آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
گوادر میں ’حق دو تحریک‘ کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کے بعد احتجاج میں شدت، تحریک کے بڑے مطالبات کیا ہیں؟
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں ’حق دو تحریک‘ کے رہنماﺅں کی گرفتاری کے خلاف پیر کے روزاحتجاج شدت اختیار کرگیا جس کے باعث ضلع کے مختلف علاقوں میں معمولات زندگی بہت زیادہ متاثر ہوئے۔
پولیس نے ’حق دو تحریک‘ کے کیمپ پر اتوار کی شب کارروائی کی تھی اور وہاں سے حسین واڈیلا سمیت تحریک کے ایک درجن سے زیادہ رہنماﺅں کو گرفتار کر لیا تھا۔
پیر کو گرفتاریوں کے خلاف گوادر میں لوگوں کی بڑی تعداد شہر میں احتجاج کے لیے نکل آئی جن کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔
’حق دو تحریک‘ کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے گوادر میں صورتحال کی ذمہ داری حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنے کی بجائے حکومت نے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔
’حق دو تحریک‘ کے رہنماﺅں کے ساتھ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو کی قیادت میں ایک حکومتی وفد نے سنیچر کے روز مذاکرت کیے تھے جس میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی تھی۔
حکومت بلوچستان نے گوادر کی موجودہ صورتحال کی ذمہ داری ’حق دو تحریک‘ پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین کی جانب سے پورٹ کو بند کرنے کی کوشش کی گئی جس پر پولیس کو محدود کارروائی کرنی پڑی۔
صبح سویرے ہی لوگ احتجاج کے لیے نکل آئے
’حق دو تحریک‘ کے رہنماﺅں کی گرفتاری اور ایکسپریس وے پر تحریک کے احتجاجی کیمپ کو اکھاڑنے کے خلاف پیر کی صبح سے ہی گوادر شہر اور ضلع کے دیگر علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
گوادر شہر میں لوگوں کی بڑی تعداد ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر پہنچ گئی اور وہاں تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے ان سے خطاب بھی کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئی ۔
شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے باعث بعض لوگ زخمی بھی ہوئے۔
گوادر اور پسنی کے علاوہ ضلع کے بعض دیگر علاقوں میں کاروباری مراکز احتجاجاً بند رہے۔
مظاہرین نے کراچی اور گوادر کے درمیان کوسٹل ہائی وے کو بھی مختلف مقامات پر بند کیا۔
شہر اور دیگر علاقوں میں احتجاج کی وجہ سے ضلع کے تمام اہم علاقوں میں معمولات زندگی متاثر ہوئے۔
’حق دو تحریک‘ کی جانب سے دوسری مرتبہ مطالبات کے حق میں گوادر شہر میں احتجاج کا سلسلہ 27 اکتوبر سے شروع کیا گیا تھا۔
’حق دو تحریک‘ کے رہنماﺅں کے مطابق حکومت کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے بات چیت کے لیے نہ آنے پر گوادر شہر میں پورٹ اور ایئرپورٹ کے سامنے دھرنا دینے کے علاوہ ریلیاں بھی نکالی گئیں جن میں خواتین کی ایک بڑی ریلی بھی شامل تھی ۔
’حق دو تحریک‘ کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا ہے کہ جب حکومت نے لوگوں کے احتجاج کو اہمیت نہیں دی تو ایک اور احتجاجی دھرنا کیمپ ایکسپریس وے پر گوادر پورٹ کے قریب قائم کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
ایکسپریس وے پر احتجاجی کیمپ کو قائم کرنے کے باعث پورٹ کو جانے والے تمام اہم راستے بند ہوگئے ۔
ایکسپریس وے پر دھرنے کی منتقلی کے بعد ضلعی انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے حکام نے ’حق دو تحریک‘ کے رہنماﺅں سے بات چیت کی لیکن ’حق دو تحریک‘ کے رہنماﺅں نے ان کے کہنے پر کیمپ کو وہاں سے نہیں ہٹایا ۔
تاہم سنیچر کو بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو اور لالا رشید بلوچ پر مشتمل ایک وفد نے گوادر کا دورہ کیا اور دھرنا کیمپ میں ’حق دو تحریک‘ کے رہنماﺅں سے مذاکرات کیے۔ ان مذاکرات میں’ حق دو تحریک‘ کے سربراہ اور حسین واڈیلا سمیت اہم قائدین شامل نہیں تھے۔
ان مذاکرات کے دوران اگرچہ کوئی پیش رفت نہیں ہوئی لیکن بلوچستان کے وزیر داخلہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دوبارہ بات چیت کے لیے آئیں گے۔
’حق دو تحریک‘ کے ترجمان حفیظ کیازئی نے بھی ان مذاکرات کے بعد یہ کہا تھا کہ انہوں نے اپنے مطالبات سے حکومتی وفد کو آگاہ کیا ہے اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
تاہم’حق دو تحریک‘ کے مطابق اتوار کی شب پولیس کی بھاری نفری کیمپ آگئی اور انہوں نے کیمپ کو اکھاڑنے کے علاوہ حسین واڈیلا، شریف میاںداد، یعقوب جوسکی اور زاہد بلوچ سمیت ایک درجن سے زائد رہنماﺅں کو گرفتار کر لیا ۔
ان گرفتاریوں کے بعد ایک ویڈیو میں مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تاہم ان کو گرفتار نہیں کیا جاسکا۔
مولانا ہدایت الرحمان نے دعویٰ کیا کہ دھرنا کیمپ آ نے والی خواتین کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر ایک مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ جب تک تحریک کے گرفتار رہنماﺅں کو رہا نہیں کیا جاتا اس وقت تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔
انہوں نے گوادر کی تمام تر صورتحال کی ذمہ داری حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے جائز مطالبات کو ماننے کی بجائے تشدد کا راستہ اختیار کیا گیا۔
’حق دو تحریک‘ کے بڑے مطالبات کیا ہیں؟
گوادر میں ’حق دو تحریک‘ کے نام سے تحریک گزشتہ سال شروع کی گئی تھی۔
مولانا ہدایت الرحمان اور گوادر کے معروف سیاسی شخصیت حسین واڈیلا کی جانب سے گوادر شہر میں ماہی گیروں کے مسائل، سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں اور دیگر مسائل پر سخت موقف اختیار کرنے پر ’حق دو تحریک‘ کو بڑی پزیرائی ملی تھی۔
نہ صرف لوگوں نے ’حق دو تحریک‘ کی احتجاجی ریلیوں میں بڑی تعداد میں شرکت کی تھی بلکہ طویل دھرنا بھی دیا گیا تھا۔
’حق دو تحریک‘ نے یہ دھرنا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبد القدوس بزنجو کی قیادت میں ہونے والی مذاکرات میں مطالبات پر علمدرآمد کی یقین دہانی پر ختم کیا تھا۔
تاہم رواں سال ایک مرتبہ پھر 27 اکتوبر سے دھرنے کا آغاز کیا گیا تھا اور دو بارہ دھرنا شروع کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمان نے کہا تھا کہ مطالبات پر عملدرآمد نہیں ہوا۔
’حق دو تحریک‘ کا کہنا ہے کہ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ بلوچستان کی سمندری حدود میں اب بھی غیر قانونی ماہی گیری کا سلسلہ جاری ہے۔
اگرچہ ’حق دو تحریک‘ کے مطالبات کی فہرست طویل ہے لیکن اس کے بڑے مطالبات میں بلوچستان کی سمندری حدود سے غیرقانونی ماہی گیری کو روکنا، لاپتہ افراد کی بازیابی، ایران کے ساتھ مکران کے لوگوں کو سرحدی تجارت میں زیادہ سے زیادہ رعایتوں کی فراہمی، گوادر سمیت مکران سے منشیات کا خاتمہ، سکولوں اور ایسے مقامات سے سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں کا خاتمہ جہاں سے گھروں میں خواتین نظر آتی ہیں اور گوادر شہر کے بنیادی مسائل کا حل شامل ہیں۔
گوادر کی صورتحال کے حوالے سے حکومت بلوچستان کا کیا کہنا ہے ؟
بلوچستان کے وزیر داخلہ نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ گزشتہ سال بھی مولانا ہدایت الرحمان نے دھرنا دیا اور ان سے مذاکرات ہوئے لیکن انہوں گزشتہ ماہ دوبارہ احتجاج شروع کیا۔
وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کا کہنا تھا کہ وہ حقوق کے حصول کے لیے ہونیوالے احتجاج اور دھرنوں کے خلاف نہیں لیکن گوادر دھرنے میں مولانا ہدایت الرحمان نے ریاستی رٹ کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی۔
وزیر داخلہ کے بقول ہوٹلوں میں سیاح اور چینی باشندوں کو یرغمال بنایا گیا اور گوادر پورٹ کو بند کرکے کام کو بند رکھا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت نے مولانا ہدایت الرحمان کے تمام مطالبات مان لیے ہیں۔ تاہم ان کے بعض مطالبات ایران، سندھ اور وفاقی اداروں سے متعلق ہیں۔ ان مطالبات کے حوالے سے کمیٹی بنانے کی تجویز دی لیکن ’حق دو تحریک‘ نے تجویز نہیں مانی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’حق دو تحریک‘ کی جانب سے سمندر کی جانب پیش قدمی کی گئی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوشش کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ جو قانون توڑے گا گرفتاری ہوگی خواہ کوئی بھی ہو۔ گوادر میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنیوالے 18 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان کی جانب سے بھی اس سلسلے میں جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ روز وزیر داخلہ اور صوبائی وزیر لالا رشید بلوچ نے حکومتی ٹیم کے ہمراہ ’حق دو تحریک‘ کے رہنماؤں سے طویل مزاکرات کیے۔ حکومت کی جانب سے مطالبات کی جلد تکمیل کی مکمل یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
ترجمان نے کہا یہ امر باعث افسوس ہے کہ تحریک کی جانب سے صوبائی حکومت کی مخلصانہ کوششوں اور بات چیت کی خواہش کو کمزوری سمجھا گیا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ احتجاج اور دھرنوں کی آڑ میں امن خراب کرنے اور شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کرنا کسی مہذب معاشرے میں نہیں ہوتا۔
’امن و امان برقرار رکھنا اور عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین زمہ داری ہے۔ کسی کو حکومتی رٹ چیلنج کرنے اور قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔‘
ترجمان کے مطابق پیر کو دھرنے کے شرکا کی جانب سے گوادر پورٹ کی طرف مارچ کرنے اور پورٹ کو بند کرنے کی کوشش کی گئی۔ ’یہ رویہ نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی شرمندگی کا باعث بن رہا ہے۔‘
ترجمان کے مطابق احتجاجی مظاہرین کی پورٹ کی جانب پیش قدمی کو روکنے کے لیے پولیس نے انتہائی محدود سطح پر کارروائی کی تاکہ عام شہری متاثر نہ ہوں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت اب بھی مزاکرات اور بات چیت کے ذریعے افہام و تفہیم کی فضا میں مسئلے کے حل کے لیے پر عزم ہے۔