محبت، احتجاج اور فوری توجہ حاصل کرنے کے لیے انڈیا میں کس طرح انسانی خون کا استعمال ہوتا ہے؟

مودی کے حامیان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنوزیر اعظم نریندر مودی کے سپورٹرز نے اپنے خون سے اُن کی تصویر پینٹ کی
    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, نمائندہ بی بی سی انڈیا

انڈیا میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) لوگوں کی جانب سے عطیہ کردہ خون کا استعمال کرتے ہوئے پینٹنگز بنا رہی ہے۔

دہلی کی ’شہید سمرتی چیتنا سمیتی‘ نامی تنظیم نے اب تک عطیہ کردہ خون سے ’شہیدوں‘ اور انقلاب پرست شخصیات کو خراج تحسین پیش کرنے کی غرض سے 250 سے زیادہ فن پارے بنائے ہیں۔ یہ فن پارے عام طور پر آشرم (روحانی مراکز) اور چھوٹے عجائب گھروں کو دیے جاتے ہیں اور نمائشوں میں دکھائے جاتے ہیں۔

اس این جی او کے سربراہ پریم کمار شکلا کے مطابق ’علامتی طور پر خون کی بہت اہمیت ہے۔ ہم لوگوں میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے اپنی پینٹنگز خون سے بناتے ہیں۔ (کیونکہ) نئی نسل میں ملک سے محبت کم ہوتی جا رہی ہے۔‘

اس تنظیم کے بانی روی چندر گپتا ریٹائرڈ پرنسپل ہیں۔ انھوں نے اب تک 100 پینٹنگز تیار کرنے کے لیے خون کا عطیہ دیا ہے۔ اور وہ اس وقت تک خون کا عطیہ کرتے رہے جب تک کہ ان کی صحت خراب نہیں ہونے لگی۔

سنہ 2017 میں ان کی وفات ہو گئی تھی۔ اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ ’میں نے یہ سب عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے شروع کیا ہے۔ اگر پورٹریٹ خون سے بنی ہوں تو لوگ زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ خون جذبات کو ابھارتا ہے۔‘

مسٹر شکلا اُن (روی چندر گپتا) کے جانشین ہیں۔ شکلا 50 سالہ سکول ٹیچر اور شاعر ہیں۔ وہ بھی 100 پینٹنگز کے لیے خون عطیہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان جیسے خون کا عطیہ کرنے والے ایک مقامی لیب میں جاتے ہیں جہاں ان کا خون نکالا جاتا ہے اور اسے اینٹی کوگولنٹ کے ساتھ ملایا جاتا ہے کیونکہ انسانی خون جمنے کے بعد چپچپا ہو جاتا ہے اور پھر اس خون کو 50 ملی لیٹر کی بوتلوں میں ڈال کر فنکاروں کے ایک گروپ کو دیا جاتا ہے۔

مسٹر شکلا کہتے ہیں کہ عام طور پر 100 ملی لیٹر خون دو سے تین پینٹنگز بنانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم اپنی پینٹنگز کے لیے سال میں چار بار خون کا عطیہ کرتے ہیں۔‘

خون میں خط

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈین فوج میں بھرتی کے لیے عمر کی حد میں دو سال کی کمی کے لیے گذشتہ دنوں چند نوجوانوں نے حکام کے نام اپنے خون سے پوسٹر لکھا

مسٹر شکلا کا کہنا ہے کہ ’خون کی پینٹنگز‘ ہندوستان کی آزادی کے ہیرو سبھاش چندر بوس کے پُرجوش نعرے سے متاثر ہیں کیونکہ انھوں نے کہا تھا کہ ’تم مجھے خون دو اور میں تمہیں آزادی دوں گا۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انڈیا میں سبھاش چندر بوس کو ’نیتا جی‘ (محترم رہنما) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ چندر بوس نے انگریزوں سے لڑنے کے لیے ہندوستانی سپاہیوں کی ایک فوج کھڑی کی تھی۔

انڈیا میں خون کی سیاست بہت گہری ہے۔

جیکب کوپ مین اور دویپاین بنرجی نے ’ہیماتولوجیز‘ نامی ایک کتاب تحریر کی ہے جو خون اور سیاست کے درمیان تعلق کا جائزہ لیتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ انڈیا میں آزادی کی جنگ کے سرخیل مہاتما گاندھی اپنے بلڈ پریشر کی مسلسل نگرانی کرتے تھے اور ان کی ’خون کے ساتھ گہری وابستگی‘ تھی۔

یہ بھی پڑھیے

خون استعمار کے خلاف ایک استعارہ بھی تھا۔ گاندھی دنیا کے مشہور امن پسند شخص تصور کیے جاتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ ہندوستانیوں کے پاس ایسا ’خون ہونا چاہیے جو بدعنوانی اور نوآبادیاتی تشدد کے زہر کا مقابلہ کر سکے۔‘

کوپ مین اور بنرجی کہتے ہیں کہ ’خون کے استعارے، اس کا نکلنا اور قربانی یہ سب ہندوستان کی سیاسی گفتگو میں ناگزیر طور پر پھیلے ہوئے ہیں۔‘

اس میں حیرت کی بات نہیں کہ خون وفاداری اور قربانی کا استعارہ ہے۔ موجودہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے پُرجوش حامیوں نے اپنے خون سے ان کی پینٹنگز بنائی ہیں۔ خون احتجاج کا بھی ایک طریقہ ہے۔ سنہ 2013 میں ریاست گجرات کے دیہاتوں سے تعلق رکھنے والی 100 سے زیادہ خواتین نے نریندر مودی کو خون سے ایک خط لکھا تھا جس میں نئی سڑک بنانے کے لیے ان کی زرعی زمین حاصل کرنے کے منصوبے کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔

ان خواتین کا کہنا تھا کہ انھوں نے خون سے پوسٹ کارڈز لکھے لیکن وزیر اعظم نے ان کا جواب بھی نہیں دیا۔ ریاست اتر پردیش میں ایک نوعمر لڑکی نے اپنے خون سے حکام کو ایک خط لکھا، جس میں انھوں نے اپنی والدہ کے قتل کے خلاف حکام سے انصاف کا مطالبہ کیا تھا۔

روی چندر گپتا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنروی چندر گپتا نے مبینہ طور پر اپنی موت سے قبل 100 پینٹنگز بنانے کے لیے اپنے خون کا عطیہ دیا

عمومی طور پر کسی بھی معاملے پر احتجاج کرنے والے حکام کو اپنے خون سے عرضیاں لکھتے ہیں جس میں تنخواہوں میں اضافے، ہسپتالوں اور سکولوں کی تعمیر جیسے مطالبات کیے جاتے ہیں یا اُن قوانین کی مخالفت کی جاتی ہے جو ان کے خیال میں ظالمانہ ہیں۔ کچھ لوگ توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنے خون سے محبت کے خطوط لکھتے ہیں۔ اور لوگ معمول کے مطابق یہ شکایت بھی کرتے ہیں کہ سیاست دان ’لوگوں کا خون چوسنے والے‘ ہیں وہ بدعنوانی اور سرخ فیتہ شاہی جیسے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے اس فقرے کو ایک استعارے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

سنہ 1984 میں وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں ہونے والا گیس حادثہ انڈیا کی تاریخ کے بدترین صنعتی حادثوں سے ایک ہے۔ سنہ 2008 میں وہاں کے حالات کو اجاگر کرنے کے لیے چند مظاہرین تقریباً 800 کلومیٹر پیدل چل کر دہلی پہنچے اور اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو اپنے خون سے لکھا ایک خط بھیجا تاکہ ان کی فلاح و بہبود اور دوبارہ آبادکاری کی طرف سرکار کی توجہ مبذول کرائی جا سکے۔

تیل کی دولت سے مالا مال ریاست آسام میں سنہ 1980 میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ایک 22 سالہ نوجوان نے دارالحکومت گوہاٹی کی سڑکوں پر احتجاجی نعرے لکھنے کے لیے اپنا خون استعمال کیا تھا۔ اُن میں سے ایک نعرہ تھا: ’ہم خون دیں گے، تیل نہیں۔‘

ایک اخبار کی رپورٹ کے مطابق وہ گلی ’ایک زیارت گاہ میں تبدیل ہو گئی جہاں مشتعل افراد نے مٹی کے لیمپ، اگربتیاں جلانا شروع کر دیں اور عقیدت مندوں نے دعائیہ تقریبات کا اہتمام کرنا شروع کر دیا۔‘

سنہ 1988 میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) نے وفاقی حکومت کے ساتھ فنڈنگ کے تنازعے کے بعد اپنے حامیوں کو اپنا خون فروخت کر کے مغربی بنگال میں ایک پاور پلانٹ بنانے کے لیے رقم اکٹھا کرنے کو کہا۔ جمع کیے گئے خون کا زیادہ تر حصہ بالآخر ضائع ہوا کیونکہ خون کو ذخیرہ کرنے کی جگہ کی کمی تھی اور مناسب سٹوریج نہ ہونے کی وجہ سے خون ضائع ہو گیا۔

بہرحال بعدازاں ایک پاور پلانٹ جاپان کی جانب سے دیے گئے قرض سے مکمل کیا گیا۔ اسی دوران کولکتہ (اس وقت کلکتہ) میں عطیہ دہندگان کے ایک گروپ نے مالی طور پر غریب طبی ادارے کی مدد کے لیے خون فروخت کیا۔ (اس کے دس سال بعد خون فروخت کرنے کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔)

خون کا عطیہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں سیاسی جماعتیں خون کے عطیات حاصل کرنے کے لیے بلڈ ڈونیشن کیمپس لگاتی ہیں

سیاسی جماعتیں عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے خون کے عطیے کے لیے کیمپوں کا انعقاد کرتی ہیں۔ حامیان اپنی پوزیشن میں ترقی حاصل کرنے کے لیے خون کا عطیہ دیتے ہیں۔ بلڈ بینک کے ایک پروفیشنل نے ہیماٹولوجیز کے مصنفین کو بتایا کہ سیاسی جماعتوں کے زیر اہتمام کیمپ ’خوفناک ہوتے ہیں کیونکہ ان میں ’لیڈر کو خوش کرنے کی کوشش‘ کے علاوہ کوئی اور محرک نہیں ہوتا ہے۔‘

ماہر عمرانیات سنجے سریواستو کہتے ہیں کہ ’خون ذات پات کی تقسیم سے پاک ہے۔ تاریخی طور پر بھی خون میں لکھنا ایک بہت ہی مردانہ چیز رہی ہے۔ ذات پات یا جنسی تفریق سے پاک ہونا اور مردانہ پن کی شکل میں یہ ہندوستان میں سماجی اظہار کی دو اہم شکلیں ہیں۔ خون کو وفاداری کی اعلی ترین شکل کے روپ میں بھی دیکھا جاتا ہے۔‘

لیکن جدید دور کے انڈیا میں، خواتین نے ماہواری کے گرد ’ممنوعات‘ کو توڑنے کے لیے خون بھی کا استعمال کیا ہے۔

آخر میں اتنا کہا جا سکتا ہے کہ خون آپ کو فوری توجہ اور پہچان دلاتا ہے۔

سنہ 2004 میں ایک کراٹے ٹیچر نے چنئی (سابقہ مدراس) میں اپنے خون سے اس وقت کی تمل ناڈو ریاست کی وزیر اعلی جے رام جے للیتا کے 57 پورٹریٹ پینٹ کیے۔

شیحان حسینی کو کراٹے سکول کے قیام کے لیے ایک پلاٹ کی ضرورت تھی، اور انھوں نے اس کے ذریعے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے لیے وقت لیا۔ مسٹر حسینی نے ہیماٹولوجیز کے مصنفین کو بتایا: ’وہ مجھے اپنی رہائش گاہ پر لے آئیں اور مجھ سے پلاٹ کے لیے دس لاکھ دینے وعدہ کیا۔‘

انھوں نے کہا کہ بلڈ آرٹ ’پراپیگنڈا اور فیصلہ سازی کو متاثر کرنے کا ایک ذریعہ تھا۔‘