’فیصلہ لکھ لیا ہے‘: عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز کیس کا فیصلہ بار بار موخر کیوں ہو رہا ہے؟

القادر ٹرسٹ کیس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

گذشتہ تقریباً ایک ماہ سے تعطل کا شکار فیصلہ سوموار کو صبح گیارہ بجے سنائے جانے کا امکان اتنا قوی تھا کہ صبح سویرے سے ہی صحافی اڈیالہ جیل کے باہر پہنچ چکے تھے۔

سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاونڈز کے مقدمے کا فیصلہ، جو گذشتہ ماہ 18 تاریخ کو محفوظ ہوا تھا اور پھر پہلے 23 دسمبر، پھر 6 جنوری اور پھر 13 جنوری، کو بھی نہ سنایا جا سکا تھا۔

اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں کے ذہن میں شاید یہ سوال موجود تھا کہ نہ جانے آج بھی فیصلہ سنایا جاتا ہے یا نہیں لیکن جب تقریباً ساڑے آٹھ بجے اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید کی اڈیالہ جیل آمد ہوئی تو سب کے ذہنوں میں یہ تاثر پختہ ہوا گیا کہ یہ بڑے فیصلے کا دن ہے۔

اب سوال یہ تھا کہ عمران خان اور بشری بی بی کو سزا ہو گی یا نہیں؟ اور اگر سزا ہو گی تو کتنی ہو سکتی ہے؟

لیکن نہ تو فیصلہ سنایا گیا اور نہ ہی عمران خان کمرہ عدالت پہنچے جس کے بعد ایک جانب تو یہ سوال پیدا ہوا کہ ایک بار پھر اس مقدمے کا فیصلہ کیوں موخر کیا گیا تو دوسری جانب حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے بیچ اس کی ٹائمنگ بھی اہمیت کی حامل ہے۔

لیکن کیا فیصلے میں تاخیر کا مذاکرات سے کوئی تعلق ہے یا نہیں؟

اس سوال کا جواب جاننے سے قبل یہ جانتے ہیں کہ کمرۂ عدالت میں ہوا کیا اور جج کی جانب سے کیا وجہ بیان کی گئی۔

’فیصلہ لکھ لیا ہے، میرے ہاتھ میں ہے‘

لیکن سوموار کے دن جج ناصر جاوید تو ساڑھے آٹھ بجے پہنچ گئے لیکن نہ تو ملزمان کا اتا پتا تھا اور نہ ہی ان کے وکلا کا۔ ہوتا بھی کیسے، کیوںکہ ملزمان کے وکلا کے مطابق انھیں بتایا گیا تھا کہ فیصلہ دن گیارہ بجے سنایا جانا تھا۔

ایسے میں عدالتی عملہ موجود تھا جب کمرہ عدالت میں موجود ایک صحافی کے مطابق پونے نو بجے کے قریب احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا کمرہ عدالت میں کرسی پر بیٹھ گئے۔

جج نے کمرہ عدالت میں موجود جیل پولیس کے اہلکار کو حکم دیا کہ ملزم عمران خان کو کمرۂ عدالت میں پیش ہونے کا کہا جائے۔ جیل کے اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے عدالت کا پیغام سابق وزیر اعظم کو پہنچا دیا ہے جو اڈیالہ جیل میں ہی قید ہیں۔

صحافی نے بتایا کہ کچھ دیر کے جیل کے اہلکار کو دوبارہ عمران خان کو بلانے کے لیے کہا گیا تاہم دوسری مرتبہ بھی ملزم عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ اتنی دیر میں پراسیکیوشن کی ٹیم کمرۂ عدالت میں پہنچ چکی تھی جبکہ اس مقدمے کی شریک ملزمہ اور عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی بھی کمرۂ عدالت میں نہیں پہنچی تھی۔

مقامی صحافی کا کہنا تھا کہ جب عمران خان دوسری مرتبہ بلانے پر بھی کمرۂ عدالت میں پیش نہ ہوئے تو جج نے کمرۂ عدالت میں موجود صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اس مقدمے کا فیصلہ ’لکھ لیا ہے اور یہ فیصلہ میرے ہاتھ میں ہے، جس پر میرے دستخط بھی موجود ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ اس فیصلے کو سنانے کو 17 جنوری تک موخر کرر ہے ہیں کیونکہ نہ تو ملزمان کمرۂ عدالت میں موجود ہیں اور نہ ہی ان کے وکلا ابھی تک کمرۂ عدالت میں پہنچے ہیں۔

صحافی کے مطابق یہ کہہ کر احتساب عدالت کے جج کمرۂ عدالت سے اُٹھ کر روانہ ہوگئے۔

انھوں نے کہا کہ اسی فیصلے کی وجہ سے عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کے مقدمے کی سماعت ملتوی کر دی گئی تھی۔

اس سے قبل یہ فیصلہ سردیوں کی چھٹیوں اور جج کی ٹریننگ کے باعث موخر ہو چکا ہے۔

کیا فیصلہ نہ آنے پر تحریک انصاف کو بھی تشویش ہے؟

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے احتساب عدالت کے جج کی جانب سے 190 ملین پاونڈز کے مقدمے کے آج سنائے جانے والے فیصلے کو موخر کرنے کے بارے میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں ان کی جماعت کے بانی کے ساتھ متعصبانہ رویہ رکھا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ احتساب عدالت کے جج نے ’اپنی مرضی سے فیصلہ موخر کیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ٹرائل کورٹ سے ان کی جماعت کو انصاف کی امید نہیں ہے اور اس عدالتی فیصلے کے بعد اگر اس میں عمران خان کو سزا سنائی گئی تو وہ اعلی عدلیہ میں جائیں گے جہاں سے ماضی میں بھی ان مقدمات میں عمران خان کو انصاف ملا ہے۔

صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آج تاخیر سے آنا کیا پلاننگ کا حصہ تھا؟ جس پر انھوں نے کہا کہ ’ایسی کوئی پلاننگ نہیں کی گئی۔‘

عمران خان، بشری بی بی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انھوں نے دعویٰ کیا کہ عدالتی عملے نے عمران خان کی وکلا ٹیم کو فون کرکے بتایا تھا کہ 190 ملین پاونڈز کے مقدمے کا فیصلہ پیر کی صبح 11 بجے سنایا جائے گا۔

صحافی نے سوال کیا کہ اگر جج فیصلہ سنا دیتے تو پھر پی ٹی آئی کے وکلا کی جانب سے اعتراض اٹھایا جاتا کہ ان کی عدم موجودگی میں فیصلہ سنایا گیا ہے جس پر بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ وکلا کی موجودگی ضروری نہیں تھی، عدالت ان کے بغیر بھی فیصلہ سنا سکتی تھی۔

انھوں نے کہا کہ 190 ملین پاونڈز کا مقدمہ سیاسی نوعیت کا ہے جس کا مقصد عمران خان کو دباؤ میں لانا تھا۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے اور نہ ہی اپنے اصولوں پر سمجھوتا کریں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ اس عدالتی فیصلے کو سنانے میں تاخیر کا حکومت سے مذاکرات کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس فیصلے کے سنائے جانے میں تاخیر سے اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ جیسے حکومت پی ٹی آئی سے مذاکرات میں اپنے مطالبات منوانے کے لیے ایک ٹول کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت کسی کے لیے جیل میں آسانیاں نہیں مانگ رہی۔ ’حکومت اگر اس کو ایک چال کے طور پر استعمال کر رہی ہے تو اسے اس چال میں بھی ناکامی ہوگی جس طرح ماضی میں ہوتی آئی ہے۔‘

حکومت کا موقف

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے سینیٹر طلال چوہدری نے اپنے ایک بیان میں اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ حکومت کی جانب سے 190 ملین پاونڈز کے مقدمے کو تاخیر کا شکار کرنے میں کوئی کردار ہے۔

انھوں نے کہا کہ 190ملین پاونڈز کا مقدمہ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں ایک ناقابل تردید شواہد موجود ہیں جس میں ان کی رائے میں ملزمان کو سزا ہوگی۔

طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ پی ٹی ائی مذاکرات کے لیے اب سپیکر قومی اسمبلی سے رابطے کر رہی ہے جبکہ پہلے تو پی ٹی ائی کی قیادت یہ کہتی تھی کہ یہ فارم 47 والی حکومت ہے ان سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی اختیار ہے۔

تاخیر سے بڑھتے شکوک و شبہات

پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے بقول حکومت نے ساتھ مذاکرات کا تیسرا دور 15 جنوری کو شروع ہونے کا امکان ہے۔ اس سے پہلے حکومت اور پی ٹی ائی کے درمیان مذاکرات کے دو دور ہوچکے ہیں جو بےنتیجہ ثابت ہوئے تاہم 190 ملین پاونڈز کے فیصلے میں تاخیر سے متعلق قومی احتساب بیورو کے سابق ڈپٹی پراسیکوٹر جنرل ذوالفقار احمد بھٹہ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی جج فیصلے کو تاخیر کا شکار کرے اور مقررہ تاریخ پر بھی فیصلہ نہ سنایا جائے تو اس بارے میں نہ صرف اس عدالتی فیصلے پر شکوک شہبات پیدا ہوتے ہیں بلکہ جج کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر ایک دو مرتبہ جج کی جانب سے کوئی فیصلہ نہ سنایا جائے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ شاید ابھی تک فیصلہ نہیں لکھا گیا ہوگا لیکن اگر یہ معاملہ دو تاریخوں سے آگے بڑھ جائے تو پھر جج کی کریڈیبیلٹی یعنی ساکھ پر سوال اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں۔

ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ نیب کے کیسز میں ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ جج مقررہ تاریخ پر فیصلہ نہ سنائے۔

سنیئر وکیل خالد محمود کا کہنا ہے کہ 190 ملین پاونڈز کے فیصلے کو سنائے جانے میں تاخیر سے نتیجہ اخد نہیں کر لینا چاہیے کہ شاید یہ کسی ڈیل ہونے کا نتیجہ ہے یا شاید کسی کو ریلیف دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ عدالتی معاملے کو سیاست میں منسوب کرنا کسی طور پر بھی جائز نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ جج کو جو بہتر لگا اس کے مطابق اس نے مائینڈ اپلائی کیا اور فیصلہ سنانے کی تاریخ کو 17 جنوری تک بڑھا دیا۔ خالد محمود کا کہنا تھا کہ عدالتی معاملات کو سیاست کی نذر کرنے سے عدلیہ کمزور ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ کسی بھی جج کو بغیر کسی تعطل کے انصاف کی فراہی کو یقینی بنانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ جب کسی مقدمے میں فیصلے کی تاخیر کا شکار ہو تو وکلا برادری میں اس جج کے کردار کے بارے میں چہ مگوئیاں شروع ہو جاتی ہیں جو کہ جج کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔

القادر ٹرسٹ کیس

،تصویر کا ذریعہAl-QADIR TRUST UNIVERSITY

صحافی اور تجزیہ نگار حامد میر کا کہنا ہے کہ اگر عدالت نے فیصلہ سنانا ہو تو ملزمان کی موجودگی ضروری نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ بہت سی ایسی عدالتی مثالیں موجود ہیں جن میں ملزمان کی عدم موجودگی میں عدالتوں کی جانب سے سزا سنائی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے عمران خان کے ساتھ بارگیننگ کے لیے انصاف کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ عمران خان کو بھی معلوم ہے کہ 190 ملین پاونڈز کے مقدمے میں اگر انھیں سزا سنائی گئی تو اس کا نہ انھیں سیاسی طور پر فائدہ ہوگا بلکہ ان کی مقبولیت بھی بڑھے گی۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ ’حکومت اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر کے عمران خان کی مقبولیت میں کمی لانا چاہتی ہے جس میں بظاہر وہ کامیاب ہوتی ہی نظر نہیں آ رہی۔‘

القادر یونیورسٹی سے جڑا 190 ملین پاؤنڈز کیس کیا ہے اور عمران خان پر الزام کیا ہے؟

اس کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کے علاوہ پانچ دیگر ملزمان کو اشتہاری بھی قرار دیا گیا جن میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے مشیر شہزاد اکبر، سابق وزیر ذلفی بخاری، نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے سربراہ ملک ریاض، اُن کے بیٹے اور بشریٰ بی بی کی دوست فرح شہزادی شامل ہیں۔

عدالت نے اُن کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں اور ان کی پاکستان میں جائیدادیں قرق کرنے کا بھی حکم دے رکھا ہے۔

سابق وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاونڈز یا القادر ٹرسٹ کیس اس 450 کینال سے زیادہ زمین کے عطیے سے متعلق ہے جو نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن کی جانب سے القادر یونیورسٹی کے لیے دی گئی تھی۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی القادر یونیورسٹی کے ٹرسٹیز میں شامل ہیں۔

قومی احتساب بیورو کا الزام ہے کہ یہ معاملہ عطیے کا نہیں بلکہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور عمران خان کی حکومت کے درمیان طے پانے والے ایک مبینہ خفیہ معاہدے کا نتیجہ ہے جس کے تحت نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن کی جو 190ملین پاؤنڈز یا 60 ارب روپے کی رقم برطانیہ میں منجمد ہونے کے بعد پاکستانی حکومت کے حوالے کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس سو سائٹی کے ذمے واجب الادا 460 ارب روپے کی رقم میں ایڈجسٹ کر دی گئی تھی۔

پھر بحریہ ٹاؤن نے مارچ 2021 میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کو ضلع جہلم کے علاقے سوہاوہ میں 458 کینال اراضی عطیہ کی اور یہ مبینہ معاہدہ بحریہ ٹاؤن اور عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے درمیان ہوا تھا۔

عمران خان اور دیگر ملزمان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

نیب کی جانب سے دائر کیے گئے ریفرنس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور میں چھ نومبر 2019 کو برطانیہ کے نیشنل کرائم ایجنسی کے ساتھ ڈیڈ سائن کی جبکہ رقم کی پہلی قسط 29 نومبر 2019 کو سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آ چکی تھی۔

جبکہ وفاقی کابینہ سے اس ڈیڈ کی منظوری تین دسمبر 2019 کو لی گئی اور وفاقی کابینہ کو یہ تک نہیں بتایا گیا تھا کہ پہلی قسط پاکستان پہنچ چکی ہے۔

نیب حکام کے مطابق پاکستان کے ایسٹ ریکوری یونٹ، جس کی سربراہی شہزاد اکبر کر رہے تھے، اور نیشنل کرائم ایجنسی کے درمیان بات چیت 2018 سے جاری تھی اور معاملات پر مبینہ طور پر پردہ ڈالنے کے لیے بعد میں کابینہ سے منظوری لی گئی۔

نیب حکام کے مطابق ملک کا کوئی قانون یہ نہیں کہتا کہ نیشنل کرائم ایجنسی اور ایسٹ ریکوری یونٹ کے درمیان سائن ہونے والی ڈیڈ کو پبلک نہیں کیا جائے گا۔

عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف دائر اس ریفرنس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برطانیہ سے آنے والے یہ پیسے وفاقی حکومت کے اکاؤنٹ کی بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں منگوائے گئے۔ اس ریفرنس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزم عمران خان نے بطور وزیراعظم فیور دی جس کے بدلے میں ڈونیشن (عطیہ) ملا۔ انھوں نے کہا کہ نیب آرڈیننس کے تحت اگر معاملہ پبلک افس ہولڈر کے پاس زیر التوا ہو تو اس شخص سے کوئی بھی چیز لینا رشوت کے زمرے میں آتا ہے۔

اس ریفرنس میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا تھا کہ بشری بی بی کی دوست ملزمہ فرح شہزادی کے نام پر بھی 240 کنال اراضی ٹرانسفر ہوئی اور اس کے ساتھ ساتھ اس مقدمے کے ایک اور ملزم زلفی بخاری کے نام پر بھی جب زمین ٹرانسفر ہوئی تو اس وقت بھی ٹرسٹ کا وجود تک نہیں تھا۔