اننگز کی شکست سے بچنے کے باوجود پاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ کے ہاتھوں ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش

کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے چوتھے روز جنوبی افریقہ نے پاکستان کو 10 وکٹوں سے شکست دے دی ہے اور شاید ایسے مواقع کے لیے ہی ’آئسنگ آن دا کیک‘ کا جملہ ایجاد ہوا ہے جو جنوبی افریقہ کی ٹیم پر فٹ بیٹھتا ہے جو پہلے سے ڈبلیو ٹی سی فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکے ہیں۔

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کے دوسرے میچ میں جنوبی افریقہ کی پہلی اننگز میں بنائے گئے 615 رنز کے جواب میں پاکستانی ٹیم پہلی اننگز میں 194 پر آؤٹ ہو کر فالو آن کا شکار ہو گئی تھی۔

فالو آن کے بعد پاکستان نے دوسری اننگز میں 478 رنز بنا کر 57 رنز کی برتری حاصل کی جسے جنوبی افریقہ نے بغیر کسی نقصان کے پورا کر لیا۔

جنوبی افریقہ کے رائن رکلٹن کو پلئیر آف دا میچ جبکہ مارکو جینسن کو سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا ہے۔

پاکستانی کپتان شان مسعود کا کہنا ہے کہ ٹیم نے سینچوریئن میں جیت کا موقع گنوایا مگر یہاں کیپ ٹاؤن میں ابتدا میں پچ نے سبھی کو سرپرائز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے فالو آن کے باوجود فائٹ بیک کی کوشش کی۔

شان کو امید ہے کہ کھلاڑی ناکامی سے سیکھیں گے اور ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں بہتر کارکردگی دکھائیں گے۔

اپنی سنچری پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ذاتی کارکردگی اور مائلسٹون (سنگِ میل) کو نہیں دیکھتے بلکہ ٹیم کی کارکردگی کو ترجیح دیتے ہیں۔

انھوں نے بابر کے ساتھ ڈبل سنچری شراکت پر کہا کہ افسوس ہے کہ بابر اس شاٹ پر آؤٹ ہوئے جو وہ بہت اچھی کھیلتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بابر سمیت کئی کھلاڑیوں نے ضرورت کے تحت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور سٹیپ اپ کیا ہے۔

جنوبی افریقہ کے کپتان باووما نے نوجوان بولرز کو داد دی اور کہا کہ اب ان کا اگلا امتحان ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں آسٹریلیا کے خلاف فائنل ہے۔

فالو آن کے بعد پاکستان نے دوسری اننگز میں بہتر کارکردگی دکھائی اور اننگز سے شکست کے امکان کو ختم کیا اور 478 رنز بنائے جس میں شان مسعود کے 145 رنز شامل ہیں جبکہ ان کے ساتھ ڈبل سنچری شراکت قائم کرنے والے بابر اعظم نے 81 رنز بنائے۔

بابر تیسرے روز کے اختتام کے قریب اپنی وکٹ گنوا بیٹھے تھے۔

چوتھے دن محمد رضوان اور سلمان آغا کے درمیان شراکت 88 رنز کو پہنچ چکی تھی اور یہ ایک اچھا موقع تھا کہ اننگز سے شکست کا خطرہ ٹال کر پاکستان یہ ٹیسٹ میچ پانچویں روز تک لے جائے مگر اسی دوران اپنی نصف سنچری کے قریب محمد رضوان نے وہ کیا جس کی شائقین کو امید نہ تھی۔

انھوں نے کیشو مہاراج کی گیند پر قدم بڑھا کر ایک ڈرائیو کھیلی اور کوور فیلڈر کپتان باووما کو اپنی وکٹ تھما کر چلے گئے۔

ان کے جانے کے بعد پاکستان نے اننگز سے شکست کا خطرہ جیسے تیسے ٹال لیا مگر آخری ٹیسٹ میں میزبان جنوبی افریقہ کو محض 58 رنز کا ہدف دیا جو انھوں نے بغیر کسی نقصان کے پورا کر لیا۔

جنوبی افریقہ کو پہلے ہی اس سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل تھی اور آج انھوں نے پاکستان کو 10 وکٹوں سے ہرا کر سیریز میں کلین سوئپ کر لیا ہے۔

چوتھے روز کپتان شان مسعود 145 رنز بنا کر ماپھاکا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ ان کے بعد مڈل اور لوئر مڈل آرڈر میں کوئی بھی بلے باز نصف سنچری کے سکور تک نہ پہنچ سکا۔ محمد رضوان اور سلمان آغا دونوں نصف سنچری کے قریب آؤٹ ہوگئے۔

سلمان آغا نے 48 رنز بنائے مگر مہاراج کی گیند پر مارکرم نے سلپ پر ان کا ایک مشکل کیچ پکڑا۔ عامر جمال نے 34 رنز بنائے مگر وہ بھی مہاراج کا شکار ہوئے۔

جنوبی افریقہ کے بولرز نے بابر اعظم اور شان مسعود کے درمیان ڈبل سنچری شراکت کے بعد میچ پر اپنی گرفت دوبارہ مضبوط کی۔

مہاراج اور رباڈا نے تین، تین جبکہ جینسن نے دو وکٹیں حاصل کیں۔

یاد رہے کہ پہلی اننگز کے دوران اینکل فریکچر کے باعث صائم ایوب میچ سے باہر ہوگئے تھے اور وہ دونوں اننگز میں بیٹنگ نہیں کر پائے۔ ان کی جگہ شان مسعود اور بابر اعظم نے اوپننگ کی۔

پاکستانی ٹیم کے ’فائٹ بیک‘ کرنے کی تعریف مگر ’غلط وقت پر‘ آؤٹ ہونے والے رضوان پر تنقید

سوشل میڈیا پر پاکستان کی ہار پر شائقین دلبرداشتہ تو ہیں ہیں تاہم کچھ افراد دوسری اننگز میں ٹیم کی فائٹ بیک کی تعریف کر رہے ہیں۔

کرکٹ کے حوالے سے پی ایس ایل میمز نامی اکاؤنٹ نے لکھا ’10 وکٹوں سے ہار کوئی اچھا سائن نہیں ہے لیکن پہلے اگر کوئی یہ کہتا کہ پاکستان کوشش کرکے میچ یہاں تک لے آئے گا تو شاید ہم ہنس پڑتے۔۔۔ ٹیم میں ربط بڑھا مگر اسے بڑھنے میں تاخیر ہو گئی۔۔۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ ہم نے اچھی لڑائی لڑی۔ اسے ایک سبق سمجھ کر اگلی سیریز پر توجہ دیتے ہیں۔‘

حتیٰ کہ سرحد پار صارفین کا کہنا ہے کہ ’جیت یا ہار معنی نہیں رکھتیں کیونکہ پاکستان نے اس ٹیسٹ میں بہت اچھی کارکردگی دکھائی ہے اور بہت عرصے بعد ٹیم نے آخر تک فائٹنگ کی سپرٹ اور بہترین کیریکٹر دکھایا ہے۔‘

تاہم کچھ شائقین کا ماننا ہے کہ اگر پاکستانی ٹیم تھوڑی اور کوشش کرتی تو میچ جیت سکتی تھی۔

اس میچ میں محمد رضوان سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ سلمان آغا کے ساتھ مل کر پاکستان کو میچ میں واپسی کا موقع فراہم کریں گے۔

تاہم وہ ایک غلط شاٹ کے نتیجے میں 41 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔

شائقین نے پہلی اننگز کے دوران ان کی بیٹنگ پر بھی تنقید کی تھی جب وہ 46 رنز پر جارحانہ شاٹ کھیلنے کی کوشش کرتے ہوئے مولڈر کی گیند پر بولڈ ہوئے تھے۔

بعض شائقین نے اس جانب اشارہ کیا کہ رضوان اپنے ٹیسٹ کیریئر میں 40 رنز پر کھیلتے ہوئے نو مرتبہ آؤٹ ہوئے ہیں۔ گذشتہ 10 میں سے تین اننگز کے دوران وہ 40 اور 50 رنز کے بیچ آؤٹ ہوئے۔

کرکٹ فینز نے رضوان کے یوں آؤٹ ہونے کے لیے 'سافٹ ڈسمسسل' (یعنی آسانی سے آؤٹ ہو جانا) کی اصطلاح استعمال کی ہے۔

صارف حیدر عباس نے غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رضوان 'ٹی ٹوئنٹی میں اٹیک نہیں کرتے جب آپ چاہتے ہیں اور ٹیسٹ میچوں میں غیر ضروری اٹیک کرتے ہیں۔'

عروج جاوید نامی صارف نے طنز کیا کہ 'ہمیشہ غلط وقت پر آؤٹ ہوجاتا ہوں۔'

تاہم عرفہ فیروز ذکی نے ان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ 'رضوان اور بابر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی ناکامی کی واحد وجہ نہیں۔'