آلودہ فضا، ٹوٹی ہوئی سڑکیں اور کچرے کے ڈھیر: اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود انڈیا کے بڑے شہر ’ناقابل رہائش‘ کیوں؟

    • مصنف, نکھل انمدار
    • عہدہ, ممبئی، بی بی سی نیوز

’جے پور کا شاہی روپ دیکھنا ہے؟ یہاں نہ آئیں، بس ایک پوسٹ کارڈ خرید لیں۔‘ حال ہی میں انڈیا کے شمال مغربی شہر کے دورے کے دوران یہ کہنا تھا ایک مقامی ٹیکسی ڈرائیور کا۔

میں نے اس سے سوال کیا تھا کہ راجھستان کے دارالحکومت، جہاں سیاح محلات اور قلعے دیکھنے آتے ہیں، کی حالت اتنی بری کیوں ہے۔

اس کے جواب میں شہری علاقوں کی حالت زار سے جڑی وہ نا امیدی جھلک رہی تھی جس سے صرف جے پور ہی نہیں بلکہ انڈیا کے بہت سے شہر متاثر ہیں: ٹریفک، آلودہ فضا، کچرا اور ثقافتی ورثے کی باقیات سے لاتعلقی۔

جے پور میں آپ کو صدیوں پرانی عمارات پر پان کے دھبے دکھائی دیں گے اور قریب ہی کسی کار مکینک کی ورکشاپ ہو گی۔

اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انڈیا کے شہر رہنے کے قابل کیوں نہیں رہے جبکہ قومی سطح پر ان شہروں پر اربوں روپے لگائے جا رہے ہیں؟

مودی حکومت نے حال ہی میں سرکاری خزانے سے ملک کی ترقی کو سہارا دینے کی کوشش کی ہے کیوں کہ دوسری جانب مینوفیکچرنگ کا شعبہ کمزور ہوا ہے اور محصولات بڑھنے سے بھی معیشت متاثر ہوئی ہے۔

تاہم گزشہ چند برسوں میں انڈیا میں بہت سے نئے ایئرپورٹ بنائے گئے ہیں، نئی ہائی ویز تیار ہوئی ہیں اور میٹرو ٹرین چلی ہیں۔ اس کے باوجود دنیا میں رہائش کے قابل شہروں کی فہرست میں انڈیا کے بہت سے شہر نیچے چلے گئے ہیں۔ اور شہریوں کی مایوسی بڑھ رہی ہے۔

بنگلورو میں، جسے انڈیا کا آئی ٹی دارالحکومت کہا جا سکتا ہے، ارب پتی کاروباری بھی ٹریفک اور کچرے سے تنگ آ چکے ہیں۔

حال ہی میں ممبئی میں، جو ملک کا معاشی دارالحکومت ہے، شہریوں نے سڑکوں کی حالت زار پر منفرد احتجاج کیا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ سیورج لائن بند ہو جانے سے مون سون میں سڑکوں پر سیلاب کی صورت حال تھی۔

دلی میں ایک اور مسئلہ ہے۔ یہاں سالانہ موسم سرما میں زہریلی فضا سے بچے اور بوڑھے سانس کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ڈاکٹروں نے کچھ لوگوں کو شہر چھوڑنے کا مشورہ تک دیا۔ لیونل میسی کے حالیہ دورے کے دوران بھی ان کے مداح شہر کی آلودہ ہوا کے خلاف نعرے بلند کرتے دکھائی دیے۔

تو ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ ایک جانب جہاں چین نے ترقی کے دور میں اپنے شہروں کو بہتر بنایا، انڈیا ایسا کیوں نہیں کر پا رہا؟

مثال کے طور پر ممبئی، جو شنگھائی جیسا بننا چاہتا ہے، اپنا خواب پورا کیوں نہیں کر پایا؟ ونایک چترجی، جو انفراسٹرکچر ماہر ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بنیادی وجہ تاریخی ہے، پمارے شہروں میں قابل اعتماد گورننس ماڈل نہیں ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جب انڈیا کا آئین بنایا گیا تو اس میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو اختیارات دینے کی بات کی گئی لیکن اس وقت یہ نہیں سوچا گیا کہ ہمارے شہر اتنے بڑے ہو جائیں گے کہ انھیں ایک الگ حکومتی نظام کی ضرورت ہو گی۔‘

عالمی بینک کا تخمینہ ہے کہ ملک کی 40 فیصد آبادی، یعنی نصف ارب نفوس، اب شہروں میں رہائش پذیر ہیں۔ 1960 میں تقریبا سات کروڑ لوگ انڈیا کے شہروں میں رہتے تھے۔

چتر جی کے مطابق 1992 میں ایک کوشش کی گئی کہ آئینی ترمیم کے ذریعے شہروں کو اپنی قسمت خود بدلنے کا موقع دیا جائے اور مقامی حکومتوں کو آئینی طور پر اختیارات دیے گئے لیکن حقیقت میں بہت سی تبدیلیاں آج تک نہیں ہو پائی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’چند مفاد پرست نہیں چاہتے کہ بیوروکریٹس اور اعلیٰ سطح کی حکومت مقامی حکومتوں کو اختیارات دیں۔‘

دوسری جانب چین میں مقامی میئر کے پاس بہت طاقت ہوتی ہے اور وہ سرمایہ کاری تک کی اجازت دے سکتے ہیں۔ راماناتھ جھا آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن نامی تھنک ٹینک سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ چین میں طاقت مرکز کے پاس ہوتی ہے لیکن مقامی حکومتوں کو کافی آزادی حاصل ہے اور ان کی سرگرمیوں کو مرکز کی جانب سے غور سے دیکھا جاتا ہے جس پر انعام بھی ملتا ہے اور سزا بھی۔‘

بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے مطابق چین کے بڑے اور اہم شہروں کے میئر مرکزی کمیونسٹ جماعت میں طاقتور لوگوں کی مدد سے کام کرتے ہیں اور یہ عہدے زیادہ اہم عہدوں پر ترقی کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔

چترجی کہتے ہیں کہ ’ہم انڈیا کے بڑے شہروں کے کتنے میئرز کے نام جانتے ہیں؟‘

’ویسٹڈ‘ نامی کتاب کے مصنف انکر بسن کا کہنا ہے کہ انڈیا میں مقامی میئر اور کونسلز ریاست کا سب سے کمزور حصہ ہیں جو عام لوگوں سے تو قریب ہیں لیکن انھیں سب سے زیادہ مشکل مسائل سونپ دیے جاتے ہیں۔

’ان کے پاس پیسہ اکھٹا کرنے، حکام کی تعیناتی، فنڈز مختص کرنے کی محدود طاقت ہوتی ہے اور حقیقت میں ریاست کے وزرائے اعلی سپر میئر ہوتے ہیں جو ہر چیز کا فیصلہ کرتے ہیں۔‘

تاہم کچھ شہر ایسے بھی ہیں جہاں معاملات مختلف رہے ہیں جیسا کہ سورت شہر یا مدھیا پردیش میں اندور شہر جہاں بیوروکریٹس نے سیاسی اشرافیہ کی آشیرباد سے تبدیلی لائی۔

بسن کا کہنا ہے کہ ’یہ انفرادی کامیابی تھی، نظام کی تبدیلی نہیں جہاں ایک بیورکریٹ کے جانے کے بعد بھی کام چلے۔‘

نظام حکومت سے ہٹ کر بھی انڈیا کو مسائل درپیش ہیں۔ 15 سال پہلے ہونے والی مردم شماری کے مطابق شہری آبادی 30 فیصد تھی لیکن مانا جاتا ہے کہ ملک کی نصف آبادی اب شہروں میں رہتی ہے۔

بسن کا کہنا ہے کہ ’آپ کسی مسئلے کو حل کرنا شروع بھی کیسے کریں گے جب آپ کے پاس مکمل اعداد و شمار ہی نہیں ہیں۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انڈین جمہوریت کی کمزوری کی نشانی ہے۔

چترجی کہتے ہیں کہ ’عجیب بات ہے کہ ہمارے شہروں کے حوالے سے کوئی فکرمند نہیں ہے، جیسے لوگ کرپشن کے بارے میں تھے۔‘