کیا نیند میں چلنا اور باتیں کرنا کسی بیماری کی علامات ہیں؟

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
- مصنف, افتخار علی
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ آپ کے ساتھ سوتا ہوا شخص اچانک ہی نیند میں بولنا یا بڑبڑانا شروع کر دیتا ہے اور پھر ایسا ہونا ایک معمول بنتا جاتا ہے۔
انگریزی میں اس کیفیت کے شکار لوگوں کو سلیپ ٹاکرز کہا جاتا ہے۔
بعض اوقات یہ چیزیں اتنی عجیب یا ذاتی ہوتی ہیں کہ ان سے رشتوں میں غیر ضروری تناؤ یا غلط فہمیاں تک پیدا ہو جاتی ہیں۔ اسے طبی اصطلاح میں سومنیلوکوا کہتے ہیں۔
نیند میں بڑبڑانا نہ صرف سننے والے کی نیند میں خلل ڈالتا ہے بلکہ بولنے والے کی صحت کے بارے میں بھی بہت کچھ ظاہر کرتا ہے۔
زیادہ تر معاملات میں نیند میں باتیں کرنا ایک عام حالت سمجھا جاتا ہے، لیکن اگر آپ کی بڑبڑاہٹ بڑھ گئی ہے تو اسے نظر انداز کرنا بہت سے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ کچھ لوگ بڑبڑانے کے ساتھ ساتھ چلانا یا چیخنا بھی شروع کر دیتے ہیں۔
نیند میں بات کرنے کے علاوہ کچھ لوگوں کو نیند میں چلنے کی عادت بھی ہوتی ہے۔ نیند میں چلنا نیند میں بات کرنے سے زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔
آئیے جانتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اور اس سے بچنے کے لیے کیا تدابیر ہیں؟
نیند میں باتیں کرنا

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
جب ہم سوتے ہیں تو دماغ میں ایک قسم کا حفاظتی طریقہ کار کام کرتا ہے۔ یہ خوابوں سے وابستہ ذہنی سرگرمیوں کو تقریر یا جسمانی حرکات میں تبدیل ہونے سے روکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن یہ نظام مکمل طور پر درست نہیں ہے۔ بعض اوقات کچھ سگنلز ’لیک‘ ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ بڑبڑا سکتے ہیں، کراہ سکتے ہیں، صاف بول سکتے ہیں اور کبھی کبھی نیند میں چل بھی سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس کا تعلق کئی جسمانی اور ذہنی عوامل سے ہوسکتا ہے۔ تناؤ، ڈپریشن، نیند کی کمی، شراب نوشی، اور بخار جیسی حالتیں نیند میں بات کرنے کے امکانات کو بڑھا سکتی ہیں۔
دہلی کے سر گنگا رام ہسپتال کے ڈاکٹر محسن ولی کہتے ہیں کہ نیند میں باتیں کرنا عام طور پر کسی سنگین بیماری کی علامت نہیں ہوتا، لیکن اس کا تعلق سٹریس یا تناؤ سے ہوسکتا ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’نیند میں باتیں کرنا ان لوگوں میں دیکھا جاتا ہے جو تناؤ میں سوتے ہیں یا کاموں کے بوجھ کو ضرورت سے زیادہ سوار کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگ کبھی کبھی نیند میں بھی یہی باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔‘
ڈاکٹر محسن کے مطابق ’اس میں وہ شخص سوتے ہوئے کچھ بھی کہہ سکتا ہے اور کبھی کبھی خواب میں خوف محسوس کرتے ہوئے بھی بات کرنا شروع کر دیتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈاکٹرز کے مطابق اس کا کوئی خاص علاج نہیں ہے تاہم اس کے پیچھے کی وجہ کو سمجھنا ضروری ہے۔
نیند کی باتیں یوں تو سننے میں ٹھیک لگتی ہیں یعنی اکثر گرامر کے لحاظ سے درست ہوتی ہیں۔ اس کا تعلق حالیہ واقعات یا تجربات سے بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ بعض اوقات سننے میں عجیب اور مضحکہ خیز بھی لگتا ہے۔
زیادہ تر معاملات میں نیند میں بات کرنا بیماری نہیں ہے۔ تاہم تناؤ، ذہنی دباؤ یا نفسیاتی مسائل اس کے امکانات کو بڑھا سکتے ہیں۔
میٹرو گروپ آف ہاسپٹلز کی سینیئر کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ ڈاکٹر سونیا لال گپتا اس حوالے سے کہتی ہیں کہ رات کو نیند کے دوران بات کرنا ایک عام مسئلہ ہے، جس کا شکار خاص طور پر بچے ہوتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہ مسئلہ بڑھتا ہے تو یہ تشویشناک ہے۔
’نیند میں باتیں کرنا عام طور پر کوئی بیماری نہیں ہوتی‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
نیند میں چلنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ امریکہ کے شہر لوزیانا میں رہنے والی پےٹن نامی لڑکی 14 ستمبر 2024 کی رات کو اپنی نیند میں گھر سے نکلیں اور جنگل کے بیچ میں چلی گئیں۔
لڑکی کے لاپتہ ہونے پر اہل خانہ نے پولیس کو اطلاع دی اور تلاش شروع کر دی۔ جب لڑکی آس پاس کہیں نہیں ملی تو اسے ڈھونڈنے کے لیے ڈرون کیمرے کی مدد لی گئی۔
ڈاکٹر محسن ولی کا کہنا ہے کہ نیند میں باتیں کرنا عام طور پر کوئی بیماری نہیں ہوتی لیکن نیند میں چہل قدمی حادثے کا خطرہ بن سکتی ہے۔
ان کے بقول ’اس میں وہ شخص درحقیقت اٹھ کر چلنا شروع کر دیتا ہے اور اسے اس کی خبر تک نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں اس کے گرنے یا کسی چیز سے ٹکرانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی چھت پر سو رہا ہے تو اس کے گرنے کا بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔‘
ڈاکٹر ولی اپنی طالب علمی کی زندگی کا ایک تجربہ بھی بیان کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ 1968 میں ہائی سکول کے دوران سائنس کے پرچے سے پہلے وہ بہت زیادہ تناؤ کا شکار تھے اور انھوں نے رات کو سونے کے بعد صبح چار بجے کے قریب اٹھ کر غنودگی کی حالت میں چلنا شروع کر دیا۔ اس وقت ان کے والد نے انھیں روکا۔
ماہرین کے مطابق رات کی نیند کئی مراحل میں مکمل ہوتی ہے۔ جب ہم سونے کی کوشش کرتے ہیں تو سب سے پہلے ہلکی نیند طاری ہوتی ہے۔ تقریباً 20 منٹ کے بعد یہ نیند آہستہ آہستہ گہری ہونے لگتی ہے۔
اس کے بعد کچھ دیر کے لیے نیند دوبارہ ہلکی ہو جاتی ہے اور پھر انسان بہت گہری نیند میں چلا جاتا ہے۔
نیند کے یہ تمام مراحل رات بھر میں کئی بار دہرائے جاتے ہیں۔ ہر چکر کے ساتھ بہت گہری نیند کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے اور یہ چکر اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک ہم صبح نہیں اٹھتے۔
اس گہری نیند کے دوران ہی ہم سب سے زیادہ خواب دیکھتے ہیں۔ اس حالت میں جسم بالکل ساکن رہتا ہے تاکہ جسم خواب میں ہونے والی سرگرمیوں کے مطابق حرکت نہ کرے۔
تاہم نیند میں چلنا اس وقت ہوتا ہے جب دماغ اور جسم کے درمیان ہم آہنگی میں خلل پڑتا ہے۔
یہ ایک قسم کی فریب کی حالت ہے جس میں دماغ اتنا متحرک ہوتا ہے کہ جسم کو حرکت کرنے کا اشارہ دے لیکن اتنا فعال نہیں کہ انسان کو پوری طرح بیدار رکھ سکے۔
اٹلی کے شہر میلان کے ہسپتال نیگارڈا میں کی گئی ایک تحقیق میں نیند میں چہل قدمی کرنے والے افراد کی دماغی سرگرمیوں کا مطالعہ کیا گیا۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ ایسے افراد کے دماغ کے کچھ حصے متحرک رہتے ہیں جبکہ باقی نیند کی حالت میں ہوتے ہیں۔
اس تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ نیند میں چہل قدمی نیند اور بیداری کے درمیان عدم توازن کا نتیجہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فکر کرنے کی ضرورت کب ہے؟
ڈاکٹر سونیا لال گپتا کے مطابق نیند میں بات کرنے کے معاملے میں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’جو لوگ نیند میں باتیں کرتے ہیں یا بڑبڑاتے ہیں انھیں اکثر صبح یاد نہیں ہوتا کہ انھوں نے رات کو کیا کہا تھا۔ زیادہ تر معاملات میں، خاص طور پر بچوں میں، علاج کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ یہ مسئلہ عمر کے ساتھ ساتھ خود ہی ختم ہو جاتا ہے۔‘
ڈاکٹر گپتا کے مطابق بڑی عمر کے لوگوں میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ نیند میں بات کرنے کی وجہ کیا ہے اور کیا یہ نیند کے معیار کو متاثر کر رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کو نیند میں بار بار بات کرنے، چیخنے چلانے یا پرتشدد حرکت کرنے کا مسئلہ ہو اور اس سے اس کی نیند متاثر ہو رہی ہو تو اس کی وجہ جاننے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر محسن ولی کے مطابق پہلے کے مقابلے میں اب لوگ نیند کی کمی کا شکار ہیں۔ کچھ لوگوں میں نیند کی کمی کی بیماری بھی پائی جاتی ہے جس میں نیند کے دوران دماغ تک آکسیجن صحیح طریقے سے نہیں پہنچ پاتی اور اس کی وجہ سے دماغ تناؤ میں چلا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ نیند میں چلنے یا نیند میں بات کرنے کا مسئلہ تناؤ، نیند کی کمی، بے چینی یا بیماری کے بعد بھی ہو سکتا ہے۔
سونے اور جاگنے کا ایک مقررہ وقت
ماہرین کے مطابق نیند کے بے قاعدہ اوقات یا بعض اوقات کسی اور مسئلے کی وجہ سے بھی ہم اس حالت سے گزر سکتے ہیں۔
ڈاکٹرز مشورہ دیتے ہیں کہ ان مسائل کو ٹھیک کر کے آپ اس پریشانی سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر سونیا لال گپتا نیند کے معیار کو بہتر بنانے کے بارے میں کہتی ہیں کہ ’سونے اور جاگنے کا ایک مقررہ وقت ہونا چاہیے۔ رات تین بجے کے بعد کیفین کا استعمال نہیں کرنا چاہیے اور سونے سے پہلے موبائل فون کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر کوئی شخص بہت زیادہ تناؤ کے ساتھ بستر پر جاتا ہے اور مسئلہ بڑھتا جا رہا ہے، تو ڈاکٹر سے ملنا ضروری ہے۔‘
ڈاکٹر گپتا کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص نیند کے دوران پرتشدد حرکت کرتا ہے، جیسا کہ سوتے ہوئے اپنے ساتھی کو لات مارنا تو یہ اعصابی مسئلے کی علامت ہو سکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اس طرح کی نیند سے متعلق شکایات بچوں میں زیادہ عام ہیں کیونکہ ان کا دماغ ابھی تک نشوونما پا رہا ہے۔ تاہم اگر کوئی بچہ دن میں ضرورت سے زیادہ سوتا ہے یا سکول میں بار بار سوتا ہے تو یہ تشویشناک بات ہوسکتی ہے اور اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔‘
ڈاکٹر ولی کے مطابق اس کا کوئی براہ راست علاج نہیں ہے۔ ایسے معاملات میں کاؤنسلنگ مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جو عام طور پر ماہر نفسیات کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کافی نیند لینا بھی ضروری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ رات کے وقت جسم میں میلاٹونن پیدا ہوتا ہے۔ اگر ضرورت ہو تو میلاٹونن بھی ڈاکٹر کے مشورے سے دی جا سکتی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان حالات میں یادداشت عموماً متاثر نہیں ہوتی۔













