آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دو ماہ میں تین وزرائے اعظم، کیا سیاسی ابتری برطانیہ میں اب ایک نیا معمول ہو گا؟
- مصنف, جیمز گریگوری
- عہدہ, بی بی سی نیوز
رشی سونک دو ماہ سے بھی کم عرصے میں برطانیہ کے تیسرے وزیر اعظم بنے ہیں - جبکہ چھ سالوں میں پانچویں وزیر اعظم ہیں۔ یہ تقریباً ایک صدی میں برطانوی وزیراعظم ہاؤس میں سب سے تیزی سے ہونے والی تبدیلیاں ہیں۔
2007 کے موسم گرما کے بعد سے گورڈن براؤن، ڈیوڈ کیمرون، ٹیریسا مے، بورس جانسن، لز ٹرس، اور مسٹر سونک سبھی وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ اس کے برعکس 2007 سے پہلے کے 28 سالوں میں صرف تین وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے - مارگریٹ تھیچر، جان میجر اور ٹونی بلیئر۔
برطانیہ میں ’نمبر 10‘ کہلانے والے وزیرِ اعظم ہاؤس کے دروازے اب اتنی تیزی سے کیوں گھوم رہے ہیں، اس کی وجہ کیا ہے؟ اور کیا تیزی سے تبدیلیوں کا یہ رجحان اب برطانوی سیاست کے لیے ایک نیا معمول بن سکتا ہے؟
ماہرین کے ایک پینل نے اس بارے میں آراء دیں کہ اب ایک وزیرِ اعظم کے لیے اپنے عہدے پر براجمان رہنے اتنا مشکل کیوں ہوتا جا رہا ہے۔
برطانوی تھنک ٹینک ’انسٹی ٹیوٹ فار گورنمنٹ‘ سے وابستہ جِل روٹر کا خیال ہے کہ 2016 میں بریگزٹ ووٹ گزشتہ چھ سالوں میں برطانوی سیاست میں عدم استحکام کا باعث بننے والا پہلا عنصر رہا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ہم تقریباً تمام عدم استحکام کا ذمہ دار بریگزٹ ریفرنڈم کے نتیجے اور اس نے کنزرویٹو پارٹی کو قرار دے سکتے ہیں۔ ’ڈیوڈ کیمرون ایک طویل عرصے تک رہنے والے وزیر اعظم تھے۔ اگر ان کے دورِ اقتدار میں ریفرنڈم نہ ہوتا تو وہ 2018 تک اپنے عہدے پر قائم رہ سکتے تھے اور ’نمبر 10‘ کنزرویٹو پارٹی کے سینیئر رہنماؤں، جارج اوسبورن یا بورس جانسن میں سے کسی ایک کے حوالے کر دیتے۔
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’انھوں نے ریفرنڈم کرا کر برطانیہ کو عدم استحکام کا شکار کر دیا تھا۔ فتح کے لیے ہر ممکن کوشش نہ کرنا اور یہ سوچنا تھا وہ ریفرنڈم جیتے ہوئے تھے اس لیے انھوں نے اُسے جیتنے کی کوشش نہ کرنا اُن کی سنگین غلطی تھی۔‘
مسٹر کیمرون کے چھ سال عہدے پر رہنے کے بعد استعفیٰ نے ٹیریسا مے کی نمبر 10 میں داخلے کے لیے راہ ہموار کی۔ مے نمبر نے نمب10 میں تین سال اور 11 دن قیام کیا، پھر ان کے بعد ان کے جانشین بورس جانسن نے تین سال اور 44 دن قیام کیا۔
مِس روٹر نے مزید کہا کہ ’ٹیریسا مے کو واضح طور پر دو وجوہات کے سبب مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، 2017 کے تباہ کن انتخابات اور حقیقت یہ ہے کہ وہ اور پارٹی اس بات پر متفق نہیں ہو سکے کہ بریگزٹ کا کیا مطلب ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتی ہیں کہ کنزرویٹو پارٹی کا خیال تھا کہ بورس جانسن بریگزٹ ڈیڈ لاک کو توڑ سکتے ہیں، لیکن اس نے بریگزٹ پر یورپی یونین سے معاملات طے کرتے ہوئے اصولوں اور قواعد پر زیادہ توجہ نہ دی۔
’یہ اس کی ناکامی تھی جس نے اس کی ساکھ کو خراب کیا۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کے وزراء اسے مزید برداشت نہیں کر سکتے۔ وہ مایوسی کے عالم میں کسی کے پاس گئے تھے۔‘
مِس روٹر کے مطابق، ریفرنڈم کی براہ راست میراث لز ٹرس کی بمشکل سات ہفتوں میں وزارتِ عظمیٰ اپنے انجام پر پہنچ گئی۔
جِل روٹر کہتی ہیں کہ ’رکنیت میں کافی حد تک تبدیلی آئی تھی۔ وہ سیاسی قدامت پسندی کو نظر انداز کرنے کے پیغام کے لیے تیار تھے۔ لیکن ان کے انتخاب سے کنزرویٹو پارٹی کے ارکان کو یہ احساس ہوا کہ وہ جلدی میں غلط کام کر بیٹھے ہیں اور وہ ایک گند کے ڈھیر میں گر گئے ہیں۔‘
لندن کے کنگز کالج میں گورنمنٹ کے پروفیسر ورنن بوگڈانور اس سے اتفاق کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ریفرنڈم نے برطانوی سیاست کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔ یورپ کے ساتھ صحیح تعلقات طے کرنے میں مشکل پیش آئی ہے۔‘
لیکن کیا واقعی یہی سب کچھ بریگزٹ کے بارے میں ہے یا اور کچھ بھی ہے؟ کوئین میری یونیورسٹی میں سیاست کے پروفیسر ٹم بیل کا خیال ہے کہ یہ رجحان کچھ زیادہ گہرا ہو سکتا ہے۔
وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جسے وہ برطانیہ کے پارلیمانی نظام کی ’صدارتی نظام میں تبدیل ہوتی ہوئی صورت‘ کہتے ہیں، یا پارٹی رہنماؤں پر زیادہ توجہ، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وزرائے اعظم کی مدت زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہتی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ووٹرز اور سیاست دانوں کی طرف سے پارٹی رہنماؤں پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے اور مجموعی طور پر پارٹی پر کم توجہ دی جاتی ہے - اس کا مطلب ہے کہ لیڈر کو اکثر کسی بھی غلط چیز کے لیے ذاتی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’انتخابی شکست کے بعد پارٹی کے رہنما کے لیے اپنی پارٹی کی قیادت کرنا اب کافی حد تک ناممکن ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ سابق لیبر لیڈر جیریمی کوربن 2017 میں اس قاعدے میں قابل ذکر استثنیٰ تھے۔
42 سال کی عمر کے رشی سونک 200 سے زیادہ سالوں میں سب سے کم عمر وزیر اعظم ہیں۔ وہ 2015 میں پہلی بار رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے کے بعد سے صرف سات سال کے عرصے میں کنزرویٹو پارٹی کی صفوں میں سے اٹھے ہیں۔
پروفیسر بیل کا کہنا ہے کہ ’کوئی بھی ایم پی پارلیمنٹ میں آ سکتا ہے اور کم عرصے میں اپنے لیے ایک بڑا نام بنا سکتا ہے۔
اس پیش رفت نے پارلیمانی سیاست کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔ یہاں پہلے ترقی کرنے کے لیے کافی سطحیں ہوا کرتی تھیں، لیکن اراکین پارلیمنٹ عام طور پر سیڑھی پر جانے کے لیے بے صبرے ہوتے ہیں لیکن اگر انہیں لگتا ہے کہ چیزیں کام نہیں کر رہی ہیں تو وہ ٹویٹر اور رولنگ نیوز چینلز پر یہ کہنے کے لیے جمع ہو جائیں گے کہ 'کچھ نیا کرنے کی ضرورت ہے۔ تبدیلی - اور اس میں لیڈر بھی شامل ہے۔‘
پروفیسر بیل کا خیال ہے کہ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کے عروج نے اس بات میں بھی بڑا فرق ڈالا ہے کہ ووٹرز سیاستدانوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ماضی میں ’سیاستدان بے چہرہ نہیں تھے۔ لیکن وہ اس طرح کی مشہور شخصیات نہیں ہوتے تھے جیسا کہ اب ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ووٹرز اپنی سیاست کو کس انداز سے دیکھتے ہیں۔‘
تاہم پروفیسر بوگڈانور اس سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ دو عالمی جنگوں کے دوران ڈیوڈ لائیڈ جارج اور ونسٹن چرچل کی حکومتیں، 19ویں صدی میں ولیم گلیڈسٹون، اور حال ہی میں مارگریٹ تھیچر سب کو ’صدارتی طرز‘ کا لیڈر قرار دیا جا سکتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’حکومتیں ہمیشہ صدارتی طرز ہی کی رہی ہیں۔ وزیراعظم کی طاقت واقعی ان کی انتخابی پوزیشن کے ساتھ کم یا زیادہ ہوتی رہتی ہے۔‘
پروفیسر بوگڈانور کا خیال ہے کہ مسٹر سونک اب نئے قسم کے زیادہ استحکام کا آغاز کر سکتے ہیں۔
’میں اسے اگلے دو سالوں میں معزول ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔ معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، لیکن کنزرویٹو کے پاس اگلے عام انتخابات تک دو سال ہیں۔‘
مگر لندن سکول آف اکنامکس میں پولیٹیکل سائنس اور پبلک پالیسی کے ایمریٹس پروفیسر پیٹرک ڈنلیوی کا خیال ہے کہ انتخابات دو سال کی آخری تاریخ سے پہلے کرائے جائیں گے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ دو سال اب ایک قابل اعتبار ٹائم لائن ہے۔‘ مسٹر سونک کے لیے آزمائشی مرحلہ اگلے سال کے مقامی حکومتوں کے انتخابات اور پھر ان کے وزارت عظمیٰ کے عہدے پر قائم رہنے کی پہلی سالگرہ ہوگی، ان تمام باتوں کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس دوران ان کی بارے میں عوامی رائے عامہ کیا بنتی ہے۔
پروفیسر ڈنلیوی موجودہ سیاسی مسئلے کی شکل کو ویسٹ منسٹر کے طرز کے دیگر نظاموں میں اس کی مختلف صورتیں دیکھتے ہیں۔ آسٹریلیا، جو کہ ایک پارلیمانی نظام بھی ہے، میں 12 سالوں میں نو وزرائے اعظم رہ چکے ہیں، جس کی ایک وجہ ’اسپل الیکشن‘ کہلاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے آسٹریلیا کو ’جمہوری دنیا کا ایک باغی دارالحکومت‘ کہا جاتا ہے۔
(’لیڈر شپ اسپل الیکشن‘ ایک سیاسی جماعت کا ایسا اعلان ہے کہ اُس کی پارلیمانی پارٹی کی قیادت خالی ہے اور یہ دوبارہ انتخابات کے لیے کھلی ہے۔ ایک ’سپِل الیکشن‘ میں پوری کی پوری قیادت کے تمام عہدے بھی شامل ہو سکتے ہیں، دونوں ایوانوں کے لیڈران اور ڈپٹی لیڈران یا صرف مرکزی لیڈر کے انتخابات ہوسکتے ہیں)۔
لیڈرشپ کو اُس وقت نکالا جاتا ہے جب پارلیمانی پارٹی کے ممبران کو لگتا ہے کہ اُن کی پارٹی کا لیڈر انہیں غلط سمت میں لے جا رہا ہے، یا انہیں منتخب کرنے والوں سے کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کر رہا ہے، اور ان کے پاس اپنی پوزیشن کی حمایت کرنے کے لیے حامی ارکان کی تعداد پوری نہیں ہو رہی ہے۔
’پروفیسر ڈنلیوی کا کہنا ہے کہ ’کنزرویٹو پارٹی مکمل طور پر سپِل الیکشن کی جانب بڑھ گئی ہے۔ وہ 2016 میں کیمرون کو دھمکیاں دے رہے تھے، انہیں (ٹیریسا) مے کے خلاف استعمال کیا گیا - وہ پہلے کوشش میں بچ گئیں لیکن انھیں ہار ماننا پڑی – انہیں (سپِل الیکشن کو) بورس کے خلاف اور پھر ٹرس کے خلاف استعمال کیا گیا‘.
’اب برطانیہ ان سپل الیکشن کا شکار ہو چکا ہے۔‘