کچھ فٹبال سٹارز چہرے پر ماسک کیوں پہن رہے ہیں؟

یہ ایک سپر ہیرو ماسک کی طرح لگتا ہے جیسا کہ’دی انکریڈیبلز‘ میں پکسر استعمال کرتا ہے، لیکن یہ ماسک محض اتنی ہی سپر پاور دیتا ہے کہ بس آپ کھیل سکیں۔ جنوبی کوریا کی فٹ بال ٹیم کے کپتان اور سٹار اسٹرائیکر سون ہیونگ من، اس جمعرات کو قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ میں یوروگوئے کے خلاف اپنے ملک کے پہلے میچ میں ایک سیاہ ماسک پہنے ہوئے سٹیڈیم میں داخل ہوئے۔ ماسک نے ان کے چہرے کے اوپر والے حصے کو ڈھانپ رکھا تھا۔

یہ میچ بغیر کسی گول کے برابری پر ختم ہوا۔

انکی جانب سے اس پروٹیکشن کو استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یکم نومبر کو انگلش ٹوٹنہم ہاٹ سپورکلب، جہاں جنوبی کوریا کے کھلاڑی کھیلتے ہیں، اور اولمپک ڈی مارسیلی کے درمیان کھیلے گئے میچ میں کانگو کے ڈفینڈر چنسل میبما سے ٹکرانے سےانکی بائیں آنکھ کے ساکٹ کے نزدیک فریکچر ہو گیا تھا۔ 30 سالہ سون ہیونگ من کی 4 نومبر کو سرجری ہوئی اور پانچ دن بعد انھوں نے کہا کہ وہ ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے تیار ہیں، حالانکہ کچھ لوگوں کو شک تھا کہ وہ کیسے ورلڈ میں حصہ لیں گے کیونکہ ان کے صحت یاب ہونے میں کم از کم مزید تین ہفتے لگنے تھے۔

انٹسا پر ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا ’میں کسی بھی قیمت پر یہ ورلڈ کپ نہیں چھوڑ سکتا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ورلڈ کپ میں اپنے ملک کے لیے کھیلنا ہر بچے کا خواب ہوتا ہے جیسا کہ میرا بھی تھا۔‘

سون نے گزشتہ سیزن میں مشترکہ طور پر پریمیئر لیگ کے ٹاپ سکورر کا گولڈن بوٹ جیتا تھا لیکن ہاٹ سپور کے لیے تمام مقابلوں میں 19 گیمز میں پانچ گول کے ساتھ اس مہم میں دوبارہ میں آنے کی جدوجہد کی ہے۔

جنوبی کوریا کے سٹرائیکر قطر 2022 میں ماسک پہنے ہوئے اکیلے کھلاڑی نہیں ہیں۔ بیلجیئم کے ڈفینڈر تھامس مینیئر کو بھی بدھ کے روز کینیڈا کے خلاف اپنی ٹیم کے پہلے میچ میں ماسک پہنے ہوئے دیکھا گیا۔ 31 سالہ میونیئر کے چہرے پر بھی ایک ہڈی کا فریکچر ہوا تھا۔ یہ واقعہ 19 اکتوبر کو بوروسیا ڈورٹمنڈ، ان کی ٹیم، اور ہینوور 96 کے درمیان ایک میچ میں پیش آیا تھا۔