آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’سردیوں میں لوگ جسمانی گرمائش کے لیے بھی کسی کا ساتھ پسند کرتے ہیں‘: کیا یہ موسم واقعی محبت اور رومانس کا ہے؟
- مصنف, مولی گورمین
- عہدہ, بی بی سی فیوچر
’یہ ہتھکڑیاں پہننے کا موسم ہے۔‘
یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ میں کسی بھی قسم کے غلط رویے کی حوصلہ افزائی نہیں کر رہا بلکہ میرا اشارہ ایک اصطلاح ’کفنگ سیزن‘ (ہتھکڑیاں پہننے کے موسم) کی طرف ہے، جب سنگل افراد اپنی آزادی اور موسمِ گرما کی تپش کو خیرباد کہتے ہیں اور سال کے سرد موسم میں کسی رومانوی تعلق کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔
میں اس کی کشش کو سمجھ سکتا ہوں کیونکہ تیز روشنی میں کسی خاص شخص کے ساتھ رقص کرنے میں لطف تو آتا ہی ہوگا یا پھر کسی ایسی خاندانی تقریب جہاں کوئی دور کا رشتہ دار آپ کی ڈیٹنگ لائف پر سوال پوچھ بیٹھے وہاں ایسے شخص کی موجودگی انتہائی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔
یہ واضح نہیں کہ ’کفنگ سیزن‘ کی اصطلاح آئی کہاں سے لیکن اس بات کے اشارے موجود ہیں کہ شاید یہ اصطلاح 2009 میں سامنے آئی تھی جب اس کا استعمال کسی سنجیدہ رشتے میں جُڑنے کے لیے کیا گیا تھا۔
لیکن کیا لوگ واقعی سردیوں کے لیے کسی پارٹنر کی تلاش میں رہتے ہیں؟ اگر اس بات کا جواب ہاں میں ہے تو یہ ہمیں انسانی نفسیات یا بائیولوجی کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟
مجھے یہ بات معلوم ہو گئی ہے کہ اس کے پیچھے سائنس کیا ہے۔
کیلیفورنیا کی سان ہوزے یونیورسٹی سے منسلک نفسیات کی ایسوسی ایٹ پروفیسر کرسٹین ماکیلمز کہتی ہیں کہ ’کفنگ سیزن اس سوچ کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایک دوسرے کے قریب آنا ایک موسمیاتی رویہ ہے۔‘
لیکن اس بات پر سب کا اتفاق نہیں پایا جاتا کہ ایسا ہوتا کیوں ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کرسٹین کہتی ہیں کہ اگر دورِ جدید کے رویوں کو دیکھا جائے تو ’سال میں دو مرتبہ پورن، ڈیٹنگ ویب سائٹس اور یہاں تک کے جسم فروشی کی سرچز بھی سال میں دو مرتبہ عروج پر جاتی ہوئی نظر آتی ہیں، ایسا صرف سردیوں میں نہیں بلکہ گرمیوں میں بھی ہوتا ہے۔‘
سنہ 2012 میں کی گئی ایک تحقیق کی مثال لے لیں جس کے مطابق سیکس سے متعلق اصطلاحیں چھ مہینے کے ایک دورانیے میں مسلسل نظر آتی ہیں اور اس میں دلچسپی سردیوں اور گرمیوں دونوں میں پائی جاتی ہیں۔
سنہ 1990 کی دہائی میں کی گئی ایک اور تحقیق کا مقصد بھی موسمیاتی تبدیلیوں کا سیکس سے متعلق سرگرمیوں پر اثر دیکھنا تھا۔
اس تحقیق کے دوران محققین نے شادی کے بغیر بچوں کی پیدائش، اسقاطِ حمل، سیکس کے ذریعے پھلینے والی بیماریوں اور کندڈوم کی فروخت کا جائزہ لیا اور یہ بات سامنے آئی کہ کرسمس کے اردگرد کے اوقات میں سیکس سے متعلق سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
تاہم حالیہ دنوں میں ایسی کوئی تحقیق سامنے نہیں آئی ہے جس سے اس رجحان کے جاری ہونے کی تصدیق ہوسکے۔
اس سب کے باوجود ڈیٹنگ سائٹس کا ڈیٹا اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ بہار اور سردی کے موسم پارٹنر ڈھونڈنے کے لیے بہت مقبول ہیں۔
ڈیٹنگ ایپ بمبل کی ریسرچ کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سوائپ کرنے کا سب سے مقبول وقت نومبر کے آخر اور فروری کے وسط کے دوران ہوتا ہے، جو کہ ویلنٹائنز ڈے کے بریک اپ کے لیے بھی بہترین وقت ہوتا ہے۔ تاہم محققین کا کہنا ہے کہ ان عوامل سے رشتے ختم ہو جاتے ہیں، آگے نہیں بڑھتے۔
انڈیانا یونیورسٹی کے کنسے انسٹٹیوٹ سے منسلک ایگزیکٹو ڈائریکٹر جسٹن گارشیا کہتے ہیں کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ لوگوں کے دماغوں میں رومینس اور چھٹیوں کا ایک آئیڈیا ہوتا ہے۔‘
جسٹن ڈیٹنگ سائٹ میچ ڈاٹ کام کے ایڈوائزر بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’آن لائن ڈیٹنگ پورے سال ہی ہوتی ہے۔ یہ سرگرمیاں بہت عام ہیں، ہر روز لاکھوں سوائپس ہو رہے ہوتے ہیں، پیغام بھیجے جا رہے ہوتے ہیں لیکن آپ اس میں سردیوں میں حقیقی اضافہ دیکھ سکتے ہیں۔‘
اس بات سے یہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ممکنہ طور پر سردیوں کے موسم میں ہم اپنے خاندانی گھروں میں ہوتے ہیں اور نئے لوگوں سے ملنے کا ایک واحد ذریعہ فون ہی رہ جاتا ہے۔
شاید موسمیاتی ڈیٹنگ کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ہمیں جانوروں سے رہنمائی لینا پڑے گی۔ کچھ جانور (تمام نہیں) موسم کو دیکھ پر بچے پیدا کرتے ہیں۔ کیا انسان بھی اسی راہ پر چل نکلے ہیں؟
کیا موسم کا سیکس پر اثر پڑتا ہے؟
انڈیانا یونیورسٹی سے منسلک سائنسدان اور پروفیسر سو کارٹر کہتی ہیں کہ ’ایسے جانور بھی موجود ہیں جو کہ خالصتاً موسمیاتی لحاظ سے بچے پیدا کرتے ہیں۔ گائے کی مثال لے لیجیے ان کو بچوں کی پیدائش کے وقت تازہ گھاس کی ضرورت ہوتی ہے۔‘
پرندے بھی موسم کے لحاظ سے بچے یا انڈے دیتے ہیں۔
تاہم انسان ایسا نہیں کرتے۔
سو کارٹر کہتی ہیں کہ ’انسانوں کا سیکس سے متعلق رویہ موقع پرستی پر مبنی ہے۔ ہم موسم کی پرواہ نہیں کرتے، اگر سیکس کا موقع ملتا ہے تو بہت سارے افراد کر لیتے ہیں۔‘
پیدائش کی شرح میں موسم کے ساتھ آنے والی تبدیلیاں بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
امریکہ میں عام طور پر ستمبر میں بچوں کی پیدائش زیادہ ہوتی ہے، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ بہت سے حمل سردیوں میں ٹھہرتے ہیں۔ لیکن مختلف علاقوں اور وقت کے حساب سے یہ شرح بدلتی رہتی ہے۔
پروفیسر رینڈی نیلسن کہتے ہیں کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ کرسمس اور نئے سال کے موقع پر زیادہ وقت گھر میں گزارنے کی وجہ سے ستمبر میں زیادہ بچے پیدا ہوتے ہیں۔
لیکن وہ کہتے ہیں کہ انسانوں میں ایسا کوئی واضح ’بریڈنگ سیزن‘ نہیں ہوتا اور زیادہ تر اس کے پیچھے معاشرتی یا ثقافتی عوامل ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر زراعت سے وابستہ کچھ برادریوں میں فصل کی کٹائی کے نو ماہ بعد بچوں کی پیدائش بڑھ جاتی ہے یعنی یہ بھی سماجی وجہ ہے۔
نیلسن کے مطابق انسانوں میں جس موسمی اثر پر زیادہ بات ہوتی ہے، وہ ’سیزنل افیکٹیو ڈس آرڈر‘ ہے یعنی سردیوں میں ہونے والا ایک قسم کا ڈپریشن۔ یہ ڈپریشن معتدل موسم والے ملکوں میں ایک سے تین فیصد لوگوں میں ہوتا ہے اور خواتین میں زیادہ دیکھا گیا ہے۔
تحقیق بتاتی ہے کہ سردیوں میں لوگوں کی ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔ دن چھوٹے ہوتے ہیں، دھوپ کم ملتی ہے، ٹھنڈ کی وجہ سے لوگ باہر کم جاتے ہیں، جس سے تنہائی اور اداسی بڑھ سکتی ہے۔
دھوپ کم ہونے سے جسم میں سیروٹونن کم بنتا ہے جو ہمارے مزاج اور سونے جاگنے کے نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس کے کم ہونے سے جسمانی اور ذہنی نظام متاثر ہوتا ہے۔
نیلسن کہتے ہیں کہ سردیوں میں ایسے لگتا ہے جیسے ہم ’غاروں میں رہتے ہیں‘۔ لوگ صبح اندھیرے میں اٹھتے ہیں، مصنوعی روشنی میں کام کرتے ہیں اور پھر اندھیرے میں گھر لوٹتے ہیں، اس لیے انھیں تیز دھوپ نہیں ملتی۔ دھوپ نہ ملنے سے جسم کا اندرونی نظام ٹھیک طریقے سے کام نہیں کر پاتا جس سے ہارمونز بھی متاثر ہوتے ہیں۔
ایسی حالت میں لوگ بہتر محسوس کرنے کے لیے محبت یا ساتھی تلاش کرنے کی طرف زیادہ مائل ہو سکتے ہیں۔ نیلسن کے مطابق سردیوں میں جسم میں ڈوپامین اور آکسیٹوسن جیسے کیمیکلز کم ہو سکتے ہیں جس کی وجہ سے انسان کو کسی ایسے شخص کی چاہ ہوتی ہے جو اسے جذباتی سکون دے سکے۔
آکسیٹوسن کو ’محبت کا ہارمون‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ تعلق، اعتماد اور ذہنی سکون میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ ہارمون جسم میں گلے ملنے اور جسمانی قربت سے بھی بڑھتا ہے۔۔۔ اسی لیے ابتدائی رشتے یا پہلی قربت کے لمحات زیادہ جذباتی محسوس ہوتے ہیں۔
سردی کو محسوس کرنے کے حوالے سے مردوں اور عورتوں میں فرق بھی ہوتا ہے۔
خواتین کے جسم میں جلد اور پٹھوں کے درمیان چربی زیادہ ہوتی ہے جس سے جسم کی حرارت جلد تک کم پہنچتی ہے، اسی لیے ان کے ہاتھ پاؤں زیادہ ٹھنڈے رہتے ہیں۔ اس وجہ سے سردیوں میں لوگ جسمانی گرمائش کے لیے بھی کسی کا ساتھ پسند کر سکتے ہیں۔۔۔ چاہے یہ سوچ لاشعوری طور پر ہو۔
ماہرین کہتے ہیں کہ سردیوں میں رشتے بنانے کا رجحان ہمیں یہ سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے کہ ہم کس قسم کے تعلق کی خواہش رکھتے ہیں۔ تہواروں کے موسم میں جب لوگ خاندان اور دوستوں کے ساتھ ہوتے ہیں تو انھیں یہ احساس ہوتا ہے کہ کاش ان کا بھی کوئی ساتھی ہو جس کے ساتھ وہ گھر لوٹ سکیں۔
تعلقات کے معاملے میں خاندان کا دباؤ بھی انسانوں میں باقی مخلوقات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ خاندان کے درمیان رہ کر یہ احساس مزید بڑھ جاتا ہے کہ ایک ساتھی یا رشتہ ہونا ’ضروری‘ سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانوں کے تعلقات یا میل جول کے رجحانات موسموں کے مطابق نہیں بدلتے۔ اس لیے ’کفنگ سیزن‘ زیادہ سماجی اور تہذیبی رویہ ہے نہ کہ سائنسی حقیقت۔
آج کی ڈیٹنگ دنیا بھی بدل رہی ہے۔ نوجوان نسل تعلقات کے بارے میں نئی سوچ اپنا رہی ہے۔ ڈیٹنگ ایپس کے استعمال میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
ایک سروے کے مطابق امریکہ میں 78 فیصد ایپ صارفین ذہنی تھکاوٹ محسوس کر رہے ہیں۔ نوجوان اکثر یہ سوچتے ہیں کہ انھیں پہلے خود کو بہتر بنانا ہے، پھر رشتہ بنانا ہے۔
لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ انسان سماجی مخلوق ہے۔ ہم رشتوں میں ہی سیکھتے ہیں کہ ہمیں کیا چاہیے اور ہم کون ہیں۔ رشتے ہی ہمیں اچھا انسان بنانے میں مددگار ہوتے ہیں، رشتوں میں ہم غلطیوں سے سیکھتے ہیں اور اپنے بارے میں سمجھ پاتے ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ لوگ سردیوں میں کسی کا ساتھ چاہتے ہیں۔۔۔ چاہے ایسا شعوری طور پر ہو یا لاشعوری طور پر۔