جسم کی اندرونی صفائی میں مدد دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ چھلکے پھینکنا ماحول پر بھی منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کے مطابق چھوڑ دیا گیا کھانا بشمول پھلوں اور سبزیوں کے چھلکے عالمی سطح پر خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسز میں 8 سے 10 فیصد کا حصہ ڈالتے ہیں۔ لینڈ فلز میں سڑ رہے کھانے سے میتھین گیس خارج ہوتی ہے جو دنیا کی سب سے خطرناک گرین ہاؤس گیس ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صرف 51 لاکھ آبادی والا ملک نیوزی لینڈ اکیلے ہر سال 13 ہزار 658 ٹن سبزیوں کے چھلکے اور 986 ٹن پھلوں کے چھلکے پھینکتا ہے۔
چھلکوں کی غذائی خصوصیات اور کچرے میں ان کے کردار کے باوجود لوگ کیوں ان کے چھلکے پھینکتے کیوں ہیں؟
کچھ کو تو چھیلنا لازم ہوتا ہے کیونکہ باہری حصے یا تو ہضم نہیں ہو سکتے، ذائقے میں اچھے نہیں ہوتے، یا نقصان پہنچا سکتے ہیں مثلاً کیلے، کینو، تربوز، خربوزے، انناس، آم، ایووکاڈو، پیاز اور لہسن کے چھلکے۔ اس کے علاوہ انھیں چھیلنا ترکیب کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔
مگر کئی سبزیاں مثلاً آلو، چقندر، گاجر، کیوی اور کھیرے کے چھلکے کھائے جا سکتے ہیں مگر پھر بھی لوگ انھیں چھیل دیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جراثیم کش ادویات کا ڈر
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کچھ لوگ پھلوں اور سبزیوں کو اس لیے چھیل دیتے ہیں کیونکہ انھیں ڈر ہوتا ہے کہ ان کی سطح پر جراثیم کش ادویات کے ذرات ہوں گے۔ یہ ضرور ہے کہ چھلکوں یا اس سے کچھ نیچے جراثیم کش ادویات کے ذرات رہ جاتے ہیں مگر یہ پودے کے انواع پر بھی منحصر ہوتا ہے۔
مگر زیادہ تر آلودگی کو پھل یا سبزی کو اچھی طرح دھونے سے صاف کیا جا سکتا ہے۔ درحقیقت امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی تجویز ہے کہ لوگ پھلوں اور سبزیوں کو ٹھنڈے پانی سے دھوئیں اور سخت برش سے رگڑیں تاکہ ان پر موجود مٹی، جراثیم کش ادویات اور کیمیکلز اتارے جا سکیں۔
اس کے علاوہ پکانے کے طریقے مثلاً ابالنے یا دم کے ذریعے بھی جراثیم کش ادویات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
مگر جراثیم کش ادویات کے تمام ذرات دھونے یا پکانے سے دور نہیں ہوتے۔ اور ایسے لوگ جنھیں اس کی فکر ہوتی ہے وہ شاید انھیں چھیلنا جاری رکھیں۔
کچھ ممالک میں فہرستیں موجود ہوتی ہیں جن میں پھلوں اور سبزیوں میں جراثیم کش ادویات کی مقدار کے بارے میں لکھا ہوتا ہے، جیسا کہ برطانیہ میں پیسٹیسائیڈ ایکشن نیٹورک کی فہرست۔ اس سے آپ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کون سے پھلوں اور سبزیوں کو چھیلنا چاہیے اور کن کو کھا لینا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگر آپ کو پھلوں اور سبزیوں کے چھلکوں کے بارے میں مزید معلومات درکار ہوں اور جاننا ہو کہ آپ ان کا کیا کر سکتے ہیں تو انٹرنیٹ پر آپ کو کئی مشورے مل جائیں گے۔ ان سے کھاد بنائی جا سکتی ہے، کیچوؤں کو کھلایا جا سکتا ہے، یا پھر کھانے میں بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
کچھ ریسرچ اور تخلیقی صلاحیت کے ذریعے آپ نہ صرف کچرا کم کر سکتے ہیں بلکہ غذا میں پھلوں اور سبزیوں کی غذائیت کی مقدار بھی بڑھا سکتے ہیں۔
کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یہ اہم بات ہے اور اس کی کوشش کرنی چاہیے؟ اور اس کے ذریعے آپ اقوامِ متحدہ کے ایک پائیدار ترقی کے ہدف یعنی 2030 تک غذائی زیاں کو نصف کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔
*کرسٹی ہنٹر برطانیہ کی ناٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی میں غذائیت کی پروفیسر ہیں۔













