’سسرال والوں نے میرا گلا گھونٹا، مارا پیٹا اور نوکرانی بنا کر رکھا‘: شادی کے بعد پاکستان سے برطانیہ جانے والی لڑکی کی کہانی

- مصنف, نتاشا ٹرنی
- عہدہ, بی بی سی
شادی کے وقت سارہ کی عمر محض21 برس تھی۔ جس شخص سے ان کی زبردستی شادی کی گئی اس نے شادی کے فوراً بعد ان سے برا سلوک شروع کر دیا۔ سارہ کو بے بسی کے احساس نے گھیر لیا۔۔۔ وہ دنیا سے الگ تھلگ اور تنہائی میں گھری ہوئی تھی۔
سارہ بتاتی ہیں کہ وہ مجھے ڈرانے کے لیے میرے چہرے کے قریب لائٹر جلاتا اور کہتا ’میں تمہیں جلا دوں گا۔‘‘
سارہ کا سسرال برطانیہ میں تھا اور 2022 میں وہ بھی اپنے شوہر اور سسرال کے ساتھ رہنے کے لیے پاکستان سے برطانیہ چلی گئیں جہاں ان کے شوہر کا رویہ اور بھی برا ہو گیا۔
سارہ کے والدین نے ان سے جس خوشگوار ازدواجی زندگی کا وعدہ کیا تھا اس کے برعکس ان کے شوہر نے انھیں مارنا پیٹنا شروع کر دیا اور سسرال والوں نے نوکرانی کی طرح کام کرنے پر مجبور کیا۔
جب کسی شادی میں ایک یا دونوں افراد اپنی مرضی سے شامل نہ ہوں اور انھیں دباؤ یا ظلم کے ذریعے مجبور کیا جائے تو اسے جبری شادی کہا جاتا ہے۔
برطانیہ میں 2014 میں اینٹی سوشل بیہیویئر، کرائم اینڈ پولیسنگ ایکٹ کے تحت ایسی شادیاں غیر قانونی قرار دی گئیں اور اس جرم میں سزا سات سال تک قید ہو سکتی ہے۔
گذشتہ سال کراؤن پروسیکیوشن سروس کے اعداد و شمار کے مطابق اس جرم کے تحت 30 مقدمات چلائے گئے جن میں سے 16 میں سزا ہوئی۔
لیکن کرما نروان جیسی فلاحی تنظیمیں، جو جبری شادی سے متاثرہ خواتین کی مدد کرتی ہیں، کا کہنا ہے کہ درج کیے گئے کیس متاثرین کی صحیح تعداد کی عکاسی نہیں کرتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈربی میں قائم یہ خیراتی تنظیم کہتی ہے کہ اسے پچھلے سال 624 کالز موصول ہوئیں جو ہوم آفس کے فورسڈ میرج یونٹ کی ریکارڈ کردہ 229 کالز سے تقریباً تین گنا زیادہ ہیں۔

’تمہارا ریپ کیا جائے گا‘
ہم نے سارہ کا نام تبدیل کر دیا ہے اور برطانیہ میں جس جگہ انھیں لایا گیا تھا اس کا ذکر نہیں کیا تاکہ ان کی شناخت محفوظ رہ سکے۔
سارہ پہلی بار برطانیہ کا دورہ کر رہی تھیں، وہ انگریزی زبان نہیں بولتی تھیں اور ملک کے بارے میں بہت کم جانتی تھیں۔
وہ یاد کرتی ہیں کہ خاندان اور دوستوں نے انھیں یقین دلایا کہ انگلینڈ میں ان کی زندگی ’بہتر‘ ہو گی اور چند ہفتوں کے لیے واقعی ان کا رشتہ بہتر ہونے لگا تھا۔
سارہ کہتی ہیں کہ ’پھر آہستہ آہستہ ہر چیز پر پابندی لگنا شروع ہو گئی، باہر مت جاؤ، یہ مت کرو، ایسا مت کرو، کوئی کام نہ کرو، بس گھر رہو۔‘
وہ مزید بتاتی ہیں کہ انھیں کہا گیا کہ اگر کبھی بھی وہ گھر کی حدود سے باہر گئیں تو برطانیہ کے لوگ ان کا ریپ کر سکتے ہیں یا قتل کر سکتے ہیں۔
سارہ کہتی ہیں کہ ’برطانیہ میں مجھے کہا گیا کہ تم باہر نہیں جا سکتیں، اگر اکیلے باہر گئیں تو تمہارا ریپ ہو جائے گا، دن ہو یا شام، اکیلے مت جانا۔‘

سارہ اچانک غیر ارادی طور پر غلامی جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ سسرال نے انھیں نوکرانی کی طرح گھریلو کام کرنے پر مجبور کیا اور گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی۔
سارہ کہتی ہیں کہ ان کی ساس انھیں ’نوکرانی‘ کہہ کر پکارتی تھیں۔
ان کی حالت اس وقت مزید خراب ہو گئی جب شوہر نے جسمانی تشدد شروع کر دیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’کبھی وہ مجھ پر چیزیں پھینکتا، مجھے دھکا دیتا، کبھی مجھے لاتیں مارتا۔‘
سارہ کے لیے حالات اس وقت اور بھی ناقابل برداشت ہو گئے جب انھیں معلوم ہوا کہ ان کے شوہر اور سسرال والوں نے ان کے فون کا وائی فائی بند کر دیا ہے۔
’اس نے میری گردن پکڑ لی‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
دوستوں اور گھر والوں سے رابطہ نہ ہونے پر اور ڈر اور تنہائی میں گھری ہوئی سارہ کہتی ہیں کہ انھوں نے ہمت کر کے اپنے شوہر سے پوچھا کہ ان کے فون کا وائی فائی کیوں بند ہے۔
اس کا نتیجہ تباہ کن تھا۔
وہ بتاتی ہیں کہ شوہر غصے میں آگ بگولا ہو گیا۔۔۔ ٹی وی ریموٹ اور چابیاں ان پر پھینکیں جو ان کے چہرے پر لگیں۔
سارہ کہتی ہیں کہ ’اس نے میرا گلا پکڑا۔ مجھے دیوار سے مارا۔ اس نے میرے سر پر تین سے چار بار مارا۔‘
انھیں لگا کہ وہ دم گھٹنے سے مر جائیں گی۔
سارہ کو یاد ہے کہ ان کی ساس یہ سب ہوتا ہوا دیکھتی رہیں اور بس یہ کہا کہ انھیں خاموش رہنا چاہیے تھا۔
سارہ کے مطابق اسی رات ان کے شوہر نے ’دروازے کے پاس سو کر پہرہ دیا تاکہ میں باہر نہ جا سکوں۔‘
سارہ کو یاد ہے کہ شوہر کے حملے کے بعد وہ کتنی ڈری ہوئی تھیں، اس حملے کے نتیجے میں ان کا چہرہ سوج گیا تھا۔
وہ کہتی ہیں ’مجھے نہیں معلوم میں نے کیا کیا یا کیسے کیا لیکن میں نے ساری رات سوچنے اور روتے رہنے کے بعد صبح چھ بجے پولیس کو کال کر دی۔‘
پانچ منٹ بعد سارہ نے پولیس اہلکاروں کو دروازے پر دستک دیتے سنا۔
انھیں یاد ہے کہ ایک اہلکار اوپر آیا اور ان کے بیڈروم میں داخل ہوا جہاں وہ ایک کونے میں سمٹ کر بیٹھی تھیں۔
سارہ کہتی ہیں ’جب وہ آیا اور مجھے دیکھا، میرا جسم کانپ رہا تھا۔ میں سرد تھی، دل کی دھڑکن تیز تھی اور بلڈ پریشر کم تھا۔‘
پولیس نے سارہ کو سسرال کے گھر سے نکالا اور وہ دسمبر 2022 میں لیڈز کے ایک شیلٹر میں پناہ لینے میں کامیاب ہو گئیں۔
سارہ کے شوہر کو گرفتار کیا گیا لیکن وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے مزید کوئی کارروائی نہیں کروائی کیونکہ انھیں پاکستان میں اپنے خاندان کی حفاظت کا خوف تھا۔ لہذا ان پر کسی بھی جرم کا الزام نہیں لگایا گیا۔

آخر کار پچھلے سال جولائی میں سارہ نے اپنے ظالم شوہر سے طلاق لے لی۔
وہ کہتی ہیں کہ وہ پاکستان واپس نہیں جانا چاہتیں کیونکہ وہاں طلاق یافتہ خواتین کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا اور انھیں فکر تھی کہ انھیں دوبارہ شادی پر مجبور کیا جائے گا۔
سارہ کہتی ہیں ’خاندان والے کسی نہ کسی طرح خاتون کو دوبارہ شادی کے لیے مجبور کر دیتے ہیں۔‘
اب سارہ کو برطانیہ میں سیٹلڈ سٹیٹس حاصل ہے، وہ انگلش سیکھ رہی ہیں اور ڈربی شائر کے علاقے میں اپنی زندگی دوبارہ جینا شروع کر رہی ہیں۔
سارہ نے جبری شادی کو روکنے کی اپیل کی ہے۔ وہ کہتی ہیں ’زبردستی شادی کر کے آپ دوسرے شخص کی زندگی برباد کر رہے ہیں۔‘
’صرف لڑکی کی زندگی نہیں برباد ہوتی، لڑکوں کی زندگی بھی برباد ہوتی ہے۔ ہمیں پہلے سوچنا چاہیے، دیکھنا چاہیے، سمجھنا چاہیے۔‘

سارہ برطانیہ میں زبردستی شادی کے متاثرین میں سے ایک ہیں۔ متاثرہ افراد کی تعداد کا تعین کرنے کے لیے فی الحال کوئی قابل اعتماد اعداد و شمار موجود نہیں۔
اس صورتحال کو بدلنے کے لیے ہوم آفس نے کہا ہے کہ وہ غیرت پر مبنی بدسلوکی سے نمٹنے کے اقدامات کے ایک حصے کے طور پر، جبری شادیوں کی سطحوں کو دیکھنے کے لیے تحقیق کا آغاز کرے گا تاکہ معلوم ہو سکے کہ جبری شادی کتنی عام ہے۔
یہ محکمہ ناٹنگھم یونیورسٹی اور برمنگھم یونیورسٹی کے پروفیسرز کی ایک ٹیم کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ اس کام کے لیے ایک ڈیٹا ٹول تیار کیا جا سکے۔
پروفیسر ہیلن مک کیب جو یونیورسٹی آف ناٹنگھم میں سیاسی تھیوری کی پروفیسر ہیں، کہتی ہیں کہ ’ہم نے حکومت کو تجویز دی کہ انھیں کچھ نئے ڈیٹا کی ضرورت ہے۔‘
پروفیسر مک کیب کہتی ہیں کہ یہ انگلینڈ اور ویلز میں اپنی نوعیت کی پہلی ’پریوی لینس سٹڈی‘ ہو گی اور اس سے یہ معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کتنے لوگ متاثر ہیں، کیا جبری شادیاں بڑھ رہی ہیں اور پالیسی کو کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے تاکہ اسے کم کیا جا سکے۔
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’جب تک ہمیں معلوم نہیں کہ کتنے لوگ متاثر ہیں اور ہمارے پاس متاثرہ لوگوں کی بنیادی معلومات موجود نہ ہوں، ہم نہیں بتا سکتے کہ پولیس کو اپنے طریقہ کار میں تبدیلی لانی چاہیے یا کراؤن پروسیکیوشن سروس یا کسی اور ادارے کو کوئی اقدام اٹھانا چاہیے۔‘
ہوم آفس یونیورسٹیوں کی فیزیبیلٹی سٹڈی کو بنیاد بنا کر اس ٹول کی جانچ کرے گا اور اس میں بہتری لائے گا تاکہ جبری شادیوں اور خواتین کے جنسی اعضا کاٹے جانے (ایف جی ایم) کے اعدودشمار معلوم ہو سکیں۔
یہ سٹڈی مارچ تک مکمل ہونے کی توقع ہے اور اس کا مقصد حکومت کو مسئلے کے دائرہ کار کو سمجھنے اور درکار وسائل کی نشاندہی کرنے میں مدد کرنا ہے۔
خواتین و لڑکیوں کے خلاف تشدد پر کام کرنے والی وزارت کے وزیر جیس فلپس نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ حکومت قوانین اور دیگر اقدامات متعارف کرا رہی ہے تاکہ اس ظالمانہ قسم کے تشدد سے نمٹا جا سکے اور فرنٹ لائن عملے کے لیے واضح رہنمائی دے رہی ہے کہ انھیں ان جرائم کو مکمل سنجیدگی کے ساتھ لینا چاہیے۔‘
’ان جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے میرا پیغام واضح اور سیدھا ہے، ہم آپ کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔‘












