آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’میری بیٹی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر کیوں وائرل کی‘، گجرات میں سکول کی طالبہ کے والد شکایت کرنے پر قتل
- مصنف, لکشمی پٹیل
- عہدہ, بی بی سی ہندی
’میں دسویں کلاس میں پڑھتی ہوں۔ میں اچھے نتائج حاصل کرنے کے لیے بہت محنت کر رہی تھی۔ میں نرس بننا چاہتا تھی، لیکن اب مجھے پڑھائی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ میں مزید تعلیم حاصل نہ کر سکوں۔ میں نے دوست بنائے ہیں مگر اس کا نتیجہ اب میرے سامنے ہے۔ میں نے اپنے والد کو کھو دیا، جسے میں زندگی بھر کبھی نہیں بھول سکوں گی۔‘
یہ کہانی نو عمر لڑکی کی ہے، جس نے سوشل میڈیا پر ایک نوجوان سے دوستی کی مگر اس نوجوان نے اس لڑکی کی مبینہ طور پر فحش ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کر دی۔
ایک نو عمر کے لیے یہ سارا تجربہ کسی صدمے سے کم نہیں۔ وہ اپنے آپ سے پوچھ رہی ہیں کہ میں نے تو صرف دوستی کی تھی، میرا کیا قصور تھا کہ میں نے اپنے والد کو کھو دیا، میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟
یہ حملہ 24 دسمبر کی رات دس بجے احمد آباد شہر سے متصل کھیڑا ضلع کے چکلاسی گاؤں میں ہوا۔
28 برس سے بی ایس ایف میں خدمات انجام دینے والے میلاجی واگھیلا کو جب راجستھان کے باڑمیر ٹرانسفر کیا گیا تو وہ 15 دن کی چھٹی لے کر اپنے گاؤں واپس آگئے۔ اس دوران انھیں معلوم ہوا کہ ان کی بیٹی کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے، جس پر انھوں نے لڑکے کے گھر جا کر احتجاج کیا۔
نوعمر لڑکی کا کہنا ہے کہ ’ان کا پاسورڈ لڑکے کے پاس تھا اور انھیں بلیک میل کیا گیا اور ملاقات کا وقت مانگا گیا اور پھر تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کر دیں۔‘
انڈیا کی مغربی ریاست گجرات میں پولیس نے ایک فوجی کو پیٹ کر ہلاک کرنے کے الزام میں سات افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس شکایت کے مطابق میلاجی واگھیلا پر اس وقت حملہ کیا گیا جب انھوں نے اپنی نوعمر بیٹی کی ویڈیو آن لائن پوسٹ کیے جانے کے خلاف احتجاج کیا۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ ویڈیو اپ لوڈ ہونے کے بعد وائرل ہو گئی۔ مبینہ حملہ آور ایک نوعمر لڑکے کے خاندان کے افراد ہیں جن پر میلاجی واگھیلا نے ویڈیو اپ لوڈ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میلاجی کی اہلیہ اور بیٹا بھی اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔ متاثرہ شخص انڈیا کی بارڈر سکیورٹی فورس کے ملازم تھے۔
یہ بھی پڑھیے
پولیس شکایت میلاجی واگھیلا کی اہلیہ منجولا کی طرف سے درج کرائی گئی تھی۔ یہ حملہ سنیچر کی رات گجرات کے کھیڑا ضلع میں ہوا۔میلاجی واگھیلا، ان کی اہلیہ، دو بیٹے اور بھتیجا نوجوان لڑکے کے گھر گئے تھے اور ان کے خلاف مبینہ طور پر لڑکی کی ویڈیو اپ لوڈ کرنے کی شکایت کی تھی۔
کئی خبروں میں اس ویڈیو کو ’فحش‘ قرار دیا گیا ہے، لیکن بی بی سی اس کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
پولیس شکایت کے مطابق اس دوران بحث لڑائی تک بڑھ گئی اور لڑکے کے رشتہ داروں نے میلاجی واگھیلا اور ان کے خاندان پر ’لکڑی کے ڈنڈوں‘ اور ’تیز دھار آلات‘ سے حملہ کیا۔
میلاجی واگھیلا شدید زخمی ہوئے اور فوراً ہی دم توڑ گئے۔ ان کا ایک بیٹے کے سر پر زخم آئے ہیں اور وہ اس وقت ہسپتال میں داخل ہیں۔
پولیس نے سات ملزمان کے خلاف قتل سمیت دیگر مقدمات درج کر لیے ہیں۔ انھیں پیر کو جیل بھیج دیا گیا تھا اور انھوں نے ابھی تک کوئی بیان نہیں دیا ہے۔