’شوہر جس بستر پر دو دن سے سو رہا تھا، اسی کے نیچے سے بیوی کی لاش ملی‘

    • مصنف, پرینکا جگتاپ
    • عہدہ, بی بی سی مراٹھی

انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر کے معروف شہر پونے کے رہائشی اور ٹیکسی ڈرائیور امیش نے ایک ہفتے قبل سات نومبر کو کام پر جانے سے قبل جب اپنی 24 سالہ اہلیہ کو الوداع کہا تو ان کے گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ ان کی آخری ملاقات ہو گی۔

امیش کام کے سلسلے میں ایک سواری کو لے کر دوسرے شہر روانہ ہوئے جو پونے سے 250 کلومیٹر دور واقع ہے۔ پونے سے بیڈ شہر کا سفر پانچ سے چھ گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔

تاہم ان کو اس وقت پریشانی لاحق ہونے لگی جب انھوں نے اپنی اہلیہ، سونپالی، کو فون کیا لیکن بات نہیں ہو پائی۔ سونپالی کا فون مسلسل بند تھا۔

ایسے میں امیش نے پریشانی میں پونے میں اپنے ایک دوست سے رابطہ کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ فرسنگی میں واقع ان کے گھر جا کر سونپالی کی خیریت دریافت کریں۔

امیش کے دوست نے کچھ دیر بعد ان کو بتایا کہ سوپنالی گھر پر نہیں تھیں۔ امیش مزید پریشان ہو گے۔

ایک دن بعد، آٹھ نومبر کو، جمعہ تھا جب امیش پونے واپس آئے۔ گھر کا دروازہ باہر سے بند تھا اور ان کی اہلیہ کا کوئی اتا پتا نہیں۔

امیش نے دروازہ کھولا لیکن گھر میں بھی سونپالی کا کوئی سراغ نہیں تھا۔ اب امیش نے اپنی بیوی کو تلاش کرنا شروع کر دیا۔ پڑوسیوں اور اپنے رشتہ داروں سمیت سب جگہ پتہ کرنے پر بھی انھیں سونپالی کا کوئی سراغ نہیں ملا تو آخرکار انھوں نے پولیس سے رابطہ کیا۔

پولیس نے امیش کے بیان کے مطابق سونپالی کی گمشدگی کی رپورٹ درج کر لی۔ تھکے ہارے امیش گھر واپس پہنچے تو صوفہ کم بیڈ پر ہی لیٹ کر سو گئے۔

ان کے گمان میں ہی نہیں تھا کہ اسی کے نیچے ان کی اہلیہ کی لاش موجود ہے۔ یہ انکشاف انھیں اس وقت ہوا جب انھوں نے گھر کی تلاشی یہ سوچ کر لی کہ کہیں کچھ چوری تو نہیں ہوا۔

لیکن یہ سب ہوا کیسے؟

دوسرے دن اچانک بیوی کی لاش ملی

فرسنگی کی پولیس انسپکٹر منگلا موڈوے نے بی بی سی مراٹھی کو بتایا کہ ’امیش دو دن سے اپنی بیوی کو تلاش کر رہا تھا۔ پھر 9 تاریخ کو اس نے گھر کی تلاشی شروع کر دی کہ آیا گھر میں سامان یا زیورات تو چوری نہیں ہوئے ہیں۔‘

امیش اپنی اہلیہ کے ساتھ کرائے کے اس گھر میں اکیلے ہی رہتے تھے اور دونوں کی محض چار سال قبل شادی ہوئی تھی۔ شادی کے بعد وہ ہڈپسر کے فرسنگی علاقے میں ہنڈیکر بستی میں رہائش پزیر تھے۔

امیش نے بعد میں پولیس کو بتایا کہ جب اس نے گھر کی تلاشی شروع کی تو صوفہ کم بیڈ کی بھی تلاشی لی جہاں اسے اس کی بیوی کی لاش پڑی ملی۔ اس نے پولیس کو اس واقعے کی اطلاع دی اور پولیس نے امیش کی شکایت پر قتل اور ڈکیتی کے الزام میں ایف آئی آر درج کر لی ہے۔

اس کے بعد، پولیس نے ایک ٹیم کو امیش کے گھر تحقیقات کے لیے بھیجا اور سوپنالی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا۔

قتل کیسے ہوا؟

پولیس انسپکٹر منگلا موڈوے نے سوپنالی پوار کی موت کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق سوپنالی کو گلا دبا کر قتل کیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ’اس کے علاوہ اس کی گردن پر ناخن کے نشانات پائے گئے ہیں جس سے لگتا ہے کہ ان کے ساتھ زور زبردستی کی گئی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ کسی نے امیش پوار کی بیوی کی لاش کو اسی بستر کے نیچے چھپا دیا جہاں وہ سو رہے تھے۔‘

قتل کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟

پولس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ سات نومبر کو ہونے والے اس قتل کے پیچھے پوار خاندان کے کسی جاننے والے شخص کا ہاتھ ہے۔ انھیں ایک ملزم کی تلاش بھی ہے۔

منگلا موڈوے نے بی بی سی مراٹھی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مشتبہ ملزم اکثر یہ کہتے ہوئے سوپنالی کے گھر ٹھہرتا تھا کہ اس گھر میں میاں بیوی کے درمیان لڑائی ہوئی ہے۔ پڑوسیوں کو بتا رکھا تھا کہ وہ امیش کا چچا ہے لیکن پولیس کی تفتیش سے معلوم ہوا کہ مشتبہ ملزم ان کا رشتہ دار نہیں تھا۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ ’سوپنالی کا ملزم کے ساتھ ایکسٹرا میریٹل افیئر تھا اور یہی اس کے قتل کی وجہ بنا۔‘

پولیس تفتیش کے مطابق سوپنالی کا شوہر امیش شراب نوشی کا عادی تھا اور گھر پر زیادہ نہیں رہتا تھا۔ ٹیکسی ڈرائیور ہونے کی وجہ سے وہ اکثر گھر سے باہر رہتا تھا اور اس کی غیر موجودگی میں ملزم کافی دنوں تک اس کے گھر ٹھہرا کرتا تھا۔

تاہم اس واردات کے بعد اس مقام پر خوف پھیل چکا ہے۔ ہر کوئی سوچ رہا ہے کہ سوپنالی کے قتل کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے منگلا موڈوے نے کہا کہ ’ملزم نے سوپنالی کو ایک دوسرے لڑکے کے ساتھ کافی دیر تک فون پر بات کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس کے بعد اس کی سوپنالی کے ساتھ گرما گرم بحث ہوئی ہوگی اور ہاتھا پائی میں اس نے سوپنالی کا گلا دبا کر قتل کر دیا ہوگا۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’لیکن ابھی یقینی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔ مشتبہ ملزم کی گرفتاری کے بعد ہی پوری تصویر واضح ہو سکے گی۔‘

منگلا موڈوے نے کہا کہ ’ہم ابھی اس شخص کا نام ظاہر نہیں کر سکتے کیونکہ ہماری دو ٹیمیں ابھی تک اس کی تلاش میں ہیں۔ بیڈ ضلع کے گیورائی میں ہمارا آپریشن جاری ہے۔ سوپنالی کی لاش ملنے کے بعد سے اس شخص کا فون بند ہے۔ اس لیے تفتیش میں مشکلات کا سامنا ہے۔‘

اس عمارت میں کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ بھی نہیں تھا۔ پولیس نے کہا کہ عمارت کی طرف جانے والی سڑک پر نصب سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے تفتیش جاری ہے۔