آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’حوصلہ رکھیے، بابر اعظم اور شاہین آفریدی بھی آ جائیں گے‘
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021 سے عین پہلے جب بنگلہ دیش کو اوپر تلے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی میزبانی کرنا تھی تو شیرِ بنگلہ نیشنل کرکٹ سٹیڈیم ڈھاکہ کے کیوریٹرز نے ’مستقبل کو ماضی میں بدل دینے والی پچز‘ سے فتح کا وہ ’گُر‘ نکالا کہ بقول لٹن داس، ’ان پچز پر تو میں بھی اپنا بولنگ کرئیر بنا سکتا تھا.‘
دنیائے کرکٹ میں ایشیائی پچز بالعموم اپنے باؤنس کی کنجوسی اور رنز کی کمی سے معروف رہی ہیں مگر جہاں پچھلی دو دہائیوں میں انڈیا، پاکستان اور سری لنکا نے اپنی یہ شہرت بدلنے کو موثر کاوشیں کی ہیں، وہیں بنگلہ دیشی کرکٹ وقت سے پیچھے دکھائی دی ہے۔
سو پاکستانی ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی یہ تنقید بے جا نہ تھی کہ پہلے ٹی ٹوئنٹی میں فراہم کردہ پچ عالمی معیار کی نہیں تھی۔ آئی سی سی کے منظور کردہ اور ایم سی سی کے وضع کردہ قواعد کے مطابق پچ کو بولنگ اور بیٹنگ دونوں میں سے کسی ایک کی از حد طرفداری نہیں کرنا چاہیے۔
گرچہ بہت سے ’مبصرین‘ مائیک ہیسن کی اس دلیل پر جزبز ہیں مگر یہ بات بھی اپنی جگہ بے وزن نہیں کہ پچھلے ماہ لاہور میں اسی بنگلہ دیش کے خلاف جو اپروچ پاکستان کے ماڈرن ٹی ٹوئنٹی وژن کی توثیق ٹھہری تھی، وہی حکمت عملی حالیہ سیریز میں امیدوں کا انہدام بھی بنی۔
اس میں شبہ نہیں کہ پاکستان کرکٹ عموما اپنی کارستانیوں کے سبب بجا تنقید کی زد میں رہتی ہے مگر اکثر اس تنقید کے اسباب منطق سے ماورا بھی ہوتے ہیں۔ شکست خوردہ ٹیم یقیناً کسی تحسین کی حقدار تو نہیں ہو سکتی لیکن حالیہ دنوں میں ہوئی بہت سی تنقید بے جا ہے۔
کوئی بھی ٹیم جب ایک نئی اپروچ لے کر چلتی ہے (جو کہ پاکستان کو ہر چھ ماہ بعد کرنا ہوتا ہے) تو اس اپروچ کے پروان پانے تک اتار چڑھاؤ کا آنا بھی ناگزیر ہوتا ہے۔
اب اسے سلمان آغا کی تکنیکی خطا کہیے یا مائیک ہیسن کے اندازے کی غلطی کہ پاکستان نے اپنی پچھلی سیریز کی آزمودہ ’بے خطر جارحیت‘ ڈھاکہ کی اس بے حس پچ پر بھی من و عن دہرا ڈالی۔
اور پھر ٹیم سلیکشن کا تو یہی ہے کہ جہاں کہیں شکست ہوئی، ہر گوشے سے تنقید بلند ہونے لگتی ہے۔ مگر حالیہ سیریز کے لیے سکواڈ اور ٹیم سلیکشن میں پاکستان کو جہاں حارث رؤف اور شاداب خان کی انجریز کا سامنا تھا، وہیں پی سی بی نے اپنی نئی پالیسی کے تحت لچک دکھاتے ہوئے حسن علی کو اپنے انگلش کنٹریکٹ نبھانے کی اجازت بھی دے رکھی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گو یہ کہیں وضاحت سے کہا تو نہیں گیا کہ بابر اعظم اور شاہین آفریدی مستقبل میں پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی عزائم کا حصہ نہیں ہوں گے مگر دونوں سپر سٹارز کے سوشل میڈیا فینز اپنے تئیں یہی فرض فرما چکے ہیں اور پاکستان کی ہر شکست پر اپنے نشتر آزمانے کو لپکتے ہیں۔
مگر یہاں یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ بھلے ہی پی سی بی پچھلے تین برس میں پے درپے نا پختگی کے سرکس رچا چکا ہو، پھر بھی اگلے برس کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شاہین اور بابر کے تجربے کے بغیر اترنے کی ’حماقت‘ ہرگز نہیں کرے گا۔
اگلا ورلڈ کپ سری لنکا اور انڈیا میں کھیلا جانا ہے اور میگا ایونٹ کے ناک آؤٹ میچز تک ان پچز کا حال بھی کچھ کچھ اسی ڈھاکہ کی پچ جیسا ہو چکا ہو گا جہاں بابر اعظم جیسے گھاگ بلے باز اور شاہین آفریدی جیسے مشاق پیسرز کسی بھی ٹیم کا موثر ترین ہتھیار ہو سکتے ہیں۔
سو، خاطر جمع رکھیے۔ فی الوقت یہ پاکستان کے لیے بینچ کی قوت بڑھانے کا موقع ہے اور تاحال پاکستان اس موقع کا درست استعمال کرتا ہی دکھائی دے رہا ہے۔
اب سلمان مرزا اور احمد دانیال کو موقع دینے کا فیصلہ درست ہے یا غلط، اس کا فیصلہ اٹھانے کو کچھ میچز کی مہلت تو دینا ہی ہو گی ناں!
لمحۂ موجود میں پاکستان کے لیے امید افزا پہلو زیادہ ہیں کہ ماڈرن ٹی ٹوئنٹی کرکٹ جس ڈگر پر چل رہی ہے، پاکستان بھی اسی پر قدم جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔
سلمان آغا بھلے اپنی بیٹنگ کے سبب ناقدین کا نشانہ رہیں مگر بطور کپتان وہ ایک واضح وژن رکھتے ہیں اور آج کے دور کی کرکٹ سے آگاہ بھی ہیں۔
فی الوقت پاکستانی شائقین کو صرف اس امید پر اصرار کرنا چاہیے کہ محسن نقوی کا دھیان اب مزید کرکٹ کے انتظامی معاملات کی جانب نہ بھٹکے اور سوا ہی سال میں جس تیسرے ’سیٹ اپ‘ کا انتخاب اپنے ہاتھوں سے انھوں نے کیا ہے، اسے بھی اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی ذرا مہلت مل جائے۔
اگر شائقین کے صبر اور قسمت کی خوبی سے یہ ہو پایا تو بعید نہیں کہ آئندہ سال کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ تک پاکستان ایک خاطر خواہ ٹیم بن چکی ہو جسے ایشیائی کنڈیشنز میں ہرانا کم از کم آسان تو نہ ہو۔