فیصل آباد فیکٹری میں دھماکے سے 20 اموات، قریبی گھر بھی گر گئے: ’ملبے تلے دبے لوگ چیخ رہے تھے لیکن اُنھیں نکالنا چیلنج تھا‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, احتشام شامی
    • عہدہ, صحافی

’جس وقت دھماکے کی آواز آئی میں فیکٹری سے کچھ فاصلے پر تھا لیکن آواز اس قدر شدید تھی کہ میں لرز گیا۔ اس دوران آگ کا شعلہ آسمان کی طرف بلند ہوا تو مجھے پتہ چلا کہ دھماکہ کس جانب ہوا اور پھر چیخ و پکار ہونے لگی۔‘

فیصل آباد کے علاقے ملک پور کے رہائشی عبداللہ بٹ مسجد سے فجر کی نماز پڑھ کر گھر کی طرف آ رہے تھے جب ایک زوردار دھماکہ ہوا۔

عبداللہ بٹ کہتے ہیں کہ مسجد سے نکلنے والے تمام نمازیوں نے بھی اس سمت دوڑ لگا دی جہاں سے چیخ و پکار کی آوازیں آرہی تھیں۔ ’کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ہم فوری طور پر کیا کریں، دماغ نے جیسے کام کرنا چھوڑ دیا ہو۔‘

ریسکیو 1122 کے مطابق جمعے کی صبح پانچ بج کر 28 منٹ پر کیمیکل فیکٹری میں ہونے والے اس دھماکے سے قریب موجود گھر بھی گر گئے۔

اس واقعے کی درج ایف آئی آر کے مطابق اس دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوئے ہیں۔

عبداللہ بٹ کہتے ہیں ’میں نے دیکھا کہ گھروں کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور لوگ ہڑبڑا کر اٹھنے کے بعد باہر کی طرف بھاگ رہے ہیں، اردگرد کی گلیوں سے لوگ بالٹیاں بھر بھر کر پانی لا رہے ہیں لیکن آگ اس قدر زیادہ تھی کہ اتنے کم پانی سے کیا ہو سکتا تھا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’فیکٹری سے ملحقہ جس گھر کی چھت گر گئی تھی اس کے ملبے سے چیخوں کی آوازیں مسلسل آ رہی تھیں لیکن پریشانی اسی بات کی تھی کہ ملبہ کیسے ہٹایا جائے اور ملبے تلے دبے لوگوں کو کیسے نکالا جائے۔‘

عبداللہ بٹ نے بتایا کہ کچھ ہی دیر بعد ریسکیو 1122 کی ٹیمیں بھی وہاں پہنچ گئیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے گاڑیوں کی لائنیں لگ گئیں۔

’ریسکیو کے لوگ بہادری سے کام کر رہے تھے اور آگ کافی مشکل سے بجھا دی گئی گئی لیکن جو لوگ رات کو صبح اٹھنے کی امید پر سوئے تھے وہ پھر کبھی نہ اٹھ سکے۔‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’رشتے دار علاقے میں بدبو کی وجہ سے ملنے نہیں آتے تھے‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ملک پور کے رہائشی ایک شہری شہروز خان نے بتایا کہ اس فیکٹری سے زہریلے کیمیکل اور دھوئیں کے اخراج کے بارے میں اُنھوں نے محکمہ ماحولیات اور کئی اداروں کو درخواستیں بھی دی تھیں لیکن مبینہ طور پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

شہروز خان کہتے ہیں کہ ان کا گھر اس فیکٹری سے دو گلیوں کے فاصلے پر ہے لیکن کیمیکل اور دھواں اس قدر بدبودار ہوتا ہے کہ پورے محلے میں بو پھیل جاتی ہے۔ ’ملک پور میں رہنے والے لوگوں کے اکثر رشتے دار ان سے ملنے نہیں آتے کہ آپ کے علاقے کی بدبو میں زیادہ دیر رہا نہیں جا سکتا۔‘

’جب یہ واقعہ ہوا میں گھر میں سو رہا تھا، دھماکے سے ہمارا گھر بھی لرز اٹھا، میری بیوی نے بچوں کو فوراً پکڑا کیونکہ وہ بھی اٹھ گئے تھے اور بچوں نے رونا شروع کردیا تھا۔ اس دوران باہر گلی میں شور سنائی دیا تو میں بھی باہر دوڑا۔ دیکھا کہ تمام لوگ فیکٹری کی طرف بھاگ رہے ہیں اور فیکٹری سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں۔ میری ٹانگیں یہ منظر دیکھ کر کانپ گئیں، میں نے باہر جانے کے بجائے گھر کے اندر آ کر بیوی کو کہا کہ خیریت نہیں لگ رہی، اگر آگ زیادہ پھیل گئی تو تم بچوں کو لے کر گھر سے باہر نکل جانا۔‘

شہروز خان نے بتایا کہ جب میں جائے حادثہ پر پہنچا تو وہاں چند ہی منٹوں میں محلے کے پچاس ساٹھ افراد امدادی کام کر رہے تھے۔

’کوئی آگ بجھانے کی کوشش کر رہا تھا تو کوئی ملبہ ہٹانے کی جدوجہد میں مصروف تھا لیکن حادثہ اس قدر بڑا تھا کہ نہ کسی سے آگ بجھ سکتی تھی اور نہ ہی ملبہ ہٹانا کسی کے بس کی بات تھا۔‘

’ملبے تلے سے زخمیوں کو نکالنا سب سے مشکل کام لگ رہا تھا، لوگوں کی چیخیں دل دہلا رہی تھیں، ایسے میں جوان لڑکے جوش تو دکھاتے تھے لیکن ملبہ ہٹانے کا کام کسی کے بس کا روگ نہیں تھا۔‘

فیکٹریوں کو شہر سے باہر منتقل کرنے کے مطالبات

فیصل آباد کے ایک کاروباری شخص عبدالوہاب نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ حکومت نے بہت سی فیکٹریوں کو شہر سے باہر موٹروے کے پاس بہت بڑا رقبہ دیا، جہاں فیکٹریاں بنائی گئی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ لیکن اس کے باوجود اندرون شہر میں بھی کئی فیکٹریاں قائم ہیں، حکومت کو چاہیے کہ شہری آبادیوں میں موجود فیکٹریوں کو سیل کرے تاکہ لوگوں کی جانیں محفوظ ہو سکیں۔

’فیصل آباد میں شہری حدود میں فیکٹریاں کس قانون کے تحت کام کررہی ہیں اور ان کو کون تحفظ دے رہا ہے، اس بارے میں تحقیقات کرنا ہوں گی۔ ملک پور میں آج پیش آنے والا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں، ایسے حادثات فیصل آباد میں اکثرہوتے رہتے ہیں چونکہ اس بار ہلاکتیں زیادہ ہوئی ہیں تو اس وجہ سے شور مچ گیا۔‘

عبد الوہاب کہتے ہیں کہ پنجاب حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر اس واقعے کی مکمل تحقیقات کروائے، ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو معاوضہ فیکٹری مالک کی طرف سے ادا کروایا جائے اور زخمیوں کا علاج بھی انھی پیسوں سے کروایا جائے تبھی اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے گی۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہRescuee 1122

’زیادہ ہلاکتیں لوگوں کے ملبے تلے دبنے سے ہوئیں‘

ترجمان ریسکیو 1122 فاروق احمد کا کہنا ہے کہ دھماکے کی اطلاع جمعے کی صبح ملی جس میں بتایا گیا کہ ملک پور کی ایک فیکٹری کا بوائلر پھٹا جس سے کئی عمارتوں اور قریبی گھروں کی چھتیں گِر گئیں۔

ترجمان ریسکیو کے مطابق کئی لوگوں کو زندہ ریسکیو کیا گیا تاہم شدید چوٹوں کی وجہ سے کچھ لوگ بعد میں دم توڑ گئے۔

ریسکیو ترجمان کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ گیس لیکیج کی وجہ سے سٹیمر بلاسٹ سے ہوا۔

’یہ فیکٹری ملک پور، شہاب ٹاؤن میں واقع ہے جس کے قریب کبڈی سٹیڈیم گراؤنڈ موجود ہے۔‘

ان کے مطابق اس مقام پر چار فیکٹریاں تھیں جن میں سے یہ حادثہ کیمیکل صمد بونڈ والی فیکٹری میں ہوا جبکہ باقی تین فیکٹریوں میں گلو، سیلیکون اور کڑھائی کا کام ہوتا ہے اور یہ فیکٹریاں بند تھیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق اس حادثے میں نو گھر بھی متاثر ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں تین مزدور اور باقی رہائشی ہیں۔

فیصل آباد پولیس کے مطابق فیکٹری مینیجر اور پروڈکشن سٹاف کے انچارج کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ فیکٹری مالک اس واقعے کے بعد فرار ہو گیا جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہRescuee 1122

پولیس حکام نے میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ اس فیکٹری میں کیمیکل بنایا جاتا تھا اور اب پولیس کی طرف سے حادثے کی ممکنہ وجوہات پر تحقیقات شروع کی گئی ہیں اور عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں۔

کمشنر فیصل آباد راجہ جہانگیر انور کا کہنا ہے ’ابتدائی اطلاعات کے مطابق فیکٹری میں دھماکہ گیس پائپ لائن پھٹنے سے ہوا تاہم زیادہ جانی نقصان فیکٹری سے ملحقہ گھروں کے رہاشیوں کا ہوا، جن کی چھتیں گر گئیں اور یہ لوگ ملبے تلے دب گئے تھے۔‘

کمشنر کے مطابق ’حادثے کی تحقیقات کے لیے اعلی سطحی کمیٹی قائم کی جا رہی ہے جس میں مختلف سرکاری محکموں کے افسران شامل ہوں گے جو ذمہ داران کا تعین کریں گے۔‘