ممبئی کی فضا سموگ زدہ دلی سے بھی زیادہ آلودہ

،تصویر کا ذریعہReuters
انڈیا کا مالیاتی دارالحکومت ممبئی گذشتہ کچھ دنوں سے ’انتہائی خراب‘ فضائی معیار کا سامنا کر رہا ہے۔
عام طور پر سردیوں کے مہینے میں دارالحکومت دلی آلودگی کی خطرناک سطح کے باعث خبروں کی زینت بنتا ہے مگر ایک طویل ساحلی پٹی رکھنے والا شہر ممبئی اس ہفتے کئی مرتبہ دلی سے زیادہ خراب فضا کا حامل رہا ہے۔
ممبئی اب ان انڈین شہروں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو خراب فضا رکھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیز تر تعمیرات، خراب موسم اور گاڑیوں سے نکلنے والی آلودگی خراب ہوتی فضا میں کردار ادا کرنے والے چند عوامل ہیں۔
سرکاری ڈیٹا کے مطابق جمعے کو صبح ساڑھے آٹھ بجے ممبئی میں پی ایم 2.5 ذرات کی تعداد 308 جبکہ دلی میں 259 ریکارڈ کی گئی۔
پی ایم 2.5 ذرات وہ ہوتے ہیں جو پھیپھڑوں میں پھنس کر متعدد بیماریوں کے سبب بن سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہsafar
دو سو سے تین سو کے درمیان کی تعداد کو خراب اور 300 سے 400 کے درمیان کی تعداد کو انتہائی خراب قرار دیا جاتا ہے۔
کئی انڈین شہر بشمول دلی، کولکتہ، کانپور اور پٹنہ میں اکثر پی ایم 2.5 ذرات کی سطح محفوظ سطح سے کہیں اوپر رپورٹ ہوتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق صفر سے لے کر 50 کے درمیان کی تعداد کو ’اچھا‘ اور 51 سے 100 کے درمیان کی تعداد کو ’قابلِ اطمینان‘ سمجھا جاتا ہے۔
اس دوران ممبئی کے مقامی ہسپتالوں میں سانس لینے میں دشواری اور فضائی معیار کے باعث جنم لینے والی بیماریوں کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
ڈاکٹروں نے لوگوں کو ماسک پہننے اور بلاضرورت گھر سے باہر نہ نکلنے کی تاکید کی ہے۔ ممبئی کے شہری حکام نے کہا ہے کہ وہ فضائی معیار کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کر رہے ہیں۔
انڈین شہروں میں خراب فضائی معیار کے باعث لوگوں کو سخت طبی اثرات کا سامنا ہے۔ لینسیٹ کی ایک تحقیق کے مطابق آلودگی کے باعث انڈیا میں سنہ 2019 میں 23 لاکھ سے زیادہ افراد کی قبل از وقت موت ہوئی۔










