’راکٹ سٹی‘: سُرنگوں میں بنے ایران کے خفیہ میزائل اڈوں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

’اگر ہم آج سے شروع کریں اور ہر ہفتے ایک راکٹ سٹی (میزائل شہر) کی نقاب کشائی کریں تو یہ سلسلہ دو سال میں بھی ختم نہیں ہو گا۔ یہ اتنے بہت زیادہ ہیں۔‘

یہ بات پاسدران انقلاب کی ایرو سپیس فورس کے کمانڈر امیر علی حاجی زادہ نے تقریباً ایک ماہ قبل ایرانی میڈیا کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی۔ اس کے بعد سے ایرانی حکومت کے حامی میڈیا اداروں کی جانب سے اسے بڑے پیمانے پر بار بار شیئر کیا جا رہا ہے۔

راکٹ سٹی (میزائل شہر) ایک ایسی اصطلاح ہے جو پاسداران انقلاب نے زیرِ زمین اپنے میزائل اڈوں کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی ہے۔

یہ اڈے ملک کے مختلف حصوں میں بنی سرنگوں میں قائم ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سرنگیں ایران کے پہاڑی اور سٹریٹجک علاقوں میں واقع ہیں اور یہ بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں جیسے ڈرون اور دفاعی نظام کو تیار اور ذخیرہ کرنے کی جگہیں ہیں۔

پچھلے 10 سال کے دوران پاسداران انقلاب نے کبھی کبھار ہی ان زیر زمین سرنگوں کی تصاویر جاری کی ہیں۔

گذشتہ منگل کو پاسداران انقلاب نے اعلان کیا کہ وہ ایک نئے میزائل شہر کی نقاب کشائی کرنے جا رہے ہیں اور اس کے چند گھنٹے بعد پاسدران انقلاب کی ایرو سپیس فورس کے کمانڈر امیر علی حاجی زادہ اور ایرانی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف میجر جنرل محمد باقری کی تصاویر جاری کی گئیں، جو ایک ایسی فوجی گاڑی میں سوار تھے جو میزائلوں سے بھری بھری ہوئی تھی۔

اس نئی ’میزائل سٹی‘ کی نقاب کشائی ایک ایسے وقت میں ہوئی جب 25 نومبر کو اسرائیل کے دوسرے حملے کے بعد سے ایران مسلسل جوابی کارروائی کی دھمکیاں دے رہا ہے لیکن دوسری ہی جانب برطانیہ کی مسلح افواج کے سربراہ ایڈمرل ٹونی راڈاکن کا ماننا ہے کہ اسرائیل نے ایران کی ایک برس تک بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت کو ختم کر دیا ہے۔

ہم ’میزائل شہروں‘ کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

ایران اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے اور اسرائیل اور امریکہ جیسے ممالک سے درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیشہ سے میزائلوں کی نقاب کشائی کرتا آیا ہے اور انھیں فوجی ہتھیاروں کے میدان میں ایک اہم کامیابی کے طور پر پیش کرتا ہے لیکن اس نے اپنے میزائل پروگرام اور میزائل اڈوں کو ہمیشہ خفیہ رکھا۔

پاسداران انقلاب کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس متعدد میزائل اڈے ہیں جو ’خصوصی انجینئرنگ‘ کے ذریعے سرنگوں میں بنائے گئے ہیں۔

سنہ 2015 میں پہلی بار پاسدران انقلاب کی ایرو سپیس فورس کے کمانڈر امیر علی حاجی زادہ نے مختلف صوبوں میں ’زیر زمین 500 میٹر گہرائی‘ میں میزائل اڈوں کا اعلان کیا۔

یہ میزائل اڈے کب بنائے گئے اس بارے میں کوئی صحیح معلومات دستیاب نہیں لیکن فارس نیوز ایجنسی کے ایک نامہ نگار مہدی بختیاری نے الجزیرہ کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ایران میں پہلا زیر زمین میزائل اڈہ سنہ 1984 میں اس وقت بنایا گیا تھا جب ایران کا میزائل پروگرام شروع ہوا تھا۔‘

ایران کا میزائل پروگرام شمالی کوریا اور چین جیسے ممالک کی مدد سے ایران عراق جنگ کے وسط میں شروع ہوا تھا۔

ایرانی میڈیا اور پاسداران انقلاب نے اب تک کئی زیر زمین میزائل اڈوں کی مختلف تصاویر شائع کی ہیں، جنھیں وہ ’پاسدران انقلاب کے میزائل شہر‘ کہتے ہیں۔

ان میزائل اڈوں کا صحیح مقام معلوم نہیں اور ان کا سرکاری طور پر کبھی اعلان نہیں کیا گیا لیکن اب تک جن میزائل شہروں کی نقاب کشائی کی گئی، ان میں سے کچھ زاگرس کے پہاڑی سلسلے، بوشہر شہر اور ہرمزگان صوبے میں موجود ہیں۔

ان میزائل شہروں کی جاری کردہ ویڈیوز میں سے ایک میں میزائلوں اور ان کے لانچرز سے بھری راہداریوں کے ساتھ ساتھ ایک ایسی جگہ بھی دکھائی گئی، جہاں میزائلوں کو ریل گاڑی کے ذریعے ایک بڑی سرنگ میں لانچ کے مقام تک پہنچایا جاتا ہے۔

یہ میزائل شہر کئی بار نمائش کے لیے پیش کیے جا چکے ہیں، خاص طور پر جب پاسداران انقلاب نے شام میں داعش پر حملہ کیا یا ’آپریشن ٹرو پرومیس ون اور ٹو‘ جیسی کارروائیاں کیں۔

مارچ 2020 میں پاسداران انقلاب نے خلیج فارس کے ساحل پر ایک ’میرین میزائل سٹی‘ کی نقاب کشائی کی۔ اس اڈے کے مقام کا اعلان بھی نہیں کیا گیا لیکن صوبہ ہرمزگان کے مقامی ذرائع ابلاغ نے اس اڈے کے بارے میں رپورٹ کیا تھا۔

پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف حسین سلامی نے خلیج فارس کے ساحل پر اس ’میزائل شہر‘ کے بارے میں کہا تھا کہ ’یہ کمپلیکس پاسداران انقلاب کی بحریہ کے سٹریٹجک میزائلوں کو ذخیرہ کرنے والی متعدد تنصیبات میں سے ایک ہے۔‘

پاسداران انقلاب کی ایرو سپیس فورس کے علاوہ پاسداران انقلاب کی بحریہ کے پاس ساحل سے سمندر، زمین سے سمندر اور سمندر سے سمندر میں مار کرنے والے میزائل جیسے ’یا علی‘ اور ’حویزہ‘ میزائل بھی موجود ہیں۔

ان زیر زمین ایرانی میزائل اڈوں کی صحیح تعداد تو معلوم نہیں لیکن ایران کی فوج کے مرکز برائے سٹریٹجک سٹڈیز اینڈ ریسرچ کے سربراہ احمد رضا پوردستان نے جنوری 2015 میں کہا تھا کہ پاسدران انقلاب کے علاوہ زیر زمین میزائلوں کے بہت سے شہر ایرانی فوج کے پاس بھی ہیں۔

پاسداران انقلاب کی ایرو سپیس فورس کے کمانڈر امیر علی حاجی زادہ کے مطابق ’اگر وہ ہر ہفتے بھی ایک میزائل سٹی کی نقاب کشائی کرتے ہیں تو یہ سلسلہ دو سال میں ختم نہیں ہو گا۔‘

اس بیان سے یہ انداز لگایا جا سکتا ہے کہ ایران کے پاس تقریباً 104 میزائل شہر ہو سکتے ہیں لیکن یہ ایسا دعویٰ جس کی تصدیق کرنا آسان نہیں کیونکہ اس بارے میں معلومات کم ہیں۔

پاسداران انقلاب کے قریبی ذرائع بھی ایران میں ’سینکڑوں میزائل شہروں‘ کی موجودگی کی اطلاع دیتے ہیں۔

حال ہی میں جس میزائل سٹی کی نقاب کشائی کی گئی اس میں خیبر شکن، حج قاسم، عماد اور سجیل جیسے میزائل دکھائے گئے۔

عماد بیلسٹک میزائل ان میزائلوں میں شامل تھا جو ایران کے اسرائیل پر حملے میں استعمال ہوئے تھے، جس سے وسطی اسرائیل میں نواتیم ایئر بیس کو نقصان پہنچا تھا۔

ایران نے ’میزائل شہر‘ کیوں بنائے ہیں؟

ان میزائل شہروں کا مقصد فضائی حملوں کے خلاف مزاحمت اور اور اپنی بقا کو برقرار رکھنا ہے کیونکہ ان میزائل شہروں کو تیار کر کے ایران کسی حد تک یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوا ہے کہ اس نے زمین پر موجود اپنے بعض میزائل اڈوں پر حملے کی صورت میں بھی اپنی میزائل صلاحیت کو برقرار رکھا۔

الجزیرہ کے ساتھ انٹرویو میں مہدی بختیاری نے ملک کے مختلف حصوں میں ’دشمنوں کو حیران کر دینے والے‘ خفیہ میزائل شہروں کے وجود کا اعلان کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے اڈے یا جیسے کہ پاسداران انقلاب نے بیان کیا کہ ’زیر زمین میزائل شہر‘ غیر روایتی جنگ کی تیاری ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ اڈے نامعلوم مقامات سے میزائل داغنے کی اجازت دیتے ہیں اور دشمن کو ایران کی صلاحیتوں کے بارے میں الجھا دیتے ہیں۔

پاسدران انقلاب کے کمانڈروں کے مطابق یہ میزائل شہر صرف میزائل ذخیرہ کرنے کی جگہیں نہیں بلکہ ان میں سے کچھ ’میزائلوں بنانے اور ان کے آپریشنل ہونے سے پہلے ان کی تیاری کے کارخانے ہیں۔‘

جون 2017 میں امیر علی حاجی زادہ نے ایران میں پاسداران انقلاب کے میزائل تیار کرنے والے تین زیر زمین کارخانوں کے وجود کا اعلان کیا تھا۔