’شیخ حسینہ نے مظاہرین پر گولی چلانے کا حکم دیا‘: بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم کی آڈیو لیک کی تصدیق

بنگلہ دیش میں گذشتہ سال حکومت مخالف مظاہرے ہوئے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبنگلہ دیش میں گذشتہ سال حکومت مخالف مظاہرے ہوئے
    • مصنف, کرسٹوفر گائلس، ردھی جھا، رفید حسین، طارق الزماں شیمول
    • عہدہ, بی بی سی آئی انویسٹیگیشن، بی بی سی بنگلہ

بی بی سی آئی نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے فون کی ایک ایسی آڈیو کی تصدیق کی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ گذشتہ سال بنگلہ دیش میں طلبہ کی سربراہی میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف سخت کریک ڈاون کرنے کا حکم انھوں نے ہی دیا تھا۔

اس آڈیو میں، جو مارچ میں آن لائن لیک ہوئی، حسینہ واجد کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کو اجازت دیتی ہیں کہ وہ مظاہرین کے خلاف ’مہلک ہتھیار استعمال کریں اور جہاں بھی انھیں دیکھیں، گولی مار دیں۔‘

بنگلہ دیش میں ان کے خلاف قائم ہونے والے مقدمے میں استغاثہ اس ریکارڈنگ کو بطور ثبوت عدالت میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان کے خلاف ایک خصوصی ٹریبیونل میں انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ چلایا جا رہا ہے تاہم وہ خود انڈیا میں موجود ہیں۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کے مطابق گذشتہ سال موسم گرما میں مظاہروں کے دوران 1400افراد ہلاک ہوئے تھے۔ شیخ حسینہ واجد اور ان کی جماعت عوامی لیگ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

عوامی لیگ کے ترجمان کے مطابق اس ریکارڈنگ سے ’غیر قانونی ارادہ‘ ظاہر نہیں ہوتا۔

اس ریکارڈنگ میں حسینہ واجد کو ایک سینیئر حکومتی اہلکار سے بات چیت کرتے سنا جا سکتا ہے جو اب تک سامنے آنے والا سب سے اہم ثبوت ہے کہ انھوں نے حکومت مخالف مظاہرین پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا۔

یہ احتجاجی مظاہرے سول سروس میں 1971 کی جنگ میں لڑنے والوں کے رشتہ داروں کو کوٹہ دیے جانے کے خلاف شروع ہوئے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسی تحریک میں بدل گئے جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت گر گئی۔ وہ 15 سال سے ملک میں برسر اقتدار تھیں۔

اس دوران سب سے خونیں مناظر پانچ اگست کو دیکھنے کو ملے۔ اسی دن شیخ حسینہ ایک ہیلی کاپٹر پر ملک سے فرار ہو گئی تھیں جب ہجوم نے ڈھاکہ میں ان کی رہاشگاہ کا رخ کیا۔

بی بی سی ورلڈ سروس نے اس سے قبل دارالحکومت میں پولیس کی جانب سے مظاہرین کے قتل سے متعلق معلومات کی تصدیق کی تھی۔

شیخ حسینہ 15 سال سے اقتدار میں تھیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنشیخ حسینہ 15 سال سے اقتدار میں تھیں
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

18 جولائی کو ہونے والی اس بات چیت کے دوران، جس کی آڈیو لیک ہوئی، شیخ حسینہ ڈھاکہ میں اپنی رہائشگاہ پر تھیں۔ یہ بات اس آڈیو کے حوالے سے معلومات رکھنے والے ذرائع نے بی بی سی کو بتائی۔

یہ ایک اہم لمحہ تھا۔ سکیورٹی حکام پولیس کی جانب سے مظاہرین کے قتل کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد عوامی غصے کا جواب دینے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ ایسی متعدد ویڈیوز ملک بھر میں سوشل میڈیا پر پھیل رہی تھیں۔

بی بی سی نے مقامی پولیس کی دستاویزات دیکھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فون کال کے بعد فوجی رائفلز ڈھاکہ میں استعمال کی گئیں۔

یہ آڈیو کس نے لیک کی؟ یہ اب تک معلوم نہیں ہو سکا تاہم اس میں موجود آواز کو بنگلہ دیش پولیس کے کریمنل انویسٹیگیشن محکمے نے شیخ حسینہ کی آواز کے ساتھ میچ کیا جبکہ بی بی سی نے اپنی آزادانہ تحقیق بھی کی، جس کے دوران آڈیو فارنزک ماہرین ’ایئر شاٹ‘ کو یہ آڈیو سنوائی گئی تو ان کو ایسے شواہد نہیں ملے کہ اسے ایڈٹ کیا گیا ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان کم ہے کہ یہ آڈیو جعل سازی سے بنائی گئی۔

ایئر شاٹ کا کہنا ہے کہ آڈیو میں سنائی دی جانے والی آوازوں سے پتہ چلتا ہے کہ غالبا یہ ریکارڈنگ ایسے کمرے میں ہوئی جس میں فون کال کسی سپیکر پر لی جا رہی تھی۔ انھوں نے الیکٹرک نیٹ ورک فریکوئنسی کی شناخت کی جو پوری ریکارڈنگ میں موجود ہے۔

یہ فریکوئنسی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آڈیو سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی۔

ایئر شاٹ نے شیخ حسینہ کی آواز، سانس، ردھم کا بھی تجزیہ کیا اور انھیں کسی قسم کی جعل سازی کے شواہد نہیں ملے۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے ماہر برطانوی بیرسٹر ٹوبی کیڈمین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریکارڈنگ شیخ حسینہ کے کردار کو واضح کرتی ہیں اور ان کی باضباطہ تصدیق ہو چکی ہے جس کی حمایت دیگر شواہد بھی کرتے ہیں۔

بیرسٹر ٹوبی کیڈمین بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کریمنل ٹریبیونل (آئی سی ٹی) کی مدد کر رہے ہیں جو شیخ حسینہ کے خلاف مقدمےکی سماعت کر رہا ہے۔

عوامی لیگ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ہم اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ جس آڈیو کا حوالہ بی بی سی دے رہا ہے وہ واقعی اصلی ہے۔

ان مظاہروں میں 1400 افراد ہلاک ہوئے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنان مظاہروں میں 1400 افراد ہلاک ہوئے

شیخ حسینہ کے علاوہ ان کی حکومت کے سابق اہلکار اور پولیس حکام بھی مظاہرین کی ہلاکت کے مقدمے میں نامزد ہیں۔ آئی سی ٹی نے 203 شخصیات کی نشاندہی کی تھی جن میں سے 73 زیر حراست ہیں۔

بی بی سی نے 36 دن پر محیط پولیس حملوں کی سینکڑوں ویڈیوز، تصاویر اور دستاویزات کا تجزیہ کیا اور ان کی تصدیق کی۔

اس تفتیش کے مطابق پانچ اگست کو ڈھاکہ کے ایک پرہجوم علاقے میں پولیس نے 52 افراد کو ہلاک کیا جو بنگلہ دیش کی تاریخ میں پولیس کے تشدد کا بدترین واقعہ ہے۔ بی بی سی کی تفتیش سے نئی معلومات بھی سامنے آئی ہیں کہ اس دن کیا ہوا تھا۔

عینی شاہدین، سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈرون سے حاصل شدہ مناظر کی مدد سے بی بی سی نے جانا کہ جب وہ فوجی اہلکار جو مظاہرین اور پولیس کو ایک دوسرے سے الگ کر رہے تھے، علاقے سے روانہ ہوئے تو پولیس نے فائرنگ کر دی۔

30 منٹ تک پولیس مظاہرین پر فائرنگ کرتی رہی جو فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے جس کے بعد پولیس افسران نے ایک قریبی فوجی کیمپ میں پناہ لی۔ چند گھنٹوں بعد جب مظاہرین نے جوابی کارروائی کی تو چھ پولیس اہلکار مارے گئے۔ اس دوران ایک تھانے کو نذر آتش بھی کیا گیا۔

شیخ حسینہ اس بغاوت کے بعد انڈیا فرار ہو گئیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنشیخ حسینہ اس بغاوت کے بعد انڈیا فرار ہو گئیں

بنگلہ دیش پولیس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جولائی اور اگست میں پرتشدد ہنگاموں میں کردار پر 60 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ افسوسناک واقعات ہوئے جن میں پولیس کے چند اہلکاروں نے طاقت کا بے جا استعمال کیا اور بنگلہ دیش پولیس نے جامع اور غیر جانبدارانہ تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

شیخ حسینہ کے خلاف گزشتہ ماہ مقدمہ شروع ہوا جس میں ان پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام لگایا گيا، اس کے ساتھی ہی ایسا حکم جاری کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے، جس کے بعد بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں اور عام شہریوں پر تشدد ہوا۔ ان پر قتل عام کو روکنے میں ناکامی کا الزام بھی شامل ہے۔

انڈیا نے اب تک بنگلہ دیش کی جانب سے اس درخواست کا جواب نہیں دیا کہ شیخ حسینہ کو واپس بھیجا جائے۔

ٹوبی کیڈمین کہتے ہیں کہ ان کی واپسی کا امکان بھی کم ہے۔ ادھر عوامی لیگ کا موقف ہے کہ ان کے رہنما مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال میں شامل نہیں تھے اور نہ ہی اس پر وہ جواب دہ ہیں۔

پارٹی ترجمان نے کہا ہے کہ ’عوامی لیگ ان دعووں کی تردید کرتی ہے کہ اس کے چند سینیئر رہنما، بشمول وزیر اعظم، ذاتی طور پر ہجوم کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال میں شامل یا ذمہ دار تھے۔ سینیئر حکومتی اہلکاروں نے جو فیصلے کیے وہ متناسب تھے، اچھی نیت سے کیے گئے اور ان کا مقصد انسانی جانوں کے نقصان کو کم سے کم کرنا تھا۔‘

عوامی لیگ نے اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کی رپورٹ کو بھی مسترد کیا ہے جن کے مطابق انھیں اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ شیخ حسینہ اور ان کی حکومت انسانیت کے خلاف جرائم کی مرتکب ہوئی۔

بی بی سی نے بنگلہ دیش کی فوج سے بھی رابطہ کیا تاہم ان کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا۔

شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے ملک میں ایک عبوری حکومت قائم ہے جس کی سربراہی نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کر رہے ہیں۔ ان کی حکومت اس وقت ملک میں انتخابات کروانے کی تیاری کر رہی ہے اور اب تک یہ واضح نہیں کہ عوامی لیگ کو حصہ لینے کی اجازت ہو گی یا نہیں۔