’آپ کسی بھی گمنام ویب براؤزر کے ذریعے ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں‘: سی آئی اے کی مخبر بھرتی کرنے کی نئی مہم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, نک مارش
- عہدہ, بی بی سی نیوز
امریکی خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) نے چین، ایران اور شمالی کوریا میں مخبروں کو بھرتی کرنے کے لیے ایک نئی مہم شروع کی ہے۔
امریکی خفیہ ایجنسی نے بدھ کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مینڈارن، فارسی اور کورین زبانوں میں پیغامات شائع کیے، جس میں صارفین کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ کیسے محفوظ طریقے سے سی آئی سے رابطہ کرسکتے ہیں۔
اس سے قبل یوکرین جنگ کی ابتدا کے بعد سی آئی اے نے ایسی ہی مہم روسی شہریوں کے لیے بھی شروع کی تھی اور ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہ مہم انتہائی کامیاب رہی تھی۔
سی آئی اے ترجمان کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ’ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ دیگر آمرانہ حکومتوں سے منسلک افراد کو معلوم ہو کہ ہم ابھی بھی کام کر رہے ہیں۔‘
بھرتی کے پیغامات فیس بُک، یوٹیوب، ایکس، ٹیلی گرام، انسٹاگرام اور لنکڈان جیسے پلیٹ فارمز کے ساتھ ساتھ ڈارک ویب پر بھی شیئر کیے گئے ہیں اور دلچسپی رکھنے والے افراد سے ان کا نام، پتا اور رابطہ کرنے کی تفصیلات پوچھی گئی ہیں۔
تفصیلی ہدایات میں صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سی آئی اے سے اس کی آفیشل ویب سائٹ کے ذریعے قابل اعتماد انکرپٹڈ ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (VPNs) یا کسی بھی ایسے گمنام ویب براؤزر کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں جو ڈارک ویب تک رسائی کے لیے استعمال ہوتا ہو۔
سیول میں ہانکوک یونیورسٹی آف فارن سٹڈیز میں بین الاقوامی سیاست کے ایسوسی ایٹ پروفیسر میسن رچی کہتے ہیں کہ ’مجھے پہلے کبھی اس طرح کی بھرتی کی کوشش یاد نہیں، اس طرح یوٹیوب یا سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے اور کورین زبان میں۔‘
انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’ایسا لگتا ہے کہ وہ اس مہم کو روس میں ملنے والی کامیابی کی بنیاد پر بنا رہے ہیں لیکن میرا سوال یہ ہے کہ شمالی کوریا کے زیادہ تر لوگوں کے پاس انٹرنیٹ تک رسائی نہیں تو پھر یہ مہم کتنی کارگر ثابت ہو گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پروفیسر رچی کا کہنا ہے کہ امریکہ شمالی کوریا کے ان تاجروں کو نشانہ بنا سکتا ہے جو غیر رسمی طور پر چین کے ساتھ سرحد عبور کرتے ہیں اور وی پی این نیٹ ورکس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہCIA/Facebook
اس کے باوجود بھی امریکی انٹیلیجنس کے سربراہان پراعتماد ہیں کہ وہ ان ممالک میں کافی غیر مطمئن شہریوں تک پہنچ جائیں گے، جو ممکنہ طور پر مفید معلومات کے ساتھ سی آئی اے سے رابطہ کریں گے۔
سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیوڈ کوہن نے بلومبرگ کو بتایا کہ ’بہت سارے ایسے لوگ ہیں جو معلومات تک رسائی رکھتے ہیں اور جو چین میں شی کی حکومت سے ناخوش ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ کے اندر ایسے لوگ موجود ہیں جو بہت سے عوامل کی وجہ سے بنیادی طور پر اس سمت کو پسند نہیں کرتے جہاں شی ملک کو لے جا رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ کام کر کے اپنے ملک کی مدد کر سکتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہCIA/YouTube
چینی سفارت خانے کے ترجمان لیو پینگیو نے اس حوالے سے کہا ہے کہ امریکہ چین کے خلاف ’منظم‘ اور غلط معلومات پھیلانے کی مہم چلا رہا ہے۔
لیو نے ایک بیان میں کہا کہ ’چینی عوام اور سی سی پی (چینی کمیونسٹ پارٹی) کے درمیان دراڑ پیدا کرنے یا ان کے قریبی تعلقات کو کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکام ہو جائے گی۔‘
ڈاکٹر رچی کہتے ہیں کہ مختلف ممالک میں اس پیمانے پر مہم چلا کر امریکہ یہ بتا رہا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے چیلنجز کو کس طرح دیکھتا ہے۔
پروفیسر رچی نے مزید کہا کہ ’امریکہ کو اب یقین ہو گیا ہے کہ یہ صرف چین، روس، ایران اور شمالی کوریا کے ساتھ دو طرفہ تصادم کا سلسلہ نہیں بلکہ اس کی لڑائی ایک ابھرتے ہوئے نئے بلاک کے ساتھ ہے۔‘
’اس سے واضح طور پر سرد جنگ کے احساسات تازہ ہوتے ہیں۔‘













