سی سی ٹی وی فوٹیج جو پولیس کو اُس مقام تک لے گئی جہاں خاتون کی چھ ٹکڑوں میں بٹی لاش دفنائی گئی تھی

،تصویر کا ذریعہJitender Dudi
- مصنف, موہر سنگھ مینا
- عہدہ, جے پور، بی بی سی ہندی
انڈیا کی ریاست راجستھان کے شہر جودھپور کی پولیس گذشتہ کئی روز سے قتل کی ایک واردات کے تانے بانے جوڑنے کی کوششوں میں مصروف ہے تاہم انھیں ایک الجھن کا سامنا ہے۔
اس واردات میں بیوٹی پارلر چلانے والی ایک خاتون انیتا چودھری کا ناصرف قتل کیا گیا بلکہ ان کی لاش کے چھ ٹکڑے کر کے انھیں دفنا دیا گیا اور کئی روز گزرنے کے باوجود ان کی لاش کے پوسٹ مارٹم کا عمل مکمل نہیں ہو سکا ہے۔
دوسری جانب انیتا چودھری کے اہلخانہ ناصرف احتجاج کر رہے ہیں بلکہ اس کیس میں نامزد ایک مرکزی ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔
انیتا کی لاش مرکزی ملزم غلام محی الدین کے گھر کے باہر زمین میں دفنائی گئی تھی جسے پولیس نے ملزم کی اہلیہ کی اطلاع پر برآمد کیا تھا۔
اس واقعے کی پولیس کو اطلاع دینے والی خاتون یعنی مرکزی ملزم کی اہلیہ کو پولیس نے قتل کی سازش میں ملوث ہونے، شواہد کو چھپانے اور مسخ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ مرکزی ملزم کی تلاش کر رہی ہیں اور اسے جلد ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔
اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’اہلخانہ کی رضامندی نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک مقتولہ کا پوسٹ مارٹم نہیں ہو سکا ہے۔‘
یہ معاملہ کیسے سامنے آیا؟

،تصویر کا ذریعہJitender Dudi
50 سالہ انیتا چودھری اپنے خاندان کے ہمراہ سردار پورہ تھانہ کی حدود میں مقیم تھیں اور نزدیکی علاقے میں اپنا بیوٹی پارلر چلاتی تھی۔ اس کے علاوہ وہ پراپرٹی کا کام بھی کرتی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انیتا کے شوہر کا کہنا ہے کہ اُن کی اپنی اہلیہ سے آخری مرتبہ فون پر بات 27 اکتوبر کی دوپہر دو بجے کے قریب ہوئی تھی۔ اُن کے مطابق کچھ دیر بعد انیتا کی بہن نے انھیں فون کیا اور بتایا کہ انیتا کا فون بند ہے جبکہ وہ دکان پر بھی نہیں ہیں۔
انیتا کے شوہر کے مطابق جب وہ دکان پر پہنچے تو اُن کی اہلیہ وہاں نہیں تھیں جبکہ اُن کا سکوٹر پارلر کے باہر ہی موجود تھا۔ ایک قریبی دکاندار نے انھیں بتایا کہ انیتا نے انھیں سکوٹر کی چابی دی تھی اور دکان کھولنے کے دس منٹ کے بعد ہی وہ کہیں چلی گئی تھیں۔
انیتا کے شوہر کے مطابق اس کے بعد انھوں نے اپنی اہلیہ کی تلاش شروع کی لیکن اُن کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
مقامی پولیس کے مطابق ’28 اکتوبر کی صبح انیتا چودھری کے اہلخانہ نے گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے تجزیہ سے پتہ چلا کہ انیتا ایک آٹو رکشہ میں گنگنا کے علاقے بورناڈا میں ایک گھر گئی تھیں۔‘
انیتا کے شوہر کا دعویٰ ہے کہ ان کی اہلیہ جس گھر پہنچی تھیں وہ مرکزی ملزم غلام محی الدین کا تھا۔ غلام محی الدین کی ڈرائی کلینر کی دکان انیتا کے بیوٹی پارلر کے بالکل سامنے واقع ہے۔
لاش زمین میں دبا دی گئی
جب پولیس کو مرکزی ملزم اپنے گھر پر نہیں ملے تو انھوں نے شک کی بنیاد پر اُن کی اہلیہ کو حراست میں لیا اور پوچھ گچھ شروع کر دی۔
ڈی سی پی ورما کا کہنا ہے کہ ’پوچھ گچھ کے دوران ملزم کی اہلیہ نے بتایا کہ اُن کے شوہر نے انیتا کا قتل کر کے اس کی لاش کو زمین میں دبا دیا تھا۔‘
یہ اطلاع ملنے پر پولیس سراغ رساں کتوں کے ہمراہ دوبارہ مرکزی ملزم کے گھر پہنچی اور تقریباً دس فٹ گہری کھدائی کے بعد انیتا کی ٹکڑوں میں بٹی لاش برآمد کر لی گئی۔
اس کیس کے تفتیشی افسر دلیپ سنگھ نے بتایا کہ انیتا کی لاش چھ ٹکڑوں میں ملی تھی۔
’جسم کے اعضا دو بوریوں میں موجود تھے، جنھیں قبضے میں لے کر ہسپتال بھیج دیا گیا۔ یہ قتل کسی تیز دھار آلے سے انجام دیا گیا۔ آلہ قتل برآمد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
قتل کی وجہ کیا بتائی گئی؟

،تصویر کا ذریعہJitender Dudi
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انیتا چودھری کے قتل کی وجوہات کے بارے میں تفتیشی افسر دلیپ سنگھ کا کہنا ہے کہ ’مرکزی ملزم کے پکڑے جانے کے بعد ہی قتل کے محرکات اور وجوہات واضح طور پر سامنے آئیں گی، تاہم ابتدائی تفتیش میں یہ معاملہ ڈکیتی کی نیت پر مبنی لگتا ہے۔‘
جودھ پور ویسٹ کے ڈی سی پی ورما کے مطابق ’اب تک کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مرکزی ملزم اور اُن کی بیوی نے مل کر اس واردات کو انجام دیا۔ جب انیتا ملزمان کے گھر پہنچیں تو انھیں شربت میں کچھ نشہ آور چیز ملا کر پینے کے لیے دی گئی تھی۔‘
پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزم اپنے ذمے قرض اتارنے کے لیے خاتون سے نقدی اور زیورات لوٹنا چاہتے تھے تاہم کسی وجہ سے خاتون کی موت ہو گئی جس کے بعد اگلا پلان ترتیب دیا گیا۔
ڈی سی پی ورما کا کہنا ہے کہ ’مرکزی ملزم نے بینک سے قرض لے کر ایک مکان خریدا تھا اور وہ جوا کھیلنے کا بھی عادی تھا۔ اس کی وجہ سے اس کا قرض بڑھتا جا رہا تھا۔ مقتول انیتا اور ملزم کی دکانیں چونکہ آمنے سامنے تھیں اس لیے دونوں کی جان پہچان تھی۔ کال کی تفصیلات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ واردات سے قبل ان کے درمیان بات چیت ہوتی رہی تھی۔‘
مقامی پولیس نے تفتیش کی غرض سے اب تک 18 افراد کو حراست میں لے پوچھ گچھ کی ہے جبکہ مرکزی ملزم کی اہلیہ کا مزید جسمانی ریمانڈ بھی لیا جا چکا ہے۔
مقتولہ کے خاندان کا احتجاجی دھرنا

،تصویر کا ذریعہJitender Dudi
انیتا کی لاش برآمد ہونے کے کئی روز گزرنے کے باوجود اُن کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا۔ ان کی لاش مقامی ہسپتال کے مردہ خانے میں تین دن تک رکھی گئی۔
احتجاج میں شامل انیتا کے اہلخانہ اور رشتہ دار ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے بھائی کا کہنا ہے کہ ’میں بہت دُکھی ہوں، گذشتہ پندرہ دنوں میں میری دو بہنیں نہیں رہیں، ایک بہن کینسر کے باعث نہیں رہیں اور اب انیتا کو بھی قتل کر دیا گیا۔‘
راشٹریہ لوک تانترک پارٹی کے سربراہ ہنومان بینیوال نے ریاستی حکومت پر بے حسی کا الزام لگایا اور سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’انیتا کے بہیمانہ قتل کے معاملے میں راجستھان کی بی جے پی حکومت نے مقتولہ کے خاندان کو انصاف فراہم کرنے میں حساسیت نہیں دکھائی۔‘
ہنومان بینیوال نے اپنی پارٹی کے کارکنوں سے جودھ پور پہنچنے کی اپیل کی ہے اور اس معاملے کی سی بی آئی سے تحقیقات کروانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔













