سمندری لہروں پر دنیا گھومنے کا خواب جس کے لیے صارفین نے ہزاروں ڈالر ادا کیے مگر یہ سفر کبھی شروع نہ ہو سکا

بحری جہاز
    • مصنف, سرنجنا تیواری
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

’اپنی زندگی سمندر کی لہروں میں گزایں ۔۔۔‘ وِکٹوریا کروز لائن (وی سی ایل) نے اپنی تشہیر میں یہ جملہ فخریہ انداز میں لکھا ہے۔ یہ سیاحتی بحری جہاز خود کو دنیا کی پہلی ایسی کروز شپ قرار دیتا ہے جہاں رہائش کا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔

آسٹریلیا کے شہر پرتھ سے تعلق رکھنے والے ڈینِس اور ٹیرائنا وان بھی سمندر کی لہروں پر گھر بنانا چاہتے تھے۔ جب انھوں نے فیس بُک پر یہ اشتہار دیکھا تو یہ انھیں اپنی ریٹائرمنٹ کے لیے بہترین موقع لگا۔

اس کروز میں عام کیبن کا کرایہ 3,840 امریکی ڈالر ماہانہ ہے۔ تین سالہ سفر کے دوران 115 ممالک کا دورہ شامل ہے۔ دنیا بھر کے مسافروں کو یہ سہولت دی گئی تھی کہ وہ چاہیں تو پورا راستہ طے کریں یا جتنا چاہیں سفر کریں۔

تاہم تین سال گزرنے کے باوجود اس سیاحتی جہاز نے ابھی تک سمندر کا رُخ ہی نہیں کیا۔ یہی نہیں بلکہ انھیں اور دیگر مسافروں پر یہ انکشاف بھی بجلی بن کر گرا کہ اشتہار میں کیے گئے وعدوں کے برعکس کمپنی کے پاس وہ جہاز نہ تو موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے لیز پر معاہدہ کیا گیا ہے۔

بی بی سی کے علم میں یہ بات آئی کہ وانز اُن درجنوں افراد میں شامل ہیں جو وی سی ایل میں جمع کرائے گئے پیسوں کی واپسی کے منتظر ہیں۔

کئی دیگر متاثرین نے بتایا کہ انھوں نے اس سفر کے لیے اپنے گھر بار بیچ دیے، پالتو جانوروں کے لیے نئے گھروں کا بندوبست کیا اور اپنا سامان سٹوریج میں رکھ دیا۔

ایک خاتون نے کہا کہ انھوں نے اپنے بیمار کتے کو مار دیا کیونکہ وہ سمجھ رہی تھیں کہ وہ کئی سال تک گھر واپس نہیں آ سکیں گی۔

ایک عمر رسیدہ جوڑے کو بگڑتی صحت کے باعث اب ریٹائرمنٹ کمیونٹی میں رہائش اختیار کرنا پڑی ہے کیونکہ وہ اب ایسے کروز کے لیے انتظار نہیں کر سکتے جو شاید کبھی روانہ ہی نہ ہو۔

صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے سربراہ ایڈم گلیزر کا کہنا ہے کہ ’جن لوگوں نے اس کروز کے لیے ڈپازٹ دیا تھا، انھیں ایک خوبصورت خواب بیچا گیا جس نے بھیانک شکل اختیار کر لی۔ جو کچھ وی سی ایل نے کیا ہے وہ قابلِ نفرت ہے۔‘

متاثرہ افراد نے کمپنی سے رابطہ کیا اور کچھ نے عدالتی کارروائی بھی شروع کی۔ جبکہ کچھ نے حکومتی اداروں میں شکایات درج کرائیں۔ ایک شخص نے تو ایف بی آئی تک کو خط لکھ ڈالا۔

وی سی ایل نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ جہاز کو چارٹر کرانے کے لیے اب بھی مزید گاہکوں کے منتظر ہیں اور اسی لیے وہ کروز کے اشتہارات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ گاہک بکنگ کے وقت اس شرط سے آگاہ تھے کہ جہاز اسی وقت روانہ ہوگا جب مطلوبہ تعداد میں مسافر ہوں گے۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے بعض گاہکوں کو گھر بیچ کر ڈپازٹ دینے سے باز رہنے کا مشورہ دیا تھا لہٰذا انھوں نے کسی کو دھوکہ نہیں دیا۔

تاہم زیادہ تر متاثرہ افراد اب یہ امید چھوڑ چکے ہیں کہ وہ کبھی جہاز میں سوار ہوں گے یا پیسے واپس لے سکیں گے۔

ڈینِس اور ٹیرائنا وان
،تصویر کا کیپشنڈینِس اور ٹیرائنا وان

’سب کچھ درست لگا تھا‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

64 سالہ ٹیرائنا نے بی بی سی کو بتایا کہ مئی 2022 میں وہ اور اُن کے شوہر ڈینِس اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ رہے تھے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی زندگی کیسی ہو سکتی ہے۔ اسی دوران ان کی نظر ایک سیاحتی کروز کے اشتہار پر پڑی جس میں رہائش اختیار کرنے کی شاندار پیشکش تھی۔

اس جوڑے کے مطابق انھوں نے مکمل احتیاط سے تحقیق کی تھی۔

ٹیرائنا کے مطابق کمپنی کی ویب سائٹ پر تمام تفصیلات موجود تھیں۔ انھوں نے کمپنی کے ایک نمائندے سے بھی بات کی جس نے ’ہمارے تمام سوالات کے جوابات دیے۔‘ اس کے بعد وہ ایک فیس بک گروپ میں بھی شامل ہوئے جہاں دوسرے ممکنہ مسافر موجود تھے۔

ٹیرائنا نے کہا کہ ’ہم نے کچھ تحقیق کی تو سب کچھ ہمیں بالکل درست لگا۔‘

ایک ماہ کے اندر ہی انھوں نے 10 ہزار امریکی ڈالر بطور ڈپازٹ ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ بینک ٹرانسفر کے ذریعے ادائیگی کی رسید بی بی سی نے دیکھی ہے۔

لیکن مئی 2023 میں روانگی سے صرف چند ہفتے قبل وی سی ایل نے اعلان کیا کہ سفر کی روانگی ملتوی کر دی گئی ہے۔

بی بی سی کے علم میں ان کی ایک ایسی ای میل آئی جس میں وی سی ایل نے وضاحت کی کہ کروز کے لیے تقریباً 80 فیصد کیبنز بُک نہیں ہوئے اور جب تک مطلوبہ گنجائش تک بکنگ نہیں ہو پاتی وہ جہاز چارٹر نہیں کر سکتے۔

تاہم جب کروز کی روانگی دو بار مزید موخر کی گئی تو اس جوڑے کو شک ہونے لگا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔

اسی دوران ایک اور ممکنہ مسافر نے ان سے رابطہ کیا اور انھیں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے اس کی مزید کھوج لگائی ہے۔ بہتر ہے کہ اس چال میں نہ آئیں۔‘

ویب سائٹ کا اشتہار

’ہمارا مشترکہ خواب ابھی زندہ ہے‘

وی سی ایل کی تشہیر میں ایک مکمل کروز لائنر کا وعدہ کیا گیا تھا جس میں 1,350 مہمانوں کی رہائش کی گنجائش رکھی گئی تھی اور جس میں سوئمنگ پولز، ٹینس کورٹ اور ایک اطالوی ریسٹورنٹ موجود تھا۔

کمپنی کے امریکی نمائندے نے فیس بک پر لکھا کہ ’ہمارے پاس ایک خوبصورت، سمندر کے سفر کے قابل جہاز موجود ہے۔ سابقہ ہالینڈ امریکن ویندم، جو اب میجیسٹک کے نام سے جانا جاتا ہے۔‘

تاہم بی بی سی کے علم میں آیا ہے کہ جب کچھ ممکنہ مسافروں نے اس جہاز کے اصل مالک ادارے سے رابطہ کیا تو کمپنی نے وی سی ایل سے کسی قسم کے تعلق سے انکار کر دیا۔

اگرچہ وی سی ایل نے ابھی تک کوئی جہاز لیز پر حاصل نہیں کیا لیکن کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ کروز کے اشتہارات جاری رکھے ہوئے ہے اور گاہکوں سے ڈپازٹ وصول کر رہی ہے تاکہ مطلوبہ گنجائش پوری کی جا سکے۔

وی سی ایل نے بی بی سی کو ایک ای میل میں بتایا کہ ’اگر ہم نے 2024 کے آغاز میں لیز معاہدے پر دستخط کر دیے ہوتے تو ہمیں تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ امریکی ڈالر بلاوجہ ادا کرنے پڑتے۔‘

کمپنی نے تسلیم کیا کہ اب تک 132 مسافر اپنا ٹرپ منسوخ کر چکے ہیں جبکہ 38 شکایات کی تحقیقات کی گئیں مگر کمپنی کے مطابق کسی بھی معاملے میں رقم واپس کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں ملی۔

کمپنی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کوئی ان میں متاثرہ شخص نہیں ہے تاہم جن 38 صارفین نے رقم واپسی کا مطالبہ کیا وہ یہ بات قبول نہیں کر پا رہے کہ وہ اس کے حق دار نہیں ہیں۔

کمپنی کے مطابق ریفنڈ روکنے کی وجوہات میں انتظامی وجوہات ہیں جس میں غلط یا نامکمل بینک تفصیلات، معاہدہ ختم کرنے سے متعلق کاغذات مقررہ وقت میں واپس نہ کرنا اور اینٹی منی لانڈرنگ کے چیک شامل ہیں۔

کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق وی سی ایل کا کروز آخری بار 26 جولائی 2025 کو روانگی کے لیے مقرر تھا، لیکن ایک بار پھر جہاز روانہ نہ ہو سکا۔

کمپنی کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ ’تاخیر کے باوجود حالیہ ہفتوں میں ہمیں نئے گاہکوں کی غیر متوقع دلچسپی سے حوصلہ ملا ہے جو اس بات کا مضبوط ثبوت ہے کہ ہمارا مشترکہ خواب ابھی زندہ ہے۔‘

کروز

’معاملہ خراب ہو گیا‘

آسٹریلیا میں مقیم ایک سابق صحافی گراہم وِٹیکر کا دعویٰ ہے کہ وی سی ایل نے لاکھوں ڈالرز جمع کیے ہیں۔

گراہم وِٹیکرکا کہنا ہے کہ ’یہ معاملہ اُس وقت خراب ہو گیا جب درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں ایسے لوگ سامنے آنے لگے جنھیں کبھی رقم واپس نہیں ملی تھی، جنھوں نے اپنی رقم واپس مانگی تھی اور جن سے جھوٹ بولا گیا تھا۔‘

جب مسافروں نے ریفنڈ کے مطالبات پر زور دینا شروع کیا اور میڈیا سے بات کرنا شروع کی تو انھیں قانونی کارروائی کی دھمکیاں دی گئیں۔

بی بی سی نے ایسی درجنوں ای میلز دیکھی ہیں۔

گراہم وِٹیکر نے کہا کہ ’کچھ لوگوں کے لیے تو یہ دھمکیاں اور ہراسانی اب سنگین شکل اختیار کر رہی ہیں۔‘

دوسری جانب وی سی ایل نے بی بی سی کو بھیجی گئی اپنی ای میل میں قانونی کارروائی کی دھمکیوں کا جواز پیش کیا۔

کمپنی نے کہا کہ ’جی ہاں، ہم اُن تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے جو اپنی شکایات کو سوشل میڈیا پر حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔‘

ایک جوڑے کی شکایت اور تحقیقات میں آنے والے انکشافات

ہنگری کے ایک جوڑے نے وی سی ایل کے معاہدے کی تبدیلیوں کو سامنے لا کر اس کے خلاف دائر ایک مقدمہ جیت لیا لیکن جب وی سی ایل نے اپنا سیٹ اپ اٹلی منتقل کر دیا تو اس پر عمل درآمد رُک گیا۔

وی سی ایل نے بی بی سی کے سوال کے جواب میں اعتراف کیا کہ اس نے صارفین کے دستخط کرنے کے بعد معاہدوں میں تبدیلی کی اور یہ کہ نئی شرائط سابقہ ​​طور پر لاگو ہوں گی۔

وی سی ایل نے کہا کہ ’معاہدے کا مسودہ تیار کرتے وقت وکلا ہر چیز کو شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا ہے اور معاہدے میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس معاملے میں ایسا ہی ہوا۔ یہ معاہدے تمام شپنگ کمپنیوں کے لیے اس طرح کام کرتے ہیں۔‘

ایک اور جوڑے نے امریکی ریاست یوٹا میں شکایت درج کرائی جس کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ مقررہ روانگی کی تاریخ پر جہاز کے لیے کوئی برتھ (جہاز کی پارکنگ) بُک ہی نہیں کی گئی تھی۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ کمپنی کی ویب سائٹ پر جن افراد کو عملے کے طور پر دکھایا گیا تھا، وہ نہ تو کروز پر جانے کا کوئی ارادہ رکھتے تھے اور نہ ہی انھیں ملازمت کی کوئی پیشکش موصول ہوئی تھی۔

کمپنی کی ویب سائٹ پر عملے کے رکن
،تصویر کا کیپشنکمپنی کی ویب سائٹ پر جن افراد کو عملے کے طور پر دکھایا گیا تھا، وہ نہ تو کروز پر جانے کا کوئی ارادہ رکھتے تھے اور نہ ہی انھیں ملازمت کی کوئی پیشکش موصول ہوئی تھی

’ہم کوئی فرضی کمپنی نہیں‘

ان تمام تنازعات کے باوجود وی سی ایل اب بھی اپنی کروز کے اشتہارات فیس بک اور انسٹا گرام پر چلا رہی ہے۔

ان پلیٹ فارمز پر موجود کمپنی کے اکاؤنٹس میں جہاز کے ڈیک، مینیو اور کیبنز کے چمکدار اشتہار دکھائی دیتے ہیں۔

سیاحت کے شوقین نئے مسافروں کی تصاویر بھی شیئر کی جاتی ہیں لیکن درحقیقت ان میں سے زیادہ تر انٹرنیٹ پر دستیاب سٹاک تصاویر ہیں۔

طویل قیام کی حوصلہ افزائی کے لیے کمپنی بڑی رعایتیں، فوری فروخت (فلیش سیلز) اور کیش بیک سکیمز کی پیشکش کر رہی ہے۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ انھوں نے بارہا ان اشتہارات کو رپورٹ کیا تاہم میٹا نے انھیں ہٹانے سے انکار کر دیا۔

صارفین کے حقوق کے علمبردار ایڈم گلیزر کہتے ہیں کہ ’یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ اتنے واضح شواہد کے باوجود یہ پلیٹ فارمز وی سی ایل کے اشتہارات چلنے دے رہے ہیں۔ انھیں اس پر ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔‘

میٹا نے بی بی سی کو دیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے اشتہاری معیارات دھوکہ دہی یا گمراہ کن اشتہارات کو سختی سے روکتے ہیں۔ مگر انھیں کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا جس سے ظاہر ہو کہ وی سی ایل کا صفحہ ان پالیسیوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

دوسری جانب وی سی ایل نے کسی بھی قسم کے فراڈ یا جعلسازی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ افراد محض یہ حقیقت قبول نہیں کر پا رہے کہ وہ ریفنڈ کے حق دار نہیں ہیں۔

کمپنی نے کہا کہ ’ہماری کمپنی کبھی غائب نہیں ہوئی، ہم نے ہر ای میل کا جواب دیا ہے اس لیے ہم کوئی فرضی کمپنی نہیں ہیں۔‘

ٹیرائنا کا کہنا ہے کہ رہائشی کروز کا تصور درحقیقت ناممکن نہیں کیونکہ کچھ لوگ جنھوں نے وی سی ایل کروز کے لیے سائن اپ کیا تھا وہ فی الحال دوسری کروز لائنز کے ساتھ دنیا کا سفر کر رہے ہیں۔

لیکن ان کے اور ڈینِس کے لیے اب کسی اور ایسی کروز پر جانا مالی طور پر ممکن نہیں رہا۔

ٹیرائنا نے دُکھ کے ساتھ کہا کہ ’یہ ہمارا خواب تھا جسے ہم ایک خوبصورت مہم کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ لیکن اب یہ سب کچھ گہرا صدمہ بن گیا ہے۔‘