بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ: جب چار سال بعد شادی کی تقریب میں موجود اجنبی کی شناخت ہوئی

    • مصنف, جوناتھن گیڈس
    • عہدہ, بی بی سی گلاسکو

مشیل اور جان وائلی کی چار برس قبل نومبر2021 میں برطانیہ کے سکاٹش ساحل پر واقع ایک بوتیک ہوٹل میں خوشگوار شادی ہوئی تھی جس میں رشتہ داروں اور دوستوں کے درمیان ایک اجنبی شخص بھی موجود تھا۔

اس جوڑے کو اجنبی شخص کی موجودگی کا احساس اس وقت ہوا جب شادی کی تصاویر میں ایک سیاہ سوٹ پہنے طویل قامت شخص نظر آیا جس کے چہرے پر حیرانگی کے آثار نمایاں تھے۔

انھوں نے اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور شادی ہال کے عملے سے اس اجنبی شخص کے بارے میں پوچھا جن کے پاس اس شخص سے متعلق کوئی جواب نہیں تھا۔ جوڑے نے فوٹو گرافر سے بھی دریافت کیا جس نے لاعلمی ظاہر کی۔

آخر کار آن لائن مواد یا تصاویر کے ذریعے لاپتا افراد کا کھوج لگانے والے ایک گروپ نے اس پراسرار شخص کی شناخت کر لی۔

مذکورہ شخص کی شناخت اینڈریو ہل ہاؤس کے نام سے ہوئی ہے اور اس نے تین کلو میٹر دُور شادی کی کسی دوسری تقریب میں جانا تھا۔ لیکن غلطی سے وہ مشیل اور جان وائلی کی شادی میں پہنچ گئے۔

بی بی سی سکاٹ لینڈ سے گفتگو کرتے ہوئے اینڈریو کا کہنا تھا کہ اُنھِیں غلط فنکشن میں پہنچنے کا اُس وقت علم ہوا جب دلہن سامنے آئی۔

’کہیں نہ کہیں دماغ میں رہا کہ اجنبی شخص کون تھا‘

مشیل اور جان کی شادی 20 نومبر2021 کو پریسٹک کے ایک کارلٹن ہوٹل میں ہوئی تھی۔ جب اُنھوں نے شادی کی تقریب کی تصاویر کا جائزہ لیا تو متجسس ہوئے کہ یہ شخص کون ہے؟

اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے سب سے پہلے اپنے والدین سے پوچھا، پھر اپنے دیگر قریبی رشتہ داروں سے پوچھا۔ پھر ہم نے ہوٹل والوں سے دریافت کیا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کون ہے۔

دلہن نے اس شخص کی شناخت کے لیے فیس بک پوسٹ بھی کی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ معمہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتا گیا۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ زندگی میں آگے بڑھ گئیں تھیں، لیکن یہ کہیں نہ کہیں ان کے دماغ میں موجود رہا۔

مشیل کا کہنا تھا کہ ’میں سوچتی تھی کہ کسی نہ کسی کو تو پتا ہو گا کہ یہ شخص کون ہے۔۔ میں نے اپنے شوہر سے بھی دوبارہ پوچھا کہ کیا آپ واقعی اس نہیں جانتے؟ ہو سکتا ہے کہ یہ آپ کے آفس میں کام کرتا ہو۔‘

اُن کے بقول پھر ہم کبھی یہ سوچتے تھے کہ شاید یہ خاندان کی کسی لڑکی کا بوائے فرینڈ ہے یا فوٹو گرافرز کی مدد کے لیے آنے والا شخص ہے۔

اس کے بعد ہم نے ایک کانٹینٹ کریٹر ڈیزا سے اپیل کی کہ وہ یہ تصاویر شِیئر کرے اور اس اجنبی شخص کی شناخت میں ہماری مدد کرے اور یہی وہ موقع تھا جب ہمیں اس شخص کا پتا چل گیا۔

اینڈریو اس شادی میں کیسے پہنچے؟

اب چلتے ہیں اُس معاملے کی جانب کہ اینڈریو کیسے اس شادی پر پہنچ گئے؟

اینڈریو شادی پر جانے کے لیے لیٹ ہو رہے تھے، وہ مقررہ وقت سے پانچ منٹ پہلے ہی شادی کے مقام پر پہنچ گئے جس کا اُنھیں بتایا گیا تھا۔ اُنھوں نے فوراً اپنی سیٹ سنبھالی اور بیٹھ گئے۔

یہ اُن کے دوست ڈیوڈ کی شادی تھی اور اینڈریو مطمئن تھے کہ وہ ڈیوڈ کی آمد سے پہلے ہی یہاں پہنچ گئے ہیں۔ لیکن اینڈریو کا دل اُس وقت ڈوبنے لگا، جب اُنھوں نے دُلہن کو آتے دیکھا۔

اینڈریو صرف اپنے دوست اور دُلہن کو ہی جانتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ کوئی اور دُلہن دیکھ کر اُن کا ماتھا ٹھنکا۔ لیکن اس وقت تک شادی کی تقریب شروع ہو چکی تھی اور سب کے درمیان سے شادی کے عین دوران اُٹھ کر جانا نامناسب تھا۔

اینڈریو چھ فٹ دو انچ کے طویل قامت شخص تھے اور یہی وجہ تھی کہ اُن کے لیے خود کو چھپانا بہت مشکل تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں وہاں بیٹھا یہ سوچ رہا تھا کہ یہ سب جلد ختم ہو۔ ‘

درحقیقت اینڈریو کے دوست نے اُنھیں شادی کے مقام کا غلط پتا بتایا تھا۔ اُنھیں جہاں پہنچنا تھا وہ جنوب میں ویسٹرن ہوٹل تھا۔

وہ کیوں کہ صرف اپنے دوست اور اُس کی ہونے والی دلہن کو جانتے تھے۔ اس لیے تقریب میں اُس وقت تک پرسکون انداز میں بیٹھے رہے جب تک کہ اُنھوں نے دلہن کو نہیں دیکھ لیا۔

جب اس شادی کی تقریب ختم ہوئی تو اینڈریو، ڈیوڈ کو فون کرنے کے لیے دوڑے، لیکن اسی دوران اُنھیں کسی نے آواز دی کہ مشترکہ تصویر بنوانے کے لیے آ جائیں۔ ’میں ناں کہتا کہتا رہ گیا اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میں پچھلی رو میں اپنا منہ چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا ہوں۔‘

آخر کار اینڈریو وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور اس دوران اُنھوں نے تسلیم کیا کہ اس شادی میں کولا کا ایک گلاس پی چکے تھے۔ باہر نکل کر اینڈریو نے ڈیوڈ کو فون کیا اور پوچھا کہ ’آپ لوگ کدھر ہیں۔ اس دوران اُنھیں پتا چلا کہ وہ اس مقام سے بہت دُور ہیں۔‘

’ڈیوڈ نے بتایا کہ ’ہم لوگ فوارے کے قریب تصاویر بنوا رہے ہیں۔‘ میں نے دائیں بائیں دیکھا وہاں کوئی فوارہ نہیں تھا۔‘

آخر کار اینڈریو اس شادی میں پہنچنے میں کامیاب ہو ہی گئے جہاں اُنھیں جانا تھا۔ وہاں پہنچ کر اینڈریو نے اپنے ساتھ ہونے والی روداد سنائی جس پر محفل میں موجود افراد خوب لطف اندوز ہوئے۔

چار برس بعد اُن کے ایک دوست نے ایک سوشل میڈیا اپیل بھیجی جس کے بعد اینڈریو نے یہ ساری رُوداد بتائی۔

اینڈریو کی وضاحت اور غلطی سے کسی دوسری شادی میں شرکت کی کہانی پر 600 افراد نے کمنٹس دیے اور 29 ہزار افراد نے اس لائیک کیا۔

اس واقعے کے بعد وہ دلہن مشیل کے ساتھ بھی رابطے میں رہے اور اب مشیل اور اُن کے خاوند اینڈریو کے فیس بک فرینڈ بن گئے ہیں۔

مشیل کہتی ہیں کہ وہ یہ سب جان کر کافی دیر تک ہنستی رہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ ہمیں اُس شخص کا چار سال بعد پتا چل گیا جو غلطی سے ہماری شادی میں گھس آیا تھا۔‘