’یہ آپریشن فوج کی نہیں، ہماری ضرورت ہے‘: قبائلی عوام ایک اور آپریشن سے نالاں مگر حکومت پُرعزم

آپریشن عزم استحکام

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, فرحت جاوید اور عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ماضی میں کیے جانے والے فوجی آپریشنز کے بعد پاکستان کو یہ توقع نہیں تھی کہ ملک میں دہشتگردی ایک بار پھر بڑھے گی اور حال ہی میں اعلان کردہ آپریشن ’عزمِ استحکام‘ فوج کی نہیں بلکہ حکومت کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے حال ہی میں شدت پسندوں کے خلاف ایک نیا آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا جس پرحزب اختلاف کی جماعتوں سمیت متعدد سیاسی جماعتوں کے علاوہ خاص طور پر قبائلی عمائدین اور عوام نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان کے قیام اور دہشتگردی کی نئی لہر کے خاتمے کے لیے شروع ہونے والے فوجی آپریشن پر سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین سے مشاورت جاری رہے گی۔

اس سوال پر کہ کیا یہ نیا آپریشن محض فوج کی طرف سے آنے والا ایک منصوبہ ہے اور ان کی حکومت مجبوراً اس کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے رہی ہے، خواجہ آصف نے کہا کہ ’حکومت کی ذمہ داری بھی ہے اور یہ ذمہ داری لینی بھی چاہیے۔ یہ آپریشن فوج کی نہیں، ہماری ضرورت ہے۔‘

،ویڈیو کیپشن’دہشتگردی میں شدت کے بعد ہمیں ایک نئی صف آرائی کی ضرورت تھی‘، خواجہ آصف

پاکستان میں اب تک ہونے والے فوجی آپریشنز

ایسا پہلی بار نہیں کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان میں آپریشن کا آغاز کیا گیا ہو۔ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران کئی بڑے اور چھوٹے آپریشنز ملک میں جاری رہے ہیں۔ ان میں زیادہ تر بڑے فوجی آپریشنز سابق فاٹا کے مختلف علاقوں میں مختلف ادوار میں کیے گئے۔

2007 میں خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف پہلا بڑا فوجی آپریشن ’راہ حق‘ کے نام سے شروع کرایا۔

2009 میں سوات میں سکیورٹی کی صورت حال ایک بار پھر اس وقت خراب ہو گئی جب ملا فضل اللہ منظر عام پر آئے۔ اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کی قیادت میں فوج نے ’راہ راست‘ نامی آپریشن شروع کیا جو تین ماہ تک جاری رہا۔

جنوبی وزیرستان میں 2009 میں آپریشن ’راہ نجات‘ شروع کیا گیا جبکہ 2012 میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا فوجی آپریشن ’ضرب عضب‘، جنرل راحیل شریف کی قیادت میں شروع کیا گیا۔

2016 میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوج کی کمان سنبھالی تو آپریشن ’رد الفساد‘ کے نام سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن شروع ہوا اور اس کا دائرہ کار ملک بھر میں پھیلایا گیا تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ آپریشن عزم استحکام میں نقل مکانی نہیں ہو گی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنگذشتہ دو دہائیوں میں متعدد فوجی آپریشنز کے دوران لاکھوں افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی

’ہم اِن آپریشنز کے نام سن سن کر تھک چکے ہیں‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستانی حکومت نے آپریشن کا اعلان تو کر دیا تاہم قبائلی علاقوں کے عوام اس فیصلے سے خوش نظر نہیں آتے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ضلع اورکزئی کے نوجوان خیال زمان کہتے ہیں کہ قبائلی علاقے کے لوگ آپریشنز کے نام سن کر سن کر تھک چکے ہیں۔ ’یہاں تک کہ اب وہ خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ ماضی میں جو آپریشنز کیے گئے ان سے امن قائم نہیں ہوا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ حکومت یہاں امن کے قیام اور علاقے کی ترقی کے لیے اب کوئی تیسرا راستہ اپنائے۔ ’میرا اپنا گھر تباہ ہوا ہے، یہاں تک کہ پورا گاؤں تباہ ہے۔ یہی حال باقی تمام علاقوں میں ہے، یہاں تک کہ بعض علاقوں میں تو لوگوں کی واپسی اب تک نہیں ہوئی اور اب ایک اور آپریشن کا اعلان کر دیا گیا ہے۔‘

ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے عبدالوہاب نے بھی بی بی سی سے بات کی اور کہا کہ قبائلی علاقوں میں آپریشن کے ساتھ ساتھ ان کا خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کیا گیا لیکن ’قبائلی علاقوں میں تبدیلی انضمام سے آئی نہ ہی آپریشنز سے۔‘

باجوڑ سے تعلق رکھنے والے محمد عثمان کہتے ہیں کہ انھیں اس بات پر حیرت ہے کہ ’ہر چند سال بعد ایک آپریشن شروع کر دیا جاتا ہے، لیکن قبائلی علاقوں کی پسماندگی کی طرف توجہ نہیں جاتی۔ اس کے لیے حکومت کے پاس فنڈز نہیں ہوتے۔‘

وزیر دفاع خواجہ آصف بھی قبائلی عوام کی جانب سے نئے آپریشن پر تحفظات کی وجہ ان علاقوں کی پسماندگی اور سابق فاٹا کے خیبرپختونخوا میں ضم ہوتے وقت کیے جانے والے وعدوں پر عملدرآمد نہ ہونا بتاتے ہیں۔

اس سوال پر کہ مقامی عوام کے عدم اعتماد کے بغیر آپریشن کیسے کامیاب ہوگا، خواجہ آصف نے کہا کہ ان کی ترقی کے لیے مختص رقم اور منصوبہ بندی میں کوتاہی کی گئی ہے۔ تاہم ان کے مطابق قبائلی عوام کا ایک بڑا حصہ اس آپریشن کے خلاف نہیں ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اعظم اور فوجی قیادت کے خیالات اپنی جگہ، عوامی سطح پر ردعمل اس بار شدید ہے اور عملی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ مثلاً ضلع کرم میں چمکنی قوم نے فیصلہ کیا ہے کہ آپریشن کے نتیجے میں اگر کسی نے نقل مکانی کی تو انھیں دس لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔

سابق قبائلی علاقوں کی سیاسی جماعتوں نے اس آپریشن کی مخالفت کی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنقبائلی عمائدین اور شہریوں کی جانب سے فی الحال اس آپریشن سے متعلق تحفظات کا اظہارکیا جا رہا ہے۔

وزیرستان میں وانا اولسی پاسون کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ جلد احتجاج اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کریں گے۔ دیر امن جرگے میں آپریشن کی مخالفت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ’شدت پسند سرنگوں سے نہیں آتے، ان کی کڑی نگرانی اداروں کی ذمہ داری ہے۔‘

پشاور میں حکومتی سطح پر منعقد قبائلی امن جرگہ میں آپریشن کی مخالفت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس پر پارلیمان میں بحث کی جائے۔

لیکن سیاسی جماعتوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز، خاص طور پر ان علاقوں کی سیاسی اور قبائلی قیادت، کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا؟

وزیر دفاع اس تاثر کو رد کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر پہلی باقاعدہ بحث ایپکس کمیٹی میں ہوئی جہاں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، سینیئر بیورکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کے لوگ موجود تھے۔ ’سب کے نمائندے تھے، پھر کابینہ میں معاملہ آیا، وہاں بھی سب لوگ تھے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ایپکس کمیٹی کی میٹنگ میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلی نے ’کسی قسم کا اختلاف نہیں کیا۔

’ہو سکتا ہے کہ انھیں مزید اس آپریشن کی تفصیلات کا حصہ بنایا جائے تو وہ بھی راضی ہو جائیں۔‘

خواجہ آصف نے اس تاثر کو رد کیا کہ قبائلی علاقوں سے ان سیاسی جماعتوں سے مشاورت نہیں کی گئی جن کا وہاں ووٹ بینک ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر مزید بات چیت کی جا سکتی ہے۔

سینیئر صحافی مشتاق یوسفزئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن عزم استحکام کا اعلان ہوتے ہی اس کی مخالفت کی وجہ ’ماضی میں کیے گئے آپریشنز، ان سے پیدا ہونے والی لوگوں کی مشکلات اور تکالیف ہیں جو اب تک یہاں کے عوام کے ذہن میں ہیں۔‘

مشتاق یوسفزئی کہتے ہیں کہ انھیں اس آپریشن کی کامیابی کی کوئی امید نہیں ہے کیونکہ ’اس کے اعلان کے ساتھ ہی اسے متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔

’سیاسی جماعتوں نے (اسے) مسترد کر دیا ہے اور عوامی سطح پر بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے اب تک کوئی وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ یہ آپریشن کن علاقوں میں ہوگا، کس سطح پر ہوگا اور اس کو کیسے کامیاب کیا جا سکتا ہے۔‘

’انٹیلی جنس معلومات پر آپریشن تو پہلے سے جاری ہے، ایک نیا نام کیوں؟‘

حکومت کا کہنا ہے کہ آپریشن عزم استحکام دراصل ’انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی ٹارگٹڈ کاروائیاں‘ ہوں گی۔

تاہم پاکستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، جن کا آغاز سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کیا تھا، کئی سالوں سے جاری ہیں۔ ایسے میں اسی طرز پر ایک نیا نام دے کر نئے آپریشن کا آغاز کیوں کیا جا رہا ہے؟

یہ وہ سوال ہے جو سابق فاٹا سمیت خیبر پختونخوا کے شہریوں کی جانب سے سامنے آ رہا ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ دہشتگردی کی حالیہ لہر سے نمٹنے کے لیے نئے جذبے اور شدت کے ساتھ آپریشن کی ضرورت ہے۔ ’اس لانچنگ کی ایک نئے جذبے کے ساتھ ضرورت تھی۔ دہشت گردی کے واقعات میں گذشتہ ایک سال میں جو شدت آئی اس کے بعد نئی صف آرائی کی ضرورت تھی اور اس لڑائی کے لیے اپنے لائنز ری ڈرا کرتے۔‘

حکومت کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ آپریشن سے کوئی نقل مکانی نہیں ہوگی، بلکہ آپریشن انٹیلیجنس کی بنیادوں پر کیا جائے گا۔ جبکہ قبائلی علاقوں کے علاوہ خیبر پختونخوا کے کچھ بندوبستی علاقوں میں پہلے سے ہی انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائیوں کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔

وزیر دفاع کہتے ہیں کہ انھیں (فوج اور حکومتوں کو) توقع تھی کہ دہشت گردی دوبارہ نہیں پھیلے گی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ گذشتہ ایک دہائی میں کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں جو بڑھتی دہشتگردی کا باعث بنے۔ ان کے مطابق اس میں افغانستان سے نیٹو اور امریکی افواج کا انخلا اور پاکستان میں عمران خان کی حکومت کے دوران ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو ملک واپس لانا شامل ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں امید تھی کہ افغان حکومت ہم سے تعاون کرے گی مگر وہ ان (طالبان عسکریت پسندوں) کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آئے کیونکہ وہ ان کے اتحادی تھے۔

’ہم نے کہا کہ کوئی تو حل نکالیں۔ ان کی مغربی سرحد کی طرف نقل مکانی کرانے پر بھی بات ہوئی اور تقریبا دس ارب روپے دینے کو تیار تھے۔ مگر خدشہ تھا کہ یہ وہاں سے بھی واپس آ سکتے ہیں۔‘

خواجہ آصف نے کہا کہ طالبان سے بات چیت کے بعد ان کے چار سے پانچ ہزار لوگوں کو واپس لانے کا تجربہ ناکام ہوا اور ’طالبان کے وہ ساتھی جو افغانستان سے کاروائیاں کر رہے تھے انھیں پاکستان میں پناہ گاہیں مل گئیں۔ اب وہ آتے ہیں، ان کے گھروں میں رہتے ہیں اور پھر کارروائیاں کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ جن کے خلاف کاروائیاں کی جا رہی ہیں، ان میں واپس آنے والے طالبان جنگجو بھی شامل ہیں۔

چینی شہری پاکستان میں سی پیک کے منصوبوں پر کام کرتے ہوئے متعدد حملوں کا نشانہ بنے ہیں

،تصویر کا ذریعہRESCUE WORKER

،تصویر کا کیپشنرواں برس بشام میں مبینہ خودکش حملے میں پانچ چینی باشندوں کی ہلاکت کے بعد چین نے سخت ردعمل دیا تھا

کیا ایک نیا آپریشن چین کے دباؤ کی وجہ سے کیا جا رہا ہے؟

حال ہی میں چینی شہریوں پر حملوں کے بعد یہ تاثر عام ہے کہ پاکستان کو چین کی جانب سے ان کے شہریوں اور سی پیک منصوبوں کے لیے فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔

لیکن وزیر دفاع خواجہ آصف کہتے ہیں کہ چین کی طرف پاکستان پر یہ آپریشن شروع کرنے کے لیے کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں۔

’ان کا یہ دباؤ ضرور ہے کہ وہ یہاں اپنی سرمایہ کاری دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں، سی پیک ٹو کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ان کے سکیورٹی سے متعلق خدشات ہیں۔ انھیں اچھا لگے گا کہ پورا پاکستان محفوظ ہو، مگر فی الحال وہ چاہتے ہیں کہ جہاں جہاں ان کے لوگ ہیں، اور ان کا کام ہے، وہ محفوظ ہوں۔‘

اس سوال پر کہ کیا اس آپریشن کے ذریعے چینی منصوبوں کو سکیورٹی تھریٹ پر بھی قابو پایا جائے گا، خواجہ آصف نے کہا کہ ’ان کے خلاف تھریٹ پر بھی کام ہوگا مگر اس فوجی آپریشن کا مقصد عام پاکستانی شہریوں کو تحفظ دینا ہے۔‘

چین کے پاکستان میں سی پیک منصوبے سے جڑے حملوں میں بلوچستان سے علیحدگی پسند تحریکوں اور عسکریت پسند تنظیموں کا ہاتھ رہا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا بلوچستان میں ان تنظیموں سے بھی بات چیت کے دروازے کھولے جائیں گے، خواجہ آصف نے کہا کہ ’اگر وہ پاکستان کے فولڈ میں آنا چاہتے ہیں، اور بین الاقوامی کوہیژن کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو کیوں نہیں۔ ہم بالکل ان سے بات کرنے کو تیار ہیں۔‘

’ہم انھیں یہ نہیں بتا سکتے کہ ہم آ رہے ہیں، آپ تیاری کر لیں‘

پاکستانی وزیر دفاع نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا۔

انھوں نے افغانستان کی سرحدی حدود کے اندر پاکستان کی جانب سے کی گئی فوجی کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بالکل ہم نے ان کی سرحد کے اندر کارروائیاں کی ہیں کیونکہ ان کی سرزمین سے لوگ آ کر یہاں پاکستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں، تو ہم نے انہیں کیک، پیسٹری تو نہیں کھلانی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ایسی کارروائیوں میں حملہ آوروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ کہ پاکستان مستقبل میں بھی یہ عمل جاری رکھے گا۔

اس سوال پر کہ عالمی سرحدی قوانین کے مطابق کیا پاکستان افغان حکومت کو ایسی کسی بھی کارروائی سے پہلے اطلاع دیتا ہے، وزیر دفاع نے کہا کہ ’ایسا نہیں کیا جاتا، کیونکہ اس سے سرپرائز کا عنصر ختم ہو جائے گا۔ ہم انھیں یہ نہیں بتا سکتے کہ ہم آ رہے ہیں، آپ تیاری کر لیں۔‘