ٹھٹھہ میں ملیریا کی وجہ سے جینا دوبھر: ’ہمارے پاس کھانا لینے کے پیسے نہیں تو دوا کیسے خریدیں‘

bbc
،تصویر کا کیپشنشمائلہ ٹھٹھہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کرین دینو میں خاندان کے آٹھ افراد کے ہمراہ رہتی ہیں
    • مصنف, نازش فیض
    • عہدہ, بی بی سی اردو اسلام آباد

مٹی سے بنا ایک کمرہ، بانس سے بنی ہوئی جھونپڑی، سٹیل کے برتن میں پڑا ہوا گندا پانی، گھر میں فریج نہ کھانے کے لیے مناسب برتن، نہ واش روم کی سہولت اور نہ پینے کے لیے صاف پانی۔

یہ منظر ٹھٹھہ کی مکین شمائلہ کے گھر کا ہے۔

شمائلہ ٹھٹھہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کرین دینو میں خاندان کے آٹھ افراد کے ہمراہ رہتی ہیں۔ شمائلہ کا ایک بیٹا معذور ہے اور وہ اپنے گھر کی واحد کفیل ہیں۔ وہ سلائی کڑھائی کا کام کرتی ہیں اور ماہانہ میں دو سے تین ہزار روپے کما لیتی ہیں۔

شمائلہ نے اپنے حالات سے متعلق بی بی سی سے بات کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’کبھی تو آمدنی اچھی ہو جاتی ہے جس سے کھانے کو مل جاتا ہے تو کبھی ایسے حالات کا بھی سامنا کرنا پڑتتا ہے کہ نوبت یہاں تک آن پہنچتی ہے کہ بھوکے ہی سو جاتے ہیں۔‘

شمائلہ کی یہ جنگ اُن کے حالات اور غربت سے ہی نہیں بلکہ جس علاقے میں وہ رہتی ہیں وہاں پائے جانے والے مچھروں اور ان کی وجہ سے ہونے والی بیماری ملیریا سے بھی ہے۔

ٹھٹھہ صوبہ سندھ کا وہ علاقہ ہے جو شدید گرمی، بنیادی سہولیات کے فقدان، غربت اور ملیریا کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔

سنہ 2022 کے سیلاب کے بعد سندھ حکومت نے دعویٰ کیا کہ وہ ٹھٹھہ سمیت متاثرہ علاقوں سے ملیریا کا مکمل خاتمہ کر دے گی تاہم تین برس گزرنے کے باوجود ٹھٹھہ کی صورتحال ان دعوؤں کے برعکس نظر آرہی ہے۔

بی بی سی نے ٹھٹھہ کے ایک چھوٹے گاؤں کریم دینو کا رخ کیا جہاں کی کل آبادی 3300 نفوس پر مشتمل ہے۔ اس قصبے کے رہنے والے ہر سال ہی یہاں ہونے والی مون سون کی بارشوں کے بعد ملیریا اور ڈینگی جیسی بیماریوں سے لڑنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔

سنہ 2022 کے سیلاب کے بعد شمائلہ کے گھر کے ہر فرد کو ملیریا ہوا تھا اور اب بھی حالات کُچھ ایسے ہی ہیں یعنی اس سال بھی اُن کے خاندان کے تین افراد کو ملیریا ہو چُکا ہے۔

bbc
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

شمائلہ نے بتایا کہ جب بھی مون سون کی بارشیں ہوتی ہیں تو گاؤں کی گلیوں میں بارش کا پانی کھڑا ہو جاتا ہے اور کئی کئی دن تک سڑکیں اور گلیاں تالاب کا منظر پیش کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہمارا رہن سہن اسی پانی میں ہوتا ہے۔ پانی کے زیادہ دیر اور دنوں تک کھڑے رہنے کی وجہ سے نت نئی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں تاہم مچھروں کے بڑھ جانے کی وجہ سے سب سے زیادہ ملیریا پھیلتا ہے مگر حکومت کی جانب سے کوئی مدد نہیں کی جاتی۔‘

سنہ 2023 میں پورے پاکستان میں سے سب سے زیادہ ملیریا کے مریض ٹھٹھہ سے سامنے آئے جن کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ بتائی جاتی ہے تاہم بتایا یہ جاتا ہے کہ اس کے بعد حکومتِ سندھ نے ملیریا کے خاتمے کے لیے کوششیں شروع کیں۔

لیکن مقامی لوگوں کی بات کی جائے تو وہ حکومتی دعوؤں کے برعکس کہانی پیش کرتے ہیں۔ شمائلہ کہتی ہیں کہ ’سنہ 2022 میں جو صورتحال تھی آج بھی وہی ہے، نہ غربت کم ہوئی، نہ حکومت نے کُچھ دیا۔ اگر ہوا ہے تو بس یہاں پائی جانے والی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’گھر میں دو تین لوگوں کو ملیریا ہر سال ہوتا ہے۔ یہاں اتنی گندگی ہوتی ہے کہ زندہ رہنا مُشکل ہے۔ مچھر، مکھیوں اور دیگر کیڑے مکوڑوں کی وجہ سے کھانا بنانا بھی مشکل ہو جاتا ہے اور اگر ایسے میں بارش ہو جائے تو حالات بد سے بدتر ہو جاتے ہیں۔‘

شمائلہ نے یہ بھی بتایا کہ غربت کی وجہ سے وہ نجی ہسپتال میں چیک اپ تک نہیں کرواسکتیں اور سرکاری ہسپتال میں تو علاج کی مناسب سہولت نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’بس بخار کی گولی یا سر درد کی گولی دے دیتے ہیں یا پیٹ کے درد کی گولی دے دیتے ہیں فائدہ کوئی نہیں ہوتا۔ پیسے نہیں ہوتے ہمارے پاس ہم کہاں جائیں۔ ہمارے پاس کھانا لینے کے پیسے نہیں تو دوا کیسے خریدیں۔‘

شمائلہ نے بتایا کہ حکومت نے سنہ 2022 کے سیلاب کے بعد کہا تھا کہ وہ ہر خاندان کو مچھردانی دے گی۔ ’پانچ سال کے بعد انھوں نے ہمیں مچھردانی دی ہے وہ بھی ایک۔ ہمارے گھر میں سات، آٹھ افراد ہیں۔ دو یا تین مچھر دانیاں بھی ہوں تو کون کون استعمال کرے گا۔‘

یہ حالات صرف شمائلہ کے ہی نہیں بلکہ اس گاؤں میں رہنے والا تقریباً ہر خاندان مفلسی، تنگ دستی، بھوک و افلاس میں زندگی گُزارنے پر مجبور ہے۔

ثنا کی کہانی بھی زیادہ مختلف نہیں۔ ایک کمرے کے مکان میں رہنے والی ثنا کا خاندان آٹھ افراد پر مشتمل ہے۔

کریم دینو گاؤں کی سڑکیں کچی، گلیاں تنگ ہیں اور سیلاب یا بارش کے پانی کے بعد گھروں میں رہنا ان گاؤں والوں کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔

ثنا نے بتایا کہ ’کیچڑ کی وجہ سے ہم یہاں چل پھر بھی نہیں سکتے۔ پہاڑی پر چلے جاتے ہیں اپنا سامان اور راشن لے کر۔ یہاں اتنے مچھر اس قدر زیادہ ہو جاتے ہیں کہ بچے پورے جسم پر خارش کرتے اور بس روتے رہتے ہیں۔‘

bbc

ثنا نے بتایا کہ اُن کو جب ملیریا ہوا تو وہ سرکاری ہسپتال گئیں جہاں ڈاکٹروں نے اُنھیں کہا کہ اُنھیں ملیریا نہیں صرف بخار ہے۔

’میں نے ٹھٹھہ کے سرکاری اور پرائیوٹ ہسپتالوں میں جا کر چیک کروایا۔ کسی کو سمجھ نہیں آئی پھر میں کراچی گئی ٹیسٹ وغیرہ ہوئے تو پتا چلا کہ مجھے ملیریا ہے۔‘

ثنا اور شمائلہ کی کہانی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹھٹھہ کے سرکاری ہسپتال کے حالات اور سہولیات کی کمی کی وجہ سے اکثر مریضوں میں ملیریا کی تشحض ممکن ہی نہیں ہو پاتی۔ اسی وجہ سے ورلڈ ہیلتھ آرگینزئشن اور آغا خان ہسپتال کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں سنہ 2022 کے بعد ملیریا کے مریضوں میں 33 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سرکاری ہسپتال کی حالات

بی بی سی نے ٹھٹھہ کے ڈی ایچ کیو ہسپتال کا رخ کیا تاکہ دیکھا جا سکے کہ اس علاقے کے لوگوں کے دعووں کی حقیقت کیا ہے۔

ہسپتال کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی تین چھوٹے بچے اپنی والدہ کے ہمراہ زمین پر لیٹے دکھائی دیے۔ ہسپتال کی راہداری میں مریضوں کی ایک لمبی قطار اپنی باری میں انتظار میں بیٹھی تھی۔

شدید گرمی کے اس موسم میں بھی لوگ کھلے آسمان تلے موجود تھے کیونکہ ہسپتال کے اندر مریضوں کے پاس بیٹھنے کے لیے کرسیاں تک موجود نہیں تھیں۔

ہسپتال میں ملیریا کا ٹیسٹ کرنے والے محمد حنیف ایک اور شخص کے ہمراہ ایک کمرے میں موجود تھے۔ جہاں وہ ایک مائیکروسکوپک مشین پر مریضوں سے حاصل ہونے والے خون کے نمونوں کا معائنہ کرنے میں مصروف تھے۔

محمد حنیف نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آج کل ملیریا کے ٹیسٹ کے لیے 40 سے 50 مریض آتے ہیں جن میں سے دو یا چار لوگوں میں اس مرض کی تشخیص ہوتی ہے مگر ملیریا کے پیک سیزن میں یہ تعداد سو سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔‘

اگر کسی مریض کا ٹیسٹ مثبت آتا ہے تو عملے کے یہی افراد ڈاکٹر کی ہدایت پر مریضوں کو دوائیاں بھی دیتے ہیں۔

علاقے کے سرکاری ہسپتال میں آنے والے مریضوں کے خون کے نمونوں کو جانچنے کے لیے یہاں بس ایک ہی مشین ہے اور یہ سہولت بھی بس صبح آٹھ سے دن دو بجے تک میسر ہوتی ہے۔

تاہم دوسری جانب ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر یامین کا دعوی ہے کہ دن دو بجے کے بعد بھی ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’ہم سندھ کی وزیر صحت ڈاکڑ عذرا کی ہدایت پر دو بجے کے بعد ریپڈ ڈیگنوسٹک ٹیسٹ کرتے ہیں۔ ہم ہر طرح کے بخار کا ٹیسٹ کرواتے ہیں چاہے مریض رات کو بھی آئے۔‘

ڈاکڑ یامین کا دعویٰ ہے کہ یہ ہسپتال پورے ضلعے کا بہترین ہسپتال ہے اور وہ اردگرد موجود دوسرے ہسپتالوں کو بھی مدد فراہم کرتےہیں۔ ان کا یہ کہنا کریم دینو کی رہائشی ثنا کے دعووں کے بالکل برعکس ہے۔ ڈاکٹر یامین نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ٹھٹھہ میں ملیریا کے کیسز میں گذشتہ چند سالوں میں کمی آئی ہے۔

BBC

ملیریا کے کیسز میں کمی آئی ہے یا نہیں اس بات کا انداز ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی اپریل میں آنے والی ایک رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے جس کے مطابق پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ملیریا کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر سال ملیریا کے کیسز بڑی تعداد میں رپورٹ ہو رہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2022 کے بدترین سیلاب کے نتیجے میں 2022 سے 2024 کے عرصے میں 66 لاکھ اضافی کیسز سامنے آئے جن میں 2023 میں کیسز کی تعداد 27 لاکھ تک پہنچ گئی تھی، جبکہ 2021 میں یہ تعداد 3 لاکھ 99 ہزار 97 تھی۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان ملیریا کے مکمل خاتمے کے لیے کوشش کر رہا ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر دوبارہ ملیریا بڑی تعداد میں پھیلتا ہے تو کیا سندھ حکومت اس سے نمٹنے کے لیے تیار ہے؟

ہم یہی جاننے کے لیے کراچی کے آغا خان ہپستال پہنچے۔

آغا خان ہسپتال نے ڈاکٹرعاصم اور ڈاکٹر نجیہ گانچی کی نگرانی میں سندھ حکومت کے ساتھ مل کر ملیریا ایلیمینیشن پروگرام شروع کیا ہے۔ جس کے تحت مختلف تربیتی ورک شاپس کروائی گئیں اور ملیریا کی تشخیص کے نئے ٹولز کے بارے میں پروفیشنلز کو بتایا گیا۔ اس کے علاوہ ملیریا کے خاتمے کے لیے شواہد بھی جمع کیے جا رہے ہیں تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ جو نئی ادویات موجود ہیں وہ ملیریا کے خاتمے کے لیے مؤثر ہیں یا نہیں۔

ڈاکٹر عاصم نے ملیریا کے پھیلاؤ کی وجہ بھی بیان کی اور کہا کہ ’ملیریا کے پھیلنے کی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے کیونکہ مچھروں کی زندگی کا انحصار درجہِ حرارت، ہوا کے رُخ اور نمی کے تناسب پر ہوتا ہے اور اگر درجہِ حرارت اور نمی میں اضافہ ہوتا ہے تو ایسے میں ملیریا بڑی تیزی سے پھیلتا ہے۔‘

ڈاکٹر عاصم کے مطابق پاکستان میں اگر ملیریا کی بات کریں تو سب سے متاثرہ علاقہ ٹھٹھہ ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یہاں پر وہ ملیریا بھی پایا جاتا ہے جوافریقہ میں ہے۔

ڈاکڑ عاصم اُن افراد میں شامل ہیں جنھوں نے سیلاب کے بعد ٹھٹھہ میں ملیریا کے خاتمے کے لیے کام کیا۔ زمینی حقائق سے پردہ اُٹھاتے ہوئے اُنھوں نے کہا ’ٹھٹھہ میں صورتِ حال بہت خراب تھی اور ہے یہ ساحلی علاقہ ہے۔ اس وجہ سے یہاں ملیریا بہت زیادہ پھیلتا ہے۔‘

bbc

کریم دینو گاؤں کے رہائشی اس بات سے بھی ناراض ہیں کہ ضلع بھر میں ملیریا کے علاج کے لیے ادویات موجود نہیں ہیں اور جو اُن کو دی جاتی ہیں اُن کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

ہم نے اس پرواگرم میں شامل ڈاکٹر ناجیہ غنچی سے بات کی جنھوں نے بتایا کہ جب وہ تحقیق کرنے ٹھٹھہ پہنچیں تو وہاں سہولیات کا فقدان تھا اور ادویات کی بھی کمی تھی۔

ڈاکٹر ناجیہ نے ایک سٹڈی ڈیزائن کی جہاں پر ملیریا کے خاتمے کے لیے دو دوائیں پرائمکوئین اور ٹفاناکوئین مریضوں کو دی گئیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ان کی مدد سے ملیریا کا مکمل خاتمہ ممکن ہے یا نہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’کیونکہ ویویکس ملیریا کے مکمل خاتمے کے لیے ایک مخصوص دوا ہوتی ہے۔ جسے ہم (primaquine) پریموکون یا ریڈیکل کیور کہتے ہیں۔‘

ڈاکڑ ناجیہ نے ملیریا کے مکمل خاتمے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے اس مطالعے سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اگر یہ ادوایات بڑے پیمانے پر استعمال کی جائیں تو ملیریا کا خاتمہ ممکن ہے کیونکہ جن مریضوں کو یہ ادویات دی گئیں تحقیق کے دوران اُن میں دوبارہ ویویکس ملیریا کی علامات دوبارہ ظاہر نہیں ہوئی۔‘

سندھ حکومت نے 2022 کے سیلاب کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ 2025 تک صوبے سے ملیریا کا مکمل خاتمہ کرے گی، مگر اب حکومت نے اس ہدف کو بڑھا کر 2030 تک کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

اسی کے پیشِ نظر سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا نے ملیریا کے پھیلاؤ کو روکنے اور اسے مکمل ختم کرنے کے لیے ایک حل بتایا ہے ’ہم نے 2022 کے سیلاب کے بعد ایک بڑے پیمانے پر پروجیکٹ شروع کیا ہے۔ جس کے تحت ہم ایک کمرے پر منحصر پکے گھر دے رہیں ہیں تاکہ لوگ کچے گھروں سے نکل پکے گھروں میں آئیں۔‘

BBC
،تصویر کا کیپشنسندھ کی وزیر صحت ڈاکڑ عذرہ

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عذرا نے کہا کہ سندھ سے ملیریا کا خاتمہ کرنا اکیلے ان کی بس کی بات نہیں ہے۔ ’وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ ہر صوبے کی ضرورت کو دیکھیں۔ ہر صوبے کی ضرورت مختلف ہے اور جہاں پر اُن کو ساتھ دینا چاہیے تاکہ جو علاقے سب سے زیادہ مسائل کا شکار ہیں وہاں مدد فراہم کر کے لوگوں کی صحت کو بہتر بنایا جا سکے۔‘

اس سال بھی ماہرین کی جانب سے شدید مون سون بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے جس کے نتیجے میں سیلاب کا خطرہ ایک بار پھر ان علاقوں میں منڈلا رہا ہے اور اگر 2022 کی طرح پھر سے وہی صورتِحال پیدا ہو جاتی ہے تو کیا سندھ حکومت تیار ہے کہ وہ ملیریا سے نمٹ سکے گی؟

اس بارے میں ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا کہنا ہے کہ ’موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بہت مون سون کا سیزن بہت شدید ہوتا ہے مگر اگر دوبارہ ویسے ہی سیلاب آتے ہیں تو ہم اس سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔‘

زمینی حقائق کو دیکھنے کے بعد یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ ملیریا کے خاتمے کے لیے اب بھی ضروری ہے کہ کیسز کی بروقت تشخیص، مؤثر علاج، عوامی آگاہی، مچھروں کے خاتمے کے اقدامات اور بیڈ نیٹس کی فراہمی جیسے عملی اقدامات کیے جائیں۔