کم عمری کے سفید بالوں کا علاج غذا سے ممکن ہے؟

    • مصنف, ایستر کہومبی
    • عہدہ, بی بی سی گلوبل ہیلتھ

ایشلے کی عمر ابھی صرف 14 برس تھی جب ان کی ایک دوست نے ان کے بالوں میں سفید لٹ دیکھی اور ایشلے کو بتایا۔ یہ لمحہ کئی برسوں تک ان کی شکل و صورت کے بارے میں احساسات بدلنے والا ثابت ہوا۔

کینیڈا کی رہائشی ایشلے اب 28 سال کی ہیں۔ سکول کے اس دور کو یاد کرتے ہوئے وہ بتاتی ہیں کہ ’میں فوراً گھبرا گئی اور میں نے سوچا کہ ’نہیں، میرے بال سفید کیسے ہو سکتے ہیں، میری تو عمر صرف 14 سال ہے۔‘

اس روز وہ سکول کے بعد جب گھر گئیں اور آئینے میں بال دیکھے تو انھیں مزید سفید بال نظر آئے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے بہت شرمندگی محسوس ہوئی۔‘

ایشلے نے اپنے والدین سے بال رنگنے کی اجازت کی درخواست کی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’جب آپ سب کے ساتھ گھلنے ملنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو سفید بال اس میں بالکل فٹ نہیں بیٹھتے۔ میں صرف اسے چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔‘

کیا لوگوں کے بال اب پہلے سے زیادہ جلدی سفید ہو رہے ہیں؟

ماہرین کے مطابق بال سفید ہونے میں سب سے اہم کردار جینیات یا وراثت کا ہوتا ہے اور ٹیسٹ سے پتہ چلا کہ ایشلے کے معاملے میں بھی یہی وجہ تھی۔

ان کی والدہ کے بال بھی 14 سال کی عمر میں سفید ہونا شروع ہوئے تھے اور ان کی نانی کے بالوں میں تقریباً 17 سال کی عمر میں سفیدی آ گئی تھی۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اب زیادہ تعداد میں ایسے نوجوان آ رہے ہیں جو قبل از وقت بال سفید ہونے کے بارے میں فکرمند ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کی عمریں 20 سے 30 سال کے درمیان ہوتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرتا ہے تو اس کے بالوں کی عمومی طور پر جس عمر میں سفیدی آتی ہے ان میں محتلف نسلوں کے لیے عمر مختلف ہے۔

مثلاً یورپی نسل کے افراد میں عام طور پر بال 35 سال کی عمر میں سفید ہونا شروع ہوتے ہیں۔ ایشین اور افریقی نسل کے افراد میں یہ عمل تقریباً اس کے 10 سال بعد شروع ہوتا ہے۔

اس عمر سے پہلے بال سفید ہونا قبل از وقت عمل یا (پری میچیور گریئنگ) سمجھا جاتا ہے۔ یعنی یورپی نسل کے لیے 20 سال سے پہلے، ایشیائی نسل کے لیے 25 سال سے پہلے اور افریقی نسل کے لیے 30 سال کی عمر سے پہلے بالوں میں سفیدی ’پری میچیور گریئنگ‘ ہے۔

یہ حدود اس بنیاد پر طے کی گئی ہیں کہ مختلف نسلوں میں بالوں کو رنگ دینے والے خلیے (پگمنٹ سیل) مختلف رفتار سے اپنا عمل بند کرتے ہیں۔ کچھ نسلوں میں یہ عمل دیر سے رُکتا ہے۔

برطانیہ کے جنرل پریکٹیشنر ڈاکٹر سرمد مزہر کے مطابق ’ان حدود سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کب سفید بال عام بڑھاپے کے حصے کے طور پر آ رہے ہیں اور کب ہمیں دیگر وجوہات تلاش کرنی چاہییں۔‘

بال سفید کیوں ہوتے ہیں؟

جلد کے اندر موجود بالوں کی جڑوں یعنی ہیئر فالیکلز (hair follicles) سے بال اگتے ہیں۔ انھی جڑوں میں میلانوسائٹس نامی خلیے بھی پائے جاتے ہیں جو رنگ پیدا کرنے والے اجزا بناتے ہیں۔

میلانوسائٹس دو قسم کے میلانِن بناتے ہیں:

  • یومیلانن،جو بالوں کے سیاہ یا بھورے ہونے کی شدت طے کرتا ہے
  • فیومیلانن، جو بالوں میں سرخی یا زردی پیدا کرتا ہے

یہی دو رنگ دار مادے ہماری جلد اور آنکھوں کے رنگ کا بھی تعین کرتے ہیں۔

نیویارک یونیورسٹی کے محققین کی ایک تحقیق کے مطابق جیسے جیسے بال پرانے ہو کر گرتے اور دوبارہ اگتے ہیں، بالوں کی جڑوں میں موجود میلانوسائٹ سٹیم سیلز کے کام میں کمی آتی جاتی ہے۔

یہ خلیے حرکت کرنا بند کر دیتے ہیں اور جڑ میں ایک جگہ رک جاتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ مکمل طور پر رنگ پیدا کرنے والے خلیوں میں تبدیل نہیں ہو پاتے۔

جب بالوں کو رنگ دینے والا رنگ دار مادہ پگمینٹ بننا بند ہو جاتا ہے تو بال سفید، چاندی جیسے یا سرمئی نظر آنے لگتے ہیں۔

کیا غذائی کمی کی وجہ سے بال جلدی سفید ہو سکتے ہیں؟

امریکہ اور برازیل کے سائنس دانوں نے تحقیق میں دریافت کیا کہ شدید ذہنی دباؤ سے وہ خلیے متاثر ہو سکتے ہیں جو جِلد اور بالوں کا رنگ برقرار رکھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ جینیاتی عوامل زیادہ اہم ہیں لیکن غذائی کمی یا جسم میں وٹامنز اور معدنیات کی کمی بھی بالوں کے قبل از وقت سفید ہونے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔

اس میں وٹامن ڈی، وٹامن B12، تانبا(کاپر) ، آئرن، زنک اور فولیٹ شامل ہیں۔ ان میں سے خاص طور پر وٹامن B12 کی کمی کوبالوں کی سفیدی کی سب سے عام وجہ سمجھا جاتا ہے۔

وٹامن B12 خون کے سرخ خلیے بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جو بالوں کی جڑوں سمیت جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن پہنچاتے ہیں ۔ جب بالوں جڑوں تک آکسیجن مناسب مقدار میں پہنچتی ہے تو رنگ پیدا کرنے کا عمل درست رہتا ہے۔

ڈاکٹر سرمد مزہر کے مطابق ’وٹامن B12 زیادہ تر جانوروں سے حاصل ہونے والی غذاؤں میں پایا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص مکمل طور پر ویگن یعنی سبزی خور (Vegan) ہے اور سپلیمنٹس نہیں لیتا تو اس وٹامن کی کمی سب سے پہلے دیکھنی چاہیے۔‘

تانبا یعنی کاپر بھی ایک اہم عنصر ہے کیونکہ یہ میلانن بنانے کے عمل میں مدد دینے والے ٹائروسنیز (tyrosinase) نامی انزائم کو فعال کرتا ہے۔

تانبے سے بھرپور غذاؤں میں جھینگے اور شیل فش، تل، گہرے سبز پتوں والی سبزیاں اور کلیجی شامل ہیں تاہم یاد رہے کہ ماہرین کچھ وٹامنز یا منرلز کی زیادتی کے نقصان دہ ہونے سے متعلق بھی خبردار کرتے ہیں۔

زیادہ زنک (Zinc) یا وٹامن سی لینے سے جسم میں تانبا جذب کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے جس سے بال سفید ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

غذائیت کی ماہر ماریا مارلو کے بال 20 سال کی عمر میں سفید ہونا شروع ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’کئی لوگ کووِڈ کے دوران مدافعتی نظام مضبوط کرنے کے لیے زنک سپلیمنٹس لینے لگے۔ اگر یہ سپلیمنٹس درست طریقے سے تیار نہ کیے گئے ہوں، تو وہ تانبے کی کمی بھی پیدا کر سکتے ہیں۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’اگر آپ زنک سپلیمنٹ لے رہے ہیں تو بہتر ہے کہ زنک اور تانبا ایک ساتھ لیں تاکہ توازن برقرار رہے۔‘

ماریا مارلو کے مطابق زیادہ آئرن یا وٹامن سی لینے سے بھی جسم میں تانبے کی سطح کم ہو سکتی ہے جس سے بالوں کے قبل از وقت سفید ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ڈاکٹرز کے مطابق اگر بالوں کے قبل از وقت سفید ہونے کی وجہ معدنیات کی کمی ہو تو اس کے ساتھ جسم میں دیگر علامات بھی ظاہر ہوتی ہیں۔ برطانیہ کے ڈاکٹر سرمد مزہر کہتے ہیں کہ ’مثال کے طور پر اگر کسی میں کاپر(تانبے) کی کمی ہو تو اس کے ساتھ وزن میں غیر معمولی اضافہ، بالوں کا جھڑنا یا پتلا ہونا، جلد پر خارش یا دانوں جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ شدید تھکن، کمزوری اور سردی برداشت نہ کر پانا بھی عام علامات ہیں۔‘

غذائیت کی ماہر ماریا مارلو نے جب اپنے ٹیسٹ کروائے تو معلوم ہوا کہ ان کے جسم میں تانبے، آئرن اور آیوڈین کی کمی تھی۔

انھوں نے یہ بھی جانچ کروائی کہ ان کے جسم میں ہیوی میٹلز کی مقدار کتنی ہے کیونکہ ان دھاتوں کی زیادتی بھی جسم میں معدنیات کے جذب ہونے کے عمل میں رکاوٹ ڈال کر بالوں کے قبل از وقت سفید ہونے کا باعث بن سکتی ہے۔

ان کے ٹیسٹ میں سیسہ (لیڈ) اور کیڈمیم کی سطح معمول سے زیادہ پائی گئی۔

مارلو کہتی ہیں ’صنعتی دور کے باعث اب تقریباً ہر شخص کسی نہ کسی حد تک ہیوی میٹلز کے اثر میں آ چکا ہے۔ یہ نہ صرف ہوا میں موجود ہوتے ہیں بلکہ ہماری غذاؤں میں بھی پائے جاتے ہیں۔‘

انھوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ’کچھ مچھلیوں میں پارے کی مقدار دوسری مچھلیوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم اتنی مقدار میں یہ غذائیں کھانے لگتے ہیں جسے ہمارا جسم مؤثر طور پر خارج نہیں کر پاتا۔‘

تو کیا غذا کے ذریعے قبل از وقت سفید ہونے والے بالوں کو واپس قدرتی رنگ میں لایا جا سکتا ہے؟

کولمبیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق اگر ذہنی دباؤ کم کر دیا جائے تو نئے اگنے والے بال دوبارہ اپنے قدرتی رنگ میں آ سکتے ہیں۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اسی طرح اگر بالوں کے سفید ہونے کی وجہ غذائی کمی ہو تو اسے دور کر کے بالوں میں رنگت کی واپسی ممکن ہے۔

برطانیہ کے ڈاکٹر سرمد مظہر کے مطابق ’زیادہ تر لوگوں میں اگر وجہ جینیاتی ہو تو پھر بالوں کا رنگ واپس آنا ممکن نہیں۔‘

البتہ وہ مشورہ دیتے ہیں کہ اگر سفید بال وٹامن یا منرلز کی کمی کے باعث ہوں تو غذاؤں کے ذریعے ان کی کمی پوری کرنا سب سے بہتر ہے تاہم اگر کسی وجہ سے مخصوص غذائیں کھانا ممکن نہ ہو تو سپلیمنٹس بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر سرمد مظہر کہتے ہیں کہ ’سب سے پہلا قدم ہمیشہ ٹیسٹ کروانا ہونا چاہیے تاکہ پتہ چلے کہ جسم میں اصل مسئلہ کیا ہے۔‘

ان کے مطابق ’اگر ہمیں معلوم ہو کہ کسی میں وٹامن بی 12، تانبا ، وٹامن ڈی یا تھائرائیڈ ہارمون کی کمی ہے اور ہم اسے پورا کر دیں، تو بالوں کی قدرتی رنگت واپس آ سکتی ہے۔‘

وہ مزید وضاحت کرتے ہیں کہ ’اگرچہ ممکن ہے کہ بال مکمل طور پر پہلے جیسے نہ ہوں، لیکن اس سے سفیدی کا عمل کم یا رک سکتا ہے، خاص طور پر اگر ہم آکسیڈیٹیو سٹریس کو قابو میں رکھ سکیں۔‘

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بالوں کی سفیدی کو پلٹنے کے لیے کوئی یقینی یا عالمی سطح پر ثابت شدہ علاج موجود نہیں ہے۔

غذائیت کی ماہر ماریا مارلو کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے اپنی غذا بدلی اور ہیوی میٹلز (یعنی وہ غذائیں جن میں پارہ، سیسہ وغیرہ زیادہ تھا) سے پرہیز کیا تو انھوں نے اپنے سفید بالوں کی رنگت میں کچھ بہتری محسوس کی۔

ان کے مطابق ’واضح فرق دیکھنے میں کم از کم تین ماہ لگے، اگرچہ میرے سارے بال مکمل طور پر واپس اپنے رنگ میں نہیں آ سکے۔‘

ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ پھل اور سبزیاں جن میں اینٹی آکسیڈینٹس موجود ہوں، زیادہ کھائی جائیں کیونکہ یہ فری ریڈیکلز کو غیر مؤثر بناتے ہیں۔

یہی فری ریڈیکلز جسم میں آکسیڈیٹیو سٹریس پیدا کرتے ہیں جو ڈی این اے کو نقصان پہنچاتے ہیں اور بال جھڑنے یا سفید ہونے کا باعث بنتے ہیں۔

ڈاکٹرمظہر کے مطابق ’سگریٹ نوشی، ذہنی دباؤ، زیادہ شراب نوشی یا زیادہ آلودہ ماحول میں رہنا یہ سب چیزیں آکسیڈیٹیو سٹریس کو بڑھا دیتی ہیں اور بالوں کی سفیدی کے عمل کو تیز کر سکتی ہیں۔‘

ماریا مارلو کہتی ہیں کہ گزشتہ سال جب ان کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی انھوں نے اپنی غذائی روٹین سے کچھ وقفہ لیا جس کے بعد چند نئے سفید بال دوبارہ ظاہر ہونے لگےجو اس بات کی علامت ہے کہ خوراک اور طرزِ زندگی بالوں کے رنگ پر براہِ راست اثر ڈال سکتے ہیں۔

ایشلی کے لیے غذا یا سپلیمنٹس ان کے جینیاتی کوڈ کو تو تبدیل نہیں کر سکتے تھے لیکن ان کا نظریہ ضرور بدل گیا۔

اب ان کے چاندی جیسے بال ان کی شحصیت کا حصہ بن چکے ہیں اور وہ خوبصورتی اور بڑھاپے سے متعلق روایتی تصورات کو چیلنج کرنے والے نوجوانوں کی ایک آن لائن کمیونٹی بنا چکی ہیں۔

ایشلی کہتی ہیں کہ ’جب میں نے ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر پوسٹ کرنا شروع کیا تو مجھے میری عمر کی بہت سی خواتین ملیں جو اپنے سفید بال قدرتی طور پر بڑھنے دے رہی تھیں۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’مجھے امید ہے کہ میں مزید خواتین کو یہ حوصلہ دوں کہ وہ اپنے سفید بالوں کو قبول کریں بجائے اس کے کہ کہیں سفید بال بدصورت یا بڑھاپے کی نشانی ہیں۔‘

ہمیں کہنا چاہیے کہ ’سفید بال خوبصورتی کی علامت ہیں، طاقت کی نشانی ہیں، یہ آپ کا اپنا منفرد انداز ہے۔‘