آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاسداران انقلاب کی ’گمنام‘ کاؤنٹر انٹیلیجنس تنظیم کیا ہے اور اس کے کمانڈر کون ہیں؟
’آئی آر جی سی انفارمیشن پروٹیکشن‘ ایک ایسی تنظیم ہے جو پاسدان انقلاب کی قواعد و ضوابظ کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی ہے، جس میں دشمن ممالک کے لیے جاسوسی جیسے سنگین جرائم بھی شامل ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلیجنس تنظیم (سازمان اطلاعات سپاه پاسداران) کے برعکس ’آئی آر جی سی انفارمیشن پروٹیکشن‘ کا بیرونِ ملک کارروائیوں کا کوئی شعبہ نہیں ہے۔
اسی وجہ سے اس ادارے سے متعلق اکثر واقعات کو میڈیا میں کوریج نہیں ملتی جس کے باعث اِس تنظیم کا ایک مکمل رازدارانہ پہلو برقرار رہتا ہے۔ اقتصادی یا اخلاقی بدعنوانی، جاسوسی، یا پاسداران انقلاب کے کمانڈروں اور فورسز سے متعلق دیگر معاملات اس ادارے کے ذریعے نمٹائے جاتے ہیں۔
اس ادارے نے بھی ایران کے دیگر سکیورٹی اداروں کی طرح گذشتہ 43 سالوں میں ترقی کی ہے اور وزارت انٹیلیجنس کی طرح اپنی افواج کو تربیت دینے کے لیے ’امام ہادی‘ کالج کے نام سے ایک تربیتی ادارہ قائم کیا ہوا ہے۔
پاسداران انقلاب کے آغاز سے ہی اس کا انٹیلیجنس یونٹ حکومت مخالف سیاسی گروپوں پر نظر رکھنے کا کام کرتا رہا ہے، اور اندرون ملک انٹیلیجنس کے معاملات کا ذمہ دار رہا ہے۔ اس لیے پاسداران انقلاب کے انٹیلیجنس یونٹوں کے سرکردہ اہلکاروں کے نام جیسا کہ محسن رضائی اور رضا سیف اللہ وغیرہ کے نام زیادہ تر بیرون ملک میڈیا سامنے آتے رہے ہیں مگر عام طور پر انفارمیشن پروٹیکشن کمانڈروں کے نام مقامی میڈیا میں نہیں بتائے جاتے۔
پاسداران انقلاب کے کمانڈروں کے مطابق، اس ادارے کے آغاز سے ہی اُس میں اس شعبے کا انٹیلیجنس پروٹیکشن یا انسداد انٹیلیجنس کے نام سے موجود ہے۔ تاہم پاسداران انقلاب کی کونسل کی طرف سے جاری کردہ ناموں کی پہلی فہرست، جو انٹیلیجنس کے سربراہ بن سکتے ہیں، اُن میں اِس شعبے کا ذکر شامل نہیں تھا۔
مشرق نیوز اور پاسداران انقلاب سے قریبی تعلق رکھنے والی دیگر نیوز سائٹس نے لکھا کہ یہ شعبہ پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس یونٹ کا حصہ تھا اور اسے ’پرسنل پروٹیکشن‘ کہا جاتا تھا۔
’درانداز‘ عناصر سے نمٹنا
محسن رضائی، جو ابتدائی طور پر پاسداران انقلاب کے انٹیلیجنس کمانڈر تھے، نے کہا کہ کسی وقت انسداد انٹیلیجنس اور انٹیلیجنس پروٹیکشن یونٹ ’دراندازی کرنے والے‘ عناصر سے نمٹنے کے لیے بتدریج تشکیل دیا گیا تھا، اور یہ کہ ان کے ساتھی مجاہدینِ خلق جیسے ’دراندازوں‘ کے متعدد قاتلانہ حملوں میں مارے گئے تھے۔
اس تنظیم نے اسی قسم کے دراندازوں سے انقلاب کو محفوظ بنایا تھا۔
اسماعیل احمدی مقدم، جو کہ پولیس کے سربراہ رہ چکے اور پاسداران انقلاب کے کمانڈروں میں سے ایک ہیں، نے جنگ سے پہلے معلومات کے تحفظ کی تشکیل کا ذکر کیا ہے۔
اُن کے مطابق ’پہلے یہ شعبہ افریقہ سٹریٹ پر ایک ضبط شدہ عمارت میں قائم تھا، جسے مجتبیٰ اور یحییٰ احمدی، عباس اور محمد ساربانِ نژاد کے ہمراہ چھ سات افراد نے شروع کیا تھا، اور ہمیں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے انٹیلیجنس پروٹیکشن کی ذمہ داری سونپی تھی۔‘
’اس کے قیام کے دوران جب اس کی منصوبہ بندی ہو رہی تھی تو اس تنظیم نے جنگ میں حصہ لیا اور اس کے دفتر پر بمباری بھی ہوئی تھی۔‘
ان وضاحتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاسداران انقلاب کی انٹیلیجنس پروٹیکشن کے شعبے کی تشکیل شاید پاسدارانِ انقلابِ اسلامیِ ایران کے قیام کے کچھ عرصے بعد سنہ 1979 سے سنہ 1980 کے درمیان کے عرصے میں ہوئی تھی۔
6 ستمبر 1982 کو پارلیمنٹ سے منظور شدہ پاسداران انقلاب کے قیام کے بارے میں بننے والے قانون میں پاسداران انقلاب کے انٹیلیجنس پروٹیکشن کے نام کا ذکر نہیں ہے اور اس کی جگہ صرف انٹیلیجنس یونٹ کا ذکر ہے۔ اس عرصے کے دوران انٹیلیجنس پروٹیکشن کا شعبہ ممکنہ طور پر شاید پاسداران انقلاب کے انٹیلیجنس یونٹ کا حصہ تھا۔
تاہم سنہ 1982 میں وزارت انٹیلیجنس کے قیام کے قانون میں اس کا ذکر ’پاسداران انقلاب کی انٹیلیجنس پروٹیکشن‘ کے نام سے کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اس قانون کے مطابق پاسداران انقلاب اسلامی میں انٹیلیجنس پروٹیکشن یا کاؤنٹر انٹیلیجنس ’ایک آزاد مرکزی تنظیم کی شکل میں ہے جو پاسداران انقلاب کے مرکزی ہیڈکوارٹر سے وابستہ ہے‘ اور اس تنظیم کا سربراہ ان لوگوں میں شمار ہوتا ہے جنھیں اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبرِ کبیر نے منظور کیا ہو۔
اس قانون کے مطابق ان کی برطرفی اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبرِ کبیر کی منظوری اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف کے حکم سے کی جائے گی۔
’مشرق نیوز‘ نے یہ بھی لکھا ہے کہ سنہ 1989 میں پاسداران انقلاب اسلامیِ ایران (IRGC) کے پروٹیکشن کے شعبے کو اسلامی جمہوریہ کے رہبرِ کبیر نے ’ایک آزاد تنظیم کے طور پر، ایک آزاد تنظیمی ڈھانچے کی شکل میں کام کرنے کی منظوری دی تھی اور اسے براہ راست سپریم کمانڈر (رہبرِ کبیر) کو براہ راست جوابدہ بنا دیا گیا تھا۔‘
ڈھانچے کے مطابق اس تنظیم کا مشن جاسوسی کے واقعات کا ’پتہ لگانا، شناخت کرنا، تفتیش کرنا، پیچھا کرنا اور اُن منصوبوں، پروگراموں اور سرگرمیوں کا مقابلہ کرنا اور انھیں ناکام بنانا جو پاسدارانِ انقلاب IRGC کے مقاصد کو تخریب کاری، جاسوسی کے ذریعے ناکام بنانے اور اس میں خلل ڈالنے کا باعث بنتے ہیں اور پاسدارانِ انقلاب کے اندر منحرف عناصر کی بیخ کُنی کرنا ہے۔‘
ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کے سائنسدانوں، جن میں حسن تہرانی مقدم اور محسن فخری زادہ شامل ہیں، کے قتل کے بعد پاسداران انقلاب کے سکیورٹی اداروں پر بے شمار تنقید ہوئی تھی، لیکن اس تنقید کا اصل نشانہ پاسداران انقلاب کی انٹیلیجنس سروس بنی۔
حالیہ برسوں میں پاسدارانِ انقلابِ اسلامیِ ایران (IRGC) میں ایسے عناصر کے بارے میں خبریں شائع ہوئی ہیں جو اسرائیل کے لیے جاسوسی کرتے تھے اور جن کا کام پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے انٹیلیجنس کے شعبوں کو محفوظ بنانا تھا۔
سعیدی اور مرتضیٰ بختیاری سے احمد واحدی تک
ابتدائی طور پر پاسداران انقلاب کے کاؤنٹر انٹیلیجنس شعبے کے کمانڈر کی تقرری پاسداران انقلاب کے کمانڈر کرتے تھے، لیکن وزارت انٹیلیجنس کے قانون میں کہا گیا ہے کہ اس شعبے کے سربراہ کا تقرر رہبرِ کبیر کی منظوری سے ہونا چاہیے۔
مرتضی رضائی اور علی سعیدی کا ذکر سنہ 1980 کی دہائی کے اوائل میں اِس شعبے کے سربراہ کے طور پر کیا جاتا ہے، لیکن اس عہدے پر اُن کی تقرری کا کوئی حکمنامہ نہیں ملتا ہے۔
بانیِ انقلاب آیت اللہ خمینی نے نومبر 1984 میں علی سعیدی کو اس عہدے پر مقرر کرنے پر اتفاق کیا۔ علی سعیدی کو سنہ 2005 میں پاسداران انقلاب میں آیت اللہ خامنہ ای کا نمائندہ مقرر کیا گیا تھا۔
محسن رضائی کا آیت اللہ خمینی کے نام درخواست کے خط میں کہا گیا ہے کہ وہ ’عملے‘ کے محکمے میں کام کر رہے تھے، جس کا مطلب ہو سکتا ہے ’عملے کا تحفظ‘ یا کاؤنٹر انٹیلیجنس ہو۔ 25 اپریل 1987 کو آیت اللہ خمینی نے احمد واحدی کو ’پاسداران انقلاب اسلامیِ ایران (آئی آر جی سی) کے جنرل سٹاف کا کاؤنٹر انٹیلیجنس آفیسر‘ مقرر کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
احمد واحدی کچھ عرصہ قدس فورس کے کمانڈر بھی رہے اور بعد میں محمود احمدی نژاد کی حکومت میں وزیر دفاع اور ابراہیم رئیسی کی حکومت میں وزیر داخلہ بنے۔
علی سعیدی کو سنہ 1989 سے سنہ 1993 تک پاسدارانِ انقلابِ اسلامیِ ایران کے انٹیلیجنس چیف کے طور پر دوبارہ تعینات کیا گیا تھا۔
سنہ 1993 آیت اللہ خامنہ ای نے مرتضی رضائی کو ’پاسداران انقلاب کے انٹیلیجنس پروٹیکشن اور انٹیلیجنس تنظیم‘ کے سربراہ کو بریگیڈیئر جنرل کا عہدہ دینے کے ساتھ ہی مقرر کیا تھا۔ انھوں نے تقرری کے اپنے حکمنامے میں لکھا تھا کہ ’پاسدارانِ انقلاب کی شہرت اور تقدس کو برقرار رکھنے میں اس تنظیم کے اہم اور حساس کردار کے پیش نظر پاسدارانِ انقلاب کے معزز کمانڈر اور اہلکاران آپ کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کے پابند ہیں۔‘
سنہ 2006 سے سنہ 2009 تک غلام حسین رمیزانی کو کاؤنٹر انٹیلیجنس آرگنائزیشن (سازمان حفاظت اطلاعات سپاه پاسداران) کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ یہ وہ شخص تھے جو عوام میں نہیں جانے جاتے تھے۔ وہ پہلے پولیس انٹیلیجنس سروس کے سربراہ تھے۔ رمیزانی سنہ 1995 میں وزارت دفاع کے کاؤنٹر انٹیلیجنس آرگنائزیشن کے سربراہ بنے۔
کچھ رپورٹس میں محمد کاظمی کی سنہ 2009 میں پاسداران انقلاب کی کاؤنٹر انٹیلیجنس کے ادارے (سازمان حفاظت اطلاعات سپاه پاسداران) کے سربراہ کے طور پر تقرری کی تاریخ کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب پاسدارانِ انقلاب میں اسی نام کا ایک اور سکیورٹی ادارہ، پاسدارانِ انقلاب کاؤنٹر انٹیلیجنس (سازمان حفاظت اطلاعات سپاه پاسداران) بن چکا تھا اور حسین طیب اس کے سربراہ بن گئے۔
محمد کاظمی پاسداران انقلاب کے کاؤنٹر انٹیلیجنس کے ادارے کے دیگر سربراہوں کے مقابلے میں زیادہ خاموش رہے ہیں اور ان کی تصویر شاذ و نادر ہی شائع ہوئی ہے۔ پاسداران انقلاب کے کمانڈروں کی آڈیو فائل میں ان کا نام محمد علی جعفری اور ان کے نائب صادق ذوالقدرنیا کا ’کاظم‘ کے نام سے کئی بار ذکر کیا ہے۔
محمد کاظمی کو 2 جولائی 2022 سے سازمان حفاظت اطلاعات سپاه پاسداران کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، لیکن پاسداران انقلاب کے کاؤنٹر انٹیلیجنس شعبے میں ان کے جانشین کے لیے ابھی تک کسی کی تقرری کے لیے کوئی حکمنامہ جاری نہیں ہوا ہے۔