ایسی غذا جو دو ہزار سال تک ٹھیک رہ سکتی ہے

کھانے کے مرتبان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ولیم پارک
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر

جب 8 ستمبر 1941 کو نازی فورسز نے لیننگراڈ کا گھیراؤ کیا تو شہری لاڈوگا جھیل کے ساتھ لگنے والی زمین کی ایک پٹی کے ذریعے باقی روس سے رابطے میں تھے مگر بھاری گولہ باری کی وجہ سے سب شہریوں کو شہر سے نکالنا ممکن نہیں تھا۔

تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو اس محاصرہ میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔

جب آبادی کا بھوک سے برا حال تھا تو سننے میں آتا ہے کہ لوگ راشن کارڈ کے لیے ایک دوسرے کا قتل کر دیتے اور لاشوں کو کھا جاتے تھے۔ گو کہ انسانی گوشت کھانے کے واقعات آبادی کے تناسب سے بہت کم تھے مگر ان سے آبادی میں بے چینی انتہا کو پہنچ گئی تھی۔

اس کا خوف اتنا زیادہ تھا کہ پولیس بات نہ ماننے والے شہریوں کو دھمکاتے تھے کہ اگر انھوں نے بات نہ مانی تو انھیں آدم خور افراد کے ساتھ جیل میں ڈال دیا جائے گے۔ زیادہ تر افراد جو انسانی گوشت کھاتے پکڑے گئے ان میں مجبور اور لاچار مائیں تھیں جو اکیلی اور بے روزگار تھیں۔

جو پکڑی جاتی ان پر ترس کھا کر انھیں مارنے کے بجائے جیل میں ڈال دیا جاتا تھا۔

انتہائی مجبوری کی حالت کے باوجود غذا کا ایک ذریعہ تھا جو لوگوں کی نظر سے اوجھل رہا سوائے اُن کے جن کو اس کا علم تھا۔ لیننگراڈ میں انسٹیٹیوٹ آف پلانٹ انڈسٹریز جین بینک اس وقت اور آج بھی دنیا میں پودوں کے بیجوں کا سب سے بڑا ذخیرہ تھا۔ اگر دنیا میں کہیں کوئی پودا ناپید ہو جائے تو یہاں سے بیج وغیرہ لے کر اسے واپس اگایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انتہائی برے حالات میں بھی اس ادارے میں کام کرنے والے افراد نے اس گودام کی اپنی جان پر کھیل کر حفاظت کی۔ انھیں خوف تھا کہ مجبور افراد اس گودام پر دھاوا بول کر بھوک سے بچنے کے لیے ان کی زندگی بھر کی محنت ضائع کردیں گے یا حملہ کرنے والی فورسز اس عمارت کو تباہ کر دیں گی تاکہ لوگ اس سے استفادہ نہ کر سکیں۔

جب سویت فورسز نے 18 جنوری 1943 میں گھیراؤ ختم کروایا تو ڈھائی سال کے محاصرہ کے باوجود یہ بیجوں کا گودام بچا رہا۔

اگر دنیا کو ایک بار پھر جنگ عظیم، ایٹمی جنگ یا کسی مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑا تو کونسی ایسی چیزیں ہونگی جو بچ جانے والے افراد کے کھانے کے لیے محفوظ ہونگی۔ یہی نہیں یہ سوال بھی اہم ہے کہ اشیائے خورد و نوش کتنی دیر ٹھیک رہتی ہیں اور کیوں خراب ہوتی ہیں؟

لیننگراڈ شہر
،تصویر کا کیپشنلیننگراڈ شہر کا ایک منظر جس میں ایک لاش کو سلیڈ پر گھسیٹ کر لے جایا جا رہا ہے

یونیورسٹی کالج لندن میں فوڈ کیمسٹری کے ماہر مائیکل سولو کہتے ہیں کہ تقریباً سب اشیائے خوردو نوش ایک چیز کی وجہ سے خراب ہوتی ہیں اور وہ ہیں مائیکروبز یعنی خورد بینی جرٽوموں کی افزائش۔ کھانے کی چیزوں کو خشک کر کے، نمک لگا کر، ٹھنڈا رکھ کر انہیں ایسے ڈبوں میں رکھنا چاہیے جن میں ہوا نہ جا سکے۔

ان سب اقدامات سے مائیکروبز کی افزائش میں کمی آتی ہے اور ان طریقوں کو صدیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مائیکل سولو کا کہنا ہے کہ کھانے کی چیزوں کو خشک کرنا سب سے موثر ہے۔ اس کے بعد نمک لگانا ہے۔ ڈبوں میں کھانے کی چیزوں کو بند کرنا جن میں ہوا نہ داخل ہوسکے اکیلے کافی نہیں ہے۔

کھانے کی چیزوں سے ایسی حیات کو ختم کرنا نا ممکن ہے جو انہیں خراب کرتی ہیں کیونکہ انھیں ختم کرنے کے نتیجے میں کھانے کی چیز خود بھی ضائع ہو جائے گی۔ اس کے بر عکس ایسے طریقوں کا استعمال جو مائیکروبز کی افزائش روکے زیادہ اہم ہیں۔ خشک کرنا اس لیے موثر ہے کیونکہ پانی کی کمی مائیکروبز کی افزائش کی راہ میں رکاوٹ پیدا کر دیتی ہے۔ یہی نہیں پانی کی کمی آکسیڈیشن کے عمل کو بھی کم کر دیتی ہے جو کھانے کی چیزوں کو خراب کرتی ہیں۔

بند ڈبے جن میں ہوا نہ جا سکے اس لیے بھی زیادہ موثر نہیں کیونکہ کھانے کی اشیا پر پہلے ہی کافی مائیکروبز موجود ہوتے ہیں اور کچھ مائیکروبز کی افزائش کم آکسیجن کے باوجود بھی ہوجاتی ہے۔ گوشت پر موجود مائیکروبز کو خصوصاً اکسیجن کی ضرورت نہیں ہوتی۔

مائیکل سولو کہتے ہیں کہ ایسے مائیکروبز آپ کے لیے بہت برے ٽابت ہوسکتے ہیں اس لیے کھانے کی چیزیں خشک کرنا ہوا کے بغیر ڈبے میں کھانے کو بند کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔

گوشت پر نمک لگانا اس لیے موثر ہوتا ہے کیونکہ نمک نمی کو ختم کرتا ہے جس سے ایسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے جس میں مائیکروبز بچ نہیں پاتے۔ زیادہ نمک کی موجودگی ایسے حالات پیدا کر دیتی ہے کہ بیکٹیریا اپنا کام ٹھیک طرح نہیں کر پاتے اس کو اُسموٹک شاک کہا جاتا ہے۔ مائیکل سولو کہتے ہیں کہ نمک مائیکروبز کے خلیوں میں سے پانی نکال کر انھیں متاٽر کرتا ہے۔

چینی لگانے سے بھی اُسموٹک شاک کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ عموماً ایسی کھانے کی چیزیں جن میں چینی زیادہ ہوتی ہے لمبا عرصہ ٹھیک رہتی ہیں۔ خشک حالت میں چینی میں مائیکروبز کی افزائش نہیں ہوتی۔

بگ میک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایک آسٹریلوی شخص نے 2019 میں ایک بگ میک کی نمائش کی جو اُس کے مطابق سنہ 1995 میں خریدا گیا تھا۔

ایسی ٹافیاں جن میں 80 فیصد چینی ہو ان میں مائیکروبز کی بہت کم افزائش ہوتی ہی اور یہ کئی سالوں تک ٹھیک رہ سکتی ہیں۔ مگر جب ان میں دیگر اجزا ڈالے جائیں جیسا کہ دودھ اور انڈے وغیرہ ہیں تو پھر ایسی چیزیں کم عرصےکے لیے ٹھیک رہتی ہیں۔ کیرامل اور چاکلیٹ میں پھپھوندی لگ سکتی ہے جبکہ انھیں بناتے وقت جن بیکٹیریا کو شامل کیا جاتا ہے ان کی افزائش کا عمل بھی ان میں شروع ہوجاتا ہے۔

شہد کا خراب ہونا بھی تقریباً ناممکن ہے کیونکہ اس میں چینی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جبکہ پانی بہت کم ہوتا ہے اور یہ بہت اچھے طریقے سے محفوظ رہتا ہے۔ شہد کے نمونے جیارجیا میں اشرافیہ کے تین ہزار سال پرانے مقبروں اور مصر میں توتن خامون کے مقبرے سے ملے ہیں۔

مگر موجودہ دور میں شاید کھانے کی کسی چیز کو محفوظ رکھنے کا سب سے مشہور واقعہ آئیس لینڈ کا وہ بگ میک ہے جسے 2009 میں میکڈونلڈز کے بند ہو جانے کے بعد ایک گلاس کیبینٹ میں رکھا گیا۔ گو کہ اس پر پھپوندی نہیں لگی مگر اس کو محفوظ رکھنے کے لیے مائیکل سولو کے بتائے ہوئے مشوروں پر عمل نہیں کیا گیا۔ برگر کو ایک گلاس کیبینٹ میں رکھا گیا اور صرف پریزرویٹوز نے اسے بچائے رکھا جو اس برگر کو بناتے وقت اس میں ڈالے گئے تھے۔

برگر کنگ نے طنزاً ایک اشتہار کی مہم چلائی۔ اس اشتہار میں برگر کنگ کے برگر کے پرانا ہوجانے پر اس پر پھپھوندی لگنا شروع ہوجاتی ہے۔ اس کا مقصد تھا کہ یہ دکھا سکیں کہ وہ اپنے برگرز میں پریزرویٹو نہیں ڈالتے۔ سنہ 2018 میں میک ڈونلڈ نے بھی اعلان کیا کہ وہ اپنے برگر ،بن اور ساس میں میں کئی پریزیروٹیوز کم کردیں گے۔

سوپر مارکیٹس میں بکنے والی اشیا خوردو نوش میں بھی پریزرویٹو کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ کھانے کی چیزیں زیادہ عرصہ چلیں۔ انھیں بنانے والے چاہتے ہیں کہ چاہے صارفین ان مصنوعات کو بننے کے ایک ہفتے بعد شیلف سے اٹھائیں یا چار ہفتے بعد لوگوں کو کھاتے وقت ان کا ذائقے میں فرق محسوس نہیں ہونا چاہیے۔

اس لیے ضروری نہیں کہ ایسی چیزوں پر لکھی گئی تاریخ جو بتاتی ہے کہ کب تک انہیں کھایا جا سکتا ہے وہ ان کے محفوظ ہونے کی نشاندہی کریں بلکہ یہ وہ تاریخ ہوتی ہے جس کے بعد ایسی چیزوں کی شکل و صورت انہیں بنانے والوں کی طرف سے پیش کی جانے والی چیزوں کے معیار پر پورا نہیں اُترتیں۔

میکڈونلڈ نے 2018 میں کیلشیئم پروپیونیٹ نامی پریزرویٹو کے استعمال کو ترک کیا اس کے استعمال سے بن پر پھپھوندی نہیں لگتی تھی۔ اس کے علاوہ انھوں نے سوربک ایسڈ کے استعمال کو بھی چھوڑ دیا جو پنیر پر پھپوندی نہیں لگنے دیتی تھی۔ اس کے علاوہ سوڈیم بنزوایٹ کا استعمال بھی بند کیا جو ان کے بگ میک کے ساس میں بیکٹیریا کی افزائش کو روکتی تھی۔

کھانے کی چیزوں کو محفوظ رکھنے کے وہی طریقے ہزاروں سال سے استعمال ہو رہے ہیں جو آج کل ہو رہے ہیں۔ موجودہ دور میں جو طریق رائج ہیں وہ بھی وہی ہیں جو ہمارے آباؤاجداد استعمال کرتے آ رہے ہیں۔

الکحول اور علم آٽار قدیمہ

توتن خامون کے مقبرے سے ملنے والا خزانہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمصر میں توتن خامون کے مقبرے میں ملنے والے خزانے میں سے شہد کی ایک بوتل بھی ملی جو بہت اچھی طرح محفوظ کی گئی تھی

کھانے کی اشیا جو ایک لمبا عرصے بچی رہی ہیں وہ یہ سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں کہ ہمارے گھر وں میں موجود کھانے کی کونسی اشیاء مستقبل میں شاید ہماری اگلی نسلیں دریافت کریں۔

یونیورسٹی کالج لندن میں ارتقائی جنیات کے پروفیسر مارک ٹامس کہتے ہیں کہ ایسے کھانے جن میں چربی بہت زیادہ ہو لمبے عرصے تک محفوظ رہتے ہیں۔مکھن ، پنیر ، جانوروں کی چربی اور تیل اچھی طرح محفوظ رہتے ہیں۔

ایسے مکھن جو بہت زیادہ فرمنٹ کیے گئے ہوں یا اُن سے خمیر اُٹھنے لگے وہ گلے ہوئے پودوں کے دلدل میں پائے گئے ہیں۔ یہ مکھن چار ہزار سال پرانے تھا اور سکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ میں دریافت کیا گیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اُس وقت لوگوں نے مکھن یا جانوروں کی چربی کو دفن کیا ہوگا تاکہ اُسے محفوظ رکھ سکیں یا چوروں سے بچا سکیں۔

گو کہ اس طرح کا مکھن موم کی طرح لگتا ہے مگر اصولاً یہ کھانے کے قابل ہوسکتا ہے۔ تیزابیت اور اکسیجن کے بغیر پانی چیزوں کو گلنے سڑنے سے بچا لیتا ہے۔ اسی لیے درخت اور انسانی لاشیں ایسے دلدلوں میں بہت اچھی حالت میں ملی ہیں۔

کچھ لوگوں نے ایسا مکھن کھا کر بھی دیکھا ہے مگر اس کی بدبو اور ذائقہ ایسا تھا کہ شاید ہی کوئی کھانا چاہے۔ حال ہی میں اس طرح کے تجربے کیا گیا جس میں مکھن کو تین ماہ کے لیے گلے ہوئے پودوں کے دلدل میں رکھا گیا۔ اسے کھانے والے افراد نے کہا کہ اس کہ ذائقہ سلامی کی طرح ذرا تیکھا سے تھا جیسا کہ گوشت خراب ہونے کے بعد ہوتا ہے ۔

کھانے کی اشیا کو دفن کرنا ان کی عمر بڑھانے کا اچھا ذریعہ ہے بشرطیکہ کے باقی حالات سازگار ہوں۔ چین میں مومیائی ہوئی لاشیں ملیں جنھیں پنیر کے ساتھ سجایا گیا تھا اور ممکن ہے کہ اس میں ایک خاص طرح کی جھاگ دار شراب شامل ہو۔

خیال ہے کہ جہاں یہ لاشیں مدفون تھیں وہاں زمین بنجر تھی جس کی مٹی میں نمک کی شرح زیادہ تھی اور یہی لاشوں اور پنیر کو محفوظ رکھنے کی وجہ بنی۔ گو کہ پنیر جس حالات میں پایا گیا اُسے دیکھ کر کسی کا بھی دل شاید نہ للچائے مگر پروفیسر مارک ٹامس کہتے ہیں کہ ہمیں اس بارے میں رائے قائم کرنے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ آجکل بھی بہت سے لوگوں کو عام ملنے والی پنیر کا ذائقہ پسند نہیں ہوتا۔

مگر کھانے پینے کی قدیم ترین چیز جو اب بھی استعمال کے لیے قابل قبول ہو اُس کی ایک مٽال جرمنی کے شہر سپئیر میں روم کے شہنشاہیت کے دور کی وائین کی بوتل ہے۔ سترہ سو سال پرانی اس بوتل میں موجود مشروب گاڑھا ہو کر جم سا گیا تھا اور اس کا رنگ اُڑ چکا تھا۔ کسی نے اسے کھول کر چکھنے کی جراْت نہیں کی۔

مگر دنیا کی سب سے پرانی شیمپین کی بوتل ایک غرق شدہ جہاز کے ملبے سے ملی۔ بحیرہ بالٹک کی تہہ سے ملنے والی دو سو سال پرانی بوتل کو اسے نکالنے والے ڈائیور کرسٹین اکسٹارم نے 2010 میں چکھا۔ ان کے مطابق یہ میٹھی تھی اور اس میں گیس کے بلبلے موجود تھے۔ جہاز کا ملبہ سمندر کی گہرائی میں تھا جہاں اندھیرا تھا اور پانی انتہائی ٹھنڈا اور اسی وجہ سے وائین محفوظ رہی۔

اس ملبے سے ملنے والی ایک بوتل 2011 میں نیلامی کے دوران 26 ہزار 248 پاؤنڈ میں بکی۔ جہاز 1825 اور 1830 کے درمیان غرق ہوا تھا اور یوں اب تک کی معلومات کے مطابق ادھر سے ملنے والی شیمپین دنیا میں شیمپین کی سب سے پرانی بوتل تھی جو پینے کے قابل تھی۔

لیموں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مگر کیا قدیم زمانے سے بچ جانے والے گوشت کی کوئی مٽال موجود ہے؟ اس کی تلاش کے لیے دنیا کے منجمد شمالی حصے کا یا گلیشئرز کا رخ کرنا ہوگا جس کے اندر جانور پھنس کر جم گئے ہوں۔

قدیم زمانے سے جما ہوا گوشت جب تک منجمد رہے کھانے کے قابل لگتا ہے مگر جیسے ہی اسے پگھلایا جائے تو بدبودار ہوجاتا ہے۔ سرد علاقوں میں محققین کو معدوم ہو جانے والے قدیم ہاتھی ملے تو انہوں نے بھی اسی بات کی شہادت دی۔

اس کی ایک مٽال بریزوکا میمتھ کا چالیس ہزار سال پرانا نمونہ ہے جو سائبریا میں 1900 میں ملا۔ ایڈرین لیسٹر کی کتاب میمتھس میں اس کا زکر کرتے ہوئے لکھا گیا کہ اس کا گوشت گہرے سرخ رنگ کا تھا جبکہ اس کے گوشت میں سنگ مرر کے ٹائیل کی طرح چربی کی تہیں نظر آئیں۔

اس وقت اس مہم کے سربراہ نے کہا کہ یہ اتنا لذید لگ رہا تھا کہ ہم کچھ دیر تک سوچتے رہے کہ اس کو چکھا جائے مگر کسی کی اسے اپنے منہ میں ڈالنے کی ہمت نہ ہوئی۔ وہاں جو کتے موجود تھے انہوں نے جو بھی گوشت انہیں پھینکا گیا وہ کھا لیا۔

گوشت پگھلانے کے بعد اس کا رنگ سرمئی ہوگیااور اسے دیکھ کر کراہت آنے لگی۔ کتاب کے مصنف ایڈرین لسٹر نے ہمیں بتایا کہ لگتا نہیں کہ مہم میں شامل افراد میں سے کسی نے بھی اسے چکھا نہ ہو البتہ ایک سائنسدان جس کے بارے میں بتایا گیا کہ اُس نے اس گوشت کو چکھا وہ اسے کھا کر بیمار ہوگیا۔

سٹاک ہوم کے ’کے ٹی ایچ رائل انسٹی ٹیوٹ فار ٹیکنالوجی‘ کے مورخ کو ایک پیلینٹالوجسٹ یا قدیم حیات کے ماہر جنھوں نے جما ہوا قدیم ہاتھی دریافت کیا اپنے سفر کی روداد سناتے ہوا بتایا کہ جب جمے ہوئے گوشت کو پگھلا کر تلنے کی کوشش کی گئی تو وہ بدبودار ہوگیا اور گھل سا گیا۔

گوشت جب خراب ہوتا ہے تو اس کا رنگ سرمئی ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ ایڈیپوکیئر نامی مادہ ہے جسے انسان نہیں کھا سکتے۔ اسے قبر کی موم یا لاش کی موم بھی کہتے ہیں۔ ایڈیپوکیئر تب پیدا ہوتا ہے جب ایناروبک بیکٹیریا گوشت میں موجود چربی میں بریک ڈاؤن ہونا شروع ہوتے ہیں۔

فورنزک سائنسدان لاش میں ایڈیپوکیئر کی مقدار کا جائزہ لے کر یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ لاش کتنی پرانی ہے۔ لاش جمنے کی صورت میں برف کے کرسٹلز بن جاتے ہیں جو پٹھوں میں موجود ریشے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

مچھلی کا گوشت زیادہ عرصے منجمد رہنے سے خراب ہوجاتا ہے۔ کاڈ مچھلی کو لمبے عرصے کے لیے جمایا جائے تو اس میں سے پانی ختم ہوجاتا ہے اور جب اس پگھلائیں تو اس کا گوشت سخت ہوجاتا ہے۔ مچھلیوں کے گوشت کو لمبے عرصے کے لیے جمانے کی صورت میں اس کے گوشت میں مختلف کیمیائی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں اور وقت کے ساتھ یہ گوشت کھانے کے قابل نہیں رہتا۔

ایڈرین لسٹر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایڈرین لسٹر بہت اچھی حالت میں دریافت ہونے والی میمتھ کی لاش کا لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم میں معائنہ کر رہے ہیں

گوشت میں ویسے ہیں وقت کے ساتھ مائیکرواورگنازمز پیدا شروع ہونا ہو جاتے ہیں اور اسی لیے یہ لمبے عرصے تک محفوظ رکھنے کے لیے مناسب نہیں ہے۔ مگر ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے مائیکل سولو کہتے ہیں کہ اب سے دس سال بعد جانور کو ذبح کر کے گوشت حاصل کرنے کے بجائے سیلیولر اگریکلچر کی مدد سے گوشت کو اگایا جائے گااور یوں گوشت زیادہ عرصے ٹھیک رہ سکے گا۔

یہ بات وہ امپوسیبل فوڈز جیسی کمپنیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں جنہوں نے لیبارٹری میں گوشت اگایا ہے اور ایسا گوشت جراٽیم سے آزاد ہوتا ہے۔

برفانی دور یا ایٹمی تباہ کاری

اگر اس دور میں انسانی آبادی کا اچانک خاتمہ ہوا تو ایسا ہونے کی جو وجوہات ہوں گی ان میں یہ بات بھی اہم ہو گی کہ وہ کیا اشیا ہیں جو انسان کے کھانے کے قابل بچی ہونگی۔

مائیکل سولو کہتے ہیں کہ اگر ایسا کوئی سانحہ نہ ہوا ہو جس کے نتیجے میں اشیائے خوردونوش کسی وجہ سے خراب ہو جائیں یعنی کوئی کیمیائی یا ایٹمی سانحہ تو ہم سوپر مارکیٹ سے وہ چیزیں آرام سے لے کر کھا سکیں گے جو تازہ نہ ہوں۔ کسی قدرتی آفت یہ کھانے کی اشیا کی سپلائی بری طرح متاٽر ہونے کی صورت میں ڈبے میں سیل کھانے کی چیزیں اور جمی ہوئی چیزیں کھائی جا سکیں گی بس یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ بہت زیادہ پرانی نہ ہوں۔

مائیکل سولو کہتے ہیں کہ میں ایسے چیزوں کا استعمال پہلے کروں گا جنہیں ہوا کھینچ کر بیگ میں سیل کیا گیا ہو اور سکھائی ہوئی بھی ہوں۔ یوں دو چیزیں انہیں محفوظ رکھتی ہیں ہوا کی غیرموجودگی اور نمی کا نہ ہونا۔

مزید پڑھیے

چیزوں کو سکھانے میں اس عمل کی رفتار بھی بہت اہم ہوتی ہے۔ آہستہ آہستہ سکھانے سے کچھ بیکٹیریا حالات کے مطابق ڈھل جاتے ہیں اور اینڈوسپور یا سخت جان غلاف بنا لیتے ہیں تاکہ اس وقت تک اپنے آپ کو محفوظ کرلیں جب تک ان کے لیے حالات سازگار نہ ہوں۔ ایسے کچھ بیکٹیریا تھرموفی لک ہوتے ہیں یعنی بہت زیادہ درجہ حرارت برداشت کر سکتے ہیں کچھ میسو فی لک ہوتے ہیں اور کمرے کے عمومی درجہ حرارت میں ٹھیک رہتے ہیں۔ اس لیے ضروری نہیں کہ درجہ حرارت بڑھا کر انہیں ختم کیا جا سکتا ہے۔

اس لیے آہستہ آہستہ خشک ہونے والی اشیاء میں مائیکرووبز بچ سکتے ہیں۔ سپرے کر کے یا جما کے خشک کی گئی اشیاء اور ایسی اشیاء جنہیں تیزی سے خشک کیا گیا ہے زیادہ دیر چلتی ہیں۔

امریکی فوجی

،تصویر کا ذریعہDavid Kamm, U.S Army CCDC Soldier Center

،تصویر کا کیپشنامریکی فوجیوں کے لیے خصوصی راشن والا کھانے کھاتے ہوئے دو فوجی

اگر کچھ سانحہ ہوتا ہے کہ سطح زمین پر موجود اشیا کھانے کا قابل نہیں رہتیں تو پھر بھی کھانے کے لیے چیزیں ڈھونڈی جا سکتی ہیں بشرطیکہ لوگوں کو علم ہو کہ ان کی تلاش کہاں کریں۔

ناروے میں سوالبارد کے آرکٹک آرکیپیلاگو میں پہاڑ اور برف کی کئی تہہوں کے نیچے دفن ہے عالمی بیجوں کا ایک ذخیرہ۔ یہ موجودہ دور میں لیننگراڈ کے انسٹی ٹیوٹ آف پلانٹ انڈسٹری کے جین بینک کی طرح ہے۔ اس کی چار دیواری میں دنیا بھر کے پودوں کے 986243 بیجوں کے نمونے ہیں۔ ہر ایک نمونے میں تقریباً پانچ سو بیج ہیں یعنی تقریبا 5 ارب بیج اس گودام میں موجود ہیں۔

ان نمونوں کو منفی 18 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں میٹل کے ٹوکروں میں الومینیم کے ورق میں لپیٹ کر رکھا گیا ہے اور انھیں ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اگر پوری دنیا کسی آفت کی لپیٹ میں آجائے اور بجلی کی ترسیل بند ہو جائے تب بھی امید ہے کہ آرکٹک کی برف تلے دبے اس گودام میں یہ نمونے محفوظ رہیں گے۔

لیکن اگر آپ کھانے کی تلاش میں یہاں آئیں تو آپ کو بیجوں کے انتخاب میں احتیاط برتنی ہوگی۔ سیب، خوبانی، چیری، آڑو اور آلو بخارے کے بیجوں پر آمیگڈیلن کی تہہ لگی ہوئی ہے جسے ہضم کرنے پر سائینائیڈ کا اخراج ہوتا ہے۔ گو کہ ایک جوان شخص اگر خوبانی کے 75 بیج کھائے اُس ہی صورت میں اُسے مہلک مقدار میں سائینائئڈ ملے گی اور یہ عام حالات میں ممکن نہیں۔

مستقبل کی غذا

اس طرح کا خطرہ مول لینے سے بہتر ہے کہ ایسی غذا کی طرف توجہ دی جائے جو لیبارٹری میں تیار کی گئی ہو اور جو لمبے عرصے تک خراب نہ ہو۔ ٹیکنالوجی کی مدد سے ہمیں ایسی غذا میسر ہے جو لمبے عرصے تک خراب نہیں ہوتی۔ موجودہ دور کے طریقوں اور ہمارے آباءواجداد کی غذا کو محفوظ رکھنے کی کوشش ہمارے آباءواجداد کو شرمندہ کر دیں۔

مائیکل سولو کے مطابق خلائی سفر کے لیے تیار کیے گئے کھانے سب سے زیادہ موزوں ہوسکتے ہیں۔ بناتے وقت ان کا وزن کم رکھا جاتا ہے اور یہ بدلتے درجہ حرارت میں لمبے عرصے تک ٹھیک رہتے ہیں۔

اسی طرح امریکہ میں فوج کے لیے بنائے گئے راشن امریکی فوج کے رہنما اصولوں کے مطابق تین سال تک 27 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت تک ٹھیک رہ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ کھانے کمرشل سطح پر بننے والے کھانوں کے مقابلے میں دیگر سخت حالات میں بھی خراب نہیں ہوتے۔ یہ جہاز سے گرائے جانے پر بھی ٹھیک رہتے ہیں۔

امریکی فوج کے کامبیٹ کیپابلاٹیز ڈیولپمنٹ کمانڈ سولجر سینٹر سے منسلک فوڈ ٹیکنالوجسٹ جولی سمتھ کہتی ہیں کہ کمرشل مصنوعات اشیائے خوردو نوش کو لمبے عرصے تک ٹھیک رکھنے کے اصولوں پر پوری نہیں اترتیں۔ ڈیفنس لوجسٹکس کمپنی کے مطابق ان کا پاس ایک وقت کے کھانے کے پچاس لاکھ حصے گودام میں تیار پڑے ہیں جنہیں کبھی بھی ضرورت کے وقت کھایا جا سکتا ہے۔

مائیکل سولو کہتے ہیں کہ عام غذا کی متبادل اشیاء کھانے کے قابل رہیں گی جیسا کہ ہیول کی بنائی ہوئی چیزیں اور ان کو استعمال کرکے دوسری بنائے گئی غذا۔

ہیول ایک ایسی کمپنی ہے جو انسانی ضرورت کے لیے مکمل غذائیت والے کھانے پاؤڈر کی صورت میں بناتی ہے۔ وہ فریز ڈرائینگ اور پیس کر ایسا پاؤڈر تیار کرتی ہیں جس میں نمی نہیں ہوتی۔ انہیں یقین ہے کہ ان کی مصنوعات لمبے عرصے تک ٹھیک رہتی ہیں کیونکہ وہ پاؤڈر کی تیاری میں جو اقدامات لیتے ہیں وہ انہیں لمبے عرصے تک محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

ہیول کے لیے کام کرنے والی ماہر غذائیت ربیکا ولیمز کہتی ہیں پیکیجنگ کے دوران جس طرح ہم نمی، روشنی اور اکسیجن کو کنٹرول کرتے ہیں وہ اہم ہے۔ ہم ہر چیز کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سب کچھ حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ہو۔پیکیجنگ کو بھی جراٽیم سے پاک بنانا ہوتا ہے اس کے لیے ہم بھاپ اور تیزاب کا استعمال کرتے ہیں تاکہ پیکجنگ پر مائیکروبز نہ رہیں۔

اگر کسی ایسی سوپر مارکیٹ جس میں کئی سال کوئی نہ داخل ہوا ہو اس میں جانے کا اتفاق ہو تو یقیناً کچھ دلچسپ چیزیں انتخاب کے لیے ملیں گی۔ اگر آپ کو علم ہو کہ تلاش کہاں کرنی ہے تو بہت کچھ کھانے کے قابل پائیں گے۔ پروفیسر ٹامس کہتے ہیں کہ مجھے توقع ہے کہ خشک کی گئی اشیاء ان میں شامل ہونگی لیکن مشہور بسکٹس ہاب ناب شاید ختم ہو چکے ہوں۔