عمران خان کا دورہ گوادر: ’نئے ایئرپورٹ اور بزنس کی بات ہو رہی ہے، مگر آپ ہمیں پانی اور بجلی کیوں نہیں دے سکتے‘

    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

وزیر اعظم عمران خان آج ایک روزہ دورے پر گوادر جا رہے ہیں جہاں وہ متعدد منصوبوں کا افتتاح اور پہلے سے جاری منصوبوں کا جائزہ لیں گے۔

جیسے ہی وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے عمران خان کے گوادر جانے کا باقاعدہ اعلان ہوا تو میرے ذہن میں پہلا سوال یہ تھا کہ وزیراعظم گوادر میں پانی کون سا پیئں گے؟ آبِ دبئی، ویکنگ، بلیو واٹر، نیسلے یا کسی اور برانڈ کا؟

یا پھر وہ ڈی سیلینیشن پلانٹ کے معاہدے کے بعد اس زرد پانی کو صاف کر کے پیئں گے، وہی زرد رنگ کا پانی جس کی تصاویر گوادر کے لوگ اکثر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شیئر کرتے ہیں اور ساتھ عنوان لکھتے ہیں کہ ’سی پیک کے جھومر گوادر سٹی میں پینے کا پانی۔‘

وزیر اعظم کے دورے کے پیش نظر گذشتہ شام گوادر کے ماہی گیروں کو کہا گیا کہ شہر میں وی آئی پی موومنٹ متوقع ہے لہذا وہ صبح سات سے شام چھ بجے تک سمندر پر جانے سے گریز کریں، تاکہ کسی پریشانی اور خطرے سے دوچار نہ ہوں۔ یہ احکامات اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز گوادر کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔

وزیر اعظم جس وقت پدی زر کے ساحل پر بنی پانچ کلومیٹر طویل شاہراہ سے اپنے قافلے کے ہمراہ گزریں گے تو شاید کچھ دیر کے لیے یہ شاہراہ مکمل بند کر دی جائے لیکن چند روز پہلے اسی سڑک پر گوادر کی خواتین، مرد اور بچوں نے ٹائر جلا کر اور ہاتھوں میں گدلے اور زرد پانی کی بوتلیں اٹھا کر احتجاج کیا تھا۔

مقامی نیوز چینلز پر شیئر کی گئی اسی احتجاج کی ایک ویڈیو میں ایک خاتون کہتی ہیں ’حکومت کہتی ہے کہ گوادر میں کورونا ہے، احتیاطی تدابیر اپناؤ۔ مگر کورونا سے زیادہ خطرناک تو یہ آنکاڑہ ڈیم کا پانی ہے جو ہمیں فراہم کیا جا رہا ہے۔‘

80 فیصد مریض گندے پانی سے متاثر ہیں

میں نے گوادر کے ایک ہسپتال میں ڈاکٹر سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر ہسپتال میں 80 فیصد مریض پیٹ کی بیماری اور ٹائیفائیڈ کی شکایت کے ساتھ ہسپتال کا رُخ کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم کو میرا ایک پیغام ہے کہ جب پیر کو ساحل کے ساتھ بنے میرئین ڈرائیو روڈ سے گزریں تو گاڑی سے اُتر کر دو منٹ کے لیے کسی بھی گھر میں داخل ہو کر اس کی ٹینکی کا ڈھکن ضرور کھول کر دیکھیں اور اس گھر سے ایک گھونٹ پانی پی کر دیکھیں تاکہ آپ کو معلوم ہو سکے کہ ہم گوادر کے لوگ کیسا پانی استعمال کر رہے ہیں اور پی رہے ہیں۔‘

سرکاری ہسپتال میں کام کرنے کی وجہ سے ڈاکٹر نے اپنا نام تو ظاہر نہیں کیا لیکن کہا کہ ’ہمارے گھروں کی ٹینکیوں میں جو پانی آ رہا ہے وہ پینا تو دور کی بات ہاتھ منھ دھونے کے لائق بھی نہیں، مگر ہم اس سے نہانے اور برتن دھونے پر مجبور ہیں۔‘

گوادر میں آبادی سے گزرتے ہوئے آپ کو سروں پر سلور کی برتن اٹھائے گزرتی ہوئی خواتین بھی دکھائی دیتی ہیں۔

گوادر میں میگا پراجیکٹس کے شروع ہونے کے بعد دس برس کے عرصے میں یہ چوتھی بار ہے کہ یہاں کے مکین پانی کے شدید بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔

یہاں کی 80 فیصد آبادی ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ ہے اور یہی ان کا ذریعہ روزگار ہے۔

ایک ماہی گیر نے بی بی سی س بات کرتے ہوئے کہا ’یہ پانی ہم کیسے پیئں، چلیں ہم میں سے کچھ تو روز مارکیٹ سے فلٹر شدہ گیلن 80 سے 100 روپے میں خرید لیں گے۔ کوئی زیادہ قوت رکھتا ہو تو منرل واٹر کی ایک دو بوتلیں 50 سے 60 روپے میں روز خرید لے گا لیکن یہ بتائیں کہ غریب کیا کرے، وہ تو یہی پانی پی کر بیمار ہونے پر مجبور ہے کیونکہ اس کے پاس اسے ابالنے کے لیے نہ سلنڈر ہے نہ وافر مقدار میں لکڑی۔‘

گوادر میں آپ کسی بچے سے بات کریں یا بڑے سے وہ یہی کہتے ہیں کہ ’یہ اب ایک کچی بستی نہیں ہے حکومت نے یہاں بندرگاہ بنائی، ایک اور ائیر پورٹ بن رہا ہے یہاں بزنس کی بات ہو رہی ہے تو ہمیں پانی اور بجلی کیوں نہیں دے سکتے۔‘

تین اطراف میں پانی سے گھرے اس شہر کو ’پیاسا شہر‘ کہا جاتا ہے۔

ناکارہ پلانٹ کی انکوائری اور ایک نیا پلانٹ

وزیر اعظم عمران خان آج گوادر کے اطراف میں موجود وسیع و عریض سمندر کے کھارے پانی کو صاف کرنے کے لیے ایک پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھیں گے، لیکن یہاں کے لوگ ڈی سیلینیشن پلانٹ کے لگنے سے لوگ کچھ زیادہ پُرامید نہیں ہیں۔

مقامی صحافی بہرام بلوچ کے مطابق ’ڈی سیلینیشن پلانٹ گوادر شہر سے 35 کلومیٹر دور نیو انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے پاس واقع ہے اور ایک ارب کی لاگت سے لگایا گیا تھا۔ منصوبے کے مطابق اس سے 20 لاکھ گیلن پانی روزانہ صاف ہونا تھا لیکن ایسا نہیں ہو پایا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’2010 کے بعد اسے چند دن کے لیے چلانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ 20 لاکھ تو نہیں دو سے تین لاکھ گیلن پانی صاف کر پایا اور پھر ناکارہ ہو گیا۔‘

اسی حوالے سے صحافی سلمان ہاشم کہتے ہیں کہ ’ہمیں وہاں سمندر کے کنارے بنے اس پلانٹ میں لے جایا گیا۔ ہمیں بتایا گیا بہت بڑا ٹینک ہے جو پانی سے بھرا ہوا ہے۔ پھر ہم نے دیکھا تو وہ پانی سے بھرا ہوا تھا لیکن ہم سے جھوٹ بولا گیا تھا۔ بعدازاں مقامی میڈیا کے ذریعے پتہ چلا کہ اس پانی کو شادی کور ڈیم سے ٹینکروں کے ذریعے لایا گیا تھا۔ ہمیں ایک ایک گلاس پانی پلایا گیا، پانی تو ٹھیک تھا لیکن پھر بعد میں پتہ چلا کہ اس پلانٹ کی دیکھ بھال صحیح نہ ہونے کی وجہ سے اس کے پائپ مٹی اور ریت سے تباہ ہو گئے۔‘

نیب نے اس پلانٹ کے حوالے سے انکوائری شروع کی تھی۔ تقریباً ایک ارب کا یہ پلانٹ کیوں ناکارہ ہوا اس کا جواب ابھی تک نیب بھی نہیں دے سکا۔

یہ بھی پڑھیے

اس کے علاوہ گوادر کی تحصیل جیونی میں بھی ایک ناکارہ ڈی سیلینیشن پلانٹ موجود ہے۔ پسنی کا پلانٹ تو مکمل ہی نہیں ہو سکا اور سنگارا پلانٹ بھی چل نہیں پایا۔ ایف ڈبلیو او کے ایک پلانٹ کے بارے میں مقامی صحافی بتاتے ہیں کہ وہ سربندر میں ہے اور کام کر رہا ہے لیکن اس میں زیادہ پانی صاف کرنے کی صلاحیت نہیں۔

سمندر کے کھارے پانی کو قابل استعمال بنانے کے لیے چین نے پورٹ پر ایک پلانٹ لگایا ہے لیکن یہ گوادر کے شہریوں کے لیے نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستانی حکام پورٹ میں چینی حکام سے بات کر رہے ہیں کہ وہ شہر کی پانی کی قلت کو دور کرنے کے لیے مدد کریں۔

اندازہ ہے کہ شاید شہر کو دو لاکھ گیلن پانی ملے لیکن یہ پانی شہر کی ضرورت کے لیے بہت کم ہے اور یہ پانی حکومت بلوچستان کو خریدنا ہو گا، جس کی ادائیگی گوادر پورٹ آپریشنل کرنے والی چینی کمپنی کو کرنی ہو گی۔

گوادر میں ماضی میں کھارے پانی کے ان گنت اور میٹھے پانی کے چند ہی کنویں ہوتے تھے لیکن تب آبادی بہت کم تھی اور لوگوں کی ضرورت پوری ہو جاتی تھی مگر اب آبادی اتنی بڑھ چکی ہے کہ لوگ پیسے دے کر پانی حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

یوٹیوب بلاگر نوید محمد نے اس حوالے سے تاریخی شواہد کو اکھٹا کیا ہے۔

ان کے مطابق گوادر کی مختلف مساجد میں اب بھی وہ پرانے دور کے کنویں موجود ہیں جو نمازیوں کی پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

نصف ضرورت بھی پوری نہیں ہو رہی

لیکن بدلتے وقت کے ساتھ مکینوں کی ضرورت پوری نہیں ہو پا رہی ہیں۔ بارش نہ ہونے کی وجہ سے ڈیموں کا پانی سوکھ رہا ہے۔

آنکاڑہ ڈیم گوادر سے صرف 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جسے سنہ 1993 میں بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں بنایا گیا۔ اس وقت گوادر کی آبادی بمشکل 50 ہزار تھی اور اب یہ ڈھائی لاکھ سے اوپر ہو چکی ہے۔

گوادر کو آنکاڑہ ڈیم سے سپلائی کیے جانے والا پانی قابل استعمال نہیں اور سوڈ ڈیم سے پانی سپلائی کیا جا رہا ہے۔ شادی کور ڈیم سے بھی سپلائی کی کوشش کی جا رہی ہے اور دو تین سال سے اس منصوبے پر کام چل رہا ہے۔

شہر کے چند ہی حصے ہیں جہاں پانی کی قلت ذرا کم ہے لیکن زیادہ تر میں لوگ ٹینکر کا پانی لینے پر مجبور ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹینکر سات ہزار سے لے کر دس ہزار تک ملتا ہے۔

دیہی علاقوں میں پانی کی شدید قلت ہے اور لوگ اونٹوں پر دور دراز علاقوں سے پانی لے جانے پر مجبور ہیں۔

حکام کے مطابق گوادر شہر میں شادی کور ڈیم کا 80 فیصد کام مکمل ہو گیا ہے اور پانچ ایم جی ڈی کا ڈی سیلینیشن پلانٹ ابھی بڈنگ پراسس میں ہے۔ وزیراعظم جس پلانٹ کا افتتاح کریں گے وہ چین کی وساطت سے بننے والا ون پوائنٹ ٹو ایم جی ڈی پلانٹ ہے۔

پورے ضلع گوادر کی بات کریں تو کل طلب 11.33 ایم جی ڈی ہے جبکہ اس وقت فقط 4.05 ایم جی ڈی پانی کی سپلائی ہو رہی ہے۔

گوادر میں گذشتہ سالوں پانی بحران کے دوران پانی چوری کی ایک رپورٹ پولیس تھانہ میں درج کرائی گئی تھی جسے یہاں اپنی نوعیت کی ایک انوکھی رپورٹ کہا جاتا ہے۔

گوادر میں مختلف پراجیکٹس سے منسلک لوگ اور باہر سے جانے والے سیاح بھی اسے رہنے کے لیے یہ ایک بہت مہنگا شہر قرار دیتے ہیں۔

ایک حکومتی اہلکار نے بتایا کہ ’نوکری کے پہلے روز شہر سے ذرا باہر کے دفتر جانا تھا، لیکن میں پورا دن گزرنے کے باوجود پانی نہیں پی سکا کیونکہ مجھے جو گدلا پانی دیا گیا تھا میری ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ اسے پیوں اور یہاں مجھے مہینے میں صرف اپنے لیے پانی پر 9000 روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔‘

جب گوادر میں ترقی اور سی پیک کے پراجیکٹس کی بات کی جاتی ہے تو لوگ پانی اور بجلی کا مطالبہ بھی دہراتے ہیں لیکن کچھ لوگ حکومت پر کھلا طنز بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

جیسے ایک صارف نے فیس بک پر لکھا ’گوادر کے مقامی لوگ بنیادی سہولیات مثلاً پانی، بجلی اور روزگار کی اتنی بڑی کھیپ کے آ جانے سے پریشان ہیں کہ ان نوکریوں کو کس الماری میں رکھیں، پانی کے کون سے نلکے کو کھولیں، بجلی کی ٹکاٹک موجودگی ہم کو کسی اور جہاں کا احساس دلاتی ہے۔۔۔‘