امریکہ میں 1.3 ارب ڈالر کی لاٹری جیتنے والا شخص: ’مجھے نہیں پتا یہ رقم خرچ کرنے کے لیے میرے پاس کتنا وقت ہے‘

،تصویر کا ذریعہOREGON LOTTERY
امریکہ میں ایک تارکین وطن ملکی تاریخ کی چوتھی سب سے بڑی لاٹری جیتنے والے خوش قسمت بن گئے ہیں۔ جنوبی مشرقی ایشیا کی ریاست لاؤس سے تعلق رکھنے والے چینگ سیفان نامی شخص کی 1.3 ارب ڈالرز کی ’پاور بال لاٹری‘ لگی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کئی راتوں تک وہ اپنے سرہانے تلے نمبروں کی چادر بچھا کر سوتے رہے۔
سیفان کے تکیے کے نیچے کاغذوں کا وہ پلندہ تھا جس پر وہ کئی ہفتوں سے ’پاور بال لاٹری ڈرا ‘ جیتنے کے لیے نمبرز لکھے تھے۔
امریکہ کی ریاست اوریگون کے شہر پورٹ لینڈ میں رہنے والے سیفان یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’میں نے خدا سے مدد کی دعا کی تھی کہ میرے بچے چھوٹے ہیں اور میں بہت کمزور ہوں میری طبعیت ٹھیک نہیں۔‘
انھوں نے سات اپریل کو ہونے والی 1.3 بلین ڈالر کی قرعہ اندازی میں اپنے نمبرز کو ملایا تھا اور لاٹری کے منتظمین نے پیر کے روز خوش قسمت فاتح کو انعامی رقم دی۔
لیکن صرف سیفان ہی خوش قسمت نہیں ہیں بلکہ اس لاٹری سے ان کی بیوی اور ایک دوست کی قسمت میں چمک اٹھی ہے۔ انھوں نے اپنی بیوی اور ایک دوست کے ساتھ مل کر قرعہ اندازی کے لیے 20 سے زیادہ ٹکٹ خریدنے کے لیے پیسے جمع کیے تھے اور ان میں سے ایک نمبر پر اُن کا انعام نکل آیا۔
یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ وہ انعامی رقم میں سے 25 فیصد اپنی اہلیہ ڈوانپین اور 50 فیصد اپنی دوست لیزا چاؤ کو دیں گے۔
کینسر کے خلاف جنگ

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
سیفان کینسر کے مرض کے باعث گذشتہ آٹھ سال سے کیموتھراپی کروا رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سیفان نے سی بی ایس سے وابستہ کوئین کو بتایا کہ ’میری زندگی بدل گئی ہے۔ بس خدا سے مدد کی دعا کی تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اب میں اپنے اہل خانہ کی دیکھ بھال اچھے انداز میں کر سکتا ہوں اور اپنے لیے ایک اچھا ڈاکٹر تلاش کر سکتا ہوں۔‘
انعامی رقم کے ایک حصے سے وہ اپنے لیے گھر خریدیں گے۔
سیفان نے انعامی رقم کا چیک ملنے کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’میرے پاس یہ سارا پیسہ خرچ کرنے کے لیے کتنا وقت ہے میں نہیں جانتا؟ بلکہ میں کب تک زندہ رہوں گا میں یہی بھی نہیں جانتا؟‘
جب انھیں پتا چلا کہ وہ یہ لاٹری جیت گئے ہیں، تو انھیں اس بات کا بڑی بے چینی سے انتظار تھا اور وہ بے صبری سے یہ خبر اپنی دوست اور اپنی اہلیہ کو سُنانا چاہتے تھے۔
سیفان نے بتایا کے ’میں نے اپنی اہلیہ سے پوچھا کہ تم کہاں ہو؟ انھوں نے مُجھے جواب دیا کہ میں کام پر جا رہی ہوں جس پر میں نے انھیں کہا کہ ’تمہیں اب ملازمت کرنے اور کام پر جانے کی ضرورت نہیں۔‘
ٹکٹوں کی قیمت بڑھنے کے ساتھ ہی ایک ارب ڈالر سے زیادہ کے بڑے انعامات زیادہ عام ہو گئے ہیں۔ اب تک کی سب سے بڑی انعامی رقم 2022 میں 2.04 ارب امریکی ڈالر تھی۔
اس لاٹری کے قواعد میں ترمیم کر کے اسے مزید مشکل بنا دیا ہے جس سے اس سے گرینڈ پرائز کے جیتنے کے امکانات کم ہو کر 292.2 ملین میں سے ایک فرد کے رہ گئے ہیں۔
فی الحال تو سیفان کا کہنا ہے کہ وہ لاٹری کھیلتے رہیں گے۔ سیفان کہتے ہیں کہ ’شاید میں دوبارہ لاٹری جیت جاؤں، اور ایک مرتبہ پھر خوش قسمت ٹھہروں۔‘










