آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
حادثہ، قتل یا تخریب کاری: ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت جو ایک سال بعد بھی سازشی نظریات کا مرکز ہے
- مصنف, فرنوش امیرشاہی
- عہدہ, بی بی سی فارسی
ابراہیم رئیسی ایران کے طاقت کے ایوانوں میں تیزی سے اوپر آئے لیکن ان کی صدارت اچانک ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ختم ہو گئی۔
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی 19 مئی 2024 کو آذربائیجان کی سرحد کے قریب مشرقی آذربائیجان کے صوبے میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے میں اس وقت کے ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہ اور کئی اعلیٰ حکام بھی ہلاک ہوئے تھے۔
ایک سال بعد بھی اس حادثے کے متعلق سرکاری وضاحت جس میں کہا گیا تھا کہ خراب موسم کی وجہ سے ان کا ہیلی کاپٹر پہاڑ سے ٹکرا گیا تھا، پر آج بھی ایران کے اندر بڑے پیمانے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ لوگوں کو حکومتی بیانیے پر زیادہ بھروسہ نہیں۔
سرکاری رپورٹس میں پائے جانے والے تضادات
ایرانی فوج نے اس حادثے میں کسی تخریب کاری یا قتل کی سازش کو مسترد کرتے ہوئے تین رپورٹس جاری کی ہیں۔ تازہ ترین رپورٹ میں گہری دھند کو حادثے کی ممکنہ وجہ بتایا گیا ہے۔
تاہم، رئیسی کے سابق چیف آف سٹاف نے کہا کہ مطلع صاف تھا جبکہ ناقدین ہیلی اپٹر میں کسی ممکنہ تکنیکی خرابی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
ایرانی ریاست کی جانب سے کیس بند کرنے کی کوشش کے ساتھ ہی عوام کی اس حادثے کے بارے میں قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔
ہیلی کاپٹر کے ملبے کی محدود اور دھندلی تصاویر نے شکوک و شبہات کو مزید ہوا دینے میں کردار ادا کیا ہے۔
متنازع آخری سفر
اس حادثے سے قبل ابراہیم رئیسی کے سفری منصوبوں میں کافی تبدیلیاں ہوئی تھیں۔
مجتبیٰ موسوی کے بھائی ایک اہم سکیورٹی ٹیم کی سربراہی کر رہے تھے اور ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے میں وہ بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ مجتبیٰ کے مطابق آذربائیجان کی سرحد کا سفر ان کی اصل منزل نہیں تھی اور سکیورٹی یونٹ نے اس سفر کی سخت مخالفت کی تھی۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس دورے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اس کے متعلق باضابطہ طور پر ایک سرکاری خط جمع کرایا گیا تھا۔
فوج نے ان دعووِں کو ’شک کے بیج بونے‘ کی کوششیں قرار دیتے ہوئَے انھیں مسترد کر دیا ہے۔ لیکن علاقائی کشیدگی اور واقعے سے قبل آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کے ساتھ ہونے والی اہم ملاقات نے ان دعووں کو تقویت بخشی ہے۔
سیاسی خاتمے کی افواہیں
سخت گیر سیاست دانوں نے کھلے عام اس جانب اشارہ کیا ہے کہ رئیسی کو جان بوجھ کر قتل کیا گیا ہے۔
رکن پارلیمنٹ حامد رسائی نے دعویٰ کیا کہ علاقائی صورتحال کی راہ میں حائل رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے ابراہیم رئیسی کو ’ختم‘ کیا گیا ہے۔ ایک اور رکن پارلیمان کامران غضنفری نے تو یہاں تک دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اسرائیل اور آذربائیجان نے ایک مشترکہ آپریشن میں ابراہیم رئیسی کو ہلاک کیا ہے۔ تاہم انھوں نے دعوے کے حق میں کوئی بھی ثبوت فراہم نہیں کیے ہیں۔
یہ الزامات خطے میں رونما ہونے والے دیگر واقعات سے مطابقت رکھتے ہیں جن میں اسرائیل نے فلسطینی تنظیم حماس اور لبنانی تحریک حزب اللہ کے رہنماؤں کو قتل کیا ہے۔
اسرائیلی حکام اس واقعے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں رئیسی کی والدہ کے نام سے شناخت کی گئی ایک خاتون انتہائی پریشانی کی حالت میں کہتی ہوئی سنائی دیتی ہیں کہ ’جس نے بھی تمہیں مارا، میں خدا سے امید کرتی ہوں کہ وہ بھی مارے جائیں۔‘
بی بی سی اس ویڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا تاہم یہ ویڈیو سوشل میڈیا پرکافی وائرل ہوئی ہے۔
حادثے کی جگہ
ایرانی میڈیا پر ابتدا میں اس حادثے کے مقام سے متعلق متضاد خبریں سامنے آئیں۔ چند اخبارات اور چینلز پر یہ خبریں شائع اور نشر ہوئیں کہ ابراہیم رئیسی نے براستہ سڑک اپنا سفر شروع کیا تھا جبکہ کچھ خبریں ایسی بھی سامنے آئیں جن میں ہنگامی لینڈنگ کی بات کی گئی۔
اس کے بعد یہ خبر سامنے آئی کہ ان کے طیارے کو حادثہ پیش آیا ہے جس میں ان کی ہلاکت ہوئی ہے اور اس کے بعد قومی سطح پر دعائیہ تقریبات کا اہتمام شروع ہو گیا۔
مجتبیٰ کہتے ہیں کہ ’میرے باس دائرے میں نظر آنے والے تین ہیلی کاپٹرز میں سے ایک پر سوار تھے۔ ایرانی حکام نے بھی پیریڈ سے متعلق انتظامات کے بارے میں بھی متضاد بیانات دیے۔‘
ان دعوؤں کے باوجود کہ طیارے پر سوار ایک مسافر نے فون کال کا جواب دیا ہے اس طیارے کے ملبے کو تلاش کرنے میں 16 گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگ گیا۔
ترکی نے یہ دعوی کیا تھا کہ اس کے ایک ڈرون نے اس طیارے کی جگہ کا پتا چلا لیا ہے۔ تاہم بی بی سی فارسی کی تحقیقات سے پتا چلا کہ ترکی کی طرف سے شیئر کیے جانے والے ’کوآرڈینیٹس‘ درست نہیں تھے۔
اس کے بجائے ایک گروپ موٹرسائیکلوں پر جائے حادثہ پر پہنچا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جسے ایران کے سرکاری میڈیا نے تسلیم نہیں کیا ہے۔
اس واقعے کی شائع تصاویر میں جلی ہوئی لاشیں نظر آ رہی تھیں مگر کچھ سامان اور دیگر اشیا نسبتاً صحیح سلامت نظر آ رہی تھیں۔
ایک حکومت کے حامی سوگوار نے بی بی سی کو بتایا کہ ابراہیم رئیسی کی لاش اس قدر بری طرح جھلس گئی تھی کہ اسے جنازے سے قبل ’غسل‘ دینے کے بجائے کفن کے لیے ’تیمم‘ دیا گیا۔
صدر رئیسی کی اہلیہ اور ان کی والدہ کو ان کی لاش دیکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ کچھ حکام کا کہنا ہے کہ صدر رئیسی کی لاش ہی نہیں ملی تھی جس سے عوام میں مزید شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔
ایران کی بداعتمادی کی تاریخ
صدر رئیسی کی موت سے متعلق پائے جانے والے شکوک و شبہات کو ایران کی طویل رازداری والی تاریخ سے جدا نہیں کیا جا سکتا ہے۔
سنہ 2020 میں یوکرینی طیارے کو گرانے سے لے کر پولیس کی حراست میں مہسا امینی کی موت تک، دہائیوں تک سیاسی بنیادوں پر کیے جانے والے قتل سمیت ایرانیوں کو ہر بار ایسا سرکاری مؤقف دیکھنے کو ملتا ہے کہ جو ایسے واقعات سے جڑی پراسراریت کو ختم کرنے میں ناکام رہتا ہے۔
اگر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹرتباہ ہونے کا یہ واقعہ ایک حادثہ بھی تھا تو بھی ایران کی تاریخ ایسی رہی ہے کہ جس کی وجہ سے اس کے شہریوں کو سکیورٹی سروسز کے مؤقف پر یقین نہیں آتا۔
ان کے سیاسی عروج اور زوال کی کہانی
معاشی اصلاحات اور سیاسی استحکام کے وعدوں پر رئیسی جو ایک سخت گیر عالم کی حیثیت سے معروف تھے، جون 2021 میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہوئے تھے۔ مگر ان کے دور صدارت کو مشکلات کا سامنا رہا۔ انھیں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا اور انھیں ان کے ممکنہ جانشین کے طور پر بھی دیکھا جا رہا تھا۔
صدر بننے سے قبل وہ ایران کی عدلیہ کے سربراہ بھی رہ چکے تھے۔ بہت سے ایرانی شہریوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے 1980 کی دہائی میں سیاسی قیدیوں کی بڑے پیمانے پر پھانسیوں میں اُن کے مبینہ کردار کا ذکر کیا۔
ان کے دور میں افراط زر میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور ان کی عالمی سفارتکاری بھی کامیاب نہ رہی۔ ان کے دور میں مہسا امینی کی پولیس کی حراست میں موت کے بعد ملک میں شروع ہونے والے احتجاج سے ان کی انتظامیہ مزید کمزور ہوئی۔
سیاسی مبصرین ان کے دور حکومت کو ایک بے بس حکومت کے طور پر دیکھتے ہیں۔
سنہ 2024 تک ریئسی کا سیاسی مستقبل غیریقینی ہو گیا تھا۔ ان کی حادثاتی موت سے نوجوان اور انقلابی قیادت کے ذریعے ایک نئی نسل کی آبیاری کا ان کا منصوبہ بھی ختم ہو گیا۔